وزیر اعظم

رمشا جاوید

وزیر اعظم wazeer e aazam

”باجی تم فکر نہ کرو وزیر اعظم ہماری ’عجت ‘ہے ان کے لیے ہم اپنی جان بھی دے دیں گے۔“

”فرخندہ جبیں! “بلند آواز میں نام پکارا گیا اور تالیوں کی گونج میں ہم نے اٹھارواں رائٹرز ایوارڈ وصول کیا۔ اگر برابر میں بیٹھی آنٹی کا ہاتھ بے خیالی میں ہمیں نہ لگتا تو یقینا بہترین ادیبہ کے بعد شاعرہ، ناول نگار، ڈراما نگار، معلوماتی مضامین اور بہترین مترجم سب کا ایوارڈ ہم ہی وصول کررہے ہوتے اور تو اور پھر آخر میں نشان سپاس بھی ہمیں ہی ملنا تھا۔
ساتھی رائٹرز ایوارڈ کی دلچسپ تقریب سے واپسی پر ہم نے بھی ایک شاندار سی کہانی لکھنے کا عزم کیا۔ رات گئے تک قلم کاغذ لیے ہم کہانی کو صفحہ¿ قرطاس پر بکھیرتے رہے اس دوران نیند نے کب ہمیں اپنی آغوش میں لیا ہمیں معلوم نا ہوسکا۔
اپنی پہلی ہی کہانی ”محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے“ کی اشاعت اور قارئین کے بھرپور تبصرے نے ہمیں ساتویں آسمان پر پہنچادیا اور پھر قارئین کے زور پر ساتھی کی ٹیم ہمارا انٹرویو لینے ہمارے گھر تشریف لارہی تھی۔ یہ خبر سنتے ہی ہم بھاگم بھاگ اوپر والے پورشن پر پہنچے جہاں ہماری ماسی اپنے میاں بچوں سمیت رہ رہی تھی۔ زور زور سے دروازہ بجانے کے چند ہی منٹ بعد ماسی نے دروازہ کھول دیا۔
”جی باجی؟“ اس نے حیرت سے پوچھا۔
”کل صبح ہمارے گھر مدیر آرہے ہیں۔ جلدی نیچے چلو اور مہمان خانے کا حلیہ درست کرو۔“ ہم جلدی سے بولے۔
”کیا….! وزیر صاحب آرہے ہیں؟“ اس نے چونکتے ہوئے کہا۔
”اس نے مدیر کو وزیر سنا اور ہم نے وزیر کو مدیر…. ہم دونوں کا جذبہ جنون عروج پر تھا۔
”ہاں ہاں….“ ہم نے نیچے جاتے ہوئے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ ”ایک منٹ باجی۔ میں ذرا اپنے بچوں کو اٹھادوں۔“ ماسی ہمارے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی اندر کی جانب لپکی اور زور و شور سے اپنے میاں، بچوں کو اُٹھانے لگی۔ چند آوازیں جو ہماری سماعت سے ٹکرائیں وہ کچھ اس قسم کی تھیں۔
”ارے دلشاد میاں جلدی اٹھو کل باجی کے گھر وزیر اعظم آئیں گے۔ اوہ احسان…. اب اٹھ بھی جا…. دیکھ خادم ضد نہ کر کل ہمارے گھر بڑے آدمی آرہے ہیں۔“
خیر ہم نیچے آگئے جبکہ تھوڑی ہی دیر میں ماسی بھی اپنے چار بچوں کے ساتھ حاضر تھی۔
”باجی میں نے اپنے میاں اور بڑے بیٹے کو گھر کے باہر کی دیواریں دھونے کا کہہ دیا ہے تاکہ اندر باہر ہر جگہ سے گھر چمک رہا ہو۔“ ماسی نے خوشی سے کہا اور ہم اس کی عقل کو داد دینے لگے۔
