نصیب کا بونگا

ابن آس

ندیم اپنے دوست کلیم کے ساتھ اسکول کی لائبریری سے باہرکھڑا باتیں کررہا تھا۔ بونگا سر جھکائے احمقانہ انداز میں چیونگم چباتے ہوئے قریب سے گزرا۔ ندیم نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔
”بے چارہ بونگا…. دیکھو تو کیا حالت ہے اس کی۔“
”کیوں….؟ کیا ہوگیا؟ “ کلیم نے حیرانی سے بونگے کی طرف دیکھا۔
”بھولا نام ہے مگر سب بونگا بونگا کہہ کر بلاتے ہیں…. دیکھو تو ….انسانوں کی طرح چلنا بھی نہیں آتا۔“
”ہاں…. یہ بات تو ہے۔ “ کلیم نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ بونگے نے یہ باتیں سن لیں۔ وہ درخت کی آڑ میں کھڑا ہو گیا۔
”مگر ندیم…. اس کے باوجود یہ ہم میں سب سے بہتر ہے۔ سارے اساتذہ اسے پسند کرتے ہیں۔ مس نجمہ تو کلاس میں آتے ہی ٹافی دیتی ہیں اسے….ہیڈ ماسٹر صاحب ذہین کہتے ہیں…. کچھ بھی کرو اس کے ساتھ، جیت اسی کی ہوتی ہے آخر میں….“ سب سے زیادہ نمبر ملتے ہیں اسے….“
ندیم نے پرخیال انداز میں سرہلایا۔ ” کہتے تو تم ٹھیک ہو، سب کی آنکھ کا تارا ہے اور ہم…. کوئی ہمیں اہمیت دینے کو تیار ہی نہیں ہے…. سارے انعام اس کی قسمت میں ہیں۔ سب اسی کی تعریف کرتے ہیں…. یہ بونگا بن کر ہم سب پر بازی لے جاتا ہے اور ہم دیکھتے رہ جاتے ہیں۔“
” یہ بات تو ہے، دیکھنے میں بونگا ہے۔ مگر قسمت کا دھنی ہے۔ ایسی شان دار قسمت کسی کی نہیں ہوتی۔“
ندیم نے ایک طویل سانس لی۔ ”کاش میں بونگا ہوتا اور بونگا ندیم ہوتا!“
کلیم حیرانی سے ندیم کو دیکھنے لگا۔ اس کی سمجھ میں بات نہیں آئی تھی۔ اسی وقت بونگا جو درخت کے پیچھے رک کر ان کی باتیں سن رہا تھا۔ اچانک نکل کر ان کے سامنے آگیا۔
”ارے…. بونگے…. تم تو چلے گئے تھے۔“
”میں درخت کے پیچھے کھڑا تمہاری باتیں سن رہا تھا۔“ بونگا اپنے مخصوص احمقانہ انداز میں بولا۔
ندیم اور کلیم اس کی صورت تکنے لگے۔ بونگا جیب سے ایک نئی چیونگم نکال کر منھ میں ڈالتے ہوئے بولا۔
”تم میرے جیسا کیوں بننا چاہتے ہو۔ مجھے تو سب احمق سمجھتے ہیں۔ بونگا کہہ کر بلاتے ہیں۔ میرے چلنے کے انداز اور باتیں کرنے کے طریقے پر ہنستے ہیں۔“
”کیوں کہ تم زحمت ہوتے ہوئے بھی ہم سب سے بہتر ہو۔“ ندیم نے جواب دیا۔
”تم کچھ بھی شرارت کرو…. ہمیشہ بچ جاتے ہو، ٹیچر تمہیں بے چارہ اور بونگا سمجھ کر سزا نہیں دیتے۔ تم پڑھائی میں اچھے نہیں ہو، مگر تمہاری بے چارگی دیکھ کر انہیں رحم آجاتا ہے اور دوچار نمبر زیادہ مل جاتے ہیں۔ کوئی بھی کچھ کھاتا ہے، تمہیں ضرور کھلاتا ہے اور….“
بونگا اس کی بات کاٹ کر بولا: ”اور اس لیے تم چاہتے ہو کہ تم بونگا ہوجاﺅ…. مطلب تم، میں ہوتے اور میں تم ہوتا….!!“
