انٹرویو

سلیم مغل

         مرتب : محمد طارق خان
سلیم مغل کے دفتر پہنچ کر سلام دعا کے بعد ہم اپنے مدعا پر آگئے:”سب سے پہلے تو اپنا مکمل تعارف کروائیں تاکہ قارئین آپ سے مکمل طور پر آگاہ ہوسکےں۔“
سلیم مغل نے مکمل تعارف کا حق ادا کرتے ہوئے کہا: ”میں ڈسٹرکٹ عمر کوٹ کے ایک چھوٹے سے شہر کنری میں پیدا ہوا۔ یہ شہر مرچ مسالوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ میرے والد کا میڈیکل اسٹور تھا۔ میٹرک قاضی سلطان ہائی اسکول سے کیا۔ پھر میر پورخاص آگئے۔ انٹرمیڈیٹ میرپور خاص سے کیا۔ کراچی یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس میں بی اے اونرز کیا اور ماسٹر جرنیلزم میں کیا۔ مختلف جگہوں پر نوکریاں کیں۔ اس وقت میڈیا کی پریکٹس اور میڈیا کی ٹیچنگ میرا کام ہے۔ پڑھانے کی وجہ سے بہت سارے کام آسان ہوجاتے ہیں۔ پی ٹی وی میں پانچ سال تک کام کیا۔ یونیسیف میں کام کرنے کا موقع ملا۔ بچوں کا پروجیکٹ ’الف اُجالا‘ کے لیے بہت کام کیا۔ میری بچوں کے ساتھ فطری دلچسپی تھی۔ اس عرصے میں ’فائن لائن‘ ادارہ بنایا جو بعد میں ’زومن‘ بنا۔ آنکھ مچولی کے ظفر محمود شیخ میرے یونیورسٹی کے دوست تھے۔ انہیں اندازہ تھا کہ میں بچوں کے کام کے حوالے سے دلچسپی رکھتا ہوں۔ اسی لیے ان کے کہنے پر میں آنکھ مچولی آگیا۔ آنکھ مچولی کا نام میں نے ہی تجویز کیا تھا۔ آنکھ مچولی کے اوپر جانے کی رفتار غیر معمولی طور پر بہت زیادہ تھی۔ ہمارا ایک خاص شمارہ آیا۔ ’خوفناک نمبر۔‘ وہ ہمیں تین چار دفعہ چھاپنا پڑا۔ ہم حیران رہ گئے۔اس کے باوجود اس کی مانگ موجود تھی۔ اس شمارے میں ہم نے صرف خوفناک کہانیاں نہیں دی تھیں۔ بلکہ خوف کو تعلیمی تناظر میں بیان کیا گیا تھا۔ خوف کے موضوع پر انٹرویوز۔ نامور لوگوں کی کہانیاں بھی شامل تھیں۔
اس دوران فصیح بھائی نے سوال کیا:” کیا آپ کے پاس آنکھ مچولی کے یہ شمارے محفوظ ہیں؟“
سلیم مغل نے فوراً بتایا: ”جی۔ مجھے معلوم تھا کہ ایک ایک شمارہ سنبھالنا مشکل کام ہے۔ اس لیے مےں نے ان کی جلدیں بنا کر اپنے پاس محفوظ رکھ لیں۔ آنکھ مچولی نے غیر معمولی روایات کو مستحکم کیا تھا اور ایک خاص بات یہ ہے کہ چند پرچوں کو چھوڑ کر باقی جتنے بڑے پرچے ہیں ان کے پیچھے بہت بڑے بڑے ادارے موجود ہیں۔ نونہال کے پیچھے ہمدرد کا ادارہ، تعلیم و تربیت کو فروغ سنز دیکھ رہا ہے۔ نوائے وقت ’ماہنامہ پھول‘ کو مدد فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح آنکھ مچولی کو مالی طور پر ’احمد فوڈز‘ کی معاونت حاصل تھی۔ میں نے آنکھ مچولی میں لکھا بلکہ بہت لکھا۔ میری دوکتابیں ”جستجو“ اور ”دستک“ بھی شائع ہوئیں اور امی ابو کے لیے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ جو بہت جلد شائع ہوجائے گی۔“
