تایا جان

راحت عائشہ

پڑھیے ٹائم مشین کا منصوبہ ، جس میں ماضی سے کسی بھی شخص کو بُلایا جاسکتا تھا، کیا وہ تجربہ کامیاب رہا

’’سو… ننانوے… اٹھانوے… چھیانوے…‘‘ اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔
’’یااللہ! خیر… یااللہ! تجربہ کامیاب رہے۔‘‘ احمد صاحب کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
یہ تجربہ کامیاب ہوگا بھی یا نہیں؟ اس تجربے یعنی ٹائم مشین کی ایجاد پر کئی برسوں سے محنت جاری تھی، لیکن آج تک کوئی بھی سائنس دان ماضی میں جانے میں کامیاب نہ ہوسکا تھا۔
احمد صاحب کا شمار ملک کے بڑے سائنس دانوں میں ہوتا تھا۔ احمد صاحب اب تک کئی چیزیں ایجاد کرچکے تھے۔ ان کے اس پروجیکٹ کے بارے میں ان کے اسسٹنٹ علی کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں تھا۔
یہ ٹائم مشین کا منصوبہ تھا، جس میں خود جانے کے بجاے، ماضی سے کسی بھی شخص کو بُلایا جاسکتا تھا۔
’’اَسی… اُناسی… اَٹہتر… َستتر…‘‘ ایک ایک پَل ایک صدی کے برابر معلوم ہو رہا تھا۔
احمد صاحب پسینے میں شرابور ہوچکے تھے۔ ٹائم مشین جن اصولوں پر بنائی گئی تھی، اُس کے مطابق ماضی سے بُلائے جانے والے کا نام، اُس سے تعلق، ماضی کے وقت کا تعین، جاے رہائش اور تاریخ وفات درج کرنا ضروری بلکہ اس شخص سے خونی رشتہ ہونا بھی لازمی تھا۔ چوں کہ احمد صاحب ابھی کسی کو اپنے اس منصوبے کے بارے میں بتانا نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے پہلا تجربہ اپنے اوپر ہی کیا اور مشین میں اپنے ڈی این اے سیل شامل کردیے تھے۔
’’ستر… انہتر… اڑسٹھ… سڑسٹھ…‘‘ ٹائم مشین پر جلتے بجھتے ہندسے احمد صاحب کے دل کی رفتار کو مزید تیز کررہے تھے۔ اُنھوں ایک بار پھر اُٹھ کر لیبارٹری کے دروازے چیک کیے، پردوں پر ایک نظر دوڑائی، کمرے کے ائیرکنڈیشن پر واضح ہونے والے نمبروں کو بغور دیکھتے ہوئے اُسے مزید تیز کردیا۔
’’نہیں… نہیں… زیادہ ٹھنڈک مناسب نہیں ہوگی۔‘‘ وہ بڑبڑائے۔
’’آبجیکٹشدید گرمی میں سفر کرتا ہوا آئے گا۔ مختلف کیمیکلز کی گرمی… پھر اچانک شدید ٹھنڈ اُسے نقصان پہنچا سکتی ہے۔‘‘ احمد صاحب نے مختلف عوامل پر سوچا پھر اے۔ سی کے درجۂ حرارت کو ذرا کم ٹھنڈک پر لا کر اپنی نظریں دوبارہ ٹائم مشین پر جما دِیں۔
’’ساٹھ… انسٹھ… اٹھاون… ستاون…‘‘ اعداد اُلٹی ترتیب سے چل رہے تھے۔
احمد صاحب نے ماضی سے جس شخص کو بلایا تھا، وہ ان کے بہت پہلے کے دادا، پردادا، بلکہ پر دادا کے بھی پر دادا لگتے تھے۔ جن کے بارے میں اُنھیں اپنے پردادا کے کاغذات، جہاں خاندان کا شجرہ نسب درج تھا، سے علم ہوا تھا۔ ان کاغذات کی حالت نہایت بوسیدہ ہوچکی تھی۔ شجرہ نسب پر ہر آنے والی نسل کے لیے کچھ ہدایات درج تھیں، جس میں سے ایک یہ تھی کہ جب بھی تم اس شجرہ نسب کے کاغذات کو خستہ حالت میں پائو تو فوراً اسے نئے کاغذ پر منتقل کردو۔
اسی ہدایت کی وجہ سے شجرہ نسب کی معلومات سالہا سال سے ٹھیک ٹھیک ان تک پہنچی تھیں۔ احمد صاحب نے مزید محفوظ کرنے کے لیے اسے اپنے کمپیوٹر کے ساتھ ساتھ کتابی شکل میں بھی محفوظ کرلیا تھا۔
