میاں مٹھو

بینا صدیقی

سارہ کے گھر میں داخل ہوتے ہی آنے والوں کا استقبال بڑے سے پنجرے میں ڈولتا ہو اسبز توتا کرتا، وہ بڑے میٹھے لہجے میں کہتا:
”میاں مٹھو ہوں، سب سے اچھا ہوں۔“
نجانے اُسے کس نے یہ جملہ سکھایا تھا۔ وہ ہر آئے گئے سے یہی کہہ کے اپنا تعارف کر ایا کر تا تھا۔
٭….٭
”دیکھو، میں نے فیس بک پہ اپنی تصو یر ڈالی ہے۔ دیکھو ناں©©۔“ سارہ نے فاریہ کا کند ھا ہلایا۔
” دکھاو¿ بھئی۔“ فاریہ نے بے زاری سے کہا۔
”دکھا و¿ نہیں، دیکھو اپنے موبائل پہ اور لائک کر و، ایک اچھا سا تبصرہ لکھو اس پہ۔ برگر کھلاو¿ں گی، کرنچ والا۔“ سارہ لاڈ سے بولی۔
”کل ہی تو لکھا تھا بیوٹی فل اور نائس۔ مجھے انگریزی کے یہ دو ہی لفظ آتے ہیں، تیسرا آتا تو انگر یزی کے ٹیسٹ میں پاس نہ ہو جاتی۔“ فاریہ نے اُکتا کر کہا۔ ”بھئی آ ج کچھ اور لکھ دو۔ انگر یزی میں نہ سہی۔ اُردو کا کوئی اچھا سا شعر لکھ دو۔ “سارہ نے اصرار کیا۔
فاریہ نے دیکھا، تصویر میںسارہ سر سے پیر تک شوخ سبز لباس میں بہت تیار ہوکے کھڑی تھی۔
فاریہ ہنس کے بولی۔ ”کسی توتے کی شادی میں گئی تھیں کیا؟ “
”کیا؟ کیا کہا؟“ سارہ چیخ اٹھی۔ و ہ تنقیدبالکل بھی برداشت نہیں کر پاتی تھی۔
” ارے بھئی مذاق کر رہی تھی۔ اچھا تویہ لکھ دوں؟ مر ض بڑ ھتا گیا جوں جوں دوا کی۔“
فاریہ، سارہ کے اردو میں کورا ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بولی۔
”ہاں، مگر مر ض تو بیماری کو کہتے ہیں ناں شاید۔“ سارہ کو خوبصورتی سے فر صت ملتی تو کسی کتاب میں جھانکتی، اُلجھ کے بولی۔
”اس کا مطلب خو بصورتی کا بڑ ھتے جانا ہے۔ اب وعدے کے مطابق مجھے برگر کھلاو¿۔“ فاریہ مسکرائی۔
سارہ بھی خوشی خوشی بولی۔ ”چلو کھلاتی ہوں۔ “ سارہ کپڑے جھاڑتے ہوئے سیڑھیوں سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
”پتا ہے۔ میں گلابی کپڑوں میں بہت ہی پیاری لگتی ہوں۔“ سارہ اپنی خوبصورتی سے کافی مطمئن تھی۔
مفت کا بر گر کھانے کا شو ق سجیلہ اور ماہم کو بھی کھینچ لایا۔ ”کافی کیا ؟تم تو ہو ہی اتنی پیاری۔“ مکھن لگانے والی سجیلہ نے کہا۔
”کوئی بھی رنگ پہنو تم پہ جچتا ہے۔ “ماہم نے سجیلہ کو آنکھ ماری۔
سارہ دیکھ نہ سکی اور اپنی ہی دُھن میں اعتماد سے کہنے لگی۔ ” یہ تو مجھے سب ہی کہتے ہیں کہ تم بہت خوبصورت ہو۔ کوئی نئی بات بتاو¿۔“ اس نے ہنس کے کندھے جھٹکے اور بیگ کند ھے پہ ڈال کے برگر والے کی طر ف بڑ ھ گئی۔
”توبہ کتنی تعر یفیں کر تی ہے اپنی۔ کسی دوسرے کو تو ضرورت ہی نہیں اس کی تعر یف کرنے کی۔ یہ کام تو یہ خود ہی کر لیتی ہے۔ “
مکھن کی ٹکیہ لگانے والی سجیلہ کے پاس زہر کی ڈبیا بھی تھی۔
٭….٭
