ننھا شکاری

فرحت نعیمہ اختر

nanna shikari

ماں جوش مسرت سے چولہے کے پاس سے اُٹھ کھڑی ہوئی، مگر جلد ہی ٹھٹک گئی

اس کا ننھا سا دل دھک دھک کررہا تھا۔ سانس پھول رہی تھی۔ خوشی سے چہرہ سرخ اور آنکھیں جگمگارہی تھیں۔ اس نے ہاتھ میں پکڑ کر چھروں والی بندوق کو سیدھا کیا اور قطار میں بیٹھی ان چند فاختائوں پر نشانہ باندھ لیا۔ نازک ہاتھوں نے بھاری بندوق سنبھال رکھی تھی۔
دلیری کی تربیت کام آئی۔ دھائیں دھائیں کی آواز کے ساتھ ہی ایک دو نہیں بلکہ چار فاختائیں وہیں پھڑپھڑا کر رہ گئیں۔ گائوں کی فضا میں تربیت یافتہ ننھا شکاری خوشی سے اچھل پڑا۔ جیب میں پڑا چاقو بڑی مہارت سے نکال کر کھول لیا اور دبے پائوں چلتا ہوا ان گری ہوئی فاختائوں کے قریب آیا۔ جلدی جلدی اللہ اکبر پڑھ کر ان کو ذبح کیا اور انھیں لے کر تیز تیز قدموں سے نہایت جوشیلے انداز میں گھر کی طرف چلا، جہاں ماں اس کا انتظار کررہی تھی۔ دن کی روشنی ختم ہوتے ہی اندھیرا پھیل جاتا، جب کہ وہ اس سے جنگل سے باآسانی نکل جانا چاہتا تھا۔
اس کے ذہن کے پردے پر تصویر بن رہی تھی کہ ماں نے کس قدر بے بسی سے مجاہد کی طرف دیکھا تھا۔ وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ دو بہنیں تھیں مگر بڑی اور شادی شدہ۔ اس کا باپ فوت ہوچکا تھا، آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ گھر میں آج ایک مہمان آیا تھا اور ماں اپنے خاوند کی خاندانی روایت کے مطابق اس کی کاطر تواضع کرنا چاہ رہی تھی۔ مگر گھر میں ایک وقت کے آٹے کے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا وہ بھی ماں نے بڑی دقتوں سے مجاہد کی روزانہ کی سوکھی روٹی کے لیے بچا کر رکھا تھا۔
مجاہد نے بہت بچپن میں باپ کے زمانے میں شاید کچھ سکھ دیکھا تھا۔ اس کے بعد تو بھوک اور بیماری نے ہی گھر میں ڈیرے ڈال لیے۔ وہی گھر کا اکلوتا مرد تھا۔ کیسے گوارا کرتا کہ اس کی ماں بے بسی سے اس کی طرف دیکھے… گائوں کا درزی آج ان کا مہمان تھا اور گائوں کے رواج کے مطابق اسے اپنا ملیشیا یونی فارم سلوانے کی فیس بھی اسی طرح ادا کرنا تھی۔
گائوں کے واحد اسکول نے تو اس کی یتیمی کی بناء پر ’اسکول فیس‘ معاف کر رکھی تھی۔
جب وہ گھر میں داخل ہو اتو بے چین ماں کے دل کو قرار آگیا۔
’’مجاہد! تم کہاں چلے گئے تھے؟‘‘ دیکھو تو چولہے کی آگ روشن ہے۔ میں نے نرم روٹی بھی پکالی ہے۔‘‘
ایسا کریں گے مہمان کو تھوری سی پیاز سے روٹی کھانے کو دے دیں گے۔‘‘ اس کو دیکھ کر خوش ہونے والی ماں کی آواز میں مایوسی در آئی تھی۔
مگر وہ شام کے اندھیرے میں مجاہد کے ہاتھوں کی طرف نہیں دیکھ سکی۔ مجاہد نے چولہے کی آگ کی روشنی میں ہاتھ کو اونچا کیا اور ذبح کی ہوئی ’فاختائیں‘ دکھاتے ہوئے کہنے لگا: ’’ماں… دیکھیں میں کیا لایا؟‘‘
ارے! یہ کیا؟ ماں نے غور سے دیکھا۔
’’ماں! آج ہم خود بھی گوشت کھائیں گے اور مہمان کو بھی کھلائیں گے۔‘‘
ماں جوش مسرت سے چولہے کے پاس سے اٹھ کھڑی ہوئی، مگر جلد ہی ٹھٹک گئی۔ ’’یہ کون تمھیں اپنا شکار دے گیا اور یہ تم اپنے باپ کی بندوق کب گھر سے اٹھا کر لے گئے۔‘‘ وہ حیران تھی اور اس کے انداز میں بے یقینی تھی۔ بھلا کیسے اس نے اپنے ہی قد جتنی بندوق اٹھالی؟
’’ہاں! ماں میں نے خود یہ شکار کیا ہے۔ آپ کے لیے ماں تاکہ آپ خود بھی سالن کھاسکیں اور مہمان کو بھی کھلاسکیں۔‘‘ ماں نے آگے بڑھ کر مجاہد کو گلے لگالیا اور پیار کرتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن بیٹا مجھ سے پوچھ کر جانا چاہیے تھا نا!‘‘
’’جی ماں! میں شرمندہ ہوں کہ آپ کو نہیں بتاسکا لیکن…‘‘ لیکن اب کوئی بات نہیں آئندہ خیال رکھنا۔ ماں نے تیزی سے اس کی بات کاٹی اور ساتھ ہی اسے بہت سی دعائیں بھی دے ڈالیں۔
’’مہمان‘‘ بھی کمرے کی کھڑکی سے یہ سب کچھ سن اور دیکھ رہا تھا۔ وہ مجاہد کی بہادری اور دلیری کے ساتھ ساتھ اس کی ’ماں کی خدمت‘ کے جذبے کو سراہ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ مجاہد کچھ کہتا وہ باہر نکلا اور مجاہد کو پیار سے دیکھتے ہوئے مخاطب ہوا۔
’’یہ سعادت مند بچہ اگر اپنی ماں کی خدمت کے اس جذبے کو زندہ رکھے گا تو ہمیشہ دنیا میں بھی بہترین پھل پائے گا اور آخرت میں تو اجر عظیم کا مستحق ہوگا ہی۔‘‘
٭…٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>