گھمنڈو گرگٹ

اُمّ ایمان

یہ لوگ بھاگے بھاگے کہاں جاتے ہیں؟؟ کوئی ایک دوسرے سے بات نہیں کرتا ۔ ایک کے پیچھے ایک بس چلتے جاتے ہیں چلتے جاتے ہیں آخر انہیں کیا پریشانی ہے؟؟
زرد گلہری نے اپنی موٹی سی دم کو مزید پھلا کر اپنے ہاتھوں سے اسے سنوارا اور پھر فیشن شو کے اسٹائل میں دم کھڑی کرکے اٹھلا اٹھلا کر چلنے لگی۔
چندا بی! بتائو ناں انسانوں کو اس طرح بے فائدہ بھاگ دوڑ سے کیا ملتا ہے؟؟
زرو بی نے اپنی کیٹ واک ختم کرکے چندا گلہری سے دوبارہ پوچھا۔
تمہاری بات کا جواب لمبا ہے جبکہ مجھے بھوک لگ رہی ہے ۔ اب یا تو تم مجھے کوئی کھانے کی چیز لا کر دو تو میں تمہیں ساری بات تفصیل سے بتائوں ورنہ پھر میں چلی اپنے گھر ….
چالاک چندا بی نے بے نیازی سے کہا۔
بھوک لگی ہے؟؟ ٹھہرو میرے پاس آلو کے لمبے لمبے ٹکڑے ہیں۔ میں تمہیں کھانے کو دیتی ہوں لیکن دیکھو پھر تم میرے سوال کا جواب دے کر ہی گھر جائو گی۔
زرد گلہری نے پتھر کے پیچھے چھپائے ہوئے آلو لا کر چندا کو دے دیئے۔ چندا کو واقعی بھوک لگی تھی چند منٹ میں سارے آلو صاف تھے۔
آئو ہم آرام سے بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ چندا نے دونوں ہاتھوں سے اچھی طرح منہ صاف کیا اور دیوار کے اوپر اطمینان سے بیٹھ گئی۔
یہ انسان دراصل جلد باز بھی ہیں اور ناشکرے بھی…. پہلے تو جلدی جلدی خوب سارا کھانا کھاتے ہیں پھر شکر ادا کرنے کے بجائے مزے سے ٹانگ یہ ٹانگ رکھ کر بولتے ڈبے کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں اور پھر لمبی تان کر سوجاتے ہیں۔ صبح اٹھ کر رب کا شکر ادا کرنے سے جی چراتے ہیں۔ صبح کی تازہ ہوا انہیں کم کم ہی نصیب ہوتی ہے۔ پھر جب ڈاکٹر انہےں آپریشن اور کڑوی کڑوی دوائوں سے ڈراتے ہیں تو پھر انہیں اپنی صحت کی فکر ستاتی ہے اور نتیجے کے طور پر یوں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ بھاگ کر وزن کم کرنے اور صحت درست کرنے کی کوششیں کرنے ہیں۔
ایک دوسرے سے باتیں کرنے اور خیریت دریافت کرنے کی انہیں پھر بھی فرصت نہیں ملتی۔ انہیں شاید پتہ بھی نہیں کہ مسکرا کر ایک دوسرے سے ملنے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے سے کیا کچھ حاصل ہوتا ہے؟؟
انہیں تو بس پیسہ سے پیسہ بنانے کی فکر ہلکان کیے رکھتی ہے اور تو اور تمہیں حیرت ہوگی زرو بی کہ یہ انسان علم جیسی دولت بھی بس پیسے کے حصول کے لیے ہی حاصل کرتے ہیں۔ اصل دولت تو ان کی نظر میں پیسہ ہے پیسہ اس کے علاوہ سب فالتو اور بے کار چیز ہے۔ لہٰذا یہ بے جان پیسے کی محبت میں اپنے جاندار بھائیوں کو بھول جاتے ہیں۔
چندا گلہری نے افسوس سے گردن ہلائی۔ زروبی نے بھی پارک کے یہاں سے وہاں بنے طویل جوگنگ ٹریک پر تیز تیز چلتے اور بھاگتے ہوئے لوگوں کو دیکھا اور ترس سے چچ چچ کی آواز منہ سے نکالی۔
اتنے میں شابی اور بالی بھی آگئی۔ چلو بھئی اب تو ہم چار ہو گئے ہیں۔ چل کر اس گھمنڈو گرگٹ کی خبر لیتے ہیں۔ چندا نے اپنی سہیلیوں بالی اور شابی کو آتے دیکھا تو خوشی سے بولی۔
گھمنڈو گرگٹ نیم کے درخت کے تنے پر کب سے بیٹھا تھا چند اکتنی دفعہ اس سے کہہ چکی تھی کہ اس درخت پر ہمارے گھر میں تم اس کے راستے میں یوں جم کر نہ بیٹھا کرو لیکن گھمنڈو کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی تھی۔ ایک تو وہ گھمنڈی تھا پھر اوپر سے لالچی بھی ۔ اکثر گلہریوں کے گھروں میں ان کی کھانے پینے کی چیزیں اڑا جاتا۔ کبھی چندا کو حفاظت سے رکھا روٹی کا ٹکڑا نہ ملتا کبھی زروبی کی اخروٹ کی گری غائب ہوتی۔
چندا نے آج اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کر گھمنڈی گرگٹ کو مزہ چکھانے کا پروگرام بنایا۔ چاروں نیم کے درخت پر پہنچیں تو دیکھا گھمنڈو وہاں سے جا چکا تھا۔ یقینا آج بھی اس نے ان کے گھر سے کھانے کی چیزیں چرائیں تھیں۔
چندا نے اپنے گھر کا جائزہ لیا۔ باورچی خانے میں رکھا سیب کا بڑا ٹکڑا غائب تھا۔ چندا نے چلا کر اطلاع دی ۔ میرے بھی ”نعمت خانے“ میں مونگ پھلی موجود نہیں، زرو بھی چلائی۔ چلو دیکھیں گھمنڈو کہاں بیٹھ کر کھا رہا ہے؟
چاروں درخت کے شاخوں پر بیٹھ کر چاروں طرف اپنی گول گول آنکھیں گھما کر جائزہ لینے لگیں۔ آخر گھمنڈو نظر آگیا وہ پارک کے دیوار پر بیٹھا تھا اور مزے سے منہ چلا رہا تھا۔
چاروں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگیں۔
گھمنڈو گرگٹ نے یوں گلہریوں کو جارحانہ انداز میں تیزی سے اپنی طرف آتا دیکھا تو پارک کی دیوار سے دوسری طرف دوڑا لیکن ندیدے لالچی گھمنڈو کا پیٹ کھا کھا کر اتنا بھر گیا تھا کہ اس سے بھاگا ہی نہ گیا ۔ بھاگتے ہوئے لڑکھڑایا اور ٹپ سے پارک کی دیوار کے ساتھ گزرنے والی سڑک پر جاتی ہوئی گاڑی کی چھت پر جا کر گرا۔ ایک لمحے کو تو وہ گھبرا گیا کہ گاڑی سے گر کر کچل نہ جائے۔
ذرا اوسان بحال ہوئے تو اس نے دیکھا۔ پارک کی دیوار پر بیٹھی چاروں گلہریاں اسے دیکھ رہی تھیں اور ساتھ ہی جوش و خروش سے ہاتھ ہلا ہلا کر خدا حافظ کہہ رہی تھیں۔ گھمنڈو کو لگا شاید زیر لب کہہ رہی تھیں۔
خس کم جہاں پاک
٭….٭….٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>