پہلا آدم خور

ش۔ کاظمی

خان صاحب جمشید بٹ برصغیر کے نامور شکاری تھے۔ یہ داستان شکار کے ان واقعات پر مشتمل ہے جو انہیں مدھیہ پردیش کے خوفناک جنگلوں میں پیش آئے“

ضلع ہوشنگ آباد کے ایک گائوں اندپورا میں مجھے کچھ عرصہ رہنے کا اتفاق ہوا۔ گائوں جنگل کے کنارے آباد تھا، بلکہ یوں کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اس کے چاروں طرف جنگل ہی جنگل تھا اور جنگل میں ان گنت درندے بھرے ہوئے تھے۔ درندوں کے علاوہ یہاں سور اور وحشی کتے بھی کثرت سے تھے اور روز بروز ان کی تعداد بڑھتی ہی جاتی تھی۔ ان دنوں میرے بڑے بھائی امیر مرتضیٰ صاحب بھی یہیں تھے اور سیٹھ کرم الٰہی کے مکان پر قیام تھا۔ سیٹھ کرم الٰہی نہایت مہمان نواز اور نفیس آدمی تھے، انہیں خود بھی جنگل کی زندگی سے گہرا لگائو تھا۔ اندپورا کے جنگل میں موروں اور جنگلی مرغوں کو پکڑنے کے لیے پھندے لگاتے تھے اور روزانہ دس دس بیس بیس مور اورمرغ پکڑ لیتے تھے۔ یہ جانور بازار میں مناسب قیمت پر فوراً بک جاتے تھے۔ ان شکاریوں کی دیکھا دیکھی میں نے بھی پھندے لگا کر مور اور مرغ پکڑنے کا شغل اختیار کیا اور اس میں بڑی کامیابی حاصل کی اگرچہ یہ پرندے زیادہ تر ہمارے پیٹوں ہی میں اترتے رہے۔ یاد رہے کہ اس وقت عمر تیرہ چودہ برس کی تھی۔
ایک روز کا ذکر ہے، ہم دن بھر مرغ اور مور پکڑنے کے بعد مکان کے احاطے میں چار پائیوں پر لیٹے آرام کررہے تھے۔ رات کے نو بجے ہوں گے کہ ندی کی طرف سے ایک بارہ سنگھے اور وحشی کتوں کے چلانے کی مشترکہ آوازیں آئیں۔ ندی ہماری قیام گاہ سے کوئی سو گز کے فاصلے پر ہوگی۔ جنگل کے تمام جانور اسی پا نی سے پیاس بجھایا کرتے تھے۔ جب دیر تک بارہ سنگھے اور کتوں کی چیخ پکار ہمارے کانوں میں آتی رہی اور یہ سمجھ لیا گیا کہ ایسے غل غپاڑے میں آرام کی نیند سونا ممکن نہیں تب میرے بڑے بھائی نے کہا ” ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنگلی کتوں نے بارہ سنگھے کو گھیر لیا ہے اور وہ غریب اپنی جان بچانے کے لیے ندی میں کود گیا ہوگا۔ اب کتے ندی کے باہر بیٹھے بھونک رہے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ بارہ سنگھا کب پانی سے باہر آتا ہے ۔ بارہ سنگھے کو بہرحال ندی سے نکلنا ہی ہوگا اور جونہی وہ باہر آئے گا جنگلی کتے اس کی تکا بوٹی کر ڈالیں گے۔
میرے لیے یہ بے حد دلچسپی کی بات تھی۔ میں نے امیر مرتضیٰ سے کہا ” کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم ان جنگلی کتوں کو وہاں سے بھگا دیں اور بارہ سنگھے کو خود پکڑ کر حلال کر ڈالیں ۔ اس کا گوشت تو بہت لذیذ ہوتا ہے۔“ بڑے بھائی کو یہ تجویز پسند آئی۔ اگرچہ رات زیادہ جا چکی تھی اور اس وقت ندی پر جانا مناسب نہ تھا، لیکن بارہ سنگھے کے لذیذ گوشت نے ہمیں بے چین کر دیا، چنانچہ ہم نے دو گونڈ نوکروں کو ساتھ لیا۔ بندوقیں ہاتھوں میں سنبھالیں اور ندی کی جانب روانہ ہوگئے۔ آسمان صاف تھا اور لا تعداد ستاروں کی روشنی میں ندی کا چمکتا ہوا پانی ہمیں صاف دکھائی دے رہا تھا۔ بڑے بھائی کا قیاس درست نکلا۔ جنگلی کتے ندی کے کنارے پڑائو کیے ہوئے تھے اور ایک قوی الحبثہ بارہ سنگھا ندی کے عین درمیان پناہ لیے ہوئے تھا۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے دو تین کتوں نے جرات کی اور پانی میں کود کر بارہ سنگھے کی طرف بڑھنے لگے۔ ان کی دیکھا دیکھی چند اور کتے بھی پانی میں کود گئے، بقیہ کتے پہرہ دے رہے تھے کہ بارہ سنگھا ندی سے نکل کر جنگل کی طرف بھاگنے نہ پائے۔