”باجی چھت تک ہاتھ نہیں جارہا وہاں صَرف کیسے لگاﺅں؟“ دیوار پر آڑی ترچھی لکیروں کو صَرف ملے پانی سے صاف کرتے ہوئے ماسی نے ہم سے پوچھا۔
”وہاں چھوڑدو چھت کو پانی ڈال ڈال کر دھودیں گے۔“ ہم نے فوراً ہی مسئلے کا حل پیش کیا اور دوبارہ کام میں جت گئے۔ رات تین بجے ہم مہمان خانے کو صاف ستھرا کرکے ماسی کو سونے کا کہہ کر خود بھی سونے کے لیے آگئے۔
صبح نماز کے لیے اُٹھے تو دنگ رہ گئے۔ پورا صحن اس قدر صاف ہوچکا تھا کہ ہم باقاعدہ ٹائلز پر اپنی شکل دیکھ سکتے تھے۔
”تم ابھی تک سوئی نہیں؟“ ہم نے حیرت سے ماسی سے پوچھا۔
”ہائے باجی! ہمیں نیند کیسے آتی ہمارے گھر وزیر اعظم آرہے ہیں اور ہم سو جائیں۔“ ماسی نے ہم سے زیادہ حیرت سے ہمیں دیکھا۔
”ماسی کی بات پر ہم بھی سوچ میں پڑگئے کہ اسے ساتھی کہ مدیر کا نام کیسے پتا چلا….؟“ خیر اس کو ہم نے زبردستی اس وعدے پر سونے کے لیے بھیجا کہ وزیر ”یعنی مدیر“ کے آنے سے پہلے ہی اسے اُٹھادیں گے۔ ماسی کو بھیج کر ہم نے سوچا کہ باہر کا جائزہ لے لیا جائے، باہر کا منظر دیکھ کر ہم نے بامشکل خود کو بے ہوش ہونے سے بچایا اور تیزی سے ماسی کے پاس پہنچے۔ ”یہ کیا کیا باہر تو اتنا پانی جمع ہوگیا ہے؟“ ہم نے پریشانی سے کہا۔
”باجی فکر نہ کرو میں نے اپنے میاں کو کشتی لانے بھیج دیا ہے وہ دو گھنٹے میں آجائے گا۔“ ماسی نے پہلے سے سارا بندوبست کرلیا تھا۔
”مگر کشتی آئے گی کہاں سے؟“ ہم نے حیرت سے پوچھا۔
”اس کا ایک دوست ہے جو کشتیاں چلاتا ہے وہ ایک چھوٹی کشتی اسے دے دے گا۔ مچھیرا ہے نا وہ پانی پر چلانے کی چھوٹی چھوٹی کشتیاں ہیں اس کے پاس۔“ ماسی ہمیں تفصیل سے سمجھاتے ہوئے بولی۔
”باجی تم فکر نہ کرو وزیر اعظم ہماری عجت ’عزت‘ ہے ان کے لیے ہم اپنی جان بھی دے دیں گے۔“ ماسی کے جذبے سے مرعوب ہو کر ہم واپس نیچے آگئے۔ ایک ہی گھنٹے میں ماسی کا میاں ایک کشتی لے آیا جس پر بڑی خوبصورتی سے لکھا تھا۔
”ویلکم وزیر اعظم۔“ اس وقت تو ہمیں اس جملے کا مطلب سمجھ ہی نہیں آیا دوسری طرف ہمارا موبائل بجنے لگا۔ مدیر ساتھی کی کال تھی۔ وہ گلی کے نکڑے پر کھڑے گلی میں سیلاب آنے کی وجہ دریافت کررہے تھے۔ ہم نے جلدی سے بات بنائی کہ ہماری گلی میں خدا کی بڑی رحمت ہے اور اس کی قدرت سے کل رات بڑی شدید بارش ہوئی جس کے آثار ابھی تک گلی میں موجود ہیں۔
اب دوسرا مرحلہ ساتھی کی ٹیم کو گھر تک لانے کا تھا جبکہ کشتی چھوٹی ہونے کے باعث صرف دو ہی فرد اس میں بیٹھ سکتے تھے۔ اب ایک طرف ایک ایک کرکے ساتھی کی ٹیم کشتی میں سوار گھر تک پہنچنے لگی تو دوسری طرف محلے کی عورتیں اور بچے اس یادگار منظر کو گھروں کی چھت اور کھڑکیوں سے لٹک لٹک کر موبائل میں محفوظ کرنے لگیں۔