سلیم مغل نے اس دوران اپنے بچپن کو کنگھالتے ہوئے بتایا: ”جب میں ساتویں یا آٹھویں میں پڑھتا تھا اس وقت سے میں بچوں کے لیے کام کرتا تھا۔ ان کے لیے تقریری مقابلے، کوئز، کراٹے وغیرہ منعقد کروانا۔ ’رفیق افغان‘ (امت اخبار کے ایڈیٹر) ان کو پوری ٹیم کے ساتھ بلوایا۔ انہوں نے بچوں کو کراٹے سکھائے۔ نیلام گھر بھی کروایا۔ گھر کی چیزیں نیلام گھر میں لے جاتا۔ جہاں کوئز جیتنے والوں کو بطور انعام دیے جاتے۔ گھر والے اس معاملے میں مجھ سے تنگ بھی آئے لیکن بعد میں اسی کام کی تعریف بھی کرتے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ جن بچوں کے لیے میں یہ سب پروگرام کرتا تھا۔ وہ بہت آگے نکل گئے۔ کوئی ڈاکٹر ہے کوئی انجینئر …. کوئی کہیں افسر لگا ہے۔ غرض بے شمار لوگ تھے۔ جو میرے اس آئیڈیے سے فیض یاب ہوچکے تھے۔
ہم نے استفسار کیا: ” آنکھ مچولی کی مقبولیت کی وجہ کیا ہے؟“
سلیم مغل نے اس سوال کو بڑے غور سے سنا پھر سوچ کر کہنے لگے: ”اس کی کوئی ایک وجہ نہیں تھی۔ بے شمار عوامل تھے۔ جنہوں نے آنکھ مچولی کو مقبولیت بخشی۔ اس کی بنیادی وجہ ایک مضبوط ادارے کا اس کے پیچھے ہونا اور مالکان کا بچوں میں دلچسپی لینا تھا۔ ظفر محمود شیخ کا خواب تھا کہ وہ بچوں کے لیے کچھ بڑا کریں۔ کوئی بھی شخص اگر ایک کامیاب رسالے کا مدیر بننا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اچھا لکھتا ہو یا اس کا مطالعہ اچھا ہو۔ ایک اچھا مدیر وہ ہے جو بیک وقت کئی شعبوں پر نظر رکھتا ہو۔ مدیر کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کس سے لکھوانا چاہیے اور کس سے نہیں لکھوانا چاہیے۔ اچھی تحریر اور قاری کو سمجھنا مدیر کے لیے بہت ضروری ہے۔ جب میں آنکھ مچولی میں تھا، اس وقت میں نے ریڈرز ڈائجسٹ کا مطالعہ کیا۔ اس کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ریڈرز ڈائجسٹ دنیا کا سب سے زیادہ شائع ہونے والا ڈائجسٹ ہے۔ دنیا کی کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوتا ہے۔ ۶۲ ہزار صرف اس کے ملازمین ہیں۔ اس لیے میں ریڈرز ڈائجسٹ سے متاثر تھا کہ یہ اپنے قاری کو کیسے جانتا ہے۔ اس کے راز کیا ہےں؟ یہ کن آئیڈیاز کی وجہ سے مقبول ہے اور میں سمجھتا ہوں اس کے کچھ راز مجھ پر منکشف ہو ہی گئے۔ جس کی وجہ سے آنکھ مچولی کو بڑا فائدہ ہوا۔ رسالہ ترتیب دیتے وقت میں بالکل بچہ بن جاتا تھا۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ کوئی تحریر اچھی اور معلوماتی ہوتی لیکن بچوں کے بور ہونے کا خدشہ ہوتا تھا۔ پھر اس کا انٹرو یا عنوان جاندار بنانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ جیسے ایک مضمون کا عنوان ہم نے رکھا….” وفات پانے کے مجرب نسخے“ حالانکہ مضمون کا موضوع تھا ”نقصان پہنچانے والی اشیا“…. عنوانات تحریر کو دلچسپ بنا دیتے ہیں اور یہ راز ہم جان گئے تھے۔ کوئی بھی تحریر، فلم، ڈرامہ مکمل طور پر بہترین نہیں ہوتے۔ اس میں آٹھ، دس مقامات ہی ایسے ہوتے ہیں جو قاری یا ناظر کو یاد رہتے ہیں اور قاری بس اس کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کسی بھی رسالے میں چند چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہیں۔“
