جیتے گا بھئی جیتے گا!

ہانڈی اور بس میں ٹھن گئی تھی… مقابلہ بھی تو کانٹے کا تھا!

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم اپنی پوری پلٹن کے ساتھ کسی شادی کے سلسلہ میں پنڈی گئے ہوئے تھے۔
یہاں تو ہمارا ددھیالی گروپ پوری طرح چھایا ہوا تھا، مگر وہاں ہمارا پالا ہم سے ملتے جلتے ننھیالی گروپ سے پڑ گیا۔
کوئی نبیل بھائی ہوتے تھے جو خاندان بھر میں بھیا پکارے جاتے تھے، حد تو یہ تھی کہ نانیاں دادیاں اکثر ان کا اصل نام لینے کے بجاے انھیں بھیا ہی کہا کرتیں۔
انھیں وہاں والوں نے کچھ ایسا سر پر چڑھایا ہوا تھا کہ دو ایک روز ہی میں ان کی باتیں سن سن کر ہم سب بری طرح چڑھ گئے۔
’’ بھلا کوئی بات ہے، نبیل آج کھانسا تھا، کیا اچھا کھانسا تھا، واہ واہ!‘‘ سنی جل کر بولا۔
’’ آج بھیا سے وقت پوچھا تو انہوں نے بغیر گھڑی دیکھے بالکل درست وقت بتایا… ارے بھئی تو ساری لمبی گھڑیاں دیوار سے اتار کر ان کی جگہ اپنے بھیا ہی کو لگا دو نا۔‘‘فوزی آپی نے بھی کسی کا قول سنا کر اسے کھری کھری سنائی۔
’’رات کچھ اضافی مہمان آرہے تھے تو نبیل اور اس کے ساتھیوں نے کیا فٹا فٹ ٹینٹ لگوایا… اب ان کو کون بتائے اُنھوں نے تو ایک فون ہی کیا ہوگا ٹینٹ والے کو، کون سا اپنے ہاتھوں سے تنبو کھڑے کیے ہوں گے۔‘‘ ٹیپو نے بھی تجزیہ کیا۔
’’اور پھر کھانے پر بھی ایسے ایسے تاثرات سنے کہ بس کیا بتائیں!‘‘ ہم نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
’’ نہیں… بتاؤ … بتاؤ۔‘‘
’’ ایسی بریانی بنوائی نبیل بیٹے نے کہ ہم نے تو اپنی عام خوراک سے دگنا کھایا!‘‘ ہم نے کسی کا قول دہرایا۔
’’ارے، وہ زرد رنگ پڑا ہوا پلاؤ کیا بریانی تھی۔‘‘ عفت دنگ رہ گئی۔
’’ میرے پاس تو صرف آلو آئے تھے، میں سمجھی تہری ہے۔‘‘فوزی آپی نے اپنا خیال پیش کیا۔
’’ میرے پاس تو آلو بھی نہیں آئے تھے، میں تو اسے پھیکا زردہ سمجھ کر کھاتا رہا۔‘‘ سنی نے اپنی غلطی کھلے دل سے تسلیم کی۔
’’ ہاہا… آتے بھی کیسے، کچھ لوگ اپنی خوراک سے دگنا جو کھا چکے تھے!‘‘ ٹیپو نے قہقہہ لگایا۔
’’ہنسنے کی بات نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کب تک یہ بھیا اور ان کے گروپ کی اٹھنے بیٹھنے ، سونے جاگنے، کھانے پینے اور ہنسنے رونے تک کی تعریفیں چلتی رہیں گی؟‘‘ ہم نے سوال اٹھایا۔
’’جب تک ہم انھیں احمقوں کی طرح سنتے رہیں گے اور سب پر یہ واضح نہ کردیں گے کہ اونٹ سے بڑی پہاڑ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔‘‘ فوزی آپی نے مٹھیاں بھینچیں۔
