کہانی ایک سفر کی

محمد فیصل شہزاد

! مون ریسٹورنٹ اور خیمے کی بلا
چاے ختم ہوئی تو ہم بیگ تھامے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اجتماعی پیسوں سے بل ادا کیا گیا جو واہ کینٹ سے نکلتے ہی ایک تھیلی میں جمع کر کے ’بسم اللہ من کنز اللہ ‘پڑھتے ہوئے تصور سمیع کے پاس رکھوا دیے گئے تھے۔
دھوپ کے رخصت ہوتے ہی کہیں بلندیوں سے ایک چنچل شام وادی میں دبے قدموں اُتری۔ گہرا کاجل لگا کر اس نے اپنی چوٹی کھول دی اور فضا میں سرمئی زلفیں بکھر گئیں…. اندھیرا تیزی سے چھانے لگا…. شاید پہاڑی علاقوں میں، میدانی علاقوں کی نسبت بہت تیزی سے دن رات میں ڈھل جاتا ہے…. یکایک ایسا لگا…. جیسے اندھیرا آیا نہ ہو، جھپٹا ہو۔
اچانک فضا اللہ کی کبریائی کے اعلانات سے گونج اُٹھی۔ ہم تیز قدمی سے جامع مسجد کی طرف چل پڑے۔ بمشکل دو منٹ بعد ہم مسجد کے دروازے سے اندر داخل ہو رہے تھے۔ وسیع و عریض مسجد میں تعمیراتی کام چل رہا تھا۔ وضو ہم سب کا ہی برقرار تھا۔تازہ وضو بنانے کی ہمت اس لیے نہیں تھی کہ وضو خانے کی ٹونٹی میں سے بھی دریاے کنہار ہی بہہ رہا تھا جس کی قاتل ٹھنڈک…. عصر سے اب تک ہمارے ہاتھ پیر اکڑاے ہوئے تھی اور پھر ایک وضو خانہ ہی کیا، کنہار تو یہاں ہر جگہ تھا۔
ہم مسجد کے اندرونی ہال میں داخل ہوئے۔ دبیز سرخ قالین وال ٹو وال بچھے ہوئے تھے۔ زیبایش وآرایش کے تمام ممکن سامان مسجد کی خوب صورتی کو بڑھا رہے تھے۔ ہم پہلی صف میں جا بیٹھے۔ اذان ہو گئی تھی مگر جماعت میں دو تین منٹ کا وقفہ تھا۔
یونہی اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے ہماری نگاہ منبر کے برابر دیوار میں لگے ایک چارٹ پر آکے ٹھہر گئی۔ اس پر سال بہ سال مسجد کو ملنے والے چندے اور اخراجات کی تفصیل لکھی گئی تھی۔ آمدنی و اخراجات کے اعداد و شمار دیکھ کر حیرت کا جھٹکا لگا۔ ایسا گوشوارہ اس سے قبل، کسی مسجد میں نہیں دیکھا۔ یوں تو خرچ بھی بہت وسعت سے ظاہر کیا گیا تھا….تعمیر میں، ائمہ کے وظائف میں مگر پھر بھی آمد ماشا اللہ اتنی تھی کہ گوشوارے کے مطابق لاکھوں روپے خزانچی کے پاس اس وقت بھی موجود تھے۔