”امی! دیکھیں ناں !مجھے گڑ یا اور ببلو تنگ کر رہے ہیں، میں کہانی لکھ رہی ہوں۔“ سارہ نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ اس کے ہاتھ میں قلم تھا۔
”بھئی ، انھیںبس تھوڑی دیر سنبھال لو۔ اتنے میں سالن بھون کے روٹیاں پکا لوں۔ پھر ان کو دیکھ لوں گی، ا س کے بعد تم اپنا کام کر لینا۔“ امی نے عجلت میں سالن میں چمچہ گھمایا۔
”امی مجھ میں اتنا ٹیلنٹ ہے۔ سب اسکول میں میری تعریف کرتے ہیں۔ ایک آپ ہیں جو چاہتی ہیں کہ میں بس گھر کا کام کر تی رہوں، چھوٹے بہن بھائی سنبھالتی رہوں اور اپنا ٹیلنٹ ضائع کردوں۔“
سارہ نے ہاتھ میں تھاما ہوا قلم پھینکا اور پیر پٹختے ہوئے کچن سے نکل گئی۔ امی نے افسوس سے دروازے کی طرف دیکھا اور پھر قلم اُٹھا یا جو آٹے کی پرات میں جاگرا تھا۔
٭….٭
”ابو مجھے شہزادی کا سوٹ چا ہیے۔ سرخ فراک اور سرخ جوتے۔ اسکول میں مجھے شہزادی کا کر دار ادا کرنا ہے۔“
سارہ نے نا شتے کی میز پہ ابو کو مخاطب کیا۔
”واہ بھئی، ضرور دلوائیں گے، ہماری بیٹی کو شہزادی کا کردار ملا ہے؟“ ابو نے اخبار ایک طر ف ر کھ کے پیار سے کہا۔
”ابھی ملا تو نہیں، مگر پورے اسکول میں میرے سوا کوئی اتنا اچھا ہے بھی تو نہیں جسے شہزادی کا کردار سوٹ کرے۔ پچھلے سا ل بھی میں ’انار کلی ‘بنی تھی۔“ سارہ ناک چڑھا کے بولی۔
غضب یہ ہوا کہ سارہ کو شہزادی کا سوٹ تو مل گیا لیکن کردار نہ ملا، یہ کردار فائزہ کو مل گیا۔ یہ سن کر تو سارہ آگ بگولہ ہوگئی۔
”بھئی فائزہ تو اتنی موٹی ہے، بلکہ رنگ بھی کم ہے، بال اتنے خراب،پتا نہیں اُسے کیوں شہزادی بنا دیا؟ (انچارج) مِس فرح کی رشتے دار ہے شاید وہ۔“ اس وقت وہ اپنی خوشامدی سہیلیوں میں کھڑی تسکین محسوس کر رہی تھی۔ سہیلیاں اسے وہ سنا رہی تھیں جو وہ سننا چاہتی تھی۔ اتنے میں فاریہ بھاگی آئی۔
”وجہ کچھ اور ہے۔ اُردو کی مس ہُما کہہ رہی تھیں کہ سارہ کی اُردو بہت خراب ہے۔ وہ شہزادی کے جملے صحیح طرح ادا نہیں کر سکے گی۔“
فاریہ نے مزہ لینے کو آگ لگائی۔
”ہاں تو پھر اس کالی اور مو ٹی فائزہ کو بنا دیں شہزادی ۔ اُردو میں َسو میں سے َسو اور شکل میں صفر بٹا صفر۔“ سارہ طنز یہ انداز میں ہنسی۔
خوشامدیوں کی ہنسی بنتی تھی، سو ساری سہیلیاں ہنس دیں اور سارہ اُنھیں برگر اور کولڈ ڈرنک پلانے لے گئی۔ سہیلیوں کی خو شامد کی فیس ادا ہوگئی۔
٭….٭
شام کو سرپرائز ملا۔ سب کے چہیتے ولید چچا پانچ سال کی تعلیم کے بعد لند ن سے واپس آگئے۔ سب بہت خوش تھے۔
”ولید چچا میری ساری سہیلیوں نے میری تصویر کی بہت تعریف کی ہے، آپ بھی دیکھیں ناں!“ سارہ نے ولید چچا کے بازو سے لٹکتے ہوئے کہا۔
”گڑیا کو سب کہتے ہیں یہ کہیں سے میر ی بہن نہیں لگتی، میں بہت ہی پیاری ہوں۔ “سارہ غرور سے بھرے لہجے میں بولی۔