’’اور یہ ہوگا کیسے؟‘‘
’’خاندان والوں کی جن باتوں پر ہم یہاں بیٹھ کر تنقید کررہے ہیں تنقید فوراً جائے وقوعہ پر کریں ۔ کوئی کمال کی بات نہیں، یہ تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔‘‘
’’کوئی کا مطلب ہم… مگر پھر اس طرح کے کام ہمارے ذمہ لگا دیے جائیں گے، پرائے شہر میں کیسے کریں گے ہم یہ کام… اپنا شہر ہوتا تو کوئی بات نہ تھی۔‘‘ٹیپو نے نتیجہ بتایا۔
’’کرلیں گے بھئی ایسا بھی کیا مشکل ہے اور ایسے انوکھے طریقہ سے کرکے دکھائیں گے بندر بھی جان جائیں گے ادرک کا بھاؤ۔‘‘ فوزی آپی جوش سے بولیں لیکن ہم ان سے زیادہ ٹیپو کی بات سے متفق تھے۔
٭…٭
ہمیں نہ کوئی دعویٰ کرنا پڑا نہ ہی کوشش۔ ایک اچھا بھلا کام خود ہی اچھلتا کودتا ہماری طرف متوجہ ہوگیا۔
قصہ یہ تھا کہ ننھیالی خاندان تھا، لہٰذا ابو چچا جان وغیرہ شادی کے بعد جلد ہی اپنے شہر روانہ ہو گئے تھے۔ یہاں صرف عورتیں بچی تھیں یا بچے۔
عورتوں کے لیے تو شاید سب سے اہم چیز ملاقاتیں اور باتیں ہوتی ہیں لہٰذا انھوں نے اپنے لیے تو کوئی پروگرام نہیں بنایا، البتہ بچوں کی بوریت دور کرنے کے لیے ایک سیر ترتیب دے دی۔
ممانی بولیں۔’’ بچو! تم لوگ فٹا فٹ تیاریاں کرلو اور مری، ایوبیہ گھوم آؤ۔ تمھارے والدین کی اجازت کے بعد ہی میں نے یہ پلان بنایا ہے۔‘‘
ہم سب کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مگر اگلی بات سنتے ہی ہمارے منھ بن گئے۔
’’نبیل بیٹا! یہ لو انتظامات اور خرچے کے پیسے!‘‘ اُنھوں نے نوٹوں کی ایک گڈی ہوا میں لہرائی جس کے ساتھ ہی بھیا کا گروپ بھی خوشی سے جھوم جھوم کر لہرانے لگا۔
’’ایک منٹ ممانی۔ انتظامات یہ لوگ نہیں بلکہ ہم لوگ کریں گے۔‘‘ فوزی آپی نے ہموار چلتی گاڑی میں بریک لگا دیے۔کچھ دیر زوردار سناٹا رہا۔ پھر بھیا بولے’’ان سے نہیں ہوں گے انتظامات، لائیں آپ یہ پیسے مجھے دے دیں۔‘‘
’’کیا ثبوت ہے آپ کے پاس اس بات کا کہ ہم سے انتظامات نہیں ہوں گے۔ یہ عویٰ تو آپ کے متعلق ہم بھی کرسکتے ہیں۔‘‘ اس مرتبہ سنی بولا۔
’’دیکھو بچو! تم لوگ مہمان ہو اور یہ میزبان ۔ اس لیے انتظامات وغیرہ کرنا ان ہی کا فرض بنتا ہے۔ یہ لو نبیل پیسے سنبھالو!‘‘ ممانی نے بات ختم کرنے کی کوشش کی، مگر وہ ہم ہی کیا جو یوں آسانی سے ہار مان جائیں۔
’’مہمان تو ہم یہاں پنڈی تک تھے۔ مری ایوبیہ میں تو سب ہی مسافر اور سیاح ہوں گے۔‘‘
