فلم سازی

حسام چندریگر

film saazi فلم سازی

فلم تصویروں کے مجموعے کا نام ہے جنھیں تیزی کے ساتھ اسکرین پر چلایا جاتا ہے، جس سے وہ چلتی ہوئی معلوم ہوتی ہے
تاریخ
۱۸۷۷ء میں انگلستانی، امریکی عکاس (فوٹو گرافر) نے اپنے دوڑتے ہوئے گھوڑے کی مختلف زاویوں سے عکس بندی کی، بعد میں جب اس نے ان تمام تصویری کو ترتیب میں رکھ کر دیکھا تو وہ اسے چلتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

 یہاں سے اس کے ذہن میں فلم کا تصور آیا۔ اس کے اسی خیال کو تھا مس ایڈیسن نے استعمال کیا اور ایک مشین بنا ڈالی۔

 ایڈیسن کی مشین میں تصویروں کو ۹۰ سیکنڈ تک فلم کی صورت میں چلانے کی صلاحیت تھی۔ دو فرانسیسی بھائی لوئس اور اوگست نے اس فن کو مزید آگے بڑھایا اور ایک ایسی مشین بنائی جو تصویروں کے مستقل طور پر سیلو لائٹ (Celluloid) کے بنڈل میں محفوظ کردیتی تھی جسے لوگوں کو محظوظ کرنے کے لیے دیوار پر پروجیکشن کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

فلمی صنعت کا بننا
فلم سازی سب سے پہلے امریکا میں مشہور ہوئی۔ فلم سازی کی تاریخ میں سب سے پہلی اختراع، اِڈون پورٹر کی ۱۱ منٹ پر مشتمل ڈرامائی فلم ’گریٹ ٹرین رابری‘ تھی جو ۱۹۰۳ء میں ناظرین کے لیے پیش کی گئی۔ ۱۹۵۰ء کے بعد ٹی وی اسکرین آگئی جس کے بعد زیادہ تر فلمیں پردوں کے بجاے ٹی وی اسکرین کے لیے بننے لگیں۔

فلم سازی کے اصول
پورٹر کی فلم سازی کے اصول آج بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسکرپٹ میں عکس بندی کرنے کے لیے تمام سین درج کرلیے جاتے ہیں، پھر یہ سین آسانی کے لیے کسی بھی ترتیب میں عکس بند کرلیے جاتے ہیں۔ بعد میں انھیں ترتیب دی جاتی ہے اور کمپیوٹر افیکٹ اور آوازوں کا اضافہ کیا جاتا ہے۔

فلموں کی ارتقا
شروع میں فلمیں بغیر رنگ کے (بلیک اینڈ وائٹ) بنتی تھیں، جن کے اندر کاسٹیوم اور سینری کے ذریعے خاص اثرات پیدا کیے جاتے تھے۔ ۱۹۳۶ء میں چارلی چپلن کی پہلی فلم ’ماڈرن ٹائمز‘ پیش کی گئی جو آواز کے ساتھ تھی۔ فلموں میں رنگ کا اضافہ ۱۹۳۰ء میں ہوا اور اس سلسلے کی مشہور فلم ’دی وزرڈ آف اوز‘ پیش کی گئی۔

فلم شوٹنگ
فلم شوٹنگ میں سیکڑوں تکنیکی افراد کام کرتے ہیں، کیمرا مین، فن کار کے ساتھ سب سے اہم فرد ڈائریکٹر ہوتا ہے۔ ڈائریکٹر پوری فلم سازی کو کنٹرول کرتا ہے کہ فن کار کہاں کھڑا ہوگا، پیچھے کا منظر کیسا ہوگا اور کیمرا مین کہاں کھڑا ہو کر عکس بندی کرے گا۔ آج کل عموماً ڈائریکٹر اپنی فلموں میں کمپیوٹر سے پیدا کردہ اسپیشل افیکٹ استعمال کرتے ہیں، جس میں بیک گرائونڈ پر ہرے رنگ کے پردے استعمال کیے جاتے ہیں جنھیں بعد میں کمپیوٹر کے ذریعے کسی دوسرے بیک گرائونڈ سے بدل دیا جاتا ہے۔

سینما، فلم، ٹیلی ویژن اور ریڈیو وغیرہ تو خدا کی پیدا کردہ طاقتیں ہیں جن میں بجاے خود کوئی خرابی نہیں، خرابی اُن کے استعمال میں ہے جو انسانی اخلاق کو تباہ کرنے والا ہے۔ اسلامی حکومت کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ان ذرائع کو انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کرے اور اخلاقی فساد کے لیے استعمال ہونے کا دروازہ بند کردے۔ (سید مودودیؒ)

//]]>