”بھئی! اب ذرا یہ بھی تو پتا چل جائے کہ وہ ’سب ‘ ہیں کون؟ جنھیں دن رات تمھاری تعریف کے سوا کوئی اور کام نہیں؟ “ ولید چچا گڑیا کو پیار کرتے ہوئے ہنس کے بولے۔ جو بڑی بہن کی بات سن کے بجھ سی گئی تھی۔
”میری سہیلیاں اور کون؟ “ سارہ فخر سے بولی۔ ”بلکہ میں تو کبھی کبھی تعریفیں سُن سُن کر تنگ آجاتی ہوں۔ کیوٹ ہونا بھی ایک مصیبت ہے۔“ وہ اِترائی۔
”بھئی واقعی۔ ایسی تعریف تو کسی کام کی نہیں، انھیں کہا کرو، کوئی اور کام بھی کرلیں، تمھاری تعریفوں کے سوا۔“ ولید چچا مسکرا ے۔
٭….٭
”رسالے میںمیری کہانی چھپی ہے۔ امی ابو دیکھیں ناں۔“ سارہ رسالہ لے کے پورے گھر میں دوڑی پھر رہی تھی۔ امی ابو اور گڑیا نے کہانی پڑ ھ کے اس کی تعریف کی۔ مگر سارہ کو تو تعریف کا پورا ٹوکرا درکار تھا۔ جوکہ چھٹی کے دن کہاں سے ملتا؟ برگر کے مکھن میں لپٹی تعریف کے لیے دل مچل رہا تھا۔ مگر کیسے؟ اسے جلے پاو¿ں کی بلی بنے دیکھ کے آخر کار گڑیا ہی نے مشورہ دیا۔
”موبائل سے اپنی کہانی کے ہر صفحے کی تصویر کھینچ کے فیس بک پہ لگا دیں، آ پ کی سہیلیاں دیکھ لیں گی۔ “
”واہ بھئی، شکل تو نہیں مگر عقل مل گئی ہے تمھیں۔“ سارہ اس کے سر پہ چپت لگا کے اندر بھاگ گئی۔ گڑیا پھر اداس ہو گئی۔
ولید چچا کو پتا چلا کہ سارہ کی کہانی چھپی ہے تو وہ سارہ کی حو صلہ افزائی کے لیے اس کے کمرے کی طر ف آئے مگر ٹھٹک کے رُک گئے۔ اندر سارہ فون پہ اپنی کسی دوست سے کہہ رہی تھی۔
”بھئی میں نے فیس بک پہ لگا دی ہے اپنی کہانی کی تصویریں، تمھیں ابھی اسی وقت لائک کرنا ہے اور تبصرہ بھی کرنا ہے۔ نائس، گریٹ، ونڈر فل وغیرہ لکھنا۔ سمجھیں؟ چھٹیوں کے بعد پہلے ہی دن برگر بھی اور پیزا بھی کھلاو¿ں گی۔ “سارہ حکم دینے کے انداز میں کہہ رہی تھی۔
”بھئی پہلے کبھی برگر کھلانے سے انکار کیا ہے جو اب کروں گی؟ ہا ں تو …. سستا بن کبا ب تو اس دن کھلایا تھا ناں جب تم نے صرف ایک ننھا سا لفظ ’گڈ ‘لکھ کے جان چھڑائی تھی۔ جو جتنی زیادہ تعریف کرے گا اُسے اتنا ہی اچھا والا برگر ملے گا۔ اب دماغ مت کھاو¿۔ ابھی مجھے فاریہ، حنا، ثمن اور فاطمہ کو بھی کال کرنی ہے۔ ارے ہاں شزا، غوثیہ اور سونیا کے نمبر ہوں تو دے دو۔“ ولید چچا دبے پاو¿ں واپس پلٹ آئے۔
اگلے دن اُنھوں نے سارہ سے کہانی پڑ ھنے کو مانگی تو سارہ برگر کے بدلے خریدی تعریفوں کے سُرور میں تھی۔ اِترا کے بولی۔
”چچا، یقین کریں، میری سہیلیاں تو دیوانی ہو گئی ہیں میری کہانی پڑ ھ کے۔ فیس بک پہ 74 لائک آگئے ہیں اور تبصرے کوئی 61۔ “
”ہوں …. 74 لائک اور 61 تبصرے ….اور بر گر کتنے ؟“ ولید چچا نے سنجیدگی سے پوچھا۔
”جی ؟ کیا مطلب؟ “سارہ بوکھلا کے بولی۔