ممانی اب بری طرح بگڑ پڑیں اور بولیں ’’جب تم لوگ آپس میں فیصلہ کرلو کہ کس نے انتظامات کرنے ہیں تو مجھ سے پیسے لے لینا اور چلے جانا، ورنہ ساری عمر اسی طرح جھگڑتے رہنا۔‘‘ ممانی تو پاؤں پٹختے ہوئے چلی گئیں مگر ہمارے درمیان مہابھارت شروع ہو گئی۔
’’اچھا خاصا تفریح کا منصوبہ تھا، کیا ضرورت تھی روڑا اٹکانے کی۔‘‘ بھیا ناراضی سے بولے۔
’’آپ لوگ بڑے دنوں سے خدمات میں لگے ہوئے ہیں، تھک گئے ہوں گے۔اب کچھ موقع ہمیں بھی دیں۔‘‘ فوزی آپی طنزاً بولیں ۔ پیسوں کا نبیل بھائی کو نہ ملنا بھی ہماری کامیابی کی پہلی سیڑھی تھی۔
’’یہ تم لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے، کبھی شکل بھی دیکھی ہے مری کی؟‘‘ بھیا کا ایک چیلا بولا۔
’’اچھا مری کی کوئی شکل بھی ہے، ہم تو سمجھے تھے کہ کسی جگہ کا نام ہے۔‘‘ ہم نے جواب دیا۔
’’ہم تم لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ باز آجاؤ ورنہ بہت پچھتاؤ گے۔‘‘ ایک اور بولا۔
’’بڑے دن ہو گئے پچھتائے ہوئے، اب یہ موقع ہاتھ سے کیسے جانے دیں۔‘‘ٹیپو نے بھی زبان کھولی۔
’’چلو جمہوری طریقہ اپناتے ہیں۔ جو جو میرے حق میں ہے ہاتھ کھڑا کرے۔‘‘ بھیا بڑے اعتماد سے بولے۔
ان کے چاروں چیلوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔
’’اور کون ان کے۔‘‘ ان کی بات درمیان ہی میں تھی کہ ہم چاروں نے فوزی آپی کے حق میںہاتھ کھڑے کر دیے۔ ٹائی پڑ گئی اور ہم سب سوچوں میں۔
’’ یہ صحیح جمہوری طریقہ نہیں۔ ایسے کوئی بندہ مخالف پارٹی کو ووٹ دینے کی جرات نہیں کرے گا۔ ہاں اگر اس کی نشاندہی نہ ہوسکے تو شاید وہ کھل کر اپنا حق راے دہی استعمال کرلے۔‘‘ فوزی آپی جوش سے بولیں شاید ان کے ذہن میں کوئی کھچڑی پکنا شروع ہو گئی تھی۔
’’تو چلو ہر کوئی ایک کاغذ کے پرچے پر میرا یا ان کا نام لکھ کر یہاں رکھ دے پھر ہم دیکھ لیتے ہیں۔‘‘ بھیا کو یہ طریقہ منظور تھا۔
’’ایسے نہیں۔ اب جب الیکشن ہو ہی رہا ہے تو آدھا دن مہم چلانے کے لیے بھی دینا چاہیے۔ پرچیاں ایک جیسی بنیں گی جس پر دونوں نام ایک ہی بندے نے لکھے ہوں گے، ووٹر کو صرف نشان لگی پرچی موڑ کر پرچی جمع کرانی ہوگی بلکہ ڈبے میں ڈالنی ہوگی۔‘‘ فوزی آپی نے تفصیلات بتائیں۔
’’ یہ کیا نئی مصیبت ہے؟‘‘ ایک چیلا تلملا کر بولا۔
’’ہم کوئی ایسا کام کریں گے کہ بھیا کی پارٹی کے لوگ ہمیں ووٹ دیں اور کوئی ایسا کام بھیا کریں کہ ہم انھیں ووٹ دیں ۔ بس مسئلہ حل۔‘‘ سنی بولا۔
