ہیرے والا شتر مرغ

رؤف پاریکھ

heeray wala shitarmurgh

اگر تم پرندوں کی قیمت کی بات کرتے ہو تو میں تمھیں بتائوں کہ میں نے ایک ایسا شتر مرغ بھی دیکھا ہے جس کی قیمت تین ہزار پائونڈ لگائی گئی تھی

’’تین ہزار پائونڈ! سمجھے؟‘‘اس نے مجھے چشمے کے اوپر سے گھورتے ہوئے کہا۔
اس کا کام پرندوں کی کھال میں بھس بھر کر اُنھیں بیچنا تھا۔ اسی لیے وہ پرندوں اور ان کی قیمتوں کے قصے سنایا کرتا تھا۔
’’تین ہزار پائونڈ؟‘‘ میں نے حیرت ظاہر کی۔ ’’کیا وہ شتر مرغ کسی نایاب نسل کا تھا؟‘‘
’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ وہ اور باقی چار شتر مرغ جن کا قصہ سنانے والا ہوں پانچوں عام سے شتر مرغ تھے، بلکہ ایک کی کھال کا رنگ بھی مناسب دانہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے اُڑ گیا تھا لیکن ان میں سے ایک شتر مرغ نے ایک نہایت قیمتی ہیرا نگل لیا تھا۔‘‘
’’شتر مرغ نے ہیرا نگل لیا تھا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
اس نے ہماری دلچسپی کو دیکھ کر پورا قصہ سنانا شروع کیا جو یوں تھا۔
وہ ہیرا ایک ہندو بیوپاری کا تھا۔ اس کا نام موہن تھا۔ موہن ایک موٹا سا آدمی تھا۔ اس کی پگڑی میں وہ ہیرا لگا ہوا تھا۔ شتر مرغ نے اس کی پگڑی پر چونچ ماری اور ہیرا نگل لیا۔ جب موہن کو پتا چلا کہ یہ کیا ہوگیا ہے تو اس نے ایک ہنگامہ کھڑا کردیا۔ یہ سب کچھ ذرا سی دیر میں ہوگیا۔ میں ان لوگوں میں شامل تھا جو سب سے پہلے وہاں پہنچے۔ دراصل ہم لوگ لندن جانے کے لیے ایک بحری جہاز میں سوار ہورہے تھے جب میں وہاں پہنچا تو موہن، دو ملاحوں اور شتر مرغ کے رکھوالے کے درمیان اچھی خاصی گرما گرمی ہورہی تھی، بلکہ شتر مرغوں کا رکھوالا تو ہنستے ہنستے دہرا ہوا جارہا تھا۔ یہ پانچوں شتر مرغ لندن لے جانے کے لیے بحری جہاز پر پہنچائے جارہے تھے کہ ان میں سے ایک نے پاس کھڑے ہوئے ایک ہندو بیوپاری موہن کی پگڑی میں لگا ہوا ہیرا نگل لیا۔ اس وقت شتر مرغوں کا رکھوالا وہاں موجود نہیں تھا۔ وہ تھوڑی دیر بعد پہنچا۔ اس لیے اسے بھی پتا نہ تھا کہ کون سے شتر مرغ نے ہیرا نگلا ہے۔ بہرحال ہم سب لوگ بحری جہاز پر سوار ہوگئے اور جہاز لندن کے لیے روانہ ہوگیا۔ شتر مرغ بھی جہاز پر سوار تھے۔
بحری جہاز پر اس قسم کی خبریں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ چنانچہ تھوڑی ہی دیر بعد جہاز کے تمام مسافروں کو اس بات کا پتا لگ گیا کہ جہاز پر سوار شتر مرغوں میں سے ایک کے پیٹ میں ایک ہیرا موجود ہے جو اس نے ایک مسافر کی پگڑی سے اُچک لیا تھا۔