”مطلب کچھ نہیں، میںریاضی میں ماسٹرز کر کے آیا ہوں، بس ہر بات میں حساب کتاب سوجھتا ہے۔“ ولید چچا نے بات کاٹی۔
”میاں، یہ دنیا حساب کتاب پہ ہی قائم ہے اور حساب کا دن ہی اس کا اختتام ہے۔“ ابو اخبار اُٹھا کر مسکراتے ہوئے چھوٹے بھائی کے پاس آ بیٹھے۔
”بھائی جان اچھا ہوا آپ آ گئے، میں آ پ کو کیسا لگ رہا ہوں آج؟“ ولید چچا نے آج اپنا ایک بہت گھِسا ہوا سفید کر تا شلوار اور پیروں میں ربڑ کی نیلی چپل پہن رکھی تھی، بال بھی بکھرے ہوئے تھے۔
ابو حیران ہو کے ولید چچا کو سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے بولے۔ ”کافی فارغ لگ رہے ہو ۔“ ابو ہنسے۔
”اگر میں آ پ کو آ پ کی پسندیدہ چیز کھلاو¿ں تب بھی آپ یہی کہیں گے؟“ ولید چچا ٹیڑھی نظروں سے سارہ کو دیکھتے ہوئے بولے۔
”بھئی ہم تو سچ کہیں گے، فضول لگ رہے ہو۔ چاہے کچھ بھی کھلا دو۔“ ابومسکراے۔
”میں ابھی آتی ہوں۔“ سارہ اپنے اوپر سے توجہ ہٹتی دیکھ کے بیزاری سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
”نہیں تم بیٹھو، میں تمھیں تمھارے ابو کے سامنے بتانا چاہتا ہوں کہ تمھاری کہانی مجھے کیسی لگی ؟“
ولید چچا نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
سارہ خوش ہوکے واپس پلٹ آئی۔ ”کیسی لگی؟ “
”سچ تو یہ ہے کہ بالکل ہی فضول لگی۔ فرج میں رکھے کسی کھانے کی طر ح باسی موضوع۔ اُردو کی اتنی غلطیاں جو تمھارے اسکول کے سارے بچے مل کے بھی اُردو کے پر چے میں نہ کر پائیں۔ تم نے لکھا ہے، ’امی ابو گیا، ابو اور دادا چیخا، ابو کہتے ہوئے بولے۔ ‘یہ کیسا طریقہ ہے لکھنے کا؟ تمھیں تومذ کر مونث اور واحد جمع کا فرق ہی نہیں معلوم۔ پہلے تو تم بنیادی اُردو سیکھو تب کہانی لکھنے کے بارے میں سوچنا۔ آخر میں گَلے ہوئے کیلے کی طرح کہانی کا انجام بے حد سڑا گَلا۔“
ولید چچا کے جملے سن کے سارہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ ابو بھی حیران ہو کے اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھ رہے تھے۔
” ولید! بچی کی حو صلہ افزائی کا یہ کون سا انداز ہے؟“ ابو سارہ کا سُرخ چہرہ دیکھ کے غصے سے بولے۔
”بھئی معا ف کیجیے گا، بچی نے مجھے تو کوئی برگر، پیزا یا بن کباب نہیں کھلایا۔ اس لیے فی الحال میں یہی راے دے سکتا ہوں۔“ ولید چچا نے کندھے اُچکاے۔ سارہ کا چہرہ غصے سے سر خ تھا۔
”ویسے بھی اسے لاکھوں لائک اور کروڑوں تبصرے مل رہے ہیں۔ بس صدر ِ مملکت کی طرف سے تعریف کے کلمات آنا باقی ہےں۔ شاید چین سے بھی کوئی پیغام موصول ہو جائے، آخر ہمارا دوست ملک ہے۔ مصیبت میں کام آنے والا دوست۔“ ولید چچا مزے سے بولے۔