’’پچاس… اُنچاس… اَڑتالیس… سینتالیس…‘‘ اب ہندسوں کے ساتھ پیلے رنگ کی لائٹ بھی جل رہی تھی۔ منزل آہستہ آہستہ قریب آتی جارہی تھی۔
احمد صاحب نے جس شخص کا انتخاب کیا، اُن کا نام ’’نیاز الدین‘‘ تھا۔ جو دہلی کے رہنے والے تھے۔ وہ کیسے دکھتے ہیں… احمد صاحب اس بات سے بالکل لاعلم تھے کیوں کہ شجرہ نسب میں نام اور دیگر ضروری معلومات تو درج تھیں لیکن ان کی کوئی تصویر نہیں ملی، جس سے ان کی پہچان ہوسکے۔
’’چالیس… انتالیس… اڑتالیس… سینتیس…‘‘ احمد صاحب نے ایک نظر میز پر ڈالی، جہاں ایک بوتل میں صاف پانی اور کچھ ادویات رکھی ہوئی تھیں۔ جن میں دھڑکن کو کنٹرول کرنے، شوگر اور بلڈپریشر پر قابو پانے والی ادویات بھی شامل تھیں۔
’’تیس… انتیس… اٹھائیس… ستائیس…‘‘ کمرے میں ٹھنڈ ہونے کے باوجود بھی احمد صاحب کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمایاں تھے۔
اُنھوں نے ایک نظر اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر ڈالی، جس کے مطابق بارہ بجنے میں چھبیس منٹ باقی تھے۔ وقت دیکھنے کے بعد انھوں نے فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر ایک گلاس پانی پیا۔
’’اگر یہ تجربہ کامیاب ہوگیا ناں، تو دنیا میں ایک تہلکہ مچ جائے گا۔ یہ علی کہاں رہ گیا ہے؟ اسے تو اب تک آجانا چاہیے تھا۔‘‘ احمد صاحب اپنے اسسٹنٹ کے بارے میں سوچتے اور ٹائم مشین پر آنکھیں جمائے، کمرے میں چہل قدمی کرنے لگے۔
’’بیس… انیس… اٹھارہ… سترہ…‘‘ ٹائم مشین کے ہندسوں کی بتیاں اب سبز رنگ کی ہوگئیں۔
’’دھاڑ…‘‘ اچانک ایک زور دار آواز آئی۔ جسے سن کر احمد صاحب چونک پڑے۔
’’اُف… یہ ایبک ہوگا۔‘‘ انھوں نے سوچا۔
’ایبک‘ کی عمر یہی کوئی سترہ اٹھارہ سال تھی اور اس کا غصہ بلا کا تھا۔ ایبک دراصل احمد صاحب کا بیٹا ہے اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے، جس کا نام ’ایمن‘ ہے، لیکن وہ ایبک کے مقابلے بہت خوش مزاج اور مِلنسار ہے۔
’’یہ دھاڑ کرکے ایبک نے ہی دروازہ بند کیا ہوگا… پتا نہیں اس لڑکے کا کیا ہوگا۔‘‘ احمد صاحب فکر مندی سے سوچتے ہوئے بڑبڑائے۔
ٹائم مشین کی لائٹ کا رنگ اب سبز سے لال میں تبدیل ہوگیا تھا۔
’’دس… نو… آٹھ… سات… چھہ…‘‘ احمد صاحب کا دل اچھل کر گویا حلق میں ہی آگیا تھا۔ وہ ٹائم مشین کے سامنے کھڑے ٹکٹکی باندھے اس کی جلتی بجھتی لائٹوں کو تک رہے تھے۔ لاشعوری طور پر ان کی انگلیاں آنے والے ہندسوں کے ساتھ بند ہوتی جارہی تھیں۔
’’پانچ… چار… تین… دو… ایک…‘‘ اسی کے ساتھ اُن کی دونوں مٹھیاں بند ہوگئیں۔
’’ٹوں… ٹوں ٹوں… ٹوں… ٹوں… ٹوں… زررمم…‘‘ اس تیز آواز کے ساتھ ہی ساری بتیاں بجھ گئیں۔ مشین کے دروازے کی دوسری جانب ایک وجود صاف نظر آرہا تھا۔ احمد صاحب نے دروازہ کھولتے ہی ایک بٹن دبایا تو خود کار طریقے سے مشین کے اندر موجود کرسی باہر آگئی۔
احمد صاحب نے اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے لیور کو ذرا کھینچا اور کرسی نے حرکت کی اور ذرا سی بلندی پر جاکر اپنے اوپر موجود آبجیکٹ کو آہستہ سے ایک بستر پر منتقل کردیا۔
ماضی سے حال میں آنے والا ایک ادھیڑ عمر شخص تھا، جس کی عمر تقریباً پچپن سے ساٹھ برس ہوگی۔ اب وہ شخص نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا۔ احمد صاحب نے بغور جائزہ لیا تو اُنھیں حیرانی ہوئی کہ اس شخص کی شکل ان کے مرحوم دادا جان سے ملتی جلتی ہے۔