بارہ سنگھے نے کتوں کو تیرتے ہوئے اپنے قریب آتے دیکھا تو سب سے آگے والے کتے کو اچھل کر اس زور سے لات جمائی کہ اس کا منہ پھر گیا اور اس کے ساتھی کتے ڈر کر واپس کنارے کی جانب ہٹ گئے۔ کوئی آدھ گھنٹے تک یہ حیرت انگیز تماشا ہوتا رہا۔ بالآخر ہم نے بارہ سنگھے کو موت و زیست کی اس کشمکش سے آزاد کر دینے کا فیصلہ کر لیا۔ ہمارے ساتھ آنے والے گونڈ نوکروں نے خشک بانس جلانے شروع کیے اور جب یہ بانس دھڑ دھڑ جلنے لگے تو اس کی روشنی دیکھ کر جنلگی کتوں نے راہ فرار اختیار کی اور اس سے پہلے ہم بارہ سنگھے پر فائر کرتے، وہ بجلی کی طرح ندی سے نکلا اور پلک جھپکتے میں جنگل کے اندر غائب ہو گیا۔ ہم دونوں بھائی ایک دوسرے کا منہ دیکھتے ہی رہ گئے۔
میں ایک اور قریبی گائوں کیدا میں گیا اور وہاں مجھے معلوم ہوا کہ ایک انگریز فوجی افسر ادھر شکار کھیلنے آیا ہے اور ایک شیر کی تاک میں ہے۔اس انگریز شکاری کے ساتھ صرف ایک نوکر تھا اور اس نے جنگل کے اندر ہی اپنا خیمہ لگا رکھا تھا۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ انگریز شکاری نے شیر کو پھانسنے کے لیے گزشتہ رات ایک درخت سے گائے کا بچھڑا باندھا اور خود شیر کے انتظار میں ایک مچان بندھوا کر اس پر بیٹھا۔ آدھی رات کے بعد شیر ادھر آیا اور شکاری صاحب کی نظروں کے عین سامنے بچھڑے کو ہلاک کیا اور اٹھا کر چلتا بنا۔ جب وہ اپنے شکار کو جبڑوں میں دبا کر جھاڑیوں کی طرف بڑھ رہا تھا، تب شکاری نے اس پر فائر کیا۔ گولی شیر کی پیٹھ پر معمولی زخم پہنچاتی ہوئی نکل گئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ شیر کی ریڑھ کی ہڈی بھی ایک جگہ سے ٹوٹ گئی تھی۔ زخمی ہو کر شیر اس قوت سے دھاڑا کہ آدمی تو آدمی ،جنگل کے درخت تک لرز گئے، انگریز شکاری نے یک لخت ہمت سے کام لینے کا فیصلہ کیا اور طے پایا کہ گائوں کے لوگوں کو جمع کرکے ہانکا کرایا جائے۔ہانکے کے بعد شیر اپنی کمین گاہ سے نکلنے پر مجبور ہو گا اور پھر اسے ہلاک کر دینا آسان رہے گا۔
گائوں کے غریب لوگ تو ویسے ہی ہر حکم کے پابند ہوتے ہیں، پھر جب انہیں روپے پیسے کا لالچ بھی دیا جائے تو جان کو خطرے میں بھی ڈال دیتے ہیں۔ یہاں تو حکم بھی انگریز بہادر کا تھااور اس کے نادر شاہی حکم کے ساتھ ساتھ روپے کی تھیلیاں بھی تھیں ، چنانچہ پچاس ساٹھ آدمیوں کو اکٹھا کرکے جنگل میں ہانکا کرایا گیا۔ یہ لوگ جب غل غپاڑہ مچاتے اور ڈھول کنستر پیٹتے ہوئے آگے بڑھے، تو زخمی شیر بہت تلملایا اور اس نے ایسی دھمکی دی کہ سب کا پتا پانی ہوگیا۔ انگریز شکاری تو پہلے ہی ایک اونچے مچان پر اطمینان سے بیٹھا تھا، ہانکا کرنے والے شیر سے ڈر کر ایسے بھاگے کہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ انہوں نے درختوں پر پناہ لی۔ شیر اس قدر غیظ و غضب میں تھا کہ پناہ بخدا…. اپنے پنجوں سے اس نے جھاڑیاں ادھیڑ ڈالیں، زمین کھرچی، پھر ان درختوں کی طرف منہ اٹھا اٹھا کر وحشیانہ انداز میں دہاڑا جن پر ہانکا کرنے والے چڑھے ہوئے تھے۔
اس افراتفری میں لوگوں نے جب دیکھا کہ گائوں کا ایک نوجوان لڑکا کریم ابھی تک درخت پر نہیں چڑھ سکا اور ایک جھاڑی کے عقب میں دبکا ہوا ہے تو ان کی خوف سے چیخےں نکل گئیں۔ شیر ایک ہولناک گرج کے ساتھ کریم کی طرف لپکا ۔ وہ تو یوں کہیے کہ لڑکے ہوش و حواس برقرار رہے ورنہ اس کے مارے جانے میں کوئی کسر باقی نہ رہ گئی تھی۔ اس نے شیر کو اپنی طرف آتے دیکھا، تو قریبی درخت کی طرف دوڑا۔ یہ درخت زیادہ اونچا نہ تھا اور خدشہ تھا کہ شیر اگر پوری قوت سے جست لگائے تو کریم کو پکڑ سکتا ہے ، لیکن زخمی ہونے اور خون زیادہ بہہ جانے کے باعث ہر لمحہ شیر کی قوت میں کمی واقع ہو رہی تھی، اس لیے وہ تین چار چھلانگیں لگانے کے باوجود کریم کو پکڑ نہیں پایا، حالانکہ کریم شیر کی پہنچ سے صرف تین فٹ کے فاصلے پر تھا۔ کریم نے خود کو درخت کی شاخ سے سانپ کی طرح لپٹا لیا تھا اور اس کے حلق سے گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں۔ اب ہر لحظہ یہ خدشہ تھا کہ وہ اگر اس طرح ڈرتا رہا، تو درخت سے گر پڑے گا۔ شیر بار بار پلٹ کر اس درخت پر آتا اور دانت نکال کر غراتا۔ پھر پنجوں سے درخت کاٹتا ادھیڑنے لگتا۔