مدیر صاحب کے دروازے پر قدم رکھتے ہی چھت سے ماسی کے بچوں نے زور دار نعرہ لگایا اور پھول کی پتیاں پھینکنے لگے۔ ماسی اور اس کے بچوں کے جوش و خروش نے ہمیں حیران و پریشان کردیا تھا۔ ساتھی کی ٹیم بھی اس غیر متوقع استقبال پر منھ چھپائے ہنس رہی تھی۔ اب یہ تو خدا جانتا ہے کہ وہ اس استقبال پر ہنس رہے تھے یا وزیر اعظم کے نعروں پر۔ بڑی مشکلوں سے ہم نے ماسی اور اس کے بچوں کو جو ساتھی کی ٹیم کو گھیرے کھڑے تھے ہٹایا اور ساتھی کی ٹیم کے لیے مہمان خانے میں داخل ہوئے۔
”پہلے مہمان خانوں کی مہمان نوازی کرلی جائے…. انٹرویو تو بعد میں بھی ہوتا رہے گا۔“ اس خیال کے تحت ہم نے کچن کی راہ لی اور ماسی نے مہمان خانے کی۔
”وزیر اعظم صاحب خدا کا شکر ہے کہ آپ ہمارے گھر آگئے۔“ ماسی مدیر صاحب کے پاﺅں کے پاس دو زانوں ہو کر بیٹھ گئی جبکہ اس کے بچے دروازے سے چھپ چھپ کر اندر جھانکنے لگے۔ وقتاً فوقتاً ماحول کو زعفران زار بنانے کے لیے ماسی کے بچے کھی کھی کھی کی آواز کے ساتھ اپنے دانتوں کی نمائش بھی کردیتے۔
”وزیر اعظم آپ ہی بتائیں ملک میں اتنی بدحالی کیوں ہے۔ ہر وقت بجلی غائب…. گرمی کی وجہ سے میرے میاں کو پوری رات نیند نہیں آتی۔“ ماسی اپنا دکھڑا سنانے میں مصروف تھی۔ خیر بڑے صبر و تحمل کے ساتھ مدیر صاحب نے ماسی کو بتایا کہ وہ وزیر اعظم نہیں ہیں بلکہ وہ ساتھی کے مدیر ہیں اور ان کا نام اعظم ہے۔ وہ لوگوں کی کہانیاں شائع کرتے ہیں۔ مدیر صاحب کی اس بات پر ماسی حیران ہو کر بولی۔
”اوہ…. تو یوں بتاتے نا کہ آپ ٹی وی والے ہیں وہی جو لوگوں کی دُکھ درد والی کہانی ٹی وی پر چلاتے ہیں۔“ ماسی کی بات پر مدیر صاحب نے اپنا سر پکڑلیا۔ جب ہم ناشتے کی ٹرے سجائے مہمان خانے میں داخل ہوئے تو وہاں کوئی موجود نہ تھا۔
”ٹی وی والے چلے گئے۔ میں نے اُنھیں اپنے گاﺅں میں سیلاب آنے کا قصہ سنایا تھا۔ اُنھوں نے وعدہ کرلیا ہے کہ میری کہانی کو ضرور ٹی وی پر چلائیں گے۔“ ماسی کی بات پر ہم سر پکڑے بھاگم بھاگ باہر دوڑے۔ دیکھا تو ساتھی کی ٹیم پانی میں تیرتے ہوئے بھاگ رہی تھی۔
”ارے مدیر صاحب ہمارا انٹرویو تو لیتے جائیے….“ مارے صدمے کے ہم وہیں بے ہوش ہوگئے۔ آنکھ کھلی تو ہم سر سے لے کر منھ تک گیلے تھے جب کہ امی پانی کا گلاس لیے ہمارے سرہانے کھڑی تھیں۔
”کب سے کالج جانے کے لیے اٹھا رہی ہوں۔“ ان کی بات پر ہم گھبرا کر اُٹھ بیٹھے۔
”کہانی…. مم مدیر صاحب…. ہمارا انٹرویو….؟“ ہم نے بوکھلا کر آنکھیں گھمائیں اور حقیقت جان کر ایک بار پھر بے ہوش ہوگئے۔
٭….٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>