احمد صاحب نے جلدی سے بلڈ پریشر چیک کرنے کا آلہ اُٹھایا، ’نو وارد‘ کا بلڈ پریشر چیک کیا تو وہ تھوڑا کم تھا۔ جسے احمد صاحب نے جلدی سے اپنی ڈائری پر اُتار لیا۔ جس کے بعد پانی کے چند قطرے ان کے حلق میں ٹپکائے۔
نو وارد نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں تو احمد صاحب اُنھیں دیکھ کر مسکرائے۔ نیاز صاحب کے آنکھیں کھولنے کے بعد احمد صاحب نے میز پر رکھا ذیابیطس چیک کرنے کا آلہ اُٹھایا۔ اس میں ایک باریک گتے کی پتری سرکائی اور دوسرے ہاتھ سے نووارد کی انگلی میں سوئی چبھو دی۔
’’اُف… اماں کیا کرتے ہو۔‘‘ نیاز صاحب نے اپنا ہاتھ کھینچا، لیکن احمد صاحب اس ردِ عمل کے لیے پہلے ہی سے تیار تھے اور انھوں نے ہاتھ نہیں چھوڑا۔ انگلی پر قطرہ خون نمودار ہوتے ہی احمد صاحب نے گتے کی پتری سے چھوا، جس کے چند سیکنڈ بعد ہی مشین پر چند ہندسے نمایاں ہوگئے۔
نو وارد کی شگر تو معتدل تھی، لیکن حیرت کی انتہا نہیں تھی۔ وہ کبھی مشین کو دیکھتے تو کبھی احمد صاحب اور کبھی اردگرد کے ماحول کو دیکھ رہے تھے۔
’’اجن میاں… آخر یہ سب کیا ہے؟‘‘ نیاز صاحب نے پوچھا۔
ان کے پوچھتے ہی احمد صاحب کو ایک جھٹکا سا لگا۔ کیوں کہ اجن ان کے بچپن کا نام تھا۔ بچپن میں احمد صاحب کو کوئی احمد کہتا تو کوئی اجن… ہاں مگر دادا، دادی اجن کہہ کر ہی پکارتے تھے۔ پھر ان کے انتقال کے بعد یہ نام احمد صاحب نے کبھی نہیں سنا۔ بلکہ اب تو زیادہ تر لوگ ڈاکٹر صاحب کہہ کر ہی مخاطب کرتے تھے۔
’’آ… آ… آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہوا؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے حیرت سے استفسار کیا۔
’’لو… میاں! ہم نے تمھیں اپنی گود میں کھلایا اور آج پوچھ رہے ہو نام کیسے پتا… یہ بتائو یہ سب کیا ہے؟ یہ کیا چیزیں ہیں؟‘‘ اُنھوں نے پنکھے، اے سی اور دوسری چیزوں کی طرف اشارہ کرکے پوچھا۔
’’یہ تمھارا شمع دان تو بہت ہی خوب ہے۔ ایسا شمع دان تو شاید اکبر بادشاہ کے پاس ہی ہو۔ بادشاہ سلامت سے کوئی انعام پائے ہو کیا؟‘‘ نیاز صاحب نے چھت پر لٹکے فانوس کی مدھم سی روشنی کو دیکھتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
’’یہ… لیجیے…!‘‘ احمد صاحب نے ایک چھوٹی ٹرے بڑھائی، جس پر ایک گلاس پانی اور چند گولیاں رکھی ہوئی تھیں۔
’’واہ بھئی! بہت خوب صورت بلوری کٹورہ… لیکن یہ کٹورہ تو نہیں مِینا کی گردن معلوم پڑتی ہے۔‘‘ انھوں نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’مینا کیا…؟‘‘ احمد صاحب نے پوچھا۔
’’ارے مِینا نہیں سمجھتے…؟ بادشاہوں کے پاس جو شراب کی صراحیاں ہوتی ہیں ناں، وہ مِینا کہلاتی ہیں، اور ایسے ساغر… کیا کوئی خزانہ ہاتھ لگا ہے۔ میاں؟‘‘ نیاز صاحب نے راز دارانہ انداز میں پوچھا۔
’’جج… جی نہیں۔‘‘ ڈاکٹر صاحب خواہ مخوا ہی پریشان ہوگئے۔
’’اجن! یہ تمھیں کیا ہوا ہے…؟ کچھ بدلے بدلے سے لگ رہے ہو۔ چلو مانا کوئی چھہ سات سال بعد ملاقات ہوئی ہے، لیکن ایسا بھی کیا؟ تم تو کوئی بات ہی نہیں بتا رہے۔‘‘ نیاز صاحب نے ڈانٹ پلائی۔