انگریز شکاری کی بدحواسی دیکھیے کہ مچان پر بیٹھا ٹکر ٹکر یہ تماشا دیکھ رہا ہے اور فائر نہیں کرتا۔ غالباً شیر کا یہ جاہ و جلال دیکھ کر اس کے اعصاب بھی مچان پر بیٹھے بیٹھے جواب دے گئے تھے۔ اس لمحے مجھ پر یہ حسرت طاری ہوئی کہ کاش میرے پاس اس وقت بندوق ہوتی تو شیر کا قصہ پاک کر دینا کچھ دشوار نہ تھا۔ بھاگتے وقت کریم کے جوتے اور پگڑی جھاڑیوں ہی کے پاس رہ گئی تھی۔ شیر کا غصہ اتنا بڑھا کہ اس نے ان جوتوں اور پگڑی کو تار تار کر دیا ۔ وہ تھر تھر کانپ رہا تھا۔ اب ہر وقت یہ خطرہ تھا کہ اگر شیر کو وہاں سے ہٹایا نہ گیا تو کریم لازماً درخت سے گرے گا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اس درخت سے کوئی دس گز کے فاصلے پر کریم کا باپ امیر خان ایک دوسرے درخت پر پناہ لیے ہوئے تھا اور اپنے بیٹے کو موت کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس نے کئی بار چلا چلا کر انگریز شکاری سے کہا
” صاحب بہادر فائر کیجئے، بندوق چلائیے۔“ لیکن صاحب بہادر جیسے تھے ویسے ہی بے حس و حرکت بیٹھے رہے ۔ صاحب بہادر کی جانب سے مایوس ہو کر امیر خان نے ایک عجب تدبیر کی۔ اس نے جھٹ سے اپنی پگڑی سر سے اتاری اور شیر کو للکار کر اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے یہ پگڑی زمین پر گرا دی۔ شیر مشتعل ہو کر پگڑی کی طرف جھپٹا اور اسے نوچنا شروع کر دیا۔ پگڑی پھینکنے سے امیر خان کے دو مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ شیر کا دھیان کریم سے ہٹ کر پگڑی کی طرف منتقل ہوجائے اور دوسرا یہ کہ اس دوران میں شکاری شیر کو اپنی گولی کا نشانہ بنا سکے۔ امیر خان کا ایک مقصد تو پورا ہو چکا تھا، مگر دوسرا نہیں ہو رہا تھا، حالانکہ شیر اب شکاری کے مچان کے بالکل سامنے اور بہت قریب آ کر پگڑی نوچ رہا تھا۔ گونڈ شکاریوں نے بھی چیخ چیخ کر انگریز کو خبردار کیا کہ فائر کرو۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ شکاری کو ہوش آیا اور اس نے بندوق کندھے سے لگا کر شیر کا نشانہ لیا اور فائر کر دیا۔ گولی چلنے سے چند سیکنڈ پہلے شیر نے شکاری کو مچان پر بیٹھے دیکھا اور دہاڑتا ہوا دھر گیا۔ عین اس وقت شکاری کی بندوق نے شعلہ اگلا اور گولی شیر کی گرن میں لگی۔ شیر الٹ کر گرا اور تھوڑی دیر تڑپنے کے بعد ٹھنڈا ہو گیا۔
شیر کے مرتے ہی ان سبھوں نے اطمینان کا سانس لیا جو درخت کی شاخوں میں چھپے ہوئے کانپ رہے تھے۔ یاد رہے کہ اگر یہ زخمی شیر اس وقت مارا نہ جاتا تو ہانکا کرنے والوں اور شکاری سب کو رات بھر ان درختوں پر لٹکے رہنا پڑتا اور کوئی نیچے آکر اپنے گھر تک جانے نہ پاتا۔ یہ ایسا واقعہ ہے جو میں کبھی بھول نہیں سکا اور اگرچہ بعد میں بہت سے مواقع ایسے آئے جن میں زخمی درندے کے غیظ و غضب اور اشتعال کا سامنا کرنا پڑا اور اندازہ ہو گیا کہ اعصاب اگر مضبوط ہوں تبھی انسان اپنے ہوش و حواس برقرار رکھ سکتا ہے اور اعصاب کو پرسکون رکھنا بے حد مشکل کام ہے۔
اس دلچسپ شکار کے چند روز بعد ہی دوسرا واقعہ پیش آیا۔ میں اپنے مکان پر موجود تھا کہ جنگل کی طرف سے چند قلی ہانپتے کانپتے آئے اور انہوں نے بتایا کہ قریب ہی ایک درخت پر چیتا پناہ لیے ہوئے ہے اور جنگلی کتوں نے اس کا گھیرائو کر رکھا ہے۔ میں نے قلیوں سے کہا کہ اب تک تو چیتا اور جنگلی کتے وہاں سے کئی کوس دور جا چکے ہوں گے۔ یہ سن کر قلی کہنے لگے ” نہیں، آپ ان جنگلی کتوں کی حرکتوں سے واقف نہیں ہیں۔ یہ اگر شیر یا چیتے کو گھیر لیں تو ہفتوں ان کا گھیرائو جاری رکھتے ہیں اور شکار کو نکل بھاگنے کی مہلت نہیں دیتے۔ روز بروز اپنا گھیرائو تنگ کرتے جاتے ہیں حتیٰ کہ ان کے قابو چڑھنے والا جانور بھوک اور پیاس سے تنگ آکر گھیرا توڑنے کی کوشش کرتا ہے اور جنگلی کتے آنا فاناً اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ایسے عالم میں چیتے، شیر یا جنگلی سور کا بچنا محال ہوتا ہے۔ جنگلی کتوں کی دہشت کا یہ حال ہے کہ شیر بھی ان سے لڑتے ہوئے گھبراتا ہے۔“ انگریز شکاری ابھی تک اپنا ڈیرہ اسی گائوں میں جمائے ہوئے تھا۔ ہم نے طے کیا کہ یہ مہم بھی اسی سے سر کرائی جائے، چنانچہ میں انہی گونڈ قلیوں کو لے کر اس شکاری کے پاس گیا اور اسے چیتے کے جنگلی کتوں سے ڈر کر درخت پر پناہ لینے کا قصہ سنایا۔ شکاری نے جھٹ پٹ اپنی بندوق سنبھالی اور ہمارے ساتھ چلنے پر تیار ہو گیا۔ بھاگم بھاگ ہم جنگل کے اس حصے میں پہنچے جہان قلیوں نے جنگلی کتوں کو چیتے کا گھیرائو کرتے دیکھا تھا۔ کچھ فاصلے ہی سے ہمیں اندازہ ہو گیا کہ قلیوں کا بیان درست ہے۔ دریا کے کنارے کا ہو کے درختوں میں سے ایک درخت پر درمیانی قد و قامت کا چیتا چڑھا ہوا تھا اور درخت کے نیچے، آس پاس اور دریا کے کنارے تک پچاس ساٹھ جنگلی کتے پہرہ دے رہے تھے۔ چیتا درختوں کے اندر دبکا ہوا تھا، بہت غور سے دیکھنے کے بعد ہمیں اس کی موجودگی کا پتہ چلا۔
گونڈ قلیوں نے صاحب بہادر کو مشورہ دیا کہ آپ بے خوف ہو کر درخت کے قریب جائیے اور چیتے پر فائر کر کے اسے گرا دیجئے۔ جنگلی کتے اول تو آپ کی صورت دیکھتے ہی بھاگ جائیں گے اور اگر وہ نہ بھاگے، تو ان کی طرف بھی ایک فائر جھونک دیجئے گا۔ مشورہ بہت مناسب تھا مگر صاحب بہادر اس پر عمل کرتے ہوئے ہچکچا رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جنگلی کتے تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور عین ممکن ہے وہ بھاگنے کے بجائے پلٹ کر ہم ہی پر حملہ کر دیں اور یوں چیتے کو مارنے کے بجائے ہم لوگ خود ان جنگلی کتوں کے خونخوار جبڑوں اور نوکیلے پنجوں کا شکار بن جائیں۔ دراصل صاحب بہادر پر چیتے سے زیادہ ان جنگلی کتوں کی ہیبت طاری تھی۔
غرض میں نے اور گونڈ قلیوں نے صاحب بہادر سے بہت کہا کہ آپ بے دھڑک چیتے پر فائر کریں۔ جنگلی کتے خود ہی ڈر کر بھاگ جائیں گے۔ لیکن صاحب بہادر پر واقعی چیتے سے زیادہ کتوں کی دہشت طاری تھی اور وہ خوف زدہ نظروں سے کتوں کو چلتے پھرتے دیکھ رہے تھے۔ مجھے بار بار ان کی ہچکچاہٹ اور فائر کرنے میں ہچکچاہٹ پر طیش آرہا تھا۔ بس نہ چلتا تھا ورنہ میں بندوق صاحب بہادر کے ہاتھ سے چھین کر خود فائر کرتا۔ آخر میں نے دبی زبان سے کہہ ہی دیا کہ اگر آپ کتوں سے ڈر رہے ہیں تو آئےے واپس چلیں۔ یہ سن کر صاحب بہادر نے جھرجھری لی اور چیتے پر گولی چلانے کے لیے آمادہ ہوئے۔ چیتا اب اپنی پہلی جگہ چھوڑ کر کچھ اور سامنے آگیا تھا۔ غالباً وہ اپنی دانست میں کتوں کا گھیرا توڑ کر نکل بھاگنے کی فکر میں تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ درخت سے کودے، ہمارے صاحب بہادر نے دانت بھینچ اور آنکھیں میچ کر گولی چلا ہی دی۔ چیتا کودنے کے لیے بالکل حرکت میں تھا ۔ گولی دھائیں سے چلی اور چیتے کے پیٹ میں لگی۔ ایک لرزہ خیز گرج کے ساتھ چیتا قلا بازیاں کھاتا ہوا بھد سے زمین پر گرا ۔ چیتے کے گرتے ہی کتوں نے جھپٹ کر اسے نوچنا چاہا، مگر صاحب بہادر نے فوراً ہی دوسرا فائر کیا اور اس مرتبہ ایک کتا خون میں نہا گیا۔ اپنے ساتھی کو تڑپتے دیکھ کر کتوں نے بھاگ جانے ہی میں عافیت سمجھی اور بجلی کی طرح وہاں سے رفو چکر ہو گئے۔
٭….٭
