قصہ اندھیری رات کا

عمربن عبدالرشید

تیز آواز کے ساتھ ہی ہمارا مال بردار بحری جہاز کراچی کی بندر گاہ سے دور ہوتا چلا گیا۔ میں نے آخری نظر بندر گاہ پر ڈالتے ہوئے دل میں سوچا: ”نجانے کتنے دنوں تک چاروں طرف سمندر دیکھنا پڑے۔“

جیسے ہی بندرگاہ نظروں سے اوجھل ہوئی ہم سب اپنے اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔

میں اس بحری جہاز پر پچھلے دو سال سے ملازمت کر رہا ہوں۔ ابتدائی دنوں میں تو مجھے جہاز پر کام اور سمندری سفر میں مزا آتا تھا۔ اب بس…. کئی کئی ہفتوں کے بحری سفر سے اُکتا گیا ہوں۔ سفر کے دوران ایسا لگتا ہے، جیسے ہم دنیا سے بالکل کٹ گئے ہوں۔ چاروں طرف سمندر میں بحری جہاز کسی جیل سے کم نہیں لگتا تھا۔

اس مرتبہ ہمارا بحری سفر انڈونیشیا کے دارالحکومت ’جکارتہ‘ کے ساحل کی طرف تھا۔ یہ میرا انڈونیشیا کا دوسرا بحری سفر تھا۔ یہاں کا پہلا سفر مجھے آج بھی یاد ہے۔ اُف…. کس قدر اُکتادینے والا سفر تھا۔

”جہاز پر کام کرتے ہوئے رات ہوگئی تھی۔“ رات کے اندھیرے میں سمندری موجوں کی آوازیں ماحول کو پُراسرار بنارہی تھیں۔

چوں کہ اب میرے کام کرنے کا وقت ختم ہوچکا تھا۔ لہٰذا میں کھانا کھا کر اپنے کیبن میں جا کر سو گیا۔

رات کا درمیانہ پہر تھا۔ اچانک میری آنکھ کھلی تو باہر ہونے والی ہلچل نے میرے رونگٹے کھڑے کردیے۔ مجھے محسوس ہوا، جیسے کوئی، کسی چیز کو گھسیٹ رہا ہو۔

میں خوف زدہ ہو کر اٹھا اور آہستہ سے تھوڑا سا دروازہ کھولا۔ جہاز مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ شاید بجلی کا نظام خراب ہوچکا تھا۔

میں نے ہمت کر کے سر آگے کیا اور ایک آنکھ سے باہر کی طرف جھانکا تو یہ دیکھ کر میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ باہر ایک شخص کسی کی لاش گھسیٹ رہا تھا۔

”لا…. لاش۔“ میرے منھ سے خوف زدہ انداز میں نکلا۔

”یہ…. یہ ہے کون۔“ میں نے اپنی آواز کو دبایا اور گھسیٹنے والے شخص اور لاش کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔ لیکن اندھیرے کے باعث دونوں میں سے کسی کو نہیں پہچان سکا۔

میں ابھی مزید غور کر رہا تھا کہ اچانک وہ شخص لاش کو سیڑھیوں سے نیچے اُتارنے لگا۔

”مجھے اس کا پیچھا کرنا چاہیے….“ میں نے دل میں کہا اور پسینے پونچھتے ہوئے اپنے کیبن سے باہر نکل آیا اور آہستہ آہستہ چل کر سیڑھیوں سے نیچے جھانکنے لگا۔

وہ سیڑھیوں سے اُترچکا تھا۔ اب میں بھی آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے نیچے اُترا۔ اب وہ شخص لاش کو گھسیٹنے کے بجاے ہاتھوں کے بل آگے بڑھا تھا کہ اچانک رُک گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا۔ شاید اسے اندازہ ہوچکا ہے کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔

میں سانس روک کر ایک کونے میں دُبک گیا۔ کیوں کہ میری سانسوں کی آواز واضح سنائی دے رہی تھیں۔

ٹپ…. ٹپ کر کے پسینہ میرے چہرے سے نیچے گر رہا تھا۔ اتنے میں اُس شخص کی آواز اُبھری: ”اُف….! یہ منیجر کتنا بھاری ہے۔“

آواز سنتے ہی مجھے دھچکا لگا۔ کیوں کہ یہ آواز میرے ساتھی ملازم ذیشان کی تھی۔

کیا اس نے جہاز کے منیجر کو قتل کردیا؟ کیا میرا دوست ایک قاتل ہے۔“ میں یہ سوچ کا کانپ اٹھا۔

اچانک مجھے دوبارہ ذیشان کے قدموں کی آواز آئی۔ میں نے خوف کے عالم میں جھانکا تو وہ منیجر کی لاش کو گھسیٹ کر جہاز کے ایک کیبن میں داخل ہوگیا۔

”کیا مجھے جا کر ذیشان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لینا چاہیے؟ نہیں…. مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح وہ مجھ پر بھی حملہ بھی کرسکتا ہے۔ مجھے جہاز کے کپتان کو اطلاع دینی چاہیے۔“ میرے ذہن میں خیال اُبھرا۔