مغرب کی نماز پڑھ کر ہم کسی اچھی طعام گاہ کی تلاش میں نکلے ۔یوں تو طعام گاہیں یہاں قدم قدم پر تھیں مگر ہمارے قدم کہیں رُکتے ہی نہ تھے۔ آخر اچانک چاند ہمارے سامنے آ گیااور اس نے بڑھ کر ہمارے پیر پکڑ لیے۔ ارے بھئی! وہ آسمان والا چاند نہیں بلکہ ناران کا’مون ریسٹورنٹ‘۔گرچہ یہاں بہت زیادہ بھیڑ تھی جس سے ہمارا تو دل گھبرا رہا تھامگر شایداسی وجہ سے بلال پاشا کا اصرار ہوا کہ یہاں کھانا کھایا جائے۔ اُس کی بات کو تو خیر ہم ٹال دیتے مگر تب تک سرخ انگاروں پر دھری کڑاہیوں سے اُٹھتی بھنے گوشت کی اشتہا انگیز خوشبو نے ہمیں اپنا اسیر کر لیا تھا، اُس نے ہماری انگلی پکڑی اور کشاں کشاں اندر لے گئی…. ایک مناسب جگہ دیکھ کر ہم بیٹھ گئے اور کھانے کے لیے آرڈر کیا۔ آس پاس کچھ ’فیملیز‘ تھیں۔ اماں ابا اور بچے بلکہ گھر کے بڑے بوڑھے بھی تھے۔ ہم ان پھول سے بچوں کو دیکھنے لگے جو وہاں اُچھلتے کودتے، ہنستے ہنساتے تھے۔
کھانا توقع کے خلاف بہت جلد آگیا جو سچی بات ہے کہ واقعی بہت ذائقے دار تھا۔ ماش کی بھنی دال اور مٹن کڑاہی ۔کھانا اتنا تھا کہ ہم تینوں نے خوب سیر ہو کر کھایا، تب بھی اچھا خاصا بچ گیا۔ ہم نے ضائع کرنے کے بجاے خیمے والے بھائیوں کے لیے پیک کروا لیااور بل ادا کر کے اُٹھ گئے ۔ خیمے کے پاس پہنچ کر پہلے دریا کے یخ پانی سے وضو کر کے اوّل نماز عشا ادا کی، پھر خیمے میں گھس گئے۔
خیمے والے بھائی نے وعدے کے مطابق دو بستر والے خیمے میں تین بستر لگا دیے تھے، جن پر دو رضائیاں ایک کمبل بھی تہ ہوئے رکھے تھے۔ اندر گھستے ہی سب سے کونے والے بستر کے لیے دونوں ’بچے‘ لڑنے لگے۔ شاید اُن کا خیال تھا کہ خیمے میں داخل ہونے والی جگہ سے رات میں دریا سے کوئی بلا آ جائے گی، جو اس جگہ پر لیٹنے والے کو تو لے جائے گی، آگے والوں کو چھوڑ جائے گی۔
کونے والے بستر کے ساتھ ساتھ، دوسری بچکانہ لڑائی سب سے اچھی اور نئی رضائی کے لیے بھی ہو رہی تھی۔ ہم خاموشی سے مسکراتے ہوئے اُن کا جھگڑا دیکھ رہے تھے۔ کم بخت اپنے بڑے کو بھول کر اچھے بستر اور اچھی رضائی کے لیے مرے جا رہے تھے…. جب کسی طرح کوئی پیچھے ہٹتا دکھائی نہ دیا تو ہم نے فیصلہ سنا دیا کہ جو کونے والے بستر پر لیٹے گا، اسے اچھی رضائی سے ہاتھ دھونے پڑیں گے…. یوں تصور نے بَلاسے بچنے کے لیے رضائی کی قربانی دے دی…. بلال درمیان میں دوسرے نمبر پر جو زیادہ صاف رضائی تھی، وہ لے کر دراز ہو گیا اور ہمارے حصے میں خیمے میں داخل ہونے والی جگہ، ڈھیلا بستر اور میلا کمبل….