’’وہ بات یہ ہے کہ نیاز صاحب…‘‘ ڈاکٹر صاحب ابھی کہہ ہی رہے تھے کہ نیاز صاحب نے بیچ میں ٹوکا۔
’’کک… کیا کہا…‘‘ وہ بستر پر ایسے اُچھلے جیسے نیچے سپرنگ لگے ہوں۔
’’جی… کچھ بھی تو نہیں۔‘‘ احمد صاحب کی سمجھ سے بالاتر تھا کہ اچانک اُنھیں کیا ہُوا ہے۔
’’میاں اجن! کیا تمیز، شرافت اور سیلقۂ گفتگو بالکل ہی بھول گئے تم؟ اب بزرگوں کے نام لیا کرو گے؟‘‘ اُنھوں نے غصے سے پوچھا۔
’’اچھا… اچھا… آپ ہی بتائیں، آپ کو کیا کہہ کر مخاطب کروں؟‘‘ احمد صاحب نے پوچھا۔
’’ہاے… کیا مطلب کیا کہوں؟ تایا ہیں ہم تمھارے! تایا… تایا ابا کہتے آئے ہو ناں تو تایا ہی کہو۔‘‘ انھوں نے خوب ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا۔
’’جی بالکل! تایا ابا…‘‘ احمد صاحب نے عاجزی سے کہا اور پھر پوچھا: ’’آپ کو کمزوری تو محسوس نہیں ہورہی؟‘‘
’’نہیں… بالکل نہیں…‘‘ نیاز صاحب بیڈ سے اُترے اور پھر خوشی سے کہا: ’’واہ… قالین بھی بہت ملائم بچھایا ہے۔ میاں! کیا اکبر کے رتن بن گئے ہو؟‘‘
’’نہیں تایا جان… اکبر کا زمانہ تو چل بسا۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے سچ بتانے کا فیصلہ کیا۔
’’ہیں؟ یہ کب ہوا؟ ابھی کچھ وقت قبل ہی تو اکبر نے احمد نگر کو اپنی حکومت میں شامل کیا ہے۔ ۱۵۹۵ء میں قندھار کی طرف تھا، پھر اس نے احمد نگر، اسپر گڑھ اور دکن وغیرہ فتح کیے تھے۔‘‘ انھوں نے حیرت سے کہا۔
’’تایا ابا! آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ لیکن بادشاہ اکبر اب اپنی نظر پوری کرچکے ہیں۔‘‘ احمد صاحب نے باادب ہوکر کہا۔
’’کب؟‘‘ نیاز صاحب نے ہڑبڑا کر پوچھا۔
’’۲۳؍ اکتوبر ۱۶۰۵ء میں وہ بھی تریسٹھ برس کی عمر میں، اور پتا ہے کہاں وفات پائی؟ آگرہ میں…‘‘ احمد صاحب نے بتایا۔
٭…٭
’’۱۶۰۵ئ؟ تو میاں! آج کیا تاریخ ہے؟‘‘ ۱۶۰۵؍ سن کر نیاز صاحب نے تاریخ معلوم کرنا چاہی۔
’’آج ۱۳؍ اگست ۲۰۴۰ء ہے۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے تایا ابا کو تاریخ بتائی تو انھوں نے حیرت سے کہا: ’’کک… کک… کیا؟ ۲۰۴۰ئ… ارے سٹھیا گئے ہو کیا؟ اجن میاں!‘‘
’’تایا ابا… آج یہی تاریخ ہے۔ یہ دنیا اب بہت آگے بڑھ چکی ہے، جن چیزوں کو آپ بادشاہ کی چیزیں سمجھ رہے ہیں ناں، انھیں اب ایک عام آدمی بھی باآسانی خرید سکتا ہے۔‘‘ احمد صاحب نے وضاحت کی۔
’’ایسا کیسے ممکن ہے۔ ۲۰۴۰ئ؟‘‘ نیاز صاحب زیرِلب بڑبڑائے۔
’’اور یہ کہ…‘‘ احمد صاحب بتاتے ہوئے رُک گئے کہ نیاز صاحب، آپ بھی صرف دو دن کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ٹائم مشین میں داخل کیے گئے وقت کے مطابق دو دن بعد ٹھیک اسی وقت آپ کو واپس جانا ہوگا۔
اتنے میں ڈاکٹر صاحب کا اسسٹنٹ علی کمرے میں داخل ہوا۔
’’سر! آج تو بہت شدید دھوپ ہے۔ اگست کے مہینے میں بھی مئی اور جون کا سورج آیا ہوا ہے۔‘‘ علی جو ایک باتونی لڑکا ہے۔ حسب عادت بولتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور دیوار پر لگے بٹن پر ہاتھ رکھ کر ساری بتیاں روشن کر دیں۔ روشنی پھیلتے ہی دو مختلف ردعمل سامنے آئے۔