’’اور سب سے پہلے تو دونوں کو ایک ایک تقریر کرنی ہوگی، یہ بتانے کے لیے کہ آخر انھیں ووٹ کیوں دیا جائے۔‘‘ ہم نے بھی زبان کھولی تو فوزی آپی ہمیں گھور کر رہ گئیں۔
بھیا نے تو فوراً ایک میز کو لمبا کھڑا کرکے ڈائس کی شکل دی اور تقریر شروع کر دی۔
’’آپ سب لوگ پچھلے چند روز سے جو انتظامات دیکھ رہے ہیں ان میں سے اکثر میں نے ہی کروائے ہیں۔‘‘
’’ کروائے ہیں کیے نہیں۔ سن لو سب۔‘‘ سنی نے نعرہ لگایا۔جواب میں بھیا کے چیلوں نے بھی بھیا زندہ باد اور جیتے گا بھئی جیتے گا کے نعرے لگائے۔
’’آپ سب ہی نے دیکھا کہ یہ انتظامات کتنے اچھے انداز میں کیے گئے اورہم سب اس سے خوش اور مطمئن ہیں۔‘‘
’’اپنے منھ میاں مٹھو نہ بنو!‘‘ ہم نے بھی ہانک لگائی۔
’’ دوسرے یہ کہ میں حال ہی میں دو مرتبہ مری، ایوبیہ اور نتھیا گلی گیا ہوں، وہاں کے اچھے ہوٹلوں، راستوں اور گھومنے کی جگہوں سے واقف ہوں۔‘‘
’’تو کیا ضرورت ہے تیسری مرتبہ جانے کی، گھر بیٹھیں اور ہمیں موقع دیجیے نا۔‘‘ فوزی آپی نے مشورہ دیا۔
’’تیسری بات یہ کہ میں ابا کی گاڑی بڑی اچھی طرح چلا لیتا ہوں۔دیکھنے میں چھوٹی ہے مگر بس کی طرح کشادہ ہے۔ ہم اسی میں جائیں گے۔‘‘
’’ ہم اس میں نہیں جائیں گے، ہمیں اپنی زندگی پیاری ہے۔‘‘
’’نیم ڈرائیور خطرہ جان۔‘‘ ہم نے نعرے لگانے شروع کر دیے۔
’’اور آخری بات یہ کہ میں آپ سب کو آج اسی گاڑی میں پنڈی اوراسلام آباد کی سیر کرانے لے جاؤں گا تاکہ سب کو اچھی طرح اندازہ ہوجائے اور میرا انتخابی نشان بھی میری گاڑی ہوگی۔‘‘ بھیا یہ کہہ کر نعروں کی گونج میں ڈائس سے اتر آئے۔ ان کے نکات میں واقعی بہت جان تھی۔ ہم سب اب فوزی آپی کی طرف متوجہ ہوئے ۔ وہ ہمیں کھا جانے والی نگاہوں سے گھور رہی تھیں۔ بہرطور وہ بھی ڈائس پر آئیں اور بولیں۔
’’ ہم لوگ کسی اسکول کے لگے بندھے پروگرام میں نہیں جارہے، بلکہ سیر و تفریح کرنے جا رہے ہیں اور اس کا مزہ ایڈونچر میں ہے۔ ہم لوگ سیدھے جا کر کسی ہوٹل میں رکیں اس سے زیادہ مزہ اس وقت آئے گا جب ہم پورے مری یا ایوبیہ میں گھوم گھوم کر مختلف ہوٹل دیکھیں اور پھر سب کی راے کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘ فوزی آپی نے بڑی خوبصورتی سے بات بنائی۔
’’بھٹکے ہوئے آہو ہیں یہ بھٹکتے ہوئے آہو!‘‘ بھیا کے چیلے بھلا کہاں چپ رہنے والے تھے۔
ہم لوگوں نے بھی بھرپور نعروں سے ان کو جواب دیا۔
’’ایک اکیلی سب پر بھاری، فوزی آپی فوزی آپی۔‘‘