خیر کیا کرتے بچوں کے لیے قربانی تو بڑوں کو دینی ہی پڑتی ہے ،سو چپ کر کے لیٹ گئے…. البتہ میلے کمبل سے پہلے اوپر اپنی چادر لینا نہ بھولے تھے۔ منھ پر چادر ڈالی اور پلکوں سے انکھیوں کے جھروکے بند کر لیے۔
چند فرلانگ دور دریاے کنہار کے بہاو¿ کی ہلکی ہلکی جلترنگ ہماری سماعت سے کسی لوری کی طرح ٹکرا رہی تھی۔ دن بھر کی تھکن بھی بے پناہ تھی، سو جلد ہی ہم نیند کی گہری وادیوں میں اُتر گئے تھے۔
پھر بمشکل چند گھڑیاں ہی گزری تھیں کہ اچانک بہت سی آوازوں سے آنکھ کھل گئی ۔دیکھا تو ہلکی ہلکی سی روشنی ہو رہی تھی۔
”ہیں یہ کیا!….یہ روشنی کیسی ہے؟“
نیند سے بھرے دماغ میں حیرت ابھری…. کروٹ بدل کر دیکھا تو ہمارے برابر میں سویا بلال غائب تھا۔
”کک…. کہیں ہمارا جسم پھلانگ کر تو نہیں اُسے بلا اُچک کر لے گئی؟“
ہم نے بے اختیار کہا…. پھر غنودگی کے عالم میں بھی کچھ دور بے خبر سوئے تصور کو شرارتی نظروں سے دیکھ کر زیرلب کہا: ”بڑی منصف مزاج بلا تھی ویسے…. درمیان سے ظالم سماج کو ہی اُٹھا لے گئی!“
آنکھوں سے نیند کچھ کچھ تو معلوم ہوا ،صبح ہو چکی ہے۔
”اُف اتنی جلدی ….مگر یہ بلال بدبخت اکیلا کہاں چلا گیا ہے صبح صبح؟“
اب ہمیں اس کی فکر دامن گیر ہوئی۔ کیوں کہ اس کا بیگ کھلا ہوا تھا اور کیمرہ بھی غائب تھا۔
گرم بستر سے نکلنے کو ذرا بھی دل نہیں چاہتا تھا مگراس کے والد صاحب جناب عصمت پاشا صاحب مرحوم کا چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرا گیا۔ اُنھوں نے بچے کو بڑی مان سے ہماری تحویل میں دیا تھا اور وہ بچہ تھا کہ ہاتھوں سے نکلے جا رہا تھا!
زیرلب بدبداتے ہوئے ہم نے بستر چھوڑا ۔چادر اچھی طرح لپیٹی اور کپکپاتے ہوئے خیمے سے باہر نکل آئے۔ باہر تو جیسے دن نکلا ہوا ہو…. جب کہ ابھی سات ہی بجے تھے۔ ہمیں لگا کہ بس ہم ہی سو رہے تھے…. ہمارے آس پاس کی ہر شے پورے حواس کے ساتھ جاگ رہی تھی۔
برابر والے خیمے کے ایک انکل گیس کے چولھے پر ایک بڑے پیالے کو ذرا ترچھا کر کے اس میں تیزی سے چمچ چلا رہے تھے…. نظر جما کر دیکھا تو چمچ کے ساتھ زردلیس دار سیال تیزی سے گردش کرتا نظر آیا۔
”اچھا تو انکل جی آملیٹ کے لیے انڈے میں پیاز، ہری مرچ ڈال کر پھینٹ رہے ہیں….“
اُنھوں نے آملیٹ کے اجزا کو تیزی سے گھماتے ہوئے بڑے اسٹائل سے اچانک گرما گرم گھی میں ڈالا تو شرررر کی اشتہا انگیز آواز اور خوشبو ایک ساتھ ہمارے کان و ناک کے راستے دل و دماغ کو زیر وزبر کر گئیں…. حواس کے ساتھ سوئی ہوئی بھوک بھی پوری شدت کے ساتھ جاگ گئی تھی۔
ہم نے نظریں چرالیں کہ مبادا صاحب کے آملیٹ کو نظر لگ جائے اور اِدھر اُدھر نگاہیں دوڑائیں تو سب ہی نظر آئے، ایک بلال پاشا ہی کہیں نظر نہ آیا۔