’’اوہ… اوہ… سر! ماشاء اللہ تجربہ کامیاب رہا… بہت بہت مبارک ہو… سر!‘‘ علی خوشی سے چیخ مار کر احمد صاحب کے گلے ہی لگ گیا۔
’’اُف… اجن میاں! یہ لالٹین بند کرو۔ اس قدر تیز روشنی ہے کہ آنکھوں کو چبھ رہی ہے۔‘‘ نیاز صاحب نے آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے حکم جاری کیا تو احمد صاحب نے کچھ لائٹیں بند کروائیں۔
’’اجن میاں، یہ کون لڑکا ہے؟ اور اس نے یہ اوٹ پٹانگ کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں؟‘‘ تایا ابا نے علی کو گھورتے ہوئے کہا۔
علی نے اپنے ’اوٹ پٹانگ‘ کپڑوں پر نظر ڈالی۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو وہ گھر سے کپڑے استری کرکے نکلا تھا۔ پھر نکلنے سے پہلے آئینہ بھی دیکھا، تب تو اچھا خاصا انسان ہی معلوم ہورہا تھا۔
’’یہ ٹانگوں پر کیسے کپڑا موڑا ہوا ہے۔ ہوا جانے کی گنجائش چھوڑی ہوتی تو اتنی گرمی نہیں لگتی۔‘‘ نیاز صاحب نے علی کو نصیحت کی۔
’’جج… جج… جی…‘‘ علی نے ہچکچاہٹ بھرے لہجے میں کہا تو احمد صاحب نے بھی اپنے کپڑوں پر نظر دوڑائی اور شکر کِیا کہ آج انھوں نے شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔
’’میاں! اِدھر آئو… نام کیا ہے تمھارا؟‘‘ تایا جی نے علی کو اپنے پاس بُلا کر رُعب سے پوچھا۔
’’جی… علی۔‘‘ علی نے منمناتے ہوئے جواب دیا۔
’’کل سے شریفوں والے کپڑے پہن کر آنا۔ سمجھے میاں! ہم نے سنا ہے کہ دور ایک دیس میں قیدیوں کو بہت چست لباس دیا جاتا تھا۔ جس کی سختی کی وجہ سے وہ نہ آرام سے بیٹھ پاتے اور نہ ہی اُٹھ پاتے… کہیں تم بھی بھاگے ہوئے قیدی تو نہیں؟‘‘ نیاز صاحب نے علی کو مشکوک نظروں سے گھورا۔
’’نن… نہیں… میں بالکل ٹھیک ہوں اور کہیں کسی جیل سے بھاگا بھی نہیں ہوں… بلکہ میں تو کبھی جیل بھی نہیں گیا ہوں۔‘‘ علی نے بوکھلاتے ہوئے جواب دیا۔
’’سر! میرا خیال ہے، آپ انھیں بتا دیں کہ یہ کس طرح یہاں آئے ہیں اور صرف دو دن ہی یہاں رہ سکیں گے۔‘‘ علی نے ڈاکٹر صاحب سے انگریزی میں کہا۔
’’ہوں…‘‘ ڈاکٹر صاحب نے ہُنکارا بھرا۔ وہ علی کی بات پر غور کر رہے تھے۔
’’سر! آپ کے کھانے کا وقت ہوگیا ہے۔ میں کھانا لاتا ہوں۔ آپ جب تک اس معاملے پر غور کرلیں۔‘‘ علی نے کہا اور جلدی سے باہر نکل جانے میں عافیت جانی۔
احمد صاحب تایا ابا کے پاس آبیٹھے۔
’’ہاں تو میاں اجن تم کیا بتارہے تھے کہ ہم بہت پہلے زمانے کے ہیں؟ اکبر بادشاہ گزر گئے؟‘‘ تایا ابا نے اپنا سلسلۂ کلام پرانی بات سے جوڑتے ہوئے کہا۔
’’جی… جی بالکل ایسا ہی ہے۔‘‘ احمد صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’تو پھر اب تک تم کیسے ہو؟ تم تو ہم سے صرف پینتالیس پچاس برس چھوٹے تھے۔‘‘ اُنھوں نے حیرت سے پوچھا۔
’’میرے ابا کا نام کیا تھا؟‘‘ احمد صاحب نے فوراً پوچھا۔
’’بدبخت ابا کا نام بھی بھول گیا۔ فیروز الدین نام تھا ابا کا۔‘‘ تایا ابا نے فوراً جواب دیا۔
جواب میں احمد صاحب نے اپنے کمپوٹر میں محفوظ شجرہ نسب ان کے سامنے کردیا۔
’’تایا ابا! فیروز الدین آپ کے بھائی تو تھے مگر میرے ابا نہیں… میرے ابا کی پیدائش، تقریباً ساڑھے تین سو سال بعد انیس سو ساٹھ میں ہوئی تھی۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے شجرہ نسب سے پڑھتے ہوئے بتایا۔