’’ اور جب ہمیں پیسے مل ہی رہے ہیں تو ہم باقاعدہ ایک کشادہ بس لیں گے اور سکون سے گھومیں پھریں گے، یہ نہیں کہ اسکول وین کی طرح ٹھس ٹھس کر جائیں۔‘‘فوزی آپی بولیں۔
’’سارے پیسے بس ہی پر لگادو گی تو کھلاؤ گی کیا؟‘‘
بھوکا مارو گی ہمیں؟‘‘ بھیا کی پارٹی سے ایک اور آواز آئی۔
’’ بہت کچھ کھلائیں گے فکر نہ کرو اور وہاں جا کر تو کھلائیں گے ہی، آج شام بھی ایک دعوت ہوگی۔ میرے ہاتھ کی ہانڈی پسند آئے تو ہی ووٹ دینا ورنہ نہیں۔‘‘
’’ارے یہ کچھ ملا دیں گی اس میں، نیند کی گولی وغیرہ، یا پھر پیٹ خراب کردیں گی، سازش سازش !‘‘ بھیا کی پارٹی سے شورش ہوئی۔
’’ پہلے ہم خود کھا کر دکھائیں گے پھر ہی کھانا… اور ہاں اسی وجہ سے میرا انتخابی نشان ہانڈی ہوگا۔‘‘ فوزی آپی نے بھی بات ختم کی اور ڈائس سے واپس آگئیں۔
’’شام پانچ بجے دعوت ہے کھانے کی اور چھ بجے سیر کو جائیں گے بھیا کے ڈبے میں، پھر رات کو واپس آکر سب نے ووٹ ڈالنے ہیں۔‘‘ سنی نے اعلان کیا تو محفل برخاست ہوئی۔
٭…٭
ہم جیسے شیطانی ذہن والوں کے لیے اب مقابلہ جیت لینا کافی آسان تھا۔ فوزی آپی نے ایک مزیدار سی ہانڈی بنانی تھی اور ہم لوگوں نے بھیا کی بس کو بے بس کرنا تھا۔ فوزی آپی کچن میں گئیں اور ہم گیراج میں۔ بھیا کی گاڑی کے چاروں پہیوں سے ہوا نکالنے میں فقط ڈیڑھ منٹ لگا۔
کہاوت یاد تھی کہ عقلمندی دشمن کو صرف مار دینے میں نہیں بلکہ اس کا کچومر نکال دینے میں ہے، لہٰذا کسی طرح گاڑی کا دروزہ کھول کر اسٹارٹ کرنے کے لیے چابی لگانے کی جگہ میں ایلفی بھردی۔
ان کاموں سے فارغ ہو کر فتح کے جھنڈے لیے فوزی آپی کے پاس پہنچے تو انھیں سر پکڑے پایا۔
’’ کیا ہوا، سر میں درد ہو رہا ہے کیا؟‘‘ ہم نے ہمدردی سے پوچھا۔
اُنھوں نے کچھ کہے بغیر ہانڈی کی طرف اشارہ کر دیا۔
ہم سب نے بیک وقت اس میں جھانکنے کی کوشش کی تو ناریل ٹکرانے کی آواز آئی۔
سر سہلاتے ہوئے دوبارہ دیکھا تو کچھ عجب نہ پایا۔
’’اچھی تو بن رہی ہے چکن کڑاھی۔ خوشبو بھی اچھی آرہی ہے۔‘‘
’’ یہ چکن کڑاہی نہیں وائٹ ہانڈی تھی جس میں مرچ انڈیل دی گئی اور یہ سونگھنے کی نہیں کھانے کی چیز ہوتی ہے ذرا چکھ لو پھر بولو!‘‘ فوزی آپی نے روداد بتائی۔
’’اوہ اوہ…‘‘ ہم نے چکھا تو نمک وغیرہ بھی کافی تیز تھا۔
’’ہم دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے گئے اور خود ہماری قبر یہاں کھد گئی۔‘‘