واپس پلٹ کر خیمے میں داخل ہوئے اور تصور کو جھنجھوڑ کر اٹھایا ۔اگلے دس منٹ بعد جب ہم دونوں ضروریات سے فارغ ہو کر پوری طرح تیار کھڑے تھے اور ہماری فکر، تشویش کی سرحد میں داخل ہونے کو تھی کہ بلال صاحب اچانک ہی تشریف لے آئے۔
ہم دونوں حیرت سے اسے دیکھنے لگے…. پورا جیمز بانڈ بنا ہوا تھا ۔ٹراو¿زر، شرٹ، جیکٹ اور کیپ کے ساتھ کاندھے سے کیمرہ لٹکائے وہ اب واقعی سیاح نظر آ رہا تھا۔
ہم نے اس سے تفصیل جاننے کے چکر میں وہاں کھڑے ہو کر وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اسے سخت سنانے کا کارِخیر، چلتے چلتے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک تو بھوک بھی اب زوروں پر تھی اور وقت بھی ہمارے پاس کم تھا۔ ناشتے کے فورا ًبعد ہمیں کسی اچھی سی جیپ کا بھی بندوبست کرنا تھا ۔
تیزی سے چلتے ہوئے، ہماری زبانیں بھی تیزی سے چل رہی تھیں جب کہ ہماری نگاہیں ناشتے کے لیے کسی اچھے مگر باکفایت ہوٹل کو تاک رہی تھیں۔ کچھ ہی دور چلے تھے کہ لبِ سڑک قائم وہ ہوٹل گویا منھ سڑک پر اور پیٹ دریا میں رکھے ہوئے تھا…. شوریدہ سرجھاگ اُڑاتی لہریں ہوٹل کی کمر سے اس ادا سے ٹکراتی تھیں کہ ناظرین کے دل و دماغ جھنجھنا اٹھیں۔
ہوٹل کے اس خوب صورت مقام کو چھوڑ کر آگے بھلا کیسے بڑھا جا سکتا تھا۔ سو ہم نے ہوٹل کے لبوں پر قدم رکھا اور اس کی لمبی سڈول گردن اور سینہ عبور کرتے ہوئے کمر پر آ سوار ہوئے۔ یہاں سے آگے بس پانی تھا۔
صبح کا وقت اور یہ روح پرور منظر!
روح کا ناشتہ تو اسی منظر سے ہو گیا ،گستاخ پیٹ البتہ انڈا پراٹھا ہی طلب کرتا تھا، سو آرڈر دیا اور دریا کے گویا سینے پر بیٹھ کر مونگ دلنے لگے…. یعنی ٹکا ٹک تصویریں اُتارنے لگے!
بے حد خوشگوار ماحول نے موڈ بھی بہت خوشگوار کر دیا تھا۔ ایک لمبی اور گہری نیند کے بعد تازگی بھری ایسی صبح قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے۔
ہم اپنی قسمت پر نازاں خوش گپیاں کر رہے تھے اور…. کچھ فاصلے پر ہی ناشتہ بنانے والا بھائی، ہمارے واسطے ایک پیالے میں زردی اور سفیدی کو تیزی سے چمچ چلاتے یکجاں کر رہا تھا….
٭
آسمان پہ جاتا اک رستہ گھمن گھمیری سا!
مجموعی اعتبار سے ناشتہ کچھ خاص نہیں، بس اوسط درجے کا ہی تھا…. وہی پاکستان بھرکا عام رواجی ناشتہ…. انڈہ پراٹھے اور چاے…. جوعین اس وقت بھی پورے پاکستان میں لاکھوں بلکہ کروڑوں نفر نوشِ جاں کر رہے ہوں گے، بات مگر بس وہی ہے جو پہلے بھی کئی بار عرض کی کہ معمولی اشیا بھی کبھی کسی خاص نسبت کی وجہ سے خاص ہو جایا کرتی ہیں، سو ہماری یادداشت میں بھی وہ عام سا ناشتہ، مقام کی نسبت کی وجہ سے نقش ہوکر رہ گیا….
