ساتھی نے کیا دیا

رمانہ عمر

ساتھی نے کیا دیا
رمانہ عمر

ہمارا اور ’ساتھی‘ کا ساتھ خاصا قدیم ہے۔ کچھ نہیں کچھ نہیں تو سولہ برس پرانا تو ہوگا ہی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم اپنے دو چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر سعودی عرب کے شہر ریاض میں منتقل ہوئے اور ہم نے وہاںساتھی کے سالانا خریدار بننے کا فیصلہ کیا اس وقت بڑے صاحبزادے محض تین برس کے تھے اور صاحبزادی ایک برس کی۔ لہٰذا شروع شروع میں تو ساتھی ہماری ہی تفریحِ طبع کا باعث بنا۔ کاموں سے فراغت کے بعد ہم نے رسالہ کبھی پڑھا ہی نہیں تھا۔ لہٰذا ساتھی ملا تو ہم پھر سے اپنے بچپن میں لوٹ گئے اور ساتھی ہمارا اچھا دوست بن گیا۔
ذرا سوچیے کہ ساتھی اور دوست ….بھلا دوست کون ہوتا ہے؟
وہی جو آپ کے قریب موجود ہو تو آپ خوش ہوجائیں۔ بلائیں تو فوراً آجائے۔ مصروفیت کا بہانہ نہ بنائے۔ جس کے ساتھ دل بہلایا جا سکے۔ جو مزے مزے کی باتیں سنائے۔ جو اچھی اچھی باتیں سکھائے اور جو آپ کا سچا خیر خواہ ہو اور یہ بھی ایک خوبی ہے کہ دوست کے ساتھ گزارا ہوا وقت بچپن گزرنے کے بعد ماضی کی خوبصورت یادوں کی البم میں محفوظ ہوجائے۔
کہیے! ایسا ہی دوست اچھا کہلایا جا سکتا ہے ناں؟ تو بھئی ہم تو یہ کہیں گے کہ ہمارا ’ساتھی‘ دوستی کے اس پیمانے پر اول نمبر پر رہا۔
٭ ہر ماہ باقاعدگی سے ملتا رہا اور سولہ برس میں کبھی ناغہ نہ کیا۔
٭ سرورق صفحے کی خوبصورت تصویروں سے بچوں کا دل بہلایا۔
٭ اس کے کچھ لطیفوں نے خوب ہنسایا اور کچھ نے رُلایا۔ رونا اس لیے آیا کہ پڑھ کر سمجھ میں ہی نہ آیا کہ اسے لطیفہ کس نے کہا ہے اور کیوں کہا ہے۔
٭ بچوں میں کتنی ہی اچھی عادتیں ساتھی سے آئی ہیں کیونکہ بچے زیادہ نصیحتوں سے گھبرا جاتے ہیں۔ جب وہی بات کہانی کی صورت میں ہلکے پھلکے انداز میں سنائی جائے تو وہ پیغام کو دل سے قبول کر لیتے ہیں اور اس کا اَثر دیر پا ہوتا ہے۔
٭ ساتھی سے وابستہ یادیں بہت میٹھی اور خوشگوار ہیں۔
چلیے آج آپ کو بھی سناتے ہیں۔ اپنے خاندان کے اس البم کے چند صفحے آپ کو دکھاتے ہیں۔
ہمارے گھر میں ’ساتھی‘ رسالہ نہیں بلکہ گھر کا فرد ہے۔ سالہا سال ہمارا یہ معمول رہا کہ چھٹی کی رات بچوں کے بستر ہمارے کمرے میں لگتے ور پھر ہم یوں ساتھی سناتے کہ ایک بیٹا دائیں، بیٹی بائیں اور تیسری میرے پیٹ پر ہوتی۔ میں بچوں کی عمر اور ذہنی سطح کا لحاظ کرتے ہوئے کہانیوں کی زبان کو اور زیادہ آسان کرکے سناتی۔ بچے رفتہ رفتہ تحریری زبان کے عادی ہوتے چلے گئے تو سب سمجھنے لگے۔ تحریر کی اپنی زبان ہوتی ہے جو محض بول چال سے سیکھی نہیں جاسکتی۔ ہمارے بچوں نے جتنی اُردو سیکھی اس میں ساتھی کا بہت اہم کردار ہے۔ آگے چل کر یہ کوشش بھی بارہا کی کہ بچے خود ہاتھ میں رسالہ اٹھائیں اور پڑھیں لیکن یہاں تک نوبت نہ آسکی۔ جب پڑھنے میں اَٹکتے تو پھر مجھے پکڑا دیتے ہیں کہ ”آپ ہی سنا دیں آپ کے سنانے سے زیادہ مزا آتا ہے۔“
