لومڑی کی آخری چالاکی

جاوید بسام

لومڑی ایک اونچے ٹیلے پر اداس بیٹھی تھی، سامنے ہرے بھرے میدان میں جانور اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے، کچھ گھاس چررہے تھے تو کچھ ان کی تاک میں لگے تھے ، کچھ شکار مار کر اس کے گوشت سے اپنا پیٹ بھررہے تھے تو کچھ ندی سے پانی پی رہے تھے۔ پرندے بھی جھنڈ بنائے ادھر سے ادھر اڑرہے تھے۔
وہ جنگل کا خوشگوار دن تھا لیکن لومڑی پر سنجیدگی طاری تھی گو کہ جنگل کی زندگی میں اسے اہم مقام حاصل تھا۔ وہ شیر کی خاص مشیر تھی۔ شیر ہر کام اس کے مشورے سے کرتا تھا، تمام جانور اس کے ساتھ عزت سے پیش آتے تھے اور دل سے اس کی عقل کو سراہتے تھے، لیکن وہ اپنی اس حیثیت سے خوش نہ تھی اور اپنے اس کردار سے تنگ آچکی تھی۔
حالانکہ شروع میں وہ اپنی اس عزت افزائی پر پھولے نہیں سماتی تھی اور فخر سے گردن اکڑا کر چلتی تھی لیکن اب حالات بدل چکے تھے۔ دراصل جب وہ اور جانوروں کو ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کرتے، بے وقوفانہ باتوں پر قہقہے لگاتے، بے مقصدگھاس پر دوڑے اور لوٹے لگاتے دیکھتی تو آہ بھر کر رہ جاتی۔ اس کا بھی دل چاہتا تھا کہ لطیفوں پر دل کھول کر ہنسے، گھاس پر لوٹے لگائے، ریچھ کے لمبے لمبے بال نوچ کر بھاگ جائے، لیکن جب وہ ایسا کچھ کرنا چاہتی تو دوسرے جانور حیرت سے اسے دیکھنے لگتے اور وہ شرمندہ ہوجاتی۔
دراصل کچھ واقعات نے اسے اتنا اونچا اور معتبر بنا دیا تھا کہ دوسرے اس سے ایسی چھوٹی باتوں کی توقع نہیں کرتے تھے۔ حالانکہ وہ خود کو دوسرے جانوروں کی طرح ہی سمجھتی تھی۔ یہاں تک اپنی عقل و چالاکی کو بھی اہمیت نہ دیتی تھی جو جنگل کے ساتھ ساتھ انسانی آبادیوں تک میں اتنی مشہور ہو چکی تھی کہ ہوشیار آدمی کو ”لومڑی کی طرح چالاک“ کا خطاب دیا جانے لگا تھا۔
جب وہ ان واقعات پر نظر دوڑاتی جن کی وجہ سے اسے یہ مقام حاصل ہوا تھا تو سر پیٹ کر رہ جاتی۔ اسے ان میں عقل کا عمل دخل کم، موقعہ سے بروقت فائدہ اٹھانا اور دوسروں کا احمقانہ رویہ زیادہ نظر آتا۔ مثلاً وہ واقعہ جس میں اس نے شیر اور بھیڑیئے کے ساتھ مل کر تین شکار کیے اور جب شیر نے پوچھا کہ تقسیم کس طرح کی جائے؟ اور بھیڑیے نے پہلے جواب دے کر اپنی جان گنوائی تھی تو لومڑی نے فوراً سبق سیکھا اور ”تینوں شکار شیر کے ہیں “ کہہ کر عقل مندی کی سند حاصل کی، حالانکہ اگر یہ سوال شیر پہلے اس سے پوچھ لیتا تو وہ بھی بھیڑیئے والا جواب دیتی۔