ناشتہ ختم ہوا ،بل ادا کیا اور ہم بازار کی طرف چل پڑے۔ اب ہمیں ایک اچھی سی جیپ کی تلاش تھی جو ہمیں ملکہ¿ پربت کی راجدھانی میں لے جائے ۔سچی بات یہ ہے کہ وادی ¿ناران میں آنے سے ہمارا مطلوب دراصل یہی سفر تھا جو ابھی ہم شروع کرنے والے تھے۔
ہمیں معلوم تھا کہ وہاں سواری پر جانے کے تین طریقے ہیں ….یا تو اپنی گاڑی ہو، جو تھی نہیں یا پھر پوری جیپ کرایے پر لی جائے یا پھر ایسی جیپ میں بیٹھا جائے جو فی فرد کرایہ لے کر اوپر لے جاتی ہے۔ اس وقت تک تو ہمارا ارادہ پرائیوٹ کی بجاے پبلک گاڑی میں سفر کرنے کا ہی تھا مگر اچانک ایک جیپ برابر میں آ کر رکی جس میں سے ایک مقامی نوجوان کا چہرہ نمودار ہوا۔
”اوپر جائے گا نا….!؟“
”ہاں جائیں گے…. کتنے لو گے؟“
”ایک بات بولوں گا….آنے جانے کے ڈھائی ہزار…. ایک ڈیڑھ گھنٹہ وہاں رکیں گے۔“
”نہیں بھیا!یہ تو بہت زیادہ ہیں ،ہم تین ہی تو ہیں، پبلک جیپ میں چلے جائیں گے۔“
”ارے صاب کوئی اتنا زیادہ فرق نہیں ہے ،ہمارے ساتھ چلو آرام سے جاو¿گے۔“
”اچھا اگر ہم ایک طرف ہی جائیں یعنی واپس ہم اپنی ترتیب سے آئیں تو؟“
ذہن میں اچانک ایک خیال کوندا تھا۔
بلال اور تصور دونوں نے اچنبھے سے ہمیں دیکھا۔
”ہاں یہ بھی ہوتا ہے، آپ پھر پندرہ سو دے دینا….“
”نہیں بارہ سو….“
کچھ تکرار کے بعد بات تیرہ سو میں پکی ہو گئی۔
اب ہم نے ساتھیوں پر اپنا خیال ظاہرکر دیا۔ دونوں جوش سے بھر گئے۔
”ارے واہ یہ تو بہت زبردست ہو جائے گا….“
”اجی ہمارے ساتھ رہو گے تو یونہی عیش کرو گے۔ “
”بس یہ شروع ہو گئے…. عیش کروائیں گے ہمیں ہونہہ!“ دونوں گستاخ پیچھے بیٹھ گئے۔
ماننا تو انھوں نے تھا نہیں، سو ہم نے بھی سر جھٹکا اور لپک کر ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ سنبھا ل لی۔جیپ چل پڑی۔بمشکل دو تین منٹ کے بعد ناران کی اس اہم شاہراہ پر دائیں طرف سے ایک سڑک آکر ملتی نظر آئی۔ جیپ ڈگمگاتی ہوئی اُس سڑک پر مڑ گئی۔
یہ ذیلی سڑک بل کھاتی بظاہر دور ایک پہاڑ کے دامن پہ ختم ہوتی نظر آ رہی تھی۔ پہاڑوں کی شہزادی اپنی مخصوص مستانی چال چلتی، اس تنگ سڑک پر دوڑنے لگی۔ سورج ابھی تک اپنا مکھڑا مشرقی پہاڑوں کے پیچھے ہی کہیں چھپائے ہوا تھا، آٹھ بجنے کو تھے۔ صبح کی نرم روشنی میں جیپ کی کھڑکی سے دکھائی دیتا سامنے کا منظر بے حد دل نشین تھا۔ سڑک کے دونوں طرف آسمان سے باتیں کرتے اُونچے درخت ہوا میں جھوم رہے تھے۔ اچانک ایک سنگم ہمارے سامنے آگیا۔ دریاے کنہار اور اوپر سے آتی ایک پہاڑی ندی کا دل کش سنگم….!