’’ایسا کیسے ممکن ہے۔ تم ہو بہو فیروز الدین کے بیٹے ’امروز الدین‘ کی شکل کے ہو۔ جسے ہم پیار سے اجن کہتے تھے۔‘‘ تایا ابا نے حیرانی کا اظہار کیا۔
’’جی تایا ابا! آج کے دور میں بھی کئی ایسی باتیں ہوچکی ہیں۔ جن کے بارے میں آج سے پہلے انسان نے کبھی تصور تک نہیں کیا تھا اور ابھی ہم کچھ دیر میں باہر چلیں گے۔ آپ دیکھیے گا، دنیا کیا سے کیا ہوگئی ہے۔‘‘ احمد صاحب نے مؤدب لہجے میں بتایا۔
تایا ابا کبھی حیرت سے احمد صاحب کو تکتے تو کبھی ان کے جادوئی آلات کو جو کمرے میں چاروں طرف بکھرے پڑے تھے۔ دیوار سے یخ ٹھنڈی ہوا کا آنا، الماری سے ٹھنڈا پانی نکلنا، تیز روشنی والے شمع دان اور دیواروں اور چھت پر عجیب و غریب سفید لالٹینیں…
نیاز صاحب کو آخر احمد صاحب کی باتوں پر یقین کرنا ہی پڑا۔
’’سر…! کھانا۔‘‘ علی نے کھانا ہاتھ میں اٹھائے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
’’سر! پہلے آپ کو ’انسولین‘ دے دوں؟‘‘ علی انجکشن لے کر ان کے سر پر کھڑا ہوگیا۔
’’ارے میاں… یہ… یہ سوئی کسے گھونپو گے؟ ارے دور ہٹائو اسے۔‘‘ تایا ابا سوئی سے ڈرتے ہوئے بولے۔
’’تایا ابا! یہ سوئی نہیں انجکشن ہے انجکشن۔‘‘ احمد صاحب نے بتایا۔
’’ یہ کیا ہوتا ہے؟ اس سے کیا ہوگا؟‘‘ تایا ابا نے دو سوال ایک ساتھ داغے۔
’’دراصل مجھے ایک بیماری ہے۔ وہ یہ کہ میرے خون میں شکر کی مقدار بڑھ گئی ہے۔ اسی لیے کھانا کھانے سے پہلے ایک دوا کا انجکشن لگانا ہوتا ہے تاکہ شکر کی مقدار متوازن ہوجائے۔‘‘ احمد صاحب نے وضاحت کی۔
’’اوہ… تو یہ پتا کیسے چلا کہ ترے خون میں شکر گھل گئی ہے؟‘‘ تایا ابا نے تجسس سے پوچھا۔
’’سائنس… تایا ابا، سائنس… میں نے جب خون کی جانچ کروائی تو اس میں یہ ساری علامات سامنے آئیں کہ مجھ میں خون کی مقدار کتنی ہے؟ کون سے نمکیات کی کمی ہے یا کس کی زیادتی ہے۔ فشار خون کم یا زیادہ تو نہیں ہے، وغیرہ وغیرہ…‘‘ احمد صاحب نے فخریہ بتایا۔
تایا ابا انہماک سے احمد صاحب کی باتیں سن رہے تھے۔ کھانا کھانے کے بعد احمد صاحب اور تایا ابا باہر چلے گئے…
’’اُف کتنا دھواں ہے اور، بو… یہ بو کیسی ہے؟‘‘ تایا ابا نے کھانستے ہوئے پوچھا۔
’’سر! انھیں پیٹرول کی بو محسوس ہورہی ہوگی۔‘‘ علی نے احمد صاحب کے کان میں سرگوشی کی۔
’’اس ڈبے میں بیٹھنا ہے؟ سانس تو نہیں گھٹے گا ناں؟‘‘ تایا ابا نے حیرانی سے کار کی طرف دیکھ کر استفسار کیا۔
تایا ابا کی باتیں سن کر علی نے اپنی مسکراہٹ چھپائی۔
’’نہیں تایا ابا… لیجیے، یہ… کھڑکی کھل گئی۔‘‘ احمد صاحب نے گاڑی کا شیشے نیچے کرتے ہوئے کہا۔
احمد صاحب انھیں لے کر ایک قریبی پارک میں آ بیٹھے تھے۔ جہاں علی… احمد صاحب اور تایا ابا کی آپس میں ہونے والی بات چیت کی ویڈیو بنانے میں مصروف تھا کہ اچانک اوپر سے ایک جہاز گزرنے کی آواز آئی۔
’’اللہ خیر… یااللہ خیر… یااللہ خیر…‘‘ جہاز کے گزرتے ہی تایا ابا نے تسبیح پڑھنا شروع کردی۔
’’تایا جی کچھ نہیں ہوا… یہ تو صرف ایک جہاز تھا۔‘‘ احمد صاحب نے تایا ابا کو تسلی دی۔
’’اماں… کیا تم ہمیں پاگل سمجھتے ہو؟ جہاز سمندر میں چلتے ہیں۔ ہوا میں کب سے چلنے لگے؟‘‘ تایا ابا نے غصے سے احمد صاحب کو جھٹلاتے ہوئے کہا۔