”ولید! تم بچی کے جذبات کو بری طرح مجروح کر رہے ہو۔ یہ بہت بری بات ہے۔“ ابو نے ہونٹ بھینچے۔
”معافی چاہتا ہوں بھائی جان لیکن اگر اس کی غلطیاں ہم نہیں بتا ئیں گے تو کون بتائے گا؟ اور پھر اسے اچھی کہانی لکھنا کیسے آئے گی؟“ ولید چچا سنبھل کے بولے۔ اتنے میں سارہ پیر پٹختی ہوئی وہاں سے جا چکی تھی۔
”تم نے اس کا دل توڑا ہے۔ بچی ہے۔ ابھی لکھنا سیکھ رہی ہے۔“ ابو کافی غصے میں تھے۔
”دیکھیے! اگر سارہ اپنی شائع شدہ کہانی لا کے مجھے دکھاتی تو میں ضرور اس کی تعریف کرتا، خواہ مجھے اپنے کھاتے میں کتنا ہی جھوٹ کیوں نہ لکھوانا پڑتا۔ مگر مسئلہ کچھ اور ہے۔ سارہ تعریف کی بھوکی ہے اور اپنے دوستوں کو برگر، پیزا کی رشوت دے دے کے خوشامد اور جھوٹی تعریفیں کرواتی ہے۔ میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے۔ فون پر اچھے تبصرے کے وعدے پہ اچھے بر گر کا وعدہ ہو رہا تھا۔ “ولید چچا کہتے چلے گئے۔
”کیا کہہ رہے ہو ؟ “ابو حیران ہو گئے۔
”سارہ خود پسندی، غرور اور سستی خوشامد کی عادی ہو رہی ہے۔ آ پ کی ہی نہیں میری بھی بیٹی جیسی ہے اور وہ میری بھتیجی ہے۔ مجھے اس سے محبت ہے۔ اسی لیے اسے اس نفسیاتی مسئلے سے نجات دلانا چاہتا ہوں۔ “ولید چچا انتہائی سنجیدہ ہوگئے۔
”سچ کہتے ہو، میں نے کبھی کبھی محسوس کیا ہے کہ وہ گڑیا کی دبتی ہوئی رنگت پہ اکثر چوٹ کرتی ہے۔ اپنی سہیلیوں پہ رکھ رکھ کے اپنی تعریف کرتی ہے۔ کہ فلاں سہیلی کہہ رہی تھی تمھارا رنگ اتنا گورا ہے کہ ہر رنگ اچھا لگتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ مسئلہ تو تم نے صحیح پکڑا ہے۔ “
ابو سوچتے ہوئے بولے۔
”میرا ضمنی مضمون نفسیات رہا ہے بھائی جان۔“ ولید چچا مسکراے۔
” واہ بھائی، ضمنی مضمون سے اپنی بھتیجی کا مسئلہ جان لیا تو اس کا حل بھی نکالو۔ “ ابو بھی مسکرا ے۔
”مسئلے کا حل میرے بنیادی مضمون سے نکالا جائے گا۔ یعنی حساب سے۔ “ولید چچا ہنس کے بو لے۔
”کیا مطلب؟ “ ابو حیران ہو گئے۔
”مطلب سید ھا سا ہے۔ جتنی وہ اپنے لیے خوشامد ی تعریف خریدے اتنی ہی ا س پہ تنقید کی جائے تاکہ حساب برابر آئے اور اس کو پتا چل سکے کہ دنیا کا کوئی بھی انسان مکمل نہیں کہ ہر وقت اس کی تعر یفیں ہی ہوتی رہیں۔ اللہ نے بھی تو مشکل کے ساتھ آسانی رکھی ہے، اندھیرے سے اُجالے کو جوڑ دیا۔ اسی طر ح انسان کو بھی تعریف اور تنقید دونوں کا سامنا کر نے کا حو صلہ رکھنا چاہیے۔“ ولید چچا مسکراے۔
”یعنی اس کے غرور اور خوشامد پسندی کی عادت کا توڑ کرنے کے لیے اس پہ تنقید کی جائے۔ “ ابو گھبرا کے بولے۔
”ہر گز نہیں، میری بچی اتنی پیاری ہے۔ اتنی اچھی۔ ہمیں کیا ضرورت ہے اس کی بُرائی کرنے کی؟ “
امی کمرے میں داخل ہو تے ہوئے قدرے ناراض لہجے میں بولیں۔