مجھے ضلع ہوشنگ آباد ہی کے ایک قصبے لودھی دھانہ میں جانا پڑا جہاں لکڑی چیرنے کا ایک کارخانہ میری نگرانی میں دیا گیا۔ یہ قصبہ جنگل کے عین مرکز میں تھا اور جنگل کے ایک سے پر اونچی سی پہاڑی تھی جو گائوں سے کوئی آدھ میل دور ہوگی۔ لکڑی چیرنے کا یہ کارخانہ اسی پہاڑی کی ڈھلوان پر بنا ہوا تھا اور اس کے بالکل نزدیک ایک چھوٹی سی ندی بہتی تھی جہاں گرمیوں کے موسم میں جنگل کے دور دراز حصوں سے طرح طرح کے جانور آکر پیاس بجھاتے تھے۔ میرے یہاں پہنچنے کے کچھ عرصے بعد ہی بڑے بھائی امیر مرتضیٰ صاحب بھی آگئے۔ ان دنوں مرتضیٰ صاحب کے پاس بارہ بور کی بندوق تھی، مگر میرا حال یہ تھا کہ بندوق کی مدد کے بغیر ہی شکار کا شوق مختلف تدبیروں پر عمل کرکے پورا کر لیا کرتا تھا۔ یعنی تیر کمان اور غلیل سے کام چلاتا یا جال ڈال کر پرندوں کو پکڑا کرتا۔مقامی باشندے بھی اس مشغلے میں شریک رہتے۔ ہمارا اولین کام جنگلی موروں کو گرفتار کرنا تھا۔ جنگل کے ایسے حصے میں جہاں وزنی مور کثرت سے تھے، ہم چار پانچ آدمی مختلف مقامات پر جھاڑیوں کے اندر چھپ جاتے اور موروں کو ادھر سے ادھر بھگانا شروع کر دیتے۔ مور اپنے وزن کے باوجود دوڑتو سکتے تھے لیکن اڑنے کے قابل نہ تھے۔ چنانچہ جب یہ ادھر سے ادھر دوڑ دوڑ کر بے جان ہو جاتے، تو ہم آسانی سے انہےں گرفتار کر لیا کرتے تھے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ ہوا ذرا تیز ہوتی تو یہی وزنی مور اڑ کر ہمارے ہاتھ سے نکل جاتے اور ہم اپنی محنت پر کف افسوس ملتے ہوئے واپس چلے جاتے۔ مور کے مقابلے میں مورنیاں چونکہ ہلکی ہوتی ہیں اس لیے وہ ہمارے ہاتھ نہیں آتی تھیں۔ ایک دن میں نے عجب تماشا دیکھا کہ ایک جھاڑی کے اوپر بڑا سا عقاب بیٹھا ہے۔ حیرت ہوئی کہ عقاب تو آسمان کی بلندیوں پر اڑنے والا پرندہ ہے ان جھاڑی پر بیٹھنے سے کیا مطلب ؟ مگر بہت جلد اس کی وجہ سمجھ میں آگئی۔ غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ جھاڑی کے اندر ایک مور دبکا ہوا ہے اور عقاب چونکہ جھاڑی کے اندر جا کر مور کو پکڑنے سے مجبور ہے، اس لیے باہر ہی ٹھہر کر مور کے جھاڑی سے نکلنے کا انتظار کررہا تھا۔ تھوڑی دیر تک یہ منظر دیکھنے کے بعد میں اپنے کام سے روانہ ہوگیا۔ خبر نہیں عقاب ، مور کو پکڑنے میں کامیاب رہا یا وہاں سے اڑگیا۔
یہی سال تھا جب میں نے اپنی زندگی کا اہم فیصلہ کیا اور طے کر لیا کہ مجھے ایک بڑا شکاری بننا ہے۔ یہ ارادہ ایک مہم کے بعد کیا گیا جس کا آغاز نرالے طریق پر ہوا۔میرے بڑے بھائی امیر مرتضی صاحب اپنی بارہ بور بندوق سمیت لودھی دھانہ سے کہیں گئے ہوئے تھے ۔ یہ بندوق وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔ مجھے اجازت نہ تھی کہ اسے ہاتھ بھی لگائوں۔ وجہ یہی کہ وہ نیک نیتی سے چاہتے کہ میں شکاری نہ بنوں اور اپنی زندگی برباد نہ کر ڈالوں۔ ایک روز دوپہر کو ایک بجے کے لگ بھگ جینوگوالی گائوں کے چند آدمی بدحواسی کی تصویر بنے میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ چیتے نے ان کا ایک بچھڑا مار ڈالا ہے اور بچھڑے کی لاش کو گھسیٹ کر گائوں سے کچھ فاصلے پر لے گیا ہے۔ یہ لوگ دراصل میرے بڑے بھائی سے چیتے کی شکایت کرنے آئے تھے کہ بھائی صاحب بھی اچھے شکاری تھے اور بارہ بور بندوق کے مالک۔ لیکن بھائی صاحب اس وقت موجود نہ تھے لہٰذا قرعہ فال میرے نام نکل آیا۔ میں نے ان لوگوں سے عذر کیا کہ میں بھلا کیا کرسکتا ہوں؟ چیتے سے مقابلہ کرنے کے لیے غلیل اور تیر کمان کافی نہیں ہیں۔ یہاں تو بندوق یا رائفل کی ضرورت ہے اور میری بدقسمتی کہ میں ان ہتھیاروں سے ابھی تک محروم چلا آتا ہوں۔ خود اتنا مقدور نہیں کہ بندوق خرید سکوں۔ بھائی صاحب ہوتے تو وہ اپنی بندوق کو کام میں لا کر چیتے کو مار سکتے تھے۔ تم لوگ ان کی واپسی کا انتظار کرلو۔ یہ سن کر وہ لوگ سخت پریشان ہوئے اور کہنے لگے ” نہ جانے آپ کے بھائی صاحب کب واپس آئیں، ادھر چیتے کے منہ کو بچھڑے کا خون لگ گیا ہے، اگر اسے روکا نہ گیا تو ایک ایک کرکے ہمارے تمام مویشیوں کو ہڑپ کر جائے گا اور پھر ہو سکتا ہے انسانوں کی باری بھی آجائے، لہٰذا ہر قیمت پر چیتے کا قصہ پاک کرنا ضروری ہے۔