احمق بلی

ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ

میری بلی بہت خوبصورت ہے، اس کے سفید نرم اور ملائم ”بال “ اس کے حسن کو بڑھادیتے ہیں۔ وہ ہر ہفتے باغ میں جاتی ہے۔ وہ خوب صورت تتلیوں اور شرارتی پرندوں سے کھیلتی ہے، اور خوب مزے کرتی ہے، اس کا نام ”فلہ“ ہے۔
ایک روز فلہ نے باغ میں ایک درخت کی شاخ پر سبز توتا دیکھا، شوخ سبز پروں والا، اسے توتے کا رنگ بہت پسند آیا، اور اس کا دل چاہا کہ اس کے بال بھی سبز ہوجائیں، اگر وہ سبز بلی بن جائے گی تو وہ بھی توتے کی مانند حسین نظر آئے گی۔وہ اپنی دوست لیلی کے پاس گئی، لیلی بہت اچھی آرٹسٹ ہے۔ بلی اس سے کہنے لگی کہ میرے بالوں کا رنگ بھی سبز کر دو۔ لیلی بہت حیران ہوئی، اس نے بلی سے ہنس کر کہا کہ تمھارے سفید بال تو بہت خوبصورت ہیں، اتنے نرم ملائم اور برف جیسے سفید!! تم تو اپنے بالوں اور ان کے رنگ کی حفاظت کرو، نہ کہ اسے بدلنے کی کوشش کرو۔سب انسان ، جانور اور پودے اسی طرح اپنے جسم کی حفاظت کرتے ہیں۔
یہ سن کر میری بلی ”فلہ“ کو بہت غصّہ آیا، توتے کا سبز رنگ اتنا خوبصورت ہے، پھر وہ اپنے بالوں کو کیوں سبز رنگ نہیں کر سکتی، اس نے لیلی سے ناراضی کا اظہار کیا:
میرے بالوں کو سبز کردو، ورنہ میں تم سے ناراض ہو جاو¿ں گی۔“
فلہ کو ہر حال میں اپنے بال کو سبز کروانے تھے، توتا بھی تو اتنا پیارا لگتا ہے،آخر کار لیلی کو ہار ماننا پڑی، اس نے رنگ کی بوتل اٹھائی اور برش لے کر بلی کے بالوں پر سبز رنگ چڑھا دیا۔لیکن وہ دل میں یہی سوچ رہی تھی، کہ فلہ کتنی احمق بلی ہے، کبھی کسی انسان، جانور یا پودے نے اپنا رنگ بھی بدلا ہے، رنگ تو اس کی پہچان ہے، جس سے اس کی نسل اور خاندان کا پتا چلتا ہے، اس کے ملک اور علاقے کی شناخت ہوتی ہے۔
فلہ تو اپنے ہی حال میں مگن تھی، سبز رنگ چڑھنے کے بعد اسے اپنا جسم اور بھی حسین لگنے لگا، نرم و ملائم خوبصورت سبز بالوں والی بلی اٹھلا اٹھلا کر چلنے لگی، اب تو وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت بن گئی تھی۔
اس ہفتے اسے باغ میں جانے کا بڑی بے چینی سے انتظار تھا، وہ تتلیوں اور پرندوں کو اپنا نیا رنگ دکھانا چاہتی تھی، لیکن یہ کیا ہوا؟ اس ہفتے جب وہ باغ میں گئی تو تتلیاں اس کے قریب ہی نہ آئیں، پرندوں نے بھی اس کے آنے پر کسی خوشی کا اظہار نہ کیا۔ شاید وہ سب اسے پہچانے ہی نہیں تھے۔فلہ کو بہت دکھ ہوا، اس کے سارے دوست اور سہیلیاں اس سے دور ہو گئے تھے، کسی نے اسے پہچانا ہی نہ تھا، فلہ باغ میں ایک جانب بیٹھ گئی، وہ بہت اداس تھی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ اکیلی تھی، بالکل تنہا!! اب وہ کس سے کھیلتی؟ آرٹسٹ لیلی نے تو رنگ کرنے سے پہلے اسے بتا دیا تھا کہ اچھی بلیاں اپنا رنگ نہیں بدلتیں، نہ اپنا خاندان اور علاقہ چھپاتی ہیں ۔۔ رنگ بدل لینے سے کوئی اچھا نہیں بن جاتا، اچھا تو عادتوں سے بنتا ہے، جو اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی مخلوق سے اچھا سلوک کرتا ہے وہی اچھا ہوتا ہے، اللہ تعالی نے خود فرمایا ہے: ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو مجھ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے“ (الحجرات)
فلہ باغ سے اٹھ کر اپنی سہیلی لیلی کے گھر گئی اور اس سے پوچھا: ”میرے سفید بال کب تک واپس آئیں گے تاکہ میں اپنی سہیلیوں سے کھیل سکوں؟؟“
لیلی نے کہا: ”صبر کرو فلہ ۔۔ جب بارش ہو گی ،تو اس میں نہانا، پھر تمھارا سبز رنگ بہہ جائے گا اور سفید بال واپس آجائیں گے۔“
فلہ بہت دن انتظار کرتی رہی، یہ خزاں کا موسم تھا، جس میں بارش نہیں ہو رہی تھی، وہ ہر روز آسمان پر چمکتے سورج کو دیکھ کر خاموش ہو جاتی، نہ دن میں بارش ہوتی نہ رات کو۔ آخر کار خزاں کا موسم ختم ہو گیا اور سردی شروع ہو گئی، ایک روز خوب موسلا دھار بارش ہوئی، فلہ بھاگ کر کھلی جگہ پر چلی گئی اور خوب نہائی، اس کے بالوں سے سبز سبز رنگ اترنے لگا، کچھ دیر میں اس کا نرم و ملائم برف جیسا سفید فر نکل آیا۔
اس ہفتے جب وہ باغ میں گئی تو تتلیاں اور پرندے بھاگ کر اس کے پاس آگئے، وہ سب بھی فلہ کے بغیر بہت اداس تھے، پھر فلہ ان سب کے ساتھ خوب کھیلی۔ پرندوں اور تتلیوں نے بھی اس کی غیر حاضری پر اسے معاف کر دیا تھا، اور فلہ سوچ رہی تھی، وہ اب کبھی اپنا رنگ نہیں بدلے گی، نہ اپنے خاندان اور علاقے سے لا تعلق ہو گی۔ یہ سب تو اس کی پہچان ہیں، وہ اپنی پہچان کی حفاظت کرے گی۔
٭….٭

Comments are closed.

//]]>