اسی طرح جب ایک دن اس نے ایک کوے کو پنیر کا ٹکڑا منہ میں دبائے دیکھا تو اس کا جی للچایا۔ یہاں اس نے محض کوے کی خوشامد ہی کی تھی۔ اب وہ کوا ہی اتنا بیوقوف تھا کہ ذرا سی تعریف پر پھولے نہیں سمایا اور پنیر کا ٹکڑا لومڑی نے مزے لے لے کر کھایا۔
چند واقعات ایسے بھی تھے جن میں اس نے منہ کی کھائی لیکن وہاں کسی جانور کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس کی عزت بنی رہی۔ جب وہ ایک دن انگور کے باغ میں گئی اور پکے ہوئے انگوروں کو دیکھ کر اس کے منہ میں پانی بھر آیا تو اس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح انگور حاصل کرسکے لیکن ناکام رہی۔ بالآخر اپنی جھینپ مٹانے کے لیے یہ کہتے ہوئے رخصت ہوگئی کہ ”انگور کھٹے ہیں“۔ حالانکہ وہ انگور ذرا بھی کھٹے نہ تھے بلکہ خوب پکے ہوئے میٹھے انگور تھے۔
لومڑی کی اس کردار سازی میں قسمت کا بھی بہت دخل تھا۔ لیکن اب وہ تنگ آچکی تھی۔ وہ سارا دن بھوکی ٹیلے پر بیٹھی رہی۔ رات ہوئی تو تمام جانور وہاں جمع ہو گئے۔ ایک طرف شیر بھی بیٹھا تھا۔ سب خوش گپیاں کررہے تھے۔ چاندنی رات تھی، پورے چاند نے آسمان کو روشن کر رکھا تھا۔ بادلوں کی ٹکڑیاں اڑی چلی جا رہی تھیں۔ بھیڑئےے کچھ بے چین تھے وہ بار بار گردن اوپر کرکے بھیانک آوازیں نکالتے ۔ شیر انہیں ناراضگی سے گھورتا لیکن اس کا پیٹ بھرا ہوا تھا لہٰذا نظر انداز کر دیتا۔
باتوں کے درمیان جانوروں میں بحث چھڑ گئی کہ چاند حرکت کررہا ہے یا بادل سب آسمان کی طرف نظر اٹھائے اندازہ لگانے کی کوشش کررہے تھے۔ کچھ کا خیال تھا کہ چاند حرکت کررہا ہے جبکہ کچھ بادل کے حق میں تھے۔ ان کی بحث بڑھتے بڑھتے جھگڑے میں تبدیل ہونے لگی تو شیر کو طیش آگیا۔ وہ زور سے دہاڑا سب کو سانپ سونگھ گیا۔
”تم لوگ کون ہوتے ہو فیصلہ دینے والے یہ تو دانا کا کام ہے۔“ سب کی نظریں لومڑی کی طرف گھوم گئیں۔
ایک بار پھر گیند لومڑی کے کورٹ میں آگری تھی، اس کا غصے سے برا حال تھا۔ اسے بالکل پتا نہ تھا کہ کیا چیز حرکت کررہی ہے۔ پھر اسے خیال آیا یہ اچھا موقعہ ہے ایسا جواب دیا جائے جو احمقانہ ہو تاکہ آئندہ کیلئے اس کی جان چھوٹ جائے۔ وہ بولی ” بھائیوں اور بہنوں اگر چاند رکا ہوا ہے تو بادل چل رہے ہیں اور اگر بادل رکے ہوئے ہیں تو چاند چل رہا ہے۔ “ کسی کی بھی سمجھ میں اس کا یہ بے تکا جواب نہ آیا لیکن یہ الفاظ ایک ایسے منہ سے نکلے تھے جس سے وہ احمقانہ جواب کی توقع نہیں رکھتے تھے، چنانچہ سب نے واہ واہ شروع کر دی ان میں شیر بھی شامل تھا۔ لومڑی خاموشی سے اٹھی اور نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئی۔
٭….٭….٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>