اب میں اس کونے سے نکل کر کپتان کو اطلاع دینے کے لیے واپس سیڑھیاں چڑھنے لگا اور بار بار پیچھے مڑ مڑ کر بھی دیکھ رہا تھا کہ کہیں ذیشان مجھے دیکھ نہ لے۔ سیڑھیاں چڑھ کر میں بھاگم بھاگ کپتان کے کیبن میں پہنچا اور انھیں سارا قصہ سنا دیا۔

”ذیشان نے منیجر کو مار کر اچھا نہیں کیا۔“ کپتان نے افسردہ لہجے میں کہا۔

”سر! مجھے تو لگ رہا ہے۔ یہ بجلی بھی ذیشان نے ہی خراب کی ہوگی تاکہ کوئی اُسے دیکھ نہ لے۔“ میں نے جلدی سے کپتان کو اپنا خیال بتایا۔

”اوہ…. لیکن بجلی ٹھیک کرنے کے لیے مکینک گیا ہوا ہے۔ ابھی تھوڑی دیر میں ٹھیک ہوجائے گی۔“ یہ کہہ کر کپتان نے توقف کیا اور پھر کہنے لگا: ”آﺅ جلدی کرو…. ذیشان کو پکڑیں۔ یہ تو ہمارے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔“

مسلح کپتان مجھے اپنے ساتھ لیے کیبن سے باہر نکل آیا اور ہم ذیشان کو تلاش کرنے لگے تو وہ ہمیں ایک اور لاش گھسیٹتا ہوا نظر آیا۔

”سس…. سر….! دوسری لا…. لاش!“ میرے منھ سے گھٹی گھٹی آواز میں نکلا۔

کپتان نے گن ذیشان کی طرف تانتے ہوئے تیز آواز میں کہا: ”ذیشان….! خود کو ہمارے حوالے کردو۔ ہم نے تمھیں لاشیں لے جاتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔“

ذیشان آواز سن کر چونکا اور اور ہماری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے بولا: ”ک…. کک…. کون سی لاشیں سر؟“

”یہی جو تم گھسیٹ رہے ہو۔ اس سے پہلے بھی تم منیجر کی لاش کو نیچے لے کر گئے ہو۔ میں نے تمھیں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ تم نے خود کہا بھی تھا کہ اُف! یہ منیجر کتنا بھاری ہے۔“ میں اتنا کہہ کر چپ ہوا ہی تھا کہ جہاز کی بجلی واپس آگئی اور میری نظر لاش پر پڑی تو میں چونک اٹھا۔

سامنے لاش نہیں بلکہ اناج کی بوری تھی۔

”یہ کیا….؟ یہ تو اناج کی بوری ہے۔“ کپتان حیرت سے بولا۔

”ہاں…. آپ سمجھے میں کسی کی لاش لے کر جا رہا ہوں؟“ ذیشان مسکرا کر بولا۔

”ہنھ….“ کپتان نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

”لیکن تم اتنی رات کو یہ بوریاں گھسیٹ کر کہاں لے جارہے ہو؟“ میں نے حیرت سے پوچھا۔

”منیجر صاحب کو تو تم جانتے ہو ناں۔ اُنھیں تو بس غصہ کرنے کے لیے موقع چاہیے ہوتا ہے۔ اُنھوں نے کل مجھے کہا تھا کہ یہ اناج کی بوریاں اس کمرے سے نکال کر نیچے لے جانا۔ پھر میں باقی کاموں میں اس قدر مصروف ہوگیا کہ مجھے وقت ہی نہیں ملا۔“ ذیشان اتنا کہہ کر ایک پل رُکنے کے بعد پھر دوبارہ گویا ہوا: ”اب اگر صبح منیجر صاحب یہ بوریاں یہاں دیکھتے تو وہ سارا دن مجھ پر غصہ کرتے رہتے۔ اسی لیے ابھی جب مجھے یہ کام یاد آیا تو میں اس کو مکمل کرنے کے لیے مصروف ہوگیا۔“ ذیشان نے جیسے ہی منھ بناتے ہوئے بات مکمل کی تو اچانک منیجر کے کیبن کا دروازہ کھلا اور وہ باہر نکل کر گرجنے لگے: ”اتنی رات کو تم لوگوں نے کیا شور مچارکھا ہے۔“

جیسے ہی ان کی نظر اناج کی بوری پر پڑی تو وہ مزید غصے سے کہنے لگے: ”میں نے تمھیں کل صبح کہا تھا۔ یہ اناج کی بوریاں نیچے والے کمرے میں منتقل کردو۔ لیکن تم نے ابھی تک یہ کام مکمل نہیں کیا…. تم بہت کام چور ہو۔ میں تمھیں نوکری سے نکال دوں گا۔“

منیجر صاحب مسلسل گرجے جا رہے تھے۔ جب کہ ذیشان سر نیچے کیے چپ چاپ سن رہا تھا۔ شرمندگی کے مارے میرا بُرا حال تھا۔ کیوں کہ میری وجہ سے ہی بے چارے ذیشان ڈانٹ کھا رہا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

//]]>