جنگلی گلابوں والا برفانی تودا… سیاچن

رانا محمد شاہد

Siachin

جہاں دشمن سے زیادہ موسم کی بے رحمی کا سامنا رہتا ہے

سیاچن… بلتی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں سیاہ گلاب یا جنگلی گلاب۔ گلیشیئر تو آپ جانتے ہی ہیں ’برفانی تودے‘ کو کہتے ہیں تو یوں سیاچن گلیشیئر کا لفظی مطلب ہوا۔ ’’جنگلی گلابوں والا برفانی تودا۔‘‘
سیاچن گلیشیئر ۱۹۰۷ء میں دریافت ہوا۔ ۷۵ کلو میٹر لمبے اور ۸.۴ کلو میٹر چوڑے اس گلیشیئر پر کوئی انسانی آبادی نہیں ہے۔ سیاچن دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سے ۷۰ کلو میٹر جنوب مشرق میں پاک چین سرحد پر واقعی درہ اندرہ کول سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں سے یہ جنوب مشرق کی سمت تالتورہ رینج کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہوئے لداخ کے قریب مقبوضہ کشمیر میں واقع زنگز لما نامی ایک چھوٹے سے گائوں کے قریب دریائے نبرا میں ڈھل جاتا ہے۔
سیاچن گلیشیئر (یا برف زار) سطح سمندر سے ۱۸۸۷۵ فٹ بلند ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے اعداد و شمار کے مطابق سیاچن کی برف کا حجم ۲ ٹریلین معکب فٹ ہے۔ سیاچن دنیا کا دوسرا طویل ترین گلیشیئر ہے اور یہ دنیا کا بلند ترین محاذ جنگ ہے۔
پاکستان کے اس بڑے گلیشیئر کی تمام کی تمام جگہ برفیلی ہے۔ اسے برف کا دوزخ بھی کہہ سکتے ہیں۔ گرمیوںمیں اس کا درجہ حرارت منفی ۱۶ سے ۳۲ تک ہوتا ہے جبکہ سردیوں میں منفی ۳۰ سے ۵۰ تک چلا جاتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں بھی یہاں کی سردی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ موسم کی اس شدت میں زندگی نہیں ہوتی۔ ۷۵ کلو میٹر طویل اور ۸.۴ کلو میٹر چوڑے سیاچن کے علاقے میں آج تک گھاس کے ایک پتے نے بھی جنم نہیں لیا۔ یہاں سے کسی جانور و پرندے کا گزر بھی نہیں ہوتا۔ سیاچن گلیشیئر کو پاکستان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے دنیا بھر میں جتنی بھی کوہ پیما ٹیمیں اس علاقے کی چوٹیاں سر کرنے کے لیے آئیں۔ ان سب نے حکومت پاکستان سے ہی اجازت نامہ حاصل کیا۔ لمبائی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے گلیشیئر کو سب سے پہلے ڈاکٹر سیف ارنگ نے دریافت کیا تھا۔
سیاچن گلیشیئر کشمیر کی طرف سے ۱۶ سے ۲۲ ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔ پاکستان کی طرف سے سیاچن گلیشیئر پر جانے کے لیے گلگت سے اسکردو اور اسکردو سے آگے ’ڈم سم‘ کے علاقے کی طرف جانا پڑتا ہے۔ یہاں سے سیاچن گلیشیئر کی بلندی اٹھارہ ہزار فٹ ہے۔ ’ڈم سم‘ سے آگے ’گوما‘ کا علاقہ آتا ہے۔ پھر مختلف درے آتے ہیں۔ سب سے پہلے ’درہ سالتورہ‘ پھر ’درہ بلافونڈا‘ اور پھر ’درہ گیانگ‘ سے ہوتے ہوئے سیاچن تک جایا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سیاچن تک پہنچنا اتنا آسان بھی نہیں۔ وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ٹھنڈی اور یخ بستہ ہوائوں سے ہمت جواب دے جاتی ہے۔ پھر ان ہوائوں سے لڑتے ہوئے یہ سفر اتنا مشکل ہوجاتا ہے کہ منزل پر پہنچتے پہنچتے کئی دن اور کئی راتیں لگ جاتی ہیں۔ پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ’درہ کرلی‘ سیاچن گلیشیئر کا منبع ہے۔