”ہاں…. اب دیکھونا، میں خوب صورت ہوں، تم بدصورت ہو، عام سی شکل ہے تمہاری۔ میں صحت مند اور مضبوط جسم کا ہوں۔ تم دبلے پتلے اور کالے سے ہو۔ میرے پاس پیسوں کی کمی نہیں ہے اور تمہاری جیب خالی رہتی ہے۔ تمہیں ڈھنگ سے بات کرنا نہیں آتی اور میں مدلل گفتگو کرسکتا ہوں۔ میرا ایک انداز ہے اور تمہارا کوئی انداز ہی نہیں ہے۔ پھر بھی سب تمہیں چاہتے ہیں۔ تمہارے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں اور….“
بونگا مسکرایا۔ اس کی مسکراہٹ بھی عجیب سی تھی۔ جسے دیکھ کر ہنسی نکل جاتی تھی۔ ندیم اور کلیم کی بھی ہنسی نکل گئی۔
”دیکھو ندیم! اﷲ میاں نے تمہیں ندیم بنایا ہے اور بہت سی خوبیاں دی ہیں تمہیں…. مجھے بونگا بنایا ہے اور تمہارے بقول بہت سی خامیاں ہیں مجھ میں…. تم جو ہو تمہیں اس پر خوش ہونا چاہیے …. اور…. “
”مگر قسمت …. اس کا کیا….؟“
”قسمت بھی اچھی ہے تمہاری…. تم اس کی قدر نہیں کررہے۔“
”قسمت تو اچھی نہیں ہے…. سب کچھ ہوتے ہوئے بھی، ہم ہمیشہ نقصان میں اور تم ہمیشہ فائدے میں رہتے ہو۔“
”ہوں…. تو تم چاہتے ہو…. کہ تم میں بن جائو…. اور میں تم بن جائوں….!!“
”ہاں…. کاش ایسا ہوسکتا…. زندگی بدل جاتی میری تو…. کتنا مزہ آتا…. بالکل مکمل ہوجاتا میں۔“
تو ٹھیک ہے تم بونگے بن جاﺅ اور میں ندیم بن جاتا ہوں۔“
”ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔“ ندیم نے حیرانی سے کہا۔
”بہت آسانی سے…. یوں کرتے ہیں…. ابھی دن کے گیارہ بجے ہیں…. تم اب سے شام 5بجے تک میں ہو…. اور میں تم ہوں…. مطلب…. اب میں ندیم ہوں اور تم بونگا۔“
ندیم حیران سے دیکھ رہا تھا۔ کلیم بھی حیرانی سے دیکھنے لگا۔
” میں سمجھا نہیں….!“
ابھی سمجھ جائو گے….!“ بونگا مسکرا کر بولا۔
اس و قت مس نجمہ بچوں کی کاپیاں ہاتھوں میں تھامے کامن روم سے نکل کر اس طرف آتی نظر آئیں۔
”ندیم…. میں تمہیں ڈھونڈ رہی تھی۔“
بونگا فوراً بولا: ”ندیم یہ نہیں مس نجمہ…. ندیم میں ہوں۔“
”میں سمجھی نہیں۔“ مس نجمہ نے حیرانی سے کہا۔
”بس…. شام 5بجے تک میں ندیم ہوں اور ندیم بونگا ہے۔“
”اچھا۔ “ مس نجمہ نے کچھ سوچا۔
”مگر میں تو ندیم کے لیے آج ٹافیاں لائی تھی۔“
” میرے لیے ۔“ ندیم چونک گیا۔ ” آپ تو ہمیشہ بونگے کو ٹافی دیتی ہیں۔“
”ہاں …. مگر آج میں سوچ رہی تھی کہ …. تمہیں ٹافی دوں۔ جب بھی میں بونگے کو ٹافی دیتی تھی تو تم حسرت سے دیکھتے تھے…. لہٰذا….“
ندیم نے جھٹ بات کاٹ دی اور ہاتھ آگے کر دیا۔ ”یہ تو بہت اچھی بات ہے…. شکریہ مس…. لائیے!!“
”مگر تم تو ندیم نہیں ہو…. تم بونگا ہو اس وقت….“
ندیم نے بے چارگی سے بونگے کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
”جی مس! شام پانچ بجے تک میں ندیم نہےں ہوں۔ بونگا ہوں۔“
”تو ٹھیک ہے۔“ مس نجمہ نے مسکرا کر کہا۔