بچے سب ہی انٹرنیشنل اسکول میں پڑھے ہیں لہٰذا اُردو کا مضمون اسکول کے نصاب میں شامل نہےں۔ جتنی اُردو سکھائی، وہ میں نے ہی گرمیوں کی چھٹیوں کے زمانے مےں سکھائی۔ اسی لیے ساتھی ہمارا اُردو کا استاد بھی ثابت ہوا۔ اس فیملی ٹائم میں ہم نے اکثر صوتی اثرات والی خوبصورت نظموں کو لہک لہک کر گایا بلکہ جھوم جھوم کر گایا۔ ایک نظم چھپی تھی جس میں ہر مصرع کے بعد آتا تھا ’دھم دھما دھم ‘ وہ تو ہم نے خوب گائی۔
لطیفوں پر بھی بڑا مزا آتا رہا۔ بچے جب سمجھ لیتے تو ہنسنے میں ہمارا ساتھ دیتے اور اگر سر پر سے گزر جاتا تھا تو منھ بگاڑ کر کہتے ” یہ کیسا گندا لطیفہ ہے…. بالکل ہنسی نہیں آئی۔“ اگر اسی لطیفے پر اپنے ابو اور امی کو ہنستا دیکھ لیتے تو حیران ہو کر پوچھتے ”آپ لوگ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟“
اس فیملی ٹائم کا معمول ابھی تک جاری ہے۔ فرق یہ آیا ہے کہ بڑا بیٹا اور بیٹی تو یونیورسٹی کی عمر کے ہو گئے اور اب دو چھوٹی بیٹیاں ہمارے اردگرد بیٹھ کر یا لیٹ کر ساتھی ٹائم کرتی ہیں۔
جب شہزاد اور فراز والی سلسلے وار کہانی چل رہی تھی اس دوران تو دماغ کی خوب ہی کھنچائی ہوتی تھی۔ بیٹی صاحبہ ہر دوسرے سین پر روک کر پوچھتی تھیں ’ رکیے ! پہلے یہ بتائےے یہ شہزاد ہے یا فراز؟ شہزاد ہے تو کیا اصلی والا یا نقلی والا؟“ پھر جب چھٹیوں میں پاکستان گئے تو پتا چلا کہ نانی صاحبہ بھی اسی کہانی کی دلدادہ تھیں۔ مزے کی بات ہے ناں! میری بیٹی، میں اور میری امی جان تینوں ہی اس کہانی کے خوب مزے لے رہے تھے۔
ساتھی کے سالنامے تو بڑے ہی شاندار ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ شرارتوں والا نمبر آیا تھا تو اس میں کسی بزرگ نے اپنے بچپن کی شرارت لکھی تھی۔ اس زمانے مےں غسل خانے کھلے میں ہوتے تھے اور بغیر دروازے کے۔ جب کوئی اندر جاتا تو دیوار پر لوٹا رکھ دیتا تھا۔ بچوں نے شرارت یہ کی کہ لوٹا لے کر بھاگ لیے اور پھر….
اس شرارت کو پڑھ کر سب ہی لوٹ پوٹ ہو گئے اور پھر کئی دنوں تک سب کو لوٹے کا لطیفہ یاد آتا رہا اور ہنسی آتی رہی۔
بعض کہانیاں انوکھے اور منفرد آئیڈیاز پر لکھی گئیں۔ مثال کے طور پر ایک کہانی آئی تھی جس میں مستقبل کا نقشہ کھینچا گیا تھا کہ کس طرح پینے کا پانی خریدنے کے لیے لائنیں لگا کر یں گی اور دوسری وہ تھی جس میں ساری دنیا کے بچے اچانک غائب ہوجاتے ہیں جسے پڑھ کر میں آبدیدہ ہو گئی اور سوچنے لگی کہ ہم اپنی نسل کو کیسی دنیا دے کر جا رہے ہیں جس نے بچوں کی معصومیت اور خوشی سب چھین لی ہے۔ میں یہ تسلیم کررہی ہوں کہ اتنے پیارے ساتھی سے اتنا پیار کرنے کے باوجود ہم نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا۔ حالانکہ کرنا چاہےے تھا۔ اس کے لیے بہت معذرت کرتی ہوں۔
ہمارے پیارے ساتھی آج ہم سب نے اپنے دل کی باتیں تم سے کرلی ہےں ۔ یہ مضمون میرے سب بچوں نے سنا اور سب ہی نے اس کی تائید کی۔ اس لیے اب حارث سید، حفصہ سید، ھدیٰ سید اور ھنیہ سید کی طرف سے اتنی ساری اچھی باتیں سکھانے کا بہت بہت شکریہ۔
جیتے رہو، آباد رہو، جاری رہو۔ اﷲ سے دعا کرتی ہوں کہ صحت تندرستی کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے تو پھر اپنے نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ ایسی ہی محفل سجایا کروں گی۔ ٭….٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>