آپ سیاچن کی چوٹیوں پر بغیر آکسیجن ماسک کے نہیں جاسکتے بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ آکسیجن ماسک کے بغیر آپ وہاں زندہ نہیں رہ سکتے، وہاں پر جانے کے لیے خصوصی لباس بھی درکار ہوتا ہے۔ بھاری بھرکم لباس، ہیلمٹ اور خاص قسم کے جوتوں کے بغیر آپ وہاں چند سیکنڈ بھی نہیں گزار سکتے۔ منفی ۴۰ درجہ حرارت پر دنیا کے تمام مائع جم جاتے ہیں چنانچہ آپ جسم کے کسی بھی حصے کو ننگا نہیں کرسکتے۔ اس کم ترین درجہ حرارت میں جسم ننگا کرنے کا مطلب موت ہے۔ انگلی باہر نکالیں گے تو انگلی جڑ سے غائب اور اگر ہیلمٹ اتارتے ہیں تو بھی آپ گردن سے لے کر بال تک جم جاتے ہیں۔ آپ چند گھنٹے منفی چالیس پچاس درجہ حرارت پر چلتے ہیں تو آپ کا پائوں ٹخنے سے شل ہوجاتا ہے اور پھر پائوں کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ سیاچن کے آخری میدان سے متعلق تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ وہاں تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود بیس دن سے زیادہ زندہ نہیں رہا جاسکتا۔ اس لیے وہاں بیس دن کے وقفے سے پرانے فوجیوں کو بلا کر نئے فوجیوں کو بھجوایا جاتا ہے لیکن سخت سردی کی شدت دیکھیے کہ ان میں سے بھی بہت سے ’سنو بائیٹ‘ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ آنکھ، کان، ہاتھ یا ٹانگ سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ’سنو بائٹ‘ کا مطلب ہے کہ یہاں سردی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ہاتھ بغیر دستانے کے کسی چیز کو چھوجائے تو ہاتھ کا دوران خون رک جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے خون جم گیا ہے اور ہاتھ سن ہوگیا ہے۔ اس کیفیت کا نام ’سنو بائیٹ‘ ہے۔ ایسی صورتحال میں ہاتھ بیکار ہوجاتا ہے اور بالآخر اسے کاٹنا پڑتا ہے۔
سیاچن کی لمبائی ۷۵ کلو میٹر سے زائد جبکہ چوڑائی ۵ کلو میٹر ہے۔ یہ دنیا کا بلند ترین محاذ جنگ ہے جہاں انسان کا مقابلہ انسان سے ہی نہیں بلکہ موسم کے بے رحم تھپیڑوں سے بھی ہوتا ہے۔ اس علاقے کی سیدھی اور سپاٹ چڑھائیاں برف سے اٹی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چلتے ہوئے پائوں زمین پر نہیں ہوتے بلکہ برف میں دھنس جاتے ہیں۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ جس سے قوت مدافعت میں بھی فرق پڑتا ہے۔ بعض اوقات سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے برفانی جھکڑ بھی چلتے ہیں۔ جب سیاچن پہ ہیلی کاپیٹر لینڈ کرتا ہے تو اس کے انجن کو بند نہیں کیا جاتا بلکہ اسٹارٹ ہی رکھتے ہیں کیوں کہ خدشہ ہوتا ہے کہ آکسیجن کی کمی ہونے کی وجہ سے اگر انجن بند کردیا تو کہیں دوبارہ اسٹارٹ ہی نہ ہوسکے۔
سیاچن پر فوجیوں کے لیے فائبر گلاس کے چھوٹے چھوٹے خیمے نصب ہوتے ہیں۔ فوجیوں کی خاص وردی اور خاص جوتے نہ ہوں تو زندہ رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ فوج کے آپس میں رابطے کے لیے ٹیلی فون لائنیں نصب ہیں، جو کئی کئی فٹ برف کاٹ کر بچھائی گئی ہیں۔ اگر احتیاط نہ کی جائے تو شدید قسم کے امراض (جن میں ’پلموزمی اور ڈیمہ‘ اور ’برین اوڈیم‘ شامل ہیں) کے حملے ہوسکتے ہیں۔ ان میں جسم کے مختلف حصوں کے مفلوج ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسی طرح یہاں انسان کے پھیپھڑوں میں خون کی نالیوں میں ہوا کا دبائو بڑھ جاتا ہے۔ خون پھیپھڑے کی نالیوں سے باہر آجاتا ہے۔ یوں پھیپھڑوں میں خون بھرجاتا ہے۔ ایسے مریض کو اگر فوری طور پر آکسیجن مہیا نہ کی جائے تو موت کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔
سیاچن میں بعض چیک پوسٹ ایسی ہیں جہاں پر بنائے گئے ’اگلو‘ میں چار، پانچ لوگ ہی رہ سکتے ہیں۔ اگلو کیا ہے؟ اگلو برف کے اس گھر کو کہتے ہیں جو برف کا ہی بنا ہوتا ہے اور اس کے اندر کا درجہ حرارت ایسا رکھا جاتا ہے کہ زندہ رہا جاسکے۔ صورتحال یہ ہوتی ہے کہ سوتے وقت ٹانگیں ایک دوسرے پر رکھنا پڑتی ہیں۔ یہاں کی سب سے خطرناک چیک پوسٹ یوسف چیک پوسٹ ہے جس کی بلندی ۲۱ ہزار فٹ ہے۔ ایک فوجی افسر جو اس چیک پوسٹ سے معجزانہ طور پر واپس آیا۔ اس نے بتایا کہ ’میں خود ایک چیک پوسٹ پر رہا۔ میری انگلیوں کی پوریں تک جم گئیں جبکہ میرے ساتھ جانے والے دو ساتھی شہید ہوگئے، میری زندگی لکھی ہوئی تھی، میں بچ گیا۔‘‘

٭…٭

//]]>