“ میں نے کہا ”ٹھیک ہے، لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ تنہا آدمی کر ہی کیا سکتا ہے۔ تم لوگ چاہتے ہو کہ میں چیتے کا شکار ہوجائوں؟“ بہت سوچ بچار کے بعد آخر یہ راہ نکالی گئی کہ میں گائوں کے نمبردار کی مزل لوڈنگ بندوق مستعار لوں اور اس سے چیتے کو ہلاک کرنے کی کوشش کروں۔ مزل لوڈنگ بندوق بلا شبہ نہایت کارآمد ہتھیار ہے لیکن اسے بھرنا بجائے خود ایک فن ہے جس میں میں اس وقت قطعی اناڑی تھا۔ بہرحال اﷲ کا نام لے کر میں نے بندوق لوڈ کی اور ان لوگوں کے ساتھ ہی گائوں جنیوگوالی کی طرف روانہ ہوا۔ لودھی دھانہ سے یہ گائوں صرف دو میل دور تھا۔
آپ اس وقت میرے جذبات و احساسات اور جوش و خروش کا شاید احساس نہ کرسکےں کہ میں بندوق ہاتھ میں لیے بنفس نفیس کسی سرپرست کی رہنمائی کے بغیر ایک موذی چیتے سے دو دو ہاتھ کرنے جا رہا تھا۔ اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ میرے ہوش و حواس اور اوسان معمول کے مطابق کام کررہے تھے تو یہ دعویٰ غلط ہوگا۔ میرے دل کی دھڑکن اسی رفتار سے تیز ہو رہی تھی جس رفتار سے میں جائے واردات کے نزدیک ہوتا جا رہا تھا، تاہم میں نے کوشش کرکے اس بدحواسی اور دل کی بڑھتی ہوئی دھڑکن پر قابو پایا اور جینوگوالی کے نواح میں پہنچ کر بچھڑے کی لاش دیکھی جسے چیتے نے ہلاک کیا تھا لیکن اسے ہڑپ کرنے کا موقع کسی نامعلوم سبب سے نہیں مل سکا تھا۔ میں جانتا تھا کہ چیتا قریب ہی کہیں موجود ہوگا اور شکار پر نگاہیں جمی ہوں گی۔ شام کے سائے تیزی سے اردگرد پھیل رہے تھے۔ فضا میں اچھا خاصا حبس تھا اور جنگل پر غیر معمولی خاموشی طاری تھی۔ پرندوں نے اپنے ٹھکانوں پر ابھی لوٹنا شروع نہیں کیا تھا۔ میں نے طے کیا کہ چیتے کے انتظار میں مچان باندھ کر اس پر بیٹھنا فی الحال دشوار بھی ہے اور غیر ضروری بھی۔ مچان باندھنے کا موقع نہ تھا اور نہ اتنا وقت کہ گائوں سے مچان باندھنے کا سامان وغیرہ لایا جاتا۔ میں نے ایک درخت پر چڑھ کر چیتے سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ زمین سے کوئی پندرہ فٹ کی بلندی پر میں نے اپنا ٹھکانہ بنایا اور سمجھ لیا کہ چیتے کے انتظار میں زیادہ دیر نہیں لگے کی۔ یہ یقینی تھا کہ چیتا آس پاس ہی موجود ہے۔ اب اسے میری ناتجربہ کاری کہہ لیجئے یا نادانی کہ میں اس خیال میں مبتلا تھا کہ جس طرح انسان اندھیرے میں نہیں دیکھ سکتا، اس طرح جانور بھی اندھیرے میں نہیں دیکھ سکتے، حالانکہ اب سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس رات چیتے نے مجھے زندہ کیوں چھوڑ دیا تھا کیونکہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ اس نے گھپ اندھیرے کے باوجود نہ صرف مجھے اچھی طرح دیکھ لیا بلکہ حملہ کرنے کے لیے دبے پائوں درخت پر چڑھنے کی کوشش بھی کی تھی۔
مجھے جنگل میں اکیلا چھوڑ کر گائوں والے چلے گئے اور کہہ گئے کہ ضرورت پڑنے پر میں اگر حلق پھاڑ کر پکاروں گا تو وہ لاٹھیاں اور جلتی ہوئی مشعلیں لے کر فوراً حاضر ہوجائیں گے۔ میں نے شیخی مےں آکر کہہ دیا کہ شاید اس کی ضرورت نہ پڑے کہ میں چیتے کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوجائوں گا۔ بچھڑے کی لاش اس درخت سے، جس پر میں براجمان تھا، کوئی دس پندرہ گز دور پڑی تھی اور میں اپنی جگہ بے حس و حرکت لاش پر نظریں گاڑے ہوا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ہی میری آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہو گئیں اور گھبرہٹ کی وہ لہر جو بار بار میرے اندر سے اٹھ رہی تھی دفعتہ غائب ہو گئی۔ کچھ ایسا یقین میرے قلب کو ہو گیا کہ میں چیتے کو ٹھکانے ضرور لگا دوں گا!!