’’خیر، ایسی بات بھی نہیں ابھی پندرہ منٹ ہیں، گوشت گل چکا ہے مصالا میں ابھی دوسرا بنالوں گی۔‘‘فوزی آپی کہاں یوں آسانی سے ہار ماننے والی تھیں، دوبارہ جت گئیں اور ہم بھی ان کے ساتھ لگ گئے۔
٭…٭
’’واہ واہ بھئی… کیا مزے کا کھانا تھا۔‘‘ بھیا نے کھلے دل سے تعریف کی۔
’’اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ کی سیر بھی اتنے مزے کی ہوتی ہے یا نہیں۔‘‘ٹیپو بولا۔
’’کیوں نہیں۔ ضرور ضرور، چھ بجنے میں بیس منٹ باقی ہیں، ہم ٹھیک چھ بجے روانہ ہوں گے، سب لوگ باہر آجایئے گا۔‘‘ اُنھوں نے ہدایت کی۔
’’اور آکر میری بے بسی کا تماشا دیکھنا !‘‘ ہم نے سرگوشی کی۔بھیا باہر گئے تو ہم لوگوں نے بھی چھت کی راہ لی تاکہ ان کے تاثرات تو دیکھیں۔
ان کی حالت واقعی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ جب اُنھوں نے چاروں ٹائر فلیٹ دیکھے۔
’’صرف ان ٹائروں کو کھولنے اور لگانے ہی میں بیس منٹ لگیں گے، جبکہ انھیں ہوا بھرانے کے لیے کہیں دور بھی لے جانا ہوگا۔‘‘ سنی نے اندازہ لگایا۔
’’یعنی ساڑھے چھ تو بجے ہی بجے !‘‘ٹیپو بولا۔
’’اور پھر گاڑی نے اسٹارٹ ہو کر نہیں دینا رات تک۔‘‘ ہم نے بھی اندازہ لگایا۔
مگر بھیا نے ٹائر کھولنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ باہر کی جانب دوڑ گئے۔
کچھ ہی دیر میں ایک ٹھیلے پر ہوا بھرنے کا کمپریسر لیے نمودار ہوئے۔ ناجانے کس سے مانگ کر لائے تھے۔ پلگ لگایا اور دھڑا دھڑ سارے ٹائروں میں ہوا بھرلی۔
پھر اسٹارٹ کرنے لگے تو چابی ہی نہ لگے۔ ہم نے خوشی سے تالی پیٹی، مگر اُنھوں نے ٹول بکس نکالا، پلاس سے کوئی تار کاٹے اور اس طرح ملائے اسٹارٹ ہوگئی۔ گھڑی پر چھ بج رہے تھے اور ہمارے چہروں پر بارہ!
ہم پر شکست کی خفت طاری تھی، پھر بھی سیر سے خوب لطف اندوز ہوئے، آخر بھیا کا اپنا شہر تھا، وہ بھی اچھی طرح نہ گھماتے تو کون گھماتا۔
رات گئے جب واپسی ہوئی تو کم از کم ہم تو ان سے پوری طرح مرعوب ہوچکے تھے اور ساتھ ہی کفیوژ بھی کہ میں اپنا ووٹ کس کو دوں؟
یہ موقع فوزی آپی سے رشتہ داری نبھانے کا نہیں تھا بلکہ اپنے ساتھ اور باقی سب کے ساتھ انصاف کرنے کا تھا۔ ہمیں اچھی طرح پتا تھا کہ ہم سب یا فوزی آپی اس خوش اسلوبی سے ہمیں مری اورایوبیہ کی سیر نہیں کراسکیں گی، پیسے زیادہ خرچ ہوں گے، تجربات کی نظر ہوں گے اور مزہ کم آئے گا۔
بات اب ہار یا جیت کی نہیں تھی بلکہ عقل استعمال کرنے کی تھی، سارا جوش اور جنون بھلا کر ہوش استعمال کرنے کی تھی۔
اور سب سے بڑھ کر ایمان کی تھی!