جہاز گزر چکا تو تایا جان کی سانسیں بحال ہوئیں۔
’’تایا ابا! جو سمندر میں چلتے ہیں، وہ بحری جہاز ہوتے ہیں اور یہ جہاز، ہوائی جہاز تھا۔ چلیں یوں سمجھیں کہ جیسے یہ گاڑی ہے ناں… یہ زمین پر چلتی ہے، اسی طرح جہاز ہے لیکن یہ زمین پر نہیں چلتا بلکہ آسمان میں اُڑتا ہے۔‘‘ احمد صاحب نے اُنھیں سمجھانے کی کوشش کی۔
’’کیا اس میں آدمی بھی ہوتے ہیں؟‘‘ نیاز صاحب نے حیرت سے سوال کیا۔
’’جی تایا جی! اس میں آدمی بھی ہوتے ہیں۔ اسے چلانے والے بھی آدمی ہی ہوتے ہیں اور وہ ’پائلٹ‘ کہلاتے ہیں۔‘‘ احمد صاحب نے مزید وضاحت پیش کی۔
’’لیکن اس اُڑن کھٹولے میں اتنا شور کا ہے کا تھا؟ تمھارے اس ڈبے میں تو اتنا شور نہیں ہے۔‘‘ تایا ابا نے مزید وضاحت چاہی۔
احمد صاحب تایا ابا کی بات سن کر ذرا سا مسکرا دیے، کیوں کہ اُنھوں نے اپنے بچپن میں بہت ساری کہانیاں پڑھ رکھی تھیں۔ ان میں ’اُڑن کھٹولہ‘ بہت معروف تھا اور آج تایا ابا جہاز کو اُڑن کھٹولہ کہہ رہے تھے۔
’’جی تایا ابا… اس اُڑن کھٹولے کا بہت شور ہوتا ہے، مگر یہ شور صرف اور صرف باہر ہی سنائی دیتا ہے، اندر بالکل بھی شور نہیں ہوتا۔‘‘ احمد صاحب نے تایا ابا کے سامنے مزید ایک انکشاف کرتے ہوئے کہا۔
’’میاں…! یہ کیسے ممکن ہے؟ ایک ہاتھ کے فاصلے کا شور ہی نہ سنائی دے؟‘‘ تایا جی نے احمد صاحب کی بات سے انکار کرتے ہوئے کہا۔
’’چلیے… گھر چلتے ہیں۔‘‘ احمد صاحب نے اپنی ’سائونڈ پروف‘ اسٹوری پھر کبھی سنانے کا سوچا اور سب گھر کی جانب چل پڑے۔ راستے میں آسمان کو چھوتی عمارتیں، گاڑیوں کا ہجوم دیکھ کر تایا جان یک دَم حیران و پریشان ہوگئے اور جیسے ہی گھر پہنچے تو ایبک باہر جانے کے لیے بالکل تیار کھڑا تھا۔
’’ایبک! اس وقت کہاں جارہے ہو؟‘‘ احمد صاحب نے پوچھا۔
’’کہیں نہیں… بس تھوڑی دیر میں آرہا ہوں۔ آپ گاڑی کی چابی دیجیے گا۔‘‘ ایبک نے بدتمیزی سے جواب دیتے ہوئے کہا۔
’’میں نے آنے کا نہیں جانے کا پوچھا ہے۔ کوئی ضرورت نہیں، کہیں جانے کی۔‘‘ احمد صاحب نے ناراض ہوتے ہوئے کہا، مگر ایبک بات ماننے کے بجاے زمین پر پیر پٹختا ہوا گھر سے باہر نکل گیا۔
احمد صاحب کا دِل غم و غصے سے بھر گیا۔ اتنے میں ایمن گھر کے اندر سے آئی اور اشارہ کیا: ’’ابو اِدھر آئیں۔‘‘ اور پھر ان کا ہاتھ پکڑ کے اندر لے گئی۔
’’السلام علیکم انکل! آئیے ناں… اندر آجائیں۔‘‘ ایمن نے نیاز الدین صاحب کو سلام کرتے ہوئے اندر آنے کی دعوت دی۔
’’انکل…؟ اللہ جانے یہ کیا بلا ہے۔‘‘ نیاز صاحب نے انکل کا لفظ سُن کر دل ہی دل میں سوچا۔
’’ابو…! بھائی پر غصہ نہیں ہوں۔ بھائی آج کل بہت پریشان ہیں، کچھ دنوں میں ٹھیک ہوجائیں گے۔‘‘ ایمن نے آہستہ سے ابو کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا۔
’’آخر کب تک چھوڑوں؟ مجھے ڈر ہے، کہیں وہ غلط کاموں میں نہ پڑجائے۔ میری ہی اولاد مجھے اپنا دشمن سمجھتی ہے، جب کہ میں اسی کے بھلے کے لیے ایسے ناہنجار دوستوں سے ملنے سے منع کرتا ہوں۔‘‘ احمد صاحب نے دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹیاں دباتے ہوئے کہا۔
’’اہمم اہمم…‘‘ نیاز صاحب کھنکھارے۔
