کتابوں کی دنیا

ضیاءاللہ محسن

سوالوں کی دنیا، جوابوں کی دنیا
زمانے میں بکھرے حسابوں کی دنیا
یہ تفریح ِجاں ،یہ نصابوں کی دنیا
بڑی دل نشیں ہے کتابوں کی دنیا
شعور آگہی ،علم ،افکار ان میں
وطن کی محبت کا اقرار ان میں
ترقی کے پوشیدہ آثار ان میں
حقیقت کی دنیا ،یہ خوابوں کی دنیا
بڑی دل نشیں ہے کتابوں کی دنیا
بڑھائے یہ انسان کے حوصلے کو
جگائے یہ جذبے کو او ر ولولے کو
معطر کرے روح کے سلسلے کو
یہ رنگوں ،بہاروں ،گلابوں کی دنیا
بڑی دل نشیں ہے کتابوں کی دنیا
کتابوں کی خوشبو جو آتی رہے گی
مری روح میں یہ سماتی رہے گی
خرد اپنی معراج پاتی رہے گی
حقیقت میں بدلے سرابوں کی دنیا
بڑی دل نشیں ہے کتابوں کی دنیا
کوئی چیز ہم سے چھپاتی نہیں ہے
کتابوں سے اُلفت تو جاتی نہیں ہے
مگر میرے دل کو جو بھاتی نہیں ہے
شرابوں ،کبابوں ،نوابوں کی دنیا
فقط دل نشیں ہے کتابوں کی دنیا

//]]>