” میں تو ندیم کے لیے لائی تھی!“مس نجمہ نے ٹافی بونگے کی طرف بڑھا دی۔
ندیم حسرت سے ٹافی کی طرف دیکھتا رہا۔ بونگے نے ٹافی لے لی۔ مس نجمہ آگے بڑھ گئیں۔ بونگے نے ٹافی کھاتے ہوئے کہا۔”اچھا بونگے…. شام پانچ بجے تک…. سمجھ گئے نا….“
بونگا آگے بڑھ گیا۔ مگر اب وہ بونگا نہیں تھا۔ ندیم تھا اور ندیم بونگے کی جگہ کھڑا تھا۔
٭….٭
انگریزی کی کلاس میں سب کا خون خشک ہوجاتا تھا۔ ہونا بھی چاہیے تھا۔ سر طارق ہوم ورک نہ کرنے پر مرغا بنا دیتے تھے۔
پوری کلاس میں واحد بونگا تھا جس کا ہوم ورک کبھی پورا نہیں ہوتا تھا۔ مگر سر طارق بونگے کو مرغا نہیں بناتے تھے۔ وجہ اتنی سی تھی کہ ایک مرتبہ کسی نے سر طارق کی کرسی پر چیونگم چپکا دی تھی۔سر طارق کرسی پر بیٹھنے ہی والے تھے کہ بونگے نے انہیں بتا دیا تھا کہ آپ کی کرسی پر کسی نے چیونگم رکھ دی ہے۔
سر طارق کا سوٹ خراب ہونے سے بچ گیا تھا اور اس دن سے سر طارق نے بونگے کو کبھی ہوم ورک نہ کرنے پر مرغا نہیں بنایا تھا۔ یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ چیونگم دراصل بونگے نے خود ہی ان کی کرسی پر چپکائی تھی۔ سر طارق کے آنے سے پہلے ہی بونگا اور ندیم اپنی اپنی نشست پر بیٹھے تھے۔ کلاس میں سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ آج پانچ بجے تک بونگا ندیم ہے اور ندیم بونگا ہے۔
سر طارق نے کلاس میں آتے ہی کہا: ” مجھے یہ بات معلوم ہو گئی ہے کہ اس روز میری کرسی پر چیونگم کس نے چپکائی تھی اور یہ بھی جان گیا ہوں کہ میری دراز میں مرا ہوا چوہا کس نے رکھا تھا۔“ ساری کلاس سناٹے میں تھی۔
سر طارق نے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے پوری کلاس کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سناٹا تھا۔ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ یہ دونوں کارنامے کس نے انجام دیے ہیں۔ مگر اب اس کو معلوم ہو گیا تھا جس کو معلوم نہیں ہونا چاہےے تھا۔
سر طارق دہاڑ رہے تھے۔ ”آج میرا غصہ عروج پر ہے۔ جس بچے نے یہ گھٹیا حرکت کی تھی اسے سزا ملے گی اور جس نے آج ہوم ورک مکمل کیا ہوگا۔ اسے انعام ملے گا۔ چلو ہوم ورک کی کاپیاں جمع کرو۔“ کلاس کا مانیٹر ہوم ورک کی کاپیاں جمع کرنے لگا۔
”سر! وہ کون ہے جس نے یہ گھٹیا حرکت کی تھی؟“ ماجد سے رہا نہیں گیا تو اس نے پوچھ لیا۔
” پہلے ہوم ورک کی کاپیاں جمع ہوجائیں۔“
”سر کاپیاں جمع ہوگئی ہےں۔“
”شاباش۔ پورا ہوم ورک کس نے مکمل کیا ہے۔“
” صرف ندیم کا ہوم ورک مکمل ہے سر….“ مانیٹر نے جواب دیا۔ باقی سب کا تھوڑا بہت باقی ہے۔“
”ہوں۔ ندیم…. کھڑے ہوجائو، یہ لو، سو روپے انعام!“
بونگا فوراً کھڑا ہو گیا….“ لائیے سر۔“