’’اوہ… آئیے، تایا ابا آپ آرام کیجیے۔‘‘ نیاز صاحب کی آواز سن کر ڈاکٹر صاحب اُن کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’میاں… جب گھر کے بچے ہی مشکل میں ہوں، تو کاہے کا آرام… بتائو صاحب زادے کو کیا پریشانی لاحق ہے؟‘‘ تایا ابا نے ایمن بِٹیا سے دریافت کیا۔
ایمن حیرت سے کبھی اپنے ابو، تو کبھی نئے تایا جان کو دیکھ رہی تھی۔
’’بس تایا ابا… کیا بتاؤں… یہ میری اولاد میرے لیے آزمائش ہے۔ ہر بات پر ضد کرنا اس کا وتیرہ بن گیا ہے۔ اللہ نے جتنی لائق بیٹی دی ہے، بیٹا اتنا ہی نالائق دیا ہے۔‘‘ احمد صاحب نے اپنے دل کے احوال تایا ابا کے سامنے کھول کر رکھ دیے۔
تم اپنی سائنس سے کیوں مدد نہیں لیتے؟‘‘ نیاز صاحب نے پوچھا۔
’’سائنس سے؟ کیسے؟‘‘ احمد صاحب نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں! جب تمھاری سائنس خون میں نظر نہ آنے والی چیزیں مثلاً شکر، نمک اور اس کا فشار تک بتا دیتی ہے، تو یہ محبت بھی تو بتاتی ہوگی ناں؟‘‘ تایا ابا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا: ’’کل رات تم اور تمھارا وہ قیدی علی جو دھڑکن کی باتیں کررہے تھے، وہ سب میں سن رہا تھا۔ تمھارے دل میں جو جذبات اور احساسات ہیں، انھیں ناپ کر اپنے صاحب زادے کو کیوں نہیں دکھاتے؟ یا جو اس کے نالائق ساتھی ہیں، اُن لوگوں کے دل کو ٹٹول کر اسے کھرے اور کھوٹے کی پہچان کروا دو۔‘‘
تایا ابا بولتے چلے گئے، جب کہ ایمن اور احمد صاحب منھ کھولے اُن کی باتیں سن رہے تھے۔
’’ایسا نہیں ہوسکتا…‘‘ احمد صاحب نے کہا۔
’’لیکن… کیوں؟‘‘ تایا ابا نے پوچھا۔
’’وہ اس لیے کہ سائنس نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی ہے۔‘‘ احمد صاحب نے بے بسی سے جواب دیا۔
’’حیرت ہے… خون کی شکر، نمک، ہلدی، مرچ ناپی اور اسے کم زیادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اپنوں کے سفید ہوتے خون کا کوئی بندوبست نہیں؟ یہ کیسی ترقی ہے اجن میاں؟‘‘ تایا ابا قریب پڑے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے۔ اُن کے چہرے پر دُکھ کے آثار نمایاں تھے۔
احمد صاحب بھی دکھ، حیرت اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ تایا ابا کی طرف دیکھ رہے تھے، جنھوں نے اُنھیں تحقیق کی ایک نئی راہ دکھا دی تھی۔
٭…٭
اس تحریر کے مشکل الفاظ
ڈی این اے (انگریزی مخفف): خلیات میں پائے جانے والا جینیاتی کوڈ
آبجیکٹ (انگریزی): جس پر کام کیا جارہا ہے، چیز، شے
شجرۂ نسب: خاندان کی اولاد کی ترتیب، آل اولاد کی تفصیل
ٹکٹکی باندھنا: برابر دیکھتے رہنا، پلک نہ جھپکانا
نو وارد: نیا آنے والا، جو تازہ وارد ہو یا شامل ہو
معتدل: درمیانی درجہ کا، پُرسکون، درمیانہ
بلور: ایک شفاف چمکیلا پتھر
رتن: جیسے نَو رَتن (قابل اور یکتا آدمی )، اکبر بادشاہ کے دربار میں تھے
ڈھارس بندھانا: حوصلہ بڑھانا، اُمید دلانا
ناہنجار: گمراہ، کج رو، نکمے، عیاش
وتیرہ: طریقہ، روش، عادت

1 Comment

  1. Noor نے کہا:

    ماشاءاللّه عمدہ کاوش۔۔ واقعی سائنس کی ترقی نے خونی رشتوں کو دور کردیا ہے۔۔ بہترین❤

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

//]]>