سلیم مغل نے ایک پتے کی بات بتاتے ہوئے کہا: ”اکثر رسائل بڑے لوگوں سے تحریریں لکھوا کر قاری کو قریب کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ بچہ بڑے نام سے مرعوب نہیں ہوتا۔ بالکل نئے قلمکار کی تحریر اگر اچھی ہو تو وہ اسے ہمیشہ یاد رہتی ہے۔“
اُنھوں نے اپنے ایک آئیڈیے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا: ”ایک زمانے میں آنکھ مچولی نے سگریٹ کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی۔ یہ مہم بڑی کامیاب رہی اور بلامبالغہ سیکڑوں لوگوں سے سگریٹ کو ہم نے چھڑوایا۔ کافی عرصے تک ایک اسٹیکر آنکھ مچولی کے ساتھ مفت دیا جاتا رہا۔ ہم اپنے قارئین سے کہتے تھے کہ یہ اسٹیکر وہاں لگائیں جہاں سگریٹ پینے والے شخص کی نظر پڑتی ہو۔ اسٹیکر پر لکھا ہوتا تھا۔’ہمیں آپ کی زندگی بہت عزیز ہے۔ اگر آپ کو بھی ہم عزیز ہیں تو پلیز سگریٹ ترک کردیں۔‘ اسی طرح ہم نے اپنے قارئین کو ایک نظم یاد کرائی۔ہم نے اپنے قارئین سے کہا کہ گھر میں اگر کوئی ایسے مہمان آئےں جو سگریٹ پیتے ہوں تو ان سے کہیںکہ ہم آپ کو ایک نظم سناتے ہیں۔ اس نظم کو سننے کے بعد شاید ہی کسی کی ہمت ہوتی ہو کہ وہ بچوں کا دل توڑ سکے۔ میری اپنی بیٹی نے یہ نظم گھر آئے کئی مہمانوں کو سنائی اور ان کی سگریٹ چھڑوائی۔ وہ نظم کچھ یوں تھی….
انکل سگریٹ چھوڑ بھی دیں
سگریٹ سے منھ موڑ بھی دیں
سگریٹ سے بو آتی ہے
جی سب کا متلاتی ہے
اور پھر آخری شعر یوں تھا….
آپ نے اگر سگریٹ نہ چھوڑی
میری آپ سے کٹی
نظم سننے کے بعد انکل بچوں سے کہتے ’ٹھیک ہے بیٹا۔ میں نے سگریٹ بجھا دی اور کئی لوگوں نے اس طرح ہمیشہ کے لیے سگریٹ پینا چھوڑ دی۔ یہ تھے وہ آئیڈیازجنہوں نے رسالے کو عروج بخشا۔“
ہمارے پے درپے سوالات جاری تھے۔ سلیم مغل نے عالمی طور پر بچوں کے ادب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ”زندہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے کام کرتی ہیں۔ سب کو چھوڑیں پڑوسی ملک بھارت کو دیکھ لیں وہ اپنے نظریات، خیالات کے ساتھ بچوں کے لیے بے تحاشا کام کررہے ہیں۔ ہمارے شہروں میں بچے رسالہ خریدنے سے زیادہ کھانے پینے کی چیزیں خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جبکہ گا¶ں دیہاتوں میں رسائل کو فضول چیز سمجھ کر بچوں کی پٹائی کی جاتی ہے۔ جبکہ ہم نے خود کئی سروے کروائے جن میں پتا چلا کہ جو بچے رسائل پڑھتے ہیں وہ دیگر بچوں سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ جماعت میں اچھی پوزیشن لیتے ہیں۔