”تم….!!“ سر طارق نے حیرانی اور غصے سے آنکھیں نکالیں۔
”تم ندیم ہو….!“
”جی سر! میں ندیم ہوں…. “ بونگے نے جواب دیا۔
” اور میں یقین کر لوں….“ سر طارق حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔
” پوری کلاس سے پوچھ لیں سر….“
” جی سر! آج یہ بونگا نہیں ہے۔ آج یہ ندیم ہے۔“
سر طارق الجھ گئے۔” یہ سب کیا چکر ہے….“
” یہ نصیب کا چکر ہے سر….“ بونگا بولا۔
”ندیم کا خیال ہے کہ بونگے کا نصیب اچھا ہے اور ندیم کا نصیب خراب…. سو آج میں ندیم اور وہ بونگا ہے…. ہم نے اپنی مرضی سے ندیم اور بونگے کا نصیب بدل دیا ہے۔“ طارق سر حیرانی سے دیکھتے رہے اور سوچتے رہے۔
” مطلب…. آج جو کچھ تمہارے نصیب میںہے، وہ ندیم کو ملے گا اور جو ندیم کے نصیب میں ہے وہ تمہیں ملے گا۔“
” جی سر۔!“ بونگے نے مسکرا کر جواب دیا۔
” ہوں…. یہ لو سو روپے۔“ سر طارق نے سو روپے کا نوٹ بونگے کی طرف بڑھا دیا۔
”اور اب…. اس لڑکے کو سزا ملے گی، جس نے میری میز کی دراز میں مرا ہوا چوہا رکھا تھا اور میری کرسی پر چیونگم چپکائی تھی اور وہ بدتمیز لڑکا ہے بونگا….“ چلو بونگے باہر آئو اور مرغا بن جائو، جب تک میں کلاس میں رہوں گا…. تم مرغا بنے رہو گے۔ کوئی رعایت نہیں ہوگی تمہارے ساتھ۔ “
بونگا خاموشی سے اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔
”تم نے سنا نہیں بونگے….“
”بونگا وہ ہے۔“ بونگے نے ندیم کی طرف اشارہ کر دیا۔ ندیم کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔ پوری کلاس اب ندیم کی طرف دیکھ رہی تھی۔
اس روز جب تک سر طارق کلاس میں رہے، ندیم بورڈ کے قریب مرغا بنا رہا اور پوری کلاس لطف اندوز ہوتی رہی۔
٭….٭
ندیم اور بونگے کے گھر ایک ہی علاقے میں تھے۔ فرق یہ تھا کہ ندیم کا گھر بہت اچھا تھا۔ گھر کیا تھا بنگلہ تھا پورا اور بونگے کا گھر اسی آبادی میں چند گلیاں چھوڑ کر اس حصے میں تھا جہاں لوئر مڈل کلاس لوگوں کے چھوٹے چھوٹے گھر تھے۔
اسکول سے آنے کے بعد بونگا قریبی باغیچے سے ملحقہ کرکٹ کے میدان میں چلا گیا۔ وہ بہت برا کھلاڑی تھا۔ مگر اسے کرکٹ کا بہت شوق تھا۔ آج محلے کی کرکٹ ٹیم کا حتمی انتخاب ہونا تھا۔ محلے اور اسکول کے تقریباً سب ہی لڑکوں نے ٹرائل میں حصہ لیا تھا۔ بونگا چھ گیندوں پر چھ مرتبہ آئوٹ ہوا تھا اور اسے یقین تھا کہ اسے کرکٹ کی ٹیم میں تو کیا کرکٹ کے میدان میں بھی گھسنے نہیں دیا جائے گا۔
وہ میدان میں موجود سیڑھیوں کے پاس پہنچا تو سب ہی لڑکے آچکے تھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ بونگے کو دیکھتے ہی سب اس کا مذاق اڑانے لگے۔ چھ گیندوں پر چھ مرتبہ آئوٹ ہونا واقعی ریکارڈ تھا جو صرف بونگا ہی بنا سکتا تھا۔