کوئی ایک گھنٹے بعد میں نے سامنے والی جھاڑیوں میں کھڑبڑ کی سی آواز سنی۔ میرے کان کھڑے ہوئے اور پھر میں نے چیتے کا سایہ جھاڑیوں کے اندر دیکھا۔ چیتا خود کو چھپانے میں شاید کامیاب ہوجاتا لیکن وہ اپنی اُن زرد آنکھوں کو چھپانے میں بالکل ناکام تھا جو رات کے اس اندھیرے میں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں۔ اسے وہم تھا کہ میں نے اسے نہیں دیکھا ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ دبے پائوں جھاڑیوں سے نکلا اور سیدھا اس درخت کی طرف آیا جس پر میں چھپا ہوا تھا۔ چیتے نے منہ اوپر اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھا ، پھر چپکے چپکے درخت کی پشت پر آ کر اس انداز سے تکنے لگا جیسے اوپر آنے کا ارادہ کررہا ہو۔ اپنی جی داری اور حوصلے کے باوجود میں پسینے میں تر ہو گیا۔ میں نے اپنی جگہ سے جنبش کی تاکہ چیتا اگر درخت پر چڑھے، تو میں اسے گولی مار دوں، لیکن اتنی سی جنبش ہی قیامت ہوگئی۔ چیتے نے غرا کر زقند بھری اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
میں مزید تین گھنٹے دم بخود درخت پر بیٹھا چیتے کی واپسی کا منتظر رہا لیکن وہ نہیں آیا۔ بالآخر میرا حوصلہ جواب دے گیااور میں نے گائوں والوں کو آوازیں دینی شروع کیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوگ آئے اور مجھے درخت سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے ۔ میرے جاتے ہی چیتا وہاں آیا اور بچھڑے کی لاش سے کام و دہن کی لذت کے بعد اپنی کمین گاہ کی طرف لوٹ گیا۔ اس کے بعد میں نے مسلسل کئی دن اس چیتے کا تعاقب کیا مگر وہ اتنا چالاک نکلا کہ میرے ہتھے نہ چڑھ سکا۔ دوسری طرف لودھی دھانہ کے نمبردار صاحب اپنی بندوق کے فراق میں بے چین تھے اور مجھے بھائی جان صاحب کے واپس آجانے کا ڈر بھی تھا، اس لیے اس چیتے کو مارنے کا ارمان دل میں لیے میں واپس اپنے علاقے میں چلا گیا۔
وقت گزرتا گیا اور جنگلی جانوروں کے بارے میں میری معلومات بڑھتی چلی گئیں۔ سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہوئی کہ بھائی صاحب نے مجھے باضابطہ شکاری تسلیم کر لیا تھا اور کھلی اجازت دے دی تھی کہ جس طرح چاہوں شکار سے جی بہلائوں۔ اسی سال کا ذکر ہے، جون کا مہینہ تھا اور قیامت کی گرمی پڑ رہی تھی۔ میں چرپٹالہ گائوں گیا ہوا تھا اور دن بھر کی مصروفیات کے بعد گھر کے صحن مےں لیٹا بے خبر سو رہا تھا کہ چند مقامی باشندوں نے مجھے جگایا۔ میںہڑبڑا کر اٹھا دیکھا کہ یہ گونڈ لوگ ہیں اور ہر شخص کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ میں نے پوچھا۔ ”خیر تو ہے انہوں نے بتایا کہ ایک آدم خور چیتا نبو خان کے مکان میں واردات کی نیت سے داخل ہوا ، مگر گھر والوں کو پتہ چل گیا ۔ انہوں نے کمال جرات سے کام لے کر چیتے کو مکان کے اندر قید کر دیا ہے اور اب یہ لوگ کریم پٹیل کو بلانے آئے ہیں تاکہ وہ اپنی بندوق لے کر چلے اور اس چیتے کو ٹھکانے لگا دے۔ میں جس مکان میں ٹھہرا ہوا تھا وہ کریم پٹیل کا تھا۔ کریم عمر میں بڑا ہونے کے باوجود میرا بہترین دوست تھا۔ میں نے گائوں والوں کو بتایا کہ کریم پٹیل اس وقت موجود نہیں ہے اور کسی کام سے ہروا گائوں گیا ہے۔ یہ سن کر وہ بضد ہوئے کہ میں چلوں اور اس آدم خور چیتے کو مار ڈالوں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں بالکل تیار ہوں۔ گائوں والوں نے کریم پٹیل کی بیوی سے بندوق مانگی۔ سب لوگ اسے بیگم بیگم کہتے تھے۔ جب بیگم نے سنا کہ بندوق میرے لیے مانگی جا رہی ہے اور میں آدم خور چیتے کو مارنے کا ارادہ رکھتا ہوں تو وہ سخت ناراض ہو کر بولیں، ” کیا یہ لڑکا جمشید اس آدم خور کو مارے گاجس نے ابھی چند دن پہلے ہمارے نوکر کو ہڑپ کیا ہے؟ اس کے علاوہ وہ نہ جانے کتنے آدمیوں کو کھا چکا ہے۔ جمشید کل کا بچہ اور ناتجربہ کار ہے۔ میں اسے بندوق دے کر موت کے منہ میں بھیجنا نہیں چاہتی، اگر خدانخواستہ وہ چیتے کا نوالہ بن گیا تو میں اپنے شوہر اور جمشید کے بھائی امیر مرتضی کو کیا جواب دوں گی؟“ غرض بیگم نے بندوق دینے سے صاف انکار کر دیا۔ ادھر گائوں والوں کا اصرار تھا کہ آدم خور چیتا اس وقت نبو خان کے مکان میں زیر حراست ہے اور یہ اسے ہلاک کرنے کا بہترین موقع ہے ، اگر یہ موقع ضائع کر دیا گیا تو چیتا آئندہ نہ جانے کتنے افراد کو ہڑپ کر جائے گا۔ بصد منت سماجت بیگم اس پر راضی ہوئیں کہ اگر گائوں کے تین ذمے دار شخص بندوق مانگیں ، تب جمشید کو بندوق دی جا سکتی ہے اور یہ تینوں آدمی سب کے سامنے اس بات کا اقرار کریں کہ اگر جمشید مارا گیا تو یہی لوگ جواب دہ ہوں گے، چنانچہ تین ذمہ دار آدمیوں نے ضمانت دی اور بیگم نے بارہ بور کی بندوق دو کارتوسوں سمیت میرے حوالے کی۔