اب ہم نے سلیم مغل سے لفظ آئیڈیا سے متعلق گفتگو شروع کی۔ سلیم مغل پہلو بدل کر بولے: ”اب آنے والے زمانے میں دنیا کی وہی قومےں آگے بڑھیں گی جن کے پاس آئیڈیاز ہوں گے۔ آئیڈیا وہ چیز ہے جس سے آدمی کچھ سے کچھ ہوجاتا ہے۔ امریکا میں ایک ٹوتھ پیسٹ بنانے والی کمپنی نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا لیکن ایک خاص حد تک آکر وہ رک گئے اور اس سے زیادہ ان کا مال بِک نہیں رہا تھا۔ اُنھوں نے اس پر سوچ بچار شروع کی۔ ایجنٹ بدل کر دیکھ لیے۔ اشتہارات بڑھا دیے لیکن کچھ نہیں ہوا۔ ایک شخص نے ان کا چیلنج قبول کرلیا۔ کمپنی مالکان پہلے تو نہ مانے لیکن اس نے کہا کہ اگر ٹوٹھ پیسٹ کی خرید بڑھ گئی تو اس وقت مجھے پیسے دیجیے گا ورنہ نہیں…. کمپنی حیران تھی لیکن بالآخر اس کی شرط مان لی گئی۔
اس نے ایک لفظ میں اپنے آئیڈیے کو بیان کیا اور کمپنی سے لاکھوں روپے لے کر چلتا بنا۔ اس نے کہا ’آپ کی توٹھ پیسٹ کا منھ چھوٹا ہے اس کو تھوڑا سا بڑا کرلیں۔‘ دراصل اس ٹوتھ پیسٹ کا منھ چھوٹا تھااور ٹوتھ پیسٹ کم نکلتا تھا لیکن بڑے منھ کے ساتھ زیادہ پیسٹ نکلتی اور زیادہ خرچ ہوتی۔ جو ٹوتھ پیسٹ ایک ماہ میں ختم ہو رہی ہے۔ وہ پندرہ دن میں ختم ہوجائے گی اور پھر سب نے دیکھا کہ چند ہفتوں میں ہی اس کی ڈیمانڈ ڈبل ہوگئی۔ ہمارے معاشرے مےں شاید یہ بہت پسندیدہ بات نہیں ہوگی۔ ہمارا مذہب بھی اس چیز کی اجازت نہیں دیتا لیکن مغرب میں چوں کہ ایسا کوئی تصور نہیں ہے اس لیے وہاں یہ آئیڈیا کامیاب ہوگیا۔
سلیم مغل نے ایک اہم بات کی طرف اشارہ کیا: ”جتنے لوگوں نے اختراعات کی ہیں۔ نظریات پیش کیے ہیں۔ وہ سب کے سب تخلیقی ذہن رکھتے تھے۔ ان کے آئیڈیاز نے دنیا بدل کر رکھ دی۔ دنیا تو بدلی ہی کہانیوں نے ہے۔ پہلے شہزادہ ہی قالین پر اُڑا ۔ جہاز تو بعد میں آیا۔ جادوگر نے پہلے طلسمی آئینے میں دنیا کے مناظر دیکھے …. ٹی وی بھی بعد میں آیا۔“
سلیم مغل صاحب آل رائنڈر ہیں۔ انہوں نے تقریباً ہر شعبے میں کام کیا ہے۔ وہ بہت زیادہ معروف کیوں نہیں ہوئے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں۔
”میرا ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ میں نے کہانیاں، مضامین، کالم، انٹرویوز، کوئز، امی ابو کے لیے صفحات، افسانے اور نظمیں لکھیں۔ اگر میں یہ سب کچھ نہ کرتا۔ صرف کوئی ایک چیز پکڑ لیتا تو میں شاید افسانہ نگار مانا جاتا یا پھر ایک کالم نگار کے طور پر مشہور ہوتا۔ اس لیے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ کسی ایک شعبے میں مہارت پیدا کرلو۔ استقامت کے ساتھ ڈٹے رہو۔ استقامت کرامت ہے۔ جب کوئی کام آپ مستقل مزاجی کے ساتھ کرتے ہیں تو وہ پہلے آپ کا تعارف بنتا ہے۔ پھر آپ کی شناخت اور طاقت بنتا ہے۔ آپ کا اس شعبے سے متعلق لوگ تذکرہ کرتے ہیں۔ آپ کی کوئی چیز متاثر کرے تو وہ حوالہ بن جاتی ہے۔
میںبچپن میں کہانیاں لکھتا تھا۔ بچوں کا مشرق، بھائی جان، بچوں کے جنگ میں لکھتا تھا۔ اسکول میں پڑھنے کے دوران ایک رسالہ آتا تھا آداب عرض۔ اس میں افسانے جیسی کہانیاں چھپتی تھیں۔ پھر بعد میں آنکھ مچولی میں تواتر کے ساتھ لکھا۔“
سلیم مغل نے آئیڈیے کے حوالے سے ایک اشتہار کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا….