کچھ ہی دیر میں ندیم بھی آگیا۔ وہ بھی اچھا کھلاڑی نہیں تھا۔ اس نے بھی ٹرائل میں حصہ لیا تھا اور اسے بھی یقین تھا کہ اس کا انتخاب نہیں ہوسکے گا۔ ہاں اس کی فیلڈنگ اچھی تھی ، مگر محض فیلڈنگ کی بنیاد پر تو کسی کو ٹیم میں شامل نہیں کیا جاتا۔ ندیم بھی آکر دوسرے لڑکوں کے ساتھ بونگے کا مذاق اڑانے میں مصروف ہوگیا۔
بونگے کو اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ کون کیا اڑا رہا ہے۔ وہ مذاق اڑانے والوں کے ساتھ مل کر ہنستا تھا اور لوگوں کی مذاق اڑانے والی عادت کو ہوا میں اڑا دیتا تھا۔
راشد سب سے زیادہ مذاق اڑارہا تھا۔ وہ بہت اچھا بائولر تھا اور اسی نے بونگے کو چھ گیندوں پر چھ مرتبہ آئوٹ کیا تھا۔
اچانک بونگے کو ایک بات یاد آئی۔ ”راشد…. تمہیں یاد ہے، تم نے تین مہینے پہلے مجھ سے دو سو روپے ادھار لیے تھے۔“ راشد کی ہنسی کو بریک لگ گئے۔
”ہاں۔ یاد ہے…. میں دے دوں گا جلد….“ وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔
” اپنا پرس دیکھو، اگر ابھی تمہارے پاس دو سو روپے ہوں تو دے دو…. اور اگر نہیں ہوئے تو میں آئندہ نہیں مانگوں گا۔“بونگے کا یہ جوابی حملہ تھا۔ سب ہنسنے لگے۔
” چوکا مارا ہے بونگے نے چوکا….چل نکال پرس۔“ ایک لڑکے نے جلدی سے پرس چھینا اور کھولا تو اس میں تین سو روپے تھے۔
”میرے دو سو روپے….“ بونگے نے مسکرا کر کہا۔
راشد نے خاموشی سے دو سو روپے اس کی طرف بڑھا دیے۔ اب راشد نہیں ہنس رہا تھا۔ سب ہنس رہے تھے۔ راشد کی سمجھ میں آگیا تھا کہ جس سے قرض لیا جائے، یاجس نے کبھی آپ کی مدد کی ہو اس کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔
بونگے نے دو سو روپے اس کے ہاتھ سے لے لیے، مگر اس وقت ندیم نے وہ دو سو روپے اچک لیے۔
” اس پر تو میرا حق ہے۔“ ندیم نے خوش ہو کر کہا۔
”تیرا حق کیسے ہو گیا…. یہ تو میں نے بونگے سے لیے تھے۔ واپس کرو اسے۔“
”تم نے بونگے سے لیے تھے نا….؟“ ندیم کا لہجہ ایک دم شوخ ہو گیا۔ ”تو بونگے کے پاس آگئے…. حساب برابر۔“
” کیا مطلب….؟“
” مطلب یہ …. کہ آج بونگا …. یہ نہیں ، میں ہوں۔“
”مگر تم تو ندیم ہو….“
” ہاں …. مگر آج ندیم یہ ہے۔“ ندیم نے بونگے کی طرف اشارہ کیا۔ سب حیرانی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
” یہ کیا چکر ہے…. سمجھ میں نہےں آیا۔“ سب حیران تھے۔ اور بونگا خاموش تھا۔ وہ ٹکر ٹکر سو سو کے ان دو نوٹوں کو دیکھ رہا تھا جواب ندیم کی اوپر والی جیب میں صاف نظر آرہے تھے۔
” یہ سب قسمت کا چکر ہے۔“ ندیم واقعی خوش تھا۔ پھر اس نے ساری بات انہیں بتائی۔ تو سب کی سمجھ میں آیا۔
”اوہ…. تو یہ بات ہے….“
” ہاں…. یہی بات ہے۔ آج اس کا نصیب میرے پاس ہے۔ اور میرے نصیب کا مالک یہ ہے۔یہ نصیب بھگت رہا ہوں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کرارے نوٹ اس کے نصیب کی وجہ سے میری جیب میں آئے ہیں۔“
