امتحان ہیں آئے بچّو

نعیم الدین نعیم

امتحان ہیں آئے بچّو
جس نے ہوش اڑائے بچّو
بچ کے کہاں کوئی جائے بچّو
خواب ڈراو¿نے آئے بچّو
کس تیزی سے سال ہے گزرا
کیسے سمجھ میں آئے بچّو
سردی میں آیا ہے پسینہ
دل بھی بہت گھبرائے بچّو
سب کو پڑی ہے اپنی اپنی
کون کسے سمجھائے بچّو
امی اور ابو بیٹھے ہیں
تم سے آس لگائے بچّو
سُستی کاہلی نے ہیں آخر
دن یہ تمھیں دکھلائے بچّو
محنت میں ہے عزت عظمت
تم یہ سمجھ نہ پائے بچّو
سوتے ہوئے سب سال گزارا
نیند کسے اب آئے بچّو
بن گئے سارے لوگ ہیں دشمن
کون مدد کو آئے بچّو
سر پر امتحان کھڑا ہے
کرتا ہے دل ہاے بچو
لومڑی ،بندر، شیر بننے سب
اللہ میاں کی گاے بچّو
امتحاں کے بعد پوچھیں گے
کتنے انڈے پاے بچو
اللہ نگہبان تمھارا
ok باے باے بچو
ساتھ نعیم انکل کی دعا ہے
شاید کام آجاے بچّو

//]]>