ایک صاحب اپنی مصنوعہ (پراڈکٹ) کو لے کر ٹی وی پر آئے اور انہوںنے کہا کہ میں ایک سیکنڈ کا اشتہار بنوانا چاہتا ہوں۔ ٹی وی کے مالکان نے کہا کہ ہم ایک سیکنڈ کا اشتہار نہیں چلاتے۔ قانوناً بھی کم از کم دس سیکنڈ کا اشتہار چلایا جاتا ہے۔ (پاکستان میں بھی یہی قانون ہے) اس نے کہا کوئی بات نہےں، میں دس سیکنڈ کے پیسے دوں گا لیکن چلے گا ایک سیکنڈ ہی۔ پہلے تو انہوں نے اسے بے وقوف سمجھا لیکن پھر بالآخر اس کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کر لیا۔ معاہدے کے مطابق ہر اشتہار کے بعد اس کا اشتہار چلے گا۔ اشتہار اس نے اس طرح ڈیزائن کروایا کہ وہ کیمرے کی فلش کی طرح چمکتا اور جب وہ اشتہار مسلسل چلا تو لوگوں نے کہا کہ شاید ٹی وی کو کچھ ہو رہا ہے۔ پھر لوگوں نے کہا نہیں یہ کچھ لکھا ہوا آرہا ہے۔
”ارے یہ دیکھو…. یہ تو فلاں چیز لکھی ہوئی ہے۔“ اور اس توجہ سے لوگوں نے اس کا نوٹس لیا کہ وہ پراڈکٹ زبان زد ِعام ہوگئی۔ ایک منٹ کا اشتہار بھی اتنی توجہ نہیں کھینچتا۔ تین چار دنوں میں وہ پورے ملک پر چھا گیا۔ اس کے مخالفین عدالت پہنچ گئے کہ جب دس سیکنڈ سے کم اشتہار کی اجازت نہیں ہے تو یہ کیسے چلایا جا رہا ہے اور اس کے مخالفین کیس جیت گئے لیکن اس وقت تک وہ مارکیٹ پر چھا چکا تھا۔ یہ ہوتا ہے آئیڈیا۔
سلیم مغل سے جب ہم نے پسندیدہ مصنف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ایک نئی بات کہی۔ بتانے لگے۔ ”بچوں کے ادیب کے نام سے جو لوگ مشہور تھے وہ مجھے متاثر نہ کرسکے۔ مجھے ’اخلاق احمد‘ بہت پسند تھے۔ انہوں نے حق اسکواڈ لکھی۔ وہ بچوں کے ادیب کے حوالے سے مشہور نہیں ہےں۔ اخلاق احمد کے حق اسکواڈ کی خاص بات یہ تھی کہ اس نے اپنے کرداروں سے بڑے بڑے اسمگلروں کو نہیں پکڑوایا۔ ایسے کام بھی اس کے کرداروں نے نہیں کیے جو عموماً بچے نہیں کرپاتے۔ انہوںنے نقل کرانے والے لالو کو پکڑوایا۔ گندی ریڑھی والے کی ریڑھی اسکول کے سامنے سے ہٹوائی۔ یہ چھوٹی چھوٹی برائیاں جو عملی طور پر بچوں کی زندگی میں مسئلے پیدا کرتی ہیں۔ انہیں بڑی ذہانت سے دلچسپ بنا کر بچوں کے سامنے کہانی کی صورت میںپیش کیا۔