کہ ووٹ امانت تھا اور اس میں خیانت بے ایمانی تھی، گناہ تھا جس کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے۔ ہمارا دل پوری طرح مطمئن تھا کہ بھیا ہی اس سیر کے انتظامات کے اصل حقدار ہیں اور ہمیں اپنا ووٹ انھی کو دینا ہے۔
ہمیں یہ بھی اندازہ تھا ہمارا ووٹ بے کار نہیں۔ اس اکیلے ووٹ ہی نے اصل فیصلہ کرنا ہے کیونکہ باقی کسی نے تو تبدیل ہونا نہیں تھا ۔ ہماری تبدیلی سے ہی سارا فرق پڑ جانا تھا۔
ووٹ تو ہم نے بلا جھجھک بھیا کو ڈال دیا مگر بعد میں پہلو بدلنے لگے کہ نتیجہ کے بعد کیا ہوگا۔
فوزی آپی ایک ایک پر شک کریں گی اور کھری کھری سنائیں گی کہ کون کالی بھیڑ ہمارے درمیان میں آ گئی۔
میر جعفر اورمیر صادق کے خطاب ملیں گے۔
ہم بالکل انجان بن جائیں گے، بس قسم نہ لیں وہ ، ورنہ معاملہ کھل جائے گا۔زیادہ شک ٹیپو پر جائے گا کہ اس نے بھیا کو ووٹ دیا ہے، اس کو شروع میں کچھ اختلاف تھا۔ ہاں!
ہم سوچ سوچ کر دل ہی دل میں کبھی پریشان اور کبھی مطمئن ہورہے تھے۔ہم پر تو بالکل نہیں جائے گا، آخر کو سگے بھائی ہیں فوزی آپی کے۔ ہاں عفت پر جاسکتا ہے کہ باؤلی سی بچی ہے، غلطی سے بس پر نشان لگا دیا ہوگا۔
ہم انھی سوچوں میں غلطاں و پیچاں تھے کہ ٹشو پیپر کا بکس جو بطور بیلٹ باکس استعمال ہوا تھا کھل گیا اور ووٹوں کی پرچیاں کھلنے لگیں۔
ہمارا دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
’’کہیں فوزی آپی اپنی شکست پر غم سے بے ہوش ہی نہ ہوجائیں، کتنا مذاق اڑے گا ان کا،‘‘ ہم بھیا کو خوشی سے اچھلتا دیکھ رہے تھے۔
گنتی شروع ہوئی۔

’پہلا ووٹ… بس۔‘‘
’’دوسرا ووٹ… بس۔‘‘
’’پانچواں ووٹ… بس۔‘‘
’’چھٹا ووٹ… ‘‘ ہم دل تھام کر بیٹھ گئے۔
’’بس!‘‘ ہم نے سرجھکا لیا۔ فوزی آپی کو دیکھنے کی کیا کسی سے نظر تک ملانے کی ہم میں سکت نہ تھی۔ مگر پھرہمیں سر اٹھانا بھی پڑا اور سب کو حیرت سے دیکھنا بھی پڑا۔
’’ساتواں ووٹ… بس، آٹھواں ووٹ بس، نواں ووٹ… بس اور دسواں ووٹ … بس۔‘‘
ہم نے دسواں سن کر فوزی آپی کو دیکھا تو وہ بھی نظریں چرا رہی تھیں جبکہ بھیا کو ہم نے انکساری سے آنسو پونچھتے دیکھا۔
٭…٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>