ہر شخص اسی کے بارے میں بات کررہا تھا۔ موہن اپنے جذبات چھپانے کے لیے اپنے کیبن میں چلا گیا لیکن رات کے کھانے پر جب سب مسافر جہاز کے کھانے کے کمرے میں جمع ہوئے تو موہن ایک میز پر جہاز کے کپتان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ موہن نے کپتان پر زور دیا کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس کا ہیرا واپس دلوائے۔
اس کا کہنا تھا کہ میں وہ شترمرغ نہیں خریدوں گا، بلکہ مجھے میرا قیمتی ہیرا واپس دلوانا کپتان کا فرض ہے۔
اس نے یہ بھی کہا کہ اگر مجھے میرا ہیرا واپس نہ ملا تو میں لندن پہنچ کر پولیس میں شکایت درج کرائوں گا لہٰذا بہتر ہے کہ شتر مرغوں کو کوئی دوا کھلا کر ہیرا حاصل کیا جائے۔
اُدھر شتر مرغوں کا رکھوالا بھی ایک ضدی آدمی نکلا۔ اس نے کہا کہ میں شتر مرغوں کو دوا دے کر ہیرا حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں شتر مرغوں کا مالک نہیں ہوں بلکہ صرف رکھوالا ہوں اور مجھے سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ شتر مرغوں کو صرف فلاں فلاں چیز کھلائی جائے اور انھیں فلاں فلاں طریقے سے رکھا جائے۔ جب کہ موہن کا کہنا تھاکہ چوں کہ شتر مرغوں میں سے ایک نے اس کا ہیرا نگل لیا ہے اس لیے اب وہ جس طرح چاہے ہیرا نکال سکتا ہے، چاہے ان کا پیٹ کاٹ کر ہی کیوں نہ نکالا جائے۔ اس طرح یہ مسئلہ ایک قانونی شکل اختیار کرگیا تھا لیکن جہاز پر کوئی وکیل موجود نہ تھا۔ اس لیے ہر مسافر اپنی اپنی راے دے رہا تھا۔ مسافروں میں سے اکثر کا کہنا تھا کہ موہن کو شتر مرغ خرید لینے چاہییں، پھر اس کا جو جی چاہے ان کے ساتھ کرے۔
جہاز عدن کی بندرگاہ پر رُکا اور جب وہاں سے چلا تو رات کے کھانے پر موہن نے مسافروں کی بات مان لی اور پانچ کے پانچ شتر مرغ خریدنے کے لیے تیار ہوگیا لیکن اگلی صبح ناشتے پر صورت حال پھر بدل گئی کیوں کہ شتر مرغوں کے رکھوالے نے اعلان کیا کہ وہ شتر مرغوں کا مالک نہیں ہے، اس لیے وہ اُنھیں کیسے بیچ سکتا ہے؟ اور دنیا کی کوئی طاقت اسے مالک سے پوچھے بغیر شتر مرغ بیچنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔
اس پر ایک مسافر کھڑا ہوگیا۔ اس کا نام پوٹر تھا۔ اس نے اعلان کیا کہ شتر مرغوں کے رکھوالے کو میں نے بھی ایک اچھی خاصی رقم کی پیش کش کی تھی لیکن وہ شتر مرغ بیچنے پر تیار نہیں تھا۔ اس لیے جب جہاز عدن پر ٹھہرا ہوا تھا تو میں نے وہاں سے شتر مرغ کے مالک کو لندن تار دے کر تمام شتر مرغ خریدنے کی پیش کش کی تھی۔ اس کا جوابی تار مجھے جہاز کی اگلی منزل پر یعنی سویز پر مل جائے گا۔ یہ سن کر موہن نے پوٹر کو سب کے سامنے بُرا بھلا کہا۔ اس کی صورت دیکھنے والی تھی لیکن باقی سب مسافر پوٹر کو ایک ہوشیار آدمی مان گئے۔