گڈ یار….تمہارے تو مزے آگئے۔“
اسی وقت کرکٹ کلب کے منیجر واثق صاحب ان کے قریب آگئے۔
”ہاں بھئی بچو…. ٹیم کا انتخاب ہوگیا….“
سب ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ان کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا۔
”سلیکٹرز نے منتخب شدہ کھلاڑیوں کے نام بھیج دیے ہیں۔ اب میں باری باری نام پکاروں گا۔ جس کا نام پکاروں وہ ایک طرف ہوجائیں…. یہ کھلاڑی ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لیے اسلام آباد جائیں گے۔“ سب ایک دم پرجوش ہوگئے۔
واثق صاحب نے باری باری نام پکارنا شروع کر دیئے۔ کل پندرہ کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا تھا۔ ان سب کو جونیئر کپ میں حصہ لینے کے لیے اسلام آباد جانا تھا اور توقع کے مطابق ان پندرہ کھلاڑیوں میں بونگے کا نام نہیں تھا۔
پندرہواں نام ندیم کا پکارا گیا تو ندیم اچھل گیا اور خوشی سے فوراً ان کھلاڑیوں میں چلا گیا۔ جن کا انتخاب ہو گیا تھا۔ آج واقعی وہ خوش قسمت کھلاڑی ثابت ہوا تھا۔ آج اس کی سال گرہ بھی تھی اور سال گرہ کے موقع پر ٹیم میں منتخب ہونا اس کے لیے سب سے بڑا تحفہ تھا۔
” ایک منٹ!!“ اچانک بونگے کی آواز گونجی۔
سب چونک گئے۔ واثق صاحب نے اس کی طرف دیکھا۔
” کیا بات ہے، کون ہو تم….“
”سر میں ندیم ہوں….“
”اچھا، ندیم تم ہو …. تو تم ادھر آجائو۔ بہترین فیلڈنگ کی وجہ سے تمہارا انتخاب ہوا ہے۔“
”نہیں سر…. میں ندیم ہوں…. یہ تو بونگا ہے، پوچھ لیں سب سے۔“
سب خاموشی سے کبھی ندیم اور کبھی بونگے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ پوچھ لیں سب سے کہ کون بونگا اور کون ندیم۔“بونگے نے اطمینان سے کہا
سب لڑکے بونگے کی طرف دیکھ رہے تھے اور پھر سب نے ایک ساتھ بونگے کی طرف ہاتھ بڑھا دیئے۔
”سر یہ ندیم ہے….“ ان کا اشارہ بونگے کی طرف تھا۔
”ندیم کے تو پیروں تلے زمین نکل گئی…. وہ ہونقوں کی طرح بونگے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
بونگا مسکراتے ہوئے منتخب شدہ کھلاڑیوں کی طرف آگیا اور سرگوشی میں بولا۔
”انسان کو اس پر خوش رہنا چاہیے جو وہ ہے، اﷲ نے جو تمہیں بنایا ہے، جو تمہیں دیا ہے۔ اس پر خدا کا شکر ادا کرنا سیکھو…. کسی اور کے نصیب کو اپنانے کی خواہش رکھو گے تو تمہارا اپنا نصیب بھی تمہارا نہیں رہے گا …. کسی اور کا ہوجائے گا….میرا خیال ہے سمجھ تو تم گئے ہو گے۔“
ندیم کے پاس جواب نہیں تھا۔ اس نے بونگے کا نصیب حاصل کرنا چاہا تھا۔ مگر وہ خود نصیب کا بونگا ثابت ہو گیا تھا۔
٭….٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>