ہمارے دائیں ہاتھ پہ بہتی آ رہی یہ نہایت پُرشور و زور سفید جھاگ اڑاتی ندیا کہیں بہت اوپر سے بہتی آ رہی تھی اور یہاں اس جگہ آ کر کنہار سے ہمکنار تھی…. اپنی خودی، اپنی ذات ختم کر کے کنہار میں ضم ہو رہی تھی گویا اپنے محبوب پہ فدا ہو رہی تھی۔ سنگم سے آگے بڑھے تو اس کے مست پانیوں پر نگاہ جمانا مشکل ہو گیا ۔دس پندرہ فٹ چوڑی اس طوفانی ندی میں گرچہ کئی بڑے بڑے پتھر پڑے اس ملاپ کی راہ میں، سد راہ بننے کی کوشش میں تھے مگر ملن کی دیوانی ندیا، اپنے زبردست بہاو¿کے تھپیڑے لگاتی، چھینٹے اڑاتی ہر رکاوٹ سے گزر کر اپنے یار طرح دار کنہار تک پہنچ رہی تھی۔
نالے کے دوسری طرف آسمان تک پہاڑ سر اٹھائے کھڑے تھے اور یہ پہاڑ اب تک ہمارے دیکھے ہوئے سب پہاڑوں سے زیادہ سرسبز تھے۔ درخت پہ درخت گویا چڑھے کھڑے تھے…. پہاڑ پر پورا جنگل آباد تھا۔
ہم نے اس طرف سے نگاہ ہٹا کر اپنی بائیں طرف دیکھا تو یہاں سڑک کنارے خوبصورت عمارتیں کھڑی تھیں۔ ترچھی سرخ چھتوں والی خوبصورت عمارتوں میں کمروں کی کھڑکیوں کا رخ سڑک ہی کی طرف تھا۔ یقینا ان جھروکوں کا کرایہ بہت زیادہ ہو گا، جن میں بیٹھ کر فطرت کے اس بے مثال حسن کا نظارہ کیا جاتا ہو گا اورغزلیں کہی جاتی ہوں گی۔
ایک کلومیٹر کا سفر بمشکل طے ہوا تھا کہ سڑک نے اچانک موڑ لیا۔ جیپ بھی سڑک آشنا لگتی تھی، دونوں میں دوستی شاید بہت پرانی اور گہری تھی ۔کب سڑک بل کھائے گی، وہ خوب واقف تھی….سو سڑک کے گھومتے ہی جیپ بھی بنا کوئی جھٹکا دیے اور رفتارکم کیے، ایک رِدھم میں گھومتی چلی گئی۔ یہ گھومنا صرف گھومنا ہی تو نہیں تھا ،یہ چڑھائی چڑھتے ہوئے گھومنا تھا…. ہم مسلسل گھومے بھی اور بلند بھی ہوئے…. گویا ہر آن ہر پل بلند ہی ہوتے چلے گئے۔
جیپ کا ہر قدم بلندی پر پڑتا تھا اور کم و بیش ہر پندرھویں قدم پر وہ گھوم جاتی تھی یعنی ہر قدم پہ ہم ترقی کر رہے تھے۔ اسی طرح ترقی کرتے ہم بہت جلد سنگھاسن تک پہنچ جاتے…. اقتدار کے نہیں، دیوی کے سنگھاسن تک….!