جب جہاز سویز پہنچا تو پوٹر کے تار کا جواب لندن سے آچکا تھا۔ شتر مرغوں کے مالک نے اُنھیں پوٹر کے ہاتھ فروخت کرنے کی ہامی بھرلی تھی۔ اب پوٹر شترمرغوں کا مالک بن چکا تھا۔ یہ خبر سن کر موہن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ آخر اس نے پوٹر سے کہا کہ میں شتر مرغ تم سے خریدنے کے لیے تیار ہوں۔ تم فی شتر مرغ پانچ سو پائونڈ کے حساب سے پانچ شتر مرغوں کے ڈھائی ہزار پائونڈ لے لو۔ اس پر پوٹر نے کہا کہ میں یہ شتر مرغ بیچنے کے لیے نہیں خریدے۔ میرا ارادہ ان کے پیٹ چاک کرکے ہیرا تلاش کرنے کا ہے۔
لیکن بعد میں پوٹر کا ارادہ بدل گیا اور اس نے شتر مرغ نیلام کرنے کا اعلان کیا لیکن اس نے ایک شرط بھی رکھی۔ وہ یہ کہ کسی شخص کے ہاتھ ایک سے زیادہ شتر مرغ فروخت نہیں کیے جائیں گے اور ایک شتر مرغ وہ اپنے لیے رکھے گا تاکہ قسمت آزماسکے۔ کیا پتا ہیرا اسی میں سے نکلے۔
وہ ہیرا بہت قیمتی تھا۔ ہمارے ساتھ بحری جہاز پر ہیروں کا ایک یہودی تاجر بھی سفر کررہا تھا۔ جب موہن نے اسے اس ہیرے کے بارے میں بتایا کہ کیسا تھا اور کتنا بڑا تھا تو اس نے اس کی قیمت اندازاً چار سے پانچ ہزار پائونڈ بتائی۔ جب جہاز کے مسافروں کو ہیرے کی قیمت کا پتا چلا تو وہ بے چینی سے نیلامی کا انتظار کرنے لگے جو اگلے دن ہونے والا تھا۔
اب اتفاق کی بات کہ شتر مرغوں کے رکھوالے سے مجھے باتوں باتوں میں پتا چلا کہ ایک شتر مرغ بیمار ہے اور اس کے پیٹ میں گڑبڑ ہے۔ اس شتر مرغ کے دُم کے پروں میں سے ایک پَر بالکل سفید تھا جو شاید بیماری کی وجہ سے ہوگیا تھا۔ میں نے سوچا کہ ہو نہ ہو یہ وہی شترمرغ ہے جس کے پیٹ میں ہیرا ہے اور اسی لیے اس کے پیٹ میں گڑبڑ ہے۔ اگلے روز جب نیلامی شروع ہوئی تو سب سے پہلے یہی شترمرغ لایا گیا۔ بولی آٹھ سو پائونڈ سے شروع ہوئی۔ موہن نے فوراً ساڑھے آٹھ سو کی بولی دی جس کے جواب میں، میں نے نو سو پائونڈ کی آواز لگائی۔ مجھے یقین تھا کہ ہیرا اسی شتر مرغ کے پیٹ میں ہے اور اتنے زیادہ بھائو یعنی نو سو پائونڈ سے کوئی آگے نہیں بڑھے گا لیکن موہن بالکل بائولا ہوگیا تھا۔ اس نے اندھا دھند بولی بڑھانی شروع کی۔ ہیروں کا یہودی تاجر بھی بڑھ چڑھ کر بولی لگا رہا تھا۔ اس نے بولی ہزار سات سو پائونڈ تک پہنچادی۔ اس موقع پر پوٹر نے اس کے حق میں بولی ایک دو تین کہہ کر ختم کردی۔ موہن نے ایک ہزار آٹھ سو کی آواز لگائی لیکن تب تک پوٹر تین کہہ چکا تھا۔ موہن ہاتھ ملتا رہ گیا۔
یہودی تاجر نے پوٹر کو شتر مرغ کی قیمت ادا کی اور اسی وقت پستول نکال کر شتر مرغ کو گولی ماردی۔ اس پر پوٹر نے خوب شور مچایا اور کہا اگر اس شتر مرغ کو اسی وقت کاٹا گیا تو اس سے نیلامی پر بُرا اثر پڑے گا، کیوں کہ اگر اس میں سے ہیرا نکل آیا تو میرے باقی شتر مرغ کوئی نہیں خریدے گا لیکن ہم سب ہیرا دیکھنے کے لیے اتنے بے چین تھے کہ سب نے سنی ان سنی کردی۔ شتر مرغ کو چیرا پھاڑا گیا لیکن اس میں کچھ نہ نکلا، مجھے یہ سوچ کر خوشی ہوئی کہ میرا نقصان ہوتے ہوتے رہ گیا کیوں کہ میں خود اس شتر مرغ کی ایک ہزار چار سو پائونڈ قیمت لگاچکا تھا۔