”زندگی میں کس سے متاثر ہوئے۔“ ہمارا یہ سوال سن کر سلیم مغل صاحب چونکے۔ کہنے لگے: ”یہ بڑا پھنسانے والا سوال ہے۔ زندگی میں بے شمار لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے آپ متاثر ہوتے ہیں۔ والدین سے اس لیے متاثر تھا کیوں کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر آپ کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ اپنی خواہشات کو روک کر آپ کی خواہش پوری کرتے ہیں۔ ایک دفعہ میں گا¶ں گیا تو بہنوں نے کہا امی کو سمجھائیں۔ ایک فقیر نے امی کی کمزوری پکڑ لی ہے۔ وہ دروازے پر آکر زور زور سے کہتا ہے۔ اماں تمہارے سلیم بیٹے کو اﷲ شہر میں خوش رکھے۔ اس کو مشکلات سے بچاے اور امی یہ سن کر سب پیسے فقیر کو دے دیتی ہیں اور والدین کے علاوہ یہ کام آپ کے لیے کوئی نہیں کرتا۔ اس لیے ان سے متاثر ہونا فطری بات ہے لیکن اپنے والدین اور اساتذہ کے علاوہ میں جس شخصیت سے متاثر ہوا وہ میرا نائی ہے۔
میرا نائی باتونی بہت تھا۔ جو لوگ باتونی ہوتے ہیں۔ وہ بہت جلد کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ میں نے اس کے اندر ایسی غیر معمولی باتیں پائیں جو اسے عظےم بناتی ہیں۔ دنیا میں تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو مشہور ہوجاتے ہیں۔ دوسرے وہ جو کردار کے بڑے اور مشہور دونوں ہوتے ہیں۔ تیسرے وہ جو کردار کے بہت بڑے ہوتے ہیں لیکن مشہور نہیں ہوتے۔
وہ نائی اس تیسری قسم سے تعلق رکھتا تھا۔ بڑا آدمی ہونے کے لیے امیر ہونا یا آکسفورڈ کا ڈگری یافتہ ہونا ضروری نہیں۔ انسان اپنے کردار سے بڑا آدمی بنتا ہے۔
”ایک قلمکار کو نئے آئیڈیاز کے متعلق سوچنا اور اس پر کام کرنے پر کیسے راغب کیا جا سکتا ہے؟“ اس سوال کے جواب میں سلیم مغل صاحب نے ہمیں شکیب کا ایک شعر سنایا۔
شکیب اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہوجائے
اور پھر بھوپالی کا شعر سنایا۔
اے میرے ہم سخنو! ہم قلمو! نغمہ گرو!
کتنے موضوع جو سرِ راہ صدا دیتے ہیں
ذرا پیکر ذات سے باہر نکل کر تو دیکھو
کتنے ذرے ہیں جو سورج کا پتا دیتے ہیں
یہ سب چیزیں دراصل ایک مخصوص روایتی سوچ کو ختم کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ اپنے آپ کو چیلنج کرنا کہ یہ آئیڈیا تو کوئی بھی لاسکتا ہے۔ یہ خیال تو کسی کا بھی ہوسکتا ہے۔ مجھے کچھ نیا کرنا چاہیے۔ جب یہ سوچ قلمکار میں آجائے گی وہ نئے آئیڈیاز کو متعارف کروانے کا سبب بن سکتا ہے۔
حقیقتاً سلیم مغل صاحب سے آئیڈیاز کے حوالے سے یہ نشست کارآمد ثابت ہوئی۔ جہاں ہمیں سوچنے کے نت نئے آئیڈیاز ملے وہیں آپ کو بھی دعوت فکر ہے کہ اس انٹرویو میں سے اپنے کام کی بے شمار چیزیں نکال کر اپنی عملی زندگی میں اس کا تجربہ کریں۔
٭….٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>