”اور وہ آٹے کی پرات میں پھینکا ہو اقلم بھابی ؟“
ولید چچا نے وہ واقعہ یاد دلایا، جو امی خود بھول چکی تھیں۔
”وہ اس دن، بس ذرا کسی اور بات پہ غصے میں تھی۔ ورنہ تو ایسی نہیں ہے۔ وہ دل کی بہت اچھی ہے۔ “امی نے صفائی پیش کی۔
”دل اچھا ہونے کا فائدہ ہی کیاجب انسان زبان سے دوسروں کو تکلیف دیتا پھرے؟ اچھا دل اللہ نے کیا فرج میں رکھنے کو دیا ہے ؟“
ولید چچا نے سنجیدگی سے کہا۔
”کچھ بھی ہو، میں اپنی بچی کی برائی نہیں کروں گی۔“ امی نے صا ف انکار کر دیا۔
”یہ تو مسئلہ ہو گیا، چلیں اپنی سارہ کی خاطر ہم ہی بُرے بن جاتے ہیں۔“ ولید چچا نے لمبی آہ بھری۔
ابو نے ولید چچا کے کندھے پہ تھپکی دے کے کہا۔ ”تم ہمار ی بچی کے لیے کبھی برا نہیں سوچ سکتے، ہمیں تم پہ بھروسہ ہے۔ آخرتم اس کے چچا ہو۔“ ابو اخبار لپیٹ کے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر ولید چچاسوچ میں ڈوب گئے۔
٭….٭
کرنا خدا کا یہ ہوا کہ جلد ہی ولید چچا کو اپنی سارہ کو سدھارنے کے منصوبے پہ عمل کا موقع مل گیا۔ نانی کی بیماری کی خبر سن کے امی کے ہاتھ پاو¿ں پھول گئے۔ سارہ کے اسکول میں ماہانہ ٹیسٹ چل رہے تھے، اس لیے اس کا رکنا ضروری تھا۔ یوں سارہ کو ولید چچا کی نگرانی میں چھوڑ کے امی ابو گڑیا اور ببلوکے ساتھ اسلام آباد چلے گئے۔ اسی دن سارہ کی نئی کہانی ’ماہنامہ کلیاں‘ میں چھپی۔ سارہ فون لیے بھاگی بھاگی اِدھر اُدھر پھر رہی تھی۔ اس کی نئی کہانی پہ اس کی خوشامدی سہیلیوں نے تبصرے لکھے تھے، اب وہ کسی رشتے دار کا تبصرہ چاہ رہی تھی۔ اپنی مامی کو فون ملایا اور کہنے لگی۔
”مامی آپ نے کتنے دن سے کال نہیں کی؟ خیریت پوچھنے کو فون کیا ہے۔ اور ہاں میری کہانی چھپی ہے ’کلیاں‘ میں۔ اس کی تعریف تو کر دیں ذرا۔ کیا؟ شہیر بیمار ہے؟ اچھا۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ دومنٹ لگتے ہیں فون پہ فیس بک لگا پہ جاکر کمنٹ کرنے میں۔“ اس نے فون پٹخ دیا اور اگلا نمبر ملایا۔
”رومانہ خالہ، پلیز میری کہانی پہ کمنٹ …. ہاں ہاں مجھے پتا ہے نانی کی طبیعت خراب ہے مگر خالہ ایک کمنٹ کرنے میں کیا جاتا ہے ؟“
مایوس ہو کے اس نے چچی کا نمبر ملایا۔
”رخسانہ چچی، پلیز میری اتنی اچھی کہانی پہ کمنٹ کر دیں، نہیں آتا تو اپنے بیٹے سے کرالیں پلیز۔“
”حد ہوگئی۔ پوری دنیا لمبی لیٹ گئی، میر ی کہانی لائک کرنے سے پہلے۔“ سارہ نے فو ن بستر پہ پھینکا۔ نگاہ سامنے گئی تو کمرے کے دروازے پہ ولید چچا کھڑے مسکرا رہے تھے۔
”ولید چچا! دیکھیں ناں۔ ’کلیاں‘ میں میری نئی کہانی چھپی ہے۔ صرف اٹھارہ لائک آئے ہیں اور چار کمنٹ۔ اس سے کیا ہوتا ہے؟“ سارہ منھ لٹکا کے بولی۔