یہودی تاجر نے کسی خاص افسوس کا اظہار نہیں کیا، البتہ پوٹر نے یہ کہہ کر نیلامی بند کردی کہ جب تک سارے شتر مرغ نہیں بک جاتے وہ کسی کو شتر مرغوں کی چیر پھاڑ نہیں کرنے دے گا لیکن یہودی تاجر کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص ایک چیز خرید لیتا ہے تو اس کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ جب اور جیسا چاہے سلوک کرے۔ بات بڑھ گئی اور گرما گرمی ہونے لگی تو نیلامی اگلی صبح تک روک دی گئی۔ رات کو کھانے کی میز پر شتر مرغوں کی نیلامی کے بارے میں ہی باتیں ہوتی رہیں۔ جتنے منھ اتنی باتیں۔ کچھ نے تو جہاز کے کپتان سے یہ بھی کہا اس نیلامی کو روک دیا جائے کیوں کہ اس طرح ہیرا بیچنا ایک طرح کا جوا ہے لیکن پوٹر کا کہنا تھا کہ میں ہیرا نہیں بیچ رہا، میں تو صرف شتر مرغ بیچ رہا ہوں، آخر کپتان نے اعلان کیا کہ جہاز پر شتر مرغ کی خرید و فروخت کی اجازت ہے لیکن شتر مرغوں کے قتل کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اب کوئی شخص شتر مرغوں کو نہ تو جہاز پر ہلاک کرے گا اور نہ ان کی چیر پھاڑ کرے گا۔ لندن پہنچنے کے بعد جہاز سے اُتر کر مسافروں کا جو جی چاہے شتر مرغوں کے ساتھ کریں۔
اگلی صبح جب نیلامی شروع ہوئی تو ہر شخص کے ذہن میں یہ بات تھی کہ شتر مرغ پانچ کے بجاے اب چار رہ گئے ہیں، اس لیے کسی ایک شتر مرغ سے ہیرا نکلنے کا امکان اب پہلے سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بولی کل سے بھی زیادہ پرزور انداز میں شروع ہوئی۔ میرے پاس پیسے کم تھے، اس لیے میں تو پیچھے ہٹ گیا۔ ایک شترمرغ دو ہزار پائونڈ پر بکا۔ ایک کی قیمت دو ہزار تین سو پائونڈ لگائی گئی۔ جب کہ تیسرا ڈھائی ہزار پائونڈ میں فروخت ہوا لیکن عجیب بات تھی کہ موہن نے ان میں سے ایک بھی نہیں خریدا بلکہ جب بولی لگائی جارہی تھی تو وہ ایک کونے میں بیٹھا لندن پہنچ کر پولیس میں رپورٹ درج کرانے کی باتیں کررہا تھا اور قانونی نکتے اُٹھا رہا تھا۔ اس کا کہنا تھاکہ یہ ساری نیلامی غیر قانونی ہے۔ فروخت ہونے والے تین شترمرغوں میں سے ایک اسی یہودی تاجر نے خریدا۔ ایک شتر مرغ ایک افسر نے خریدا جو جہاز پر سفر کررہا تھا۔ تیسرا بحری جہاز کے انجینئروں نے آپس میں پیسے جمع کرکے خریدلیا۔