میں بھاگم بھاگ نبوں خان کے مکان پر پہنچا ۔ دیکھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم ہے۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا اور انہیں بتایا گیا کہ یہ بچہ آدم خور چیتے کو مارنے آیا ہے، تو مایوسی سے ان کے چہرے لٹک گئے۔ وہ میری نو عمری پر نظر کرتے اور کبھی اس بندوق کو دیکھتے جو میرے ہاتھ میں تھی۔ بعض نے دبی زبان سے مجھے منع بھی کیا اور بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس لڑکے کی قضا اسے یہاں کھینچ لائی ہے۔ کئی ایسے بھی تھے جو منہ پھیر پھیر کر ہنس رہے تھے۔ میں نے ان باتوں کی بالکل پروا نہ کی اور مکان کی چھت پر چڑھ گیا۔ اوپر جا کر میں نے چھت کی اینٹیں اکھاڑیں اور اندر جھانکا ۔ پہلے تو مجھے آدم خور چیتا کہیں نظر نہ آیا لیکن جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ مکار درندہ لکڑی کے اس پلیٹ فارم کے نیچے چھپا ہوا ہے جو برتن وغیرہ رکھنے کے لیے کمرے میں بنایا گیا تھا۔ ظاہر ہے اس طرح میں چیتے کو گولی نہیں مار سکتا تھااور چیتے کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ اتنی محفوظ جگہ سے نکل کر خود کو ہلاکت میں ڈالتا ؟ میں نے اوپر سے تین چار اینٹیں اور پتھر کمرے میں پھینکے، لیکن چیتا غرانے کے علاوہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ اب اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ میں مکان کے اندر جائوں اور کمرے کا دروازہ کھول کر چیتے کو گولی ماروں۔
میرا یہ حوصلہ دیکھا تو وہی لوگ جو چند لمحے پہلے میرا مذاق اڑا رہے تھے، اب جی بڑھانے اور ہمت افزائی کرنے لگے۔ میں نے ان سے کہا مہربانی کرکے مکان سے دور ہٹ جائیں۔ اگر چیتا آزاد ہو گیا تو ایک آدھ کو اپنے ساتھ لے مرے گا۔ یہ سنتے ہی مجمع کائی کی طرح چھٹ گیا اور لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ میں نے دو بہادر گونڈاپنے ساتھ لیے۔ ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے اور لوگ پہلے بھی شیروں اور چیتوں سے جنگل میں مقابلہ کرچکے تھے۔ بندوق میرے ہاتھ میں تھی، ہم نے مکان کا بیرونی دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئے۔ اندر جانے کے بعد ہم نے یہ بیرونی دروازہ اندر سے بند کر دیا تاکہ چیتا کسی صورت میں باہر نہ جا سکے۔ اب ہمارے سامنے وہ کمرہ تھا جس میں آدم خور چیتا بند تھا۔ غالباً وہ اب بھی پلیٹ فارم کے اندر ہی دبکا ہوا تھا ۔ میں نے بندوق آہستہ سے کمرے کے بند دروازے پر مارا۔ اندر سے آدم خور کے غرانے کی آواز بلند ہوئی۔ میں نے سوچا لکڑی کے اس کمرے میں اتنا سوراخ کر لوں کہ اس میں سے چیتا نظر آجائے اور اس سوراخ میں بندوق کی نالی رکھ کر فائر کر دوں لیکن مصیبت یہ تھی کہ کارتوس میرے پاس دو ہی تھے، اگر یہ ضائع ہو گئے تو بیگم سے مزید کارتوس حاصل کرنا محال تھا کہ اس نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ گھر میں دو ہی کارتوس ہیں۔ اگر ان سے چیتے کو مار سکو تو مار لینا چنانچہ میں نے دروازے میں سوراخ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور ایک گونڈ کو حکم دیا کہ بڑھ کر دروازہ چوپٹ کھول دے۔
ادھر گونڈ نے دروازہ کھولا ادھر آدم خور چیتا برق کی طرح لپک کر اس پر آیا۔ دوسرے گونڈ نے بے مثل جی داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا نیزہ تاک کر مارا۔ یہ نیزہ لکڑی کی دیوار میں پیوست ہو گیا اور چیتے کی توجہ ایک سیکنڈ کے لیے نیزے کی طرف مبذول ہو ئی۔ عین اسی لمحے میں نے اس کے سر کا نشانہ لے کر فائر کر دیا۔ گولی چیتے کے دماغ پر بیٹھی، اس کی کھوپڑی کے پرخچے اڑ گئے۔ مرتے مرتے بھی وہ اچھل کر میری جانب آیا۔ میں نے دھائیں سے دوسری گولی بھی چلائی۔ یہ گولی بھی گردن میں لگی اور چیتا میرے قدموں پر گر کر دھیڑ ہو گیا۔ چیتے کے مارے جانے سے لوگ اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے مجھے کندھوں پر اٹھا لیا اور سارے گائوں میں لیے لیے پھرے۔ یہ چیتا کم و بیش دس بارہ آدمیوں کو ہڑپ کر چکا تھا اور جو مویشی اس نے ہلاک کیے وہ تو تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ اس کا حوصلہ یہاں تک بڑھ چکا تھا کہ دن دھاڑے لوگوں کے کچے مکانوں میں جھونپڑیوں میں گھس کر بچوں کو اٹھا لے جاتا۔ بعد میں جب اس کی لاش کا معائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس کی ایک ٹانگ مدت سے زخمی تھی اور یہ کسی ایسے اناڑی شکاری کا کارنامہ تھا جس نے چیتے کی ٹانگ پر گولی مار کر اسے شکار کھیلنے کی پھرتی اور چالاکی سے محروم کر دیا تھا ۔ مجبوراً یہ درندہ آدمیوں کے گوشت اور لہو سے اپنا پیٹ بھرنے لگا۔

//]]>