گھومنے اور بلند ہونے کا یہ مستقل عمل، گویا اک جادو کی چھڑی بن گیا تھا جو تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہماری نگاہوں کے سامنے میلوں تک پھیلا منظر بدل دیتا۔ بھوکی نگاہوں کے سامنے جب نعمتوں سے بھرا دسترخوان بچھ جائے تو وہ جیسے دیکھ دیکھ سیر نہیں ہوتیں، ہماری تشنہ نگاہوں کے سامنے بھی جیسے کوئی ریڈ کارپٹ بچھا ہوا تھا جس پر کبھی دائیں تو کبھی بائیں سمت سے وادی کی خوب صورت البیلی حسین چوٹیاں نگاہوں کی گرفت میں آتیں، چند لمحے اپنے حسن کے جلوے بکھیرتیں اور پھر دوسری کے لیے جگہ چھوڑ دیتیں۔
ایک موڑ پر ہم نے حیرت سے دیکھا کہ وہ ہوٹل جس کے سامنے سے ابھی بمشکل دس منٹ قبل ہم گزرے تھے، یہاں سے منظر اب کسی گڑیا کا ننھا منا کھلونا اور گھروں کی قطاریں بہت چھوٹی دکھائی دیتیں اور اُن کے ساتھ سڑک پر چلتی گاڑیاں اب رینگتی ہوئی چیونٹیاں دکھائی پڑتی تھیں۔
جب کہ وہ غصیلی ندی جو نیچے بہت اُچھلتی کودتی، شور مچاتی تھی، یہاں سے کسی چاندی کے تار کی طرح باریک سی یوں چمکتی دکھائی دیتی تھی…. جیسے اوپر پہاڑوں پر کسی بچے کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس گر گیا ہو اور دودھ کی ایک دھار بہتے ہوئے نیچے چلی آئی ہو۔ یہ دودھیا لکیر مگر جیپ کے مسلسل ہچکولوں کی وجہ سے ذرا کم کم ہی نظر کی گرفت میں آ تی تھی…. کیوں کہ جھٹکے تھے کہ شدید سے شدید تر ہوتے جا تے تھے۔
جیپ کے پہیوں کے نیچے اب جدید سڑک نہیں بلکہ پتھروں سے اَٹا وہ قدیم رستہ تھا، جو صدیوں کی چلت پھرت سے کچھ ہموار ہو گیا تھا۔ تنگ دامن راستے میں جب سامنے سے کوئی جیپ آ جاتی تو ہماری جیپ اسے رستہ دینے کے لیے سڑک کے دائیں پہلو سے ایسے چھو کر گزرتی کہ اس کے دائیں پیروں کے نیچے سے گویا زمین نکل نکل جاتی اور اِدھر پیچھے بیٹھے بلال میاں اور تصور کی سانس بھی نکل نکل جاتی…. کہ ایک فٹ کے بعد ہی سیکڑوں فٹ نیچے گہری کھائی منھ کھولے لیٹی…. آنے والے عشاق کو اپنی ہولناک گود میں سمونے اور بھیانک جبڑوں میں دبوچنے کو جانے کب سے مچلتی تھی….
ہاں مگرعشاق کو نہیں، ان کے ہزار ٹکڑوں میں بکھرے ابدان کو….
(جاری ہے)
٭….٭
اس تحریر کے مشکل الفاظ
دبیز: موٹا ائمہ: امام کی جمع، پیش امام
فرلانگ: ایک میل کا آٹھواں حصہ، ۰۲۲ گز کا فاصلہ
دامن گیر: کسی چیز کا دامن سے چمٹ جانا
تحویل: سپردگی، حوالگی بدبدانا: زیر لب کہنا
مبادا: خدا نہ کرے سڈول: خوب صورت
گھمن گھمیری: سر چکرا دینے والا نفر: آدمی
(اچنبھے: حیرانی سنگم: ملن (کسی دو چیزوں کا ملنا
ضم ہونا: ملنا ہمکنار: گلے ملنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>