جب نیلامی ختم ہوئی تو پوٹر اُداس ہوگیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے شتر مرغ بیچ کر بے وقوفی کی ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس نے اپنے لیے جو شتر مرغ رکھا تھا وہ بھی اس نے ایک مسافر کو تین ہزار پائونڈ میں رات ہی کو بیچ دیا تھا لیکن میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس میں بے وقوفی کی کیا بات ہے۔ جو شتر مرغ اس نے زیادہ سے زیادہ آٹھ سو پائونڈ میں خریدے ہوں گے وہ اس نے ایک ایک کرکے ساڑھے گیارہ ہزار پائونڈ میں بیچ دیے۔
آخر جہاز لندن کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ سارے مسافر اُترنے شروع ہوئے۔ شتر مرغ بھی اُتارے گئے۔ شتر مرغ خریدنے والوں نے اُنھیں وہیں چیرنے پھاڑنے کا ارادہ کیا لیکن بندرگاہ کے افسروں نے اس کی اجازت نہیں دی۔ موہن پاگلوں کی طرح اِدھر سے اُدھر دوڑتا پھر رہا تھا۔ جن لوگوں نے شتر مرغ خریدے تھے وہ ان سے ان کے نام اور پتے پوچھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اگر ان کے خریدے ہوئے شتر مرغ سے ہیرا نکل آئے تو مجھے خط لکھ کر بتائیں لیکن کسی نے بھی اسے اپنا نام پتا نہیں دیا۔ موہن نے پوٹر کو یہاں بھی بُرا بھلا کہا لیکن پوٹر نے اپنا سامان اُٹھایا اور چل پڑا۔ باقی مسافر بھی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔ شتر مرغ خریدنے والوں نے اُنھیں لدوادیا اور وہ بھی چل پڑے۔
یہ کہہ کر وہ چپ ہوگیا اور ایک پرندے کی کھال میں بھس بھرنے لگا۔ میں نے بے صبری سے کہا: ’’پھر کیا ہوا؟ ہیرا کون سے شتر مرغ میں تھا؟‘‘ وہ مسکرایا اور بولا۔ ’’میرے خیال سے کسی میں بھی نہیں۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
اس نے بتانا شروع کیا: ’’یہ بات مجھے کبھی معلوم نہ ہوتی اور میں یہی سمجھتا رہتا کہ موہن کا ہیرا کسی شتر مرغ نے نگل لیا تھا لیکن اتفاق کی بات ہے کہ لندن پہنچنے کے ایک ہفتے بعد میں لندن کی ریجنٹ اسٹریٹ میں خریداری کررہا تھا کہ مجھے موہن اور پوٹر نظر آئے۔ دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے، بہت خوش خوش، مسکراتے ہوئے جارہے تھے۔ دونوں نے بہت عمدہ اور مہنگے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ میں چپ چاپ اُنھیں دیکھنے لگا۔ انھوں نے کوئی چیز خریدی۔ موہن نے پیسے دینے کے لیے بٹوا نکالا تو وہ نوٹوں سے ٹھنسا ٹھنس بھرا ہوا تھا۔ لگ رہا تھا کہ دونوں کو کہیں سے بہت سارا روپیہ ہاتھ لگا ہے۔‘‘
میں نے ایک لمبی سانس لے کر کہا: ’’بہت خوب! تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی شترمرغ نے کوئی ہیرا نہیں نگلا تھا۔ موہن اور پوٹر دونوں ساتھی تھے اور اُنھوں نے اس طرح نیلامی کے ذریعے سے ہزاروں پائونڈ بٹورلیے۔‘‘
اس نے مسکرا کر ’’ہاں‘‘ کہا اور سر جھکا کر پرندوں کی کھال میں بھس بھرنے لگا۔

//]]>