نئے ستارے

ظفر شمیم

اپریل ۰۹۹۱ءکو امریکا نے اپنی خلائی شٹل ڈسکوری کے ذریعے دنیا کی سب سے بڑی خلائی دوربین خلا میں بھیجی تو اسلامی دنیا اسلامی دنیا نے اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ یہ احتجاج خلائی دوربین کے بھیجے جانے پر نہیں بلکہ اس کے متنازعہ نام پر تھا۔ ۱۱ ٹن وزنی اور ۳۴ فٹ لمبی اس دوربین کا نام بڑی سوچ بچار کے بعد”ہبل“ رکھا گیا۔ یہ نام چاند، ستاروں کے اسی نام نہاد خدا سے متاثر ہو کر رکھا گیا، جسے حجة الوداع کے دن آنحضرت نے اپنے دستِ مبارک سے توڑا تھا۔ اسلامی دنیا کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی اور ہبل دوربین ا بھی خلا میں ہماری زمین کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ اس پر نصب آئینہ 94.8انچ قطر کا ہے۔ گزشتہ ۸۱ برسوں میں اس نے ۰۲ لاکھ سے زائد ستاروں کے بارے میں نہ صرف آگاہ کیا بلکہ ان کی تصاویر بھی اتار کر زمین پر بھیجیں۔ یہ تمام ستارے کافر ستارے کہلاتے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ستارے بھی کافر ہو ں۔
برنارڈ زمین سے تیسرا قریب ترین ستارہ ہے کیونکہ اسے کافر ماہر فلکیات برنارڈ نے دریافت کیا اس لیے یہ کافر ستارہ ہے۔ پہلے اور دوسرے قریب ترین ستارے بھی روسیوں کے نام ہیں۔ اب اس ہبل خلائی دوربین سے جو بھی کافر سائنسدان پہلے کسی ستارے کو دیکھ لیتا ہے، دنیا کی ڈائری میں اس کی پہچان اپنے نام سے منسوب کر دیتا ہے۔

//]]>