”ارے واہ۔ دوسری کہانی چھپ گئی۔ بھئی بہت اچھے۔ کہاں ہے؟ دکھائیے رسالہ۔“ ولید چچا نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔
”جہاں میرا موبائل رکھا ہے وہیں پڑا ہے رسالہ۔“ سارہ منھ بگاڑ کے بولی۔
”کیا کہا؟ رسالہ ’پڑا‘ ہے؟ حد ہوگئی۔“ ولید چچا ایک دم برہم ہوگئے۔
”ایک ہی بات ہے۔“ سارہ ڈھٹائی سے بولی۔
”نہیں۔ ایک بات نہیں ہے سارہ۔ تم نے کہا، جہاں میرا موبائل رکھا ہے، وہیں رسالہ پڑا ہے۔ موبائل کے لیے لفظ ’رکھا‘ اور رسالے کے لیے ’پڑا‘؟ تم چیزوں کو زیادہ اہم سمجھتی ہو اور لکھے ہوئے الفاظ کو کم۔ کتاب اور رسالے کے لیے ہمیشہ تمیز اور ادب سے ’رکھاہے ‘ کہا جانا چاہیے۔ جو لکھے ہوئے لفظ کا ادب نہ کر پائے وہ کیا خاک اچھا لکھیں گی؟ “ولید چچا ایک ہی سانس میں کہتے چلے گئے۔
”چچا! سب آپ کی طرح بال میں کھال لگانے والے تو نہیں ہوتے۔“ سارہ بے زاری سے بولی۔
ولید چچا کی آنکھیں غصے سے اُبل آئیں۔ ”بال میں کھال لگانے والے؟ یہ کون سا محاورہ ہے؟ میں پانچ سال لند ن میں پڑھ کے آگیا۔ ایک دن بھی اُردو مجھ سے الگ نہیں ہوئی۔ روز رات کو آن لائن کسی اُردو کتاب کا ایک صفحہ پڑھتا تھا کہ کہیں اُردو بھول نہ جاو¿ں۔ تم ہو کہ پاکستا ن میں رہ کے اتنی خراب اُردو ۔ اس پہ لکھاری ہونے کا دعویٰ؟ بہت خوب ہے۔“
انھوں نے خشمگیں نگاہوں سے سارہ کو گھورتے ہوئے رسالہ اٹھا لیا اور اس پہ نگاہیں دوڑانے لگے۔
”ہوں….یہ کیا بات ہوئی؟ ڈاکٹر نے بہت سی فیس مانگی اور پتا چلا حادثے میں زخمی ہونے والا اپنا ہی بیٹا تھا۔ میری بچی۔ یہ کہانی اشاعت کے پانچ ہزار چکر پہلے ہی مکمل کر چکی ہے۔ اتنی گھسی ہوئی ہے کہ اب مزید نہیں چل سکتی۔“ ولید چچا نے مایوسی سے سر ہلا کے رسالہ سارہ کو تھما دیا۔
”چچا! ایک ہی موضوع پہ کئی کئی لوگ لکھتے ہیں، یہ کوئی انوکھی بات تو نہیں۔ میری سہیلیاں تو کہتی ہیں۔ ۔۔“ سارہ کا جملہ کاٹ کے ولید چچا بول اُٹھے۔
”اپنی سہیلیوں کے ارشادات مجھے سنانے سے گریز کیجیے۔ برگر اندر جاتا ہے اور تعریف باہر آتی ہے۔ گویا آو¿ میں اور تم، میرے بارے میں بات کریں، واہ بیٹا۔ لیکن جان لو کہ جتنا خود کو پسند کرتی جاو¿ گی اتنا لوگوں کی نظر میں نا پسندیدہ بنتی جاو¿گی۔“ ولید چچا طنزیہ لہجے میں بولے۔
”اچھا تو یہ مامی، خالائیں، پھپھو سب میری جو تعریفیں کرتی ہیں، وہ تو بر گر کھا کے نہیں کر تیں ناں؟“ سارہ نے جلدی سے کہا۔
”یہ سب ہمارے خاندان کی بہت ہی نفیس اور سلجھی ہوئی خواتین ہیں جو اپنا بڑا پن رکھنے کو آپ کی پرزور فرمائش پہ فیس بک پر تعریفی تبصرے لکھ دیتی ہیں۔ چاہے ان کے بچے بیمار ہوں یا گھر پہ کوئی آفت ٹوٹی ہو۔ جس د ن آپ کی کہانی چھپے، آپ فون کرکے تعریف کا ٹیکس ضرور وصول کرتی ہیں بلکہ تعریف کا بھتہ وصولی۔“ ولید چچا نے ہونٹ بھینچے۔
”چچا! آپ ہمیشہ میری برائی کیوں کرتے ہیں؟ میری پیاری پیاری تصویریں ہوں یا اچھی اچھی کہانیاں۔ بس تنقید کریں گے۔ ورنہ امی ابو گڑیا سے لے کے سارا خاندان، محلے دار اور اسکول کی سہیلیاں سب میری تعریفیں کرتے ہیں۔“ سارہ بگڑ کے بولی۔
”سب تعریفیں؟ وہ تو صرف ایک ہی ذات کے لیے ہیں سارہ۔ اللہ کے لیے۔ کبھی قرآن کھول کے اس کا پہلا جملہ پڑھو۔“
یک دم ولید چچا اُٹھ کے کھڑے ہوئے اور بھرپور سنجیدگی سے کہا۔ سارہ کو جھٹکا سالگا۔
”تم اپنے آپ کو زبر دستی پسند کرانا چھوڑ دو۔ لوگ خود ہی تم کو تمھاری کسی نہ کسی اچھی عادت کی وجہ سے پسند کرنے لگیں گے۔“ ولید چچا نرمی سے کہتے ہوئے سارہ کے کندھے پہ تھپکی دے کے باہر چلے گئے۔
سارہ حیرا ن پر یشان کھڑی رہ گئی۔
٭….٭
”یہ سارہ بھی ناں! تعریف کی بھوکی ہے۔ اب کوئی کہاں تک جھوٹ بولے؟ آج کے سارے جھوٹ میں پہلے ہی بول چکی ہوں۔ اب اگر وہ اِدھر آئے، توتم کوئی جھوٹی تعریف کر دینا۔“ سجیلہ سر پکڑکے بولی۔
”وہ تعریف کی بھوکی اور تم لوگ برگر کے۔ “ شازیہ جل کے بولی۔
”میں تو باز آئی۔ اتنے بر گروںسے ہمارے پیٹ میں درد ہوتا ہے اور اس کے دماغ میں۔ جانے خود کو کیا سمجھنے لگی ہے۔ “ فاریہ منھ بنا کے بولی۔
”صبح اس کی بکواس کہانی کی تعریف کی تھی ناں تم نے۔ مجھے بر یانی بھی دے تو میں ایسی گھٹیا کہانی کی تعریف نہ کروں۔ “ ماہم ہنسی۔
ستون کے پیچھے کھڑی سارہ پہ گویا قیامت گزر رہی تھی۔ وہ بھاگتی ہوئی اپنے کلاس روم میں چلی گئی۔
٭….٭
گھر پہنچی تو امی ابو اور گڑیا گھر واپس آچکے تھے۔ وہ گویا اپنا غم بھول گئی۔ ایسے میںرخسانہ چچی اور فاروق چچا امی ابو سے ملنے آئے تو حسب ِ معمول توتے نے ان کا استقبال کرتے ہوئے لہک کر کہا۔
”میاں مٹھو ہوں، سب سے اچھا ہوں۔“
رُخسانہ چچی سامنے کھڑی سارہ کو دیکھتے ہوئے ہنس کے معنی خیز لہجے میں بولیں۔
”ایک گھر میں ایک کافی نہیں؟ سارہ، بھئی اس کو تو آزاد ہی کردو۔ “ وہ ہنس کے اندر چلی گئیں لیکن سارہ ان کا اشارہ سمجھ کے زمین میں گڑ گئی۔
اس نے آگے بڑھ کے پنجرہ کھولا اور میاں مٹھو کو مٹھی میں دبو چ کے بولی۔
”ہر وقت اپنے منھ میاں مٹھو بننا کوئی اچھی عادت نہیں، سمجھے۔ جاو¿، ایک نئی زندگی جینا شروع کرو۔“ اس نے توتے کو فضاو¿ں میں اُچھا ل دیا اور دیر تک اُسے اُڑتا دیکھتی رہی۔ دور کھڑے ولید چچا سارہ کو دیکھ رہے تھے۔ اُنھوں نے سارہ کے قریب آکے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
دونوں چچا بھتیجی ایک دوسرے کو دیکھ کے مسکرا دیے ۔
٭….٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>