علم آثار قدیمہ

حسام چندریگر

علم آثار قدیمہ ماضی کی ان باقیات کا مطالعہ کہلاتا ہے جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑ گئے جیسے عمارات اور اشیاءوغیرہ۔ ان میں سے اکثر چیزیں سمندروںمیں ڈوبی ہوئی یا زمین میں مدفون ہوتی ہیں جنھیں کھود کر نکالا جاتا ہے۔ کھدائی کے دوران حاصل کی گئی پرانی اشیاءجیسے عمارتیں، برتن، ہڈیاں اور ہتھیار وغیرہ کا مطالعہ کرکے ماہرین پرانی تہذیبوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔

troy

ٹراے شہر

ماضی کے سراغ: کسی بھی جگہ کھدائی کرنے سے پہلے ماہرین کچھ سراغ درکار ہوتے ہیں جیسے پرانے زمانے کے سکے یا برتن وغیرہ ۔ پھر اس پورے مقام کا فضائی معائنہ کیا جاتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی اور طاقت ور شعاعوں کی مدد سے اس زمین کی اندرونی تصاویر لی جاتی ہیں جس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اندر کچھ مدفون ہے یا نہیں۔

harappa

ہڑپہ شہر

اشیاءحاصل کرنے کے بعد ان کی عمر کا تعین کیا جاتا ہے جس کے لیے ایک خاص قسم کی تکنیک ”ریڈیو کاربن ڈیٹنگ“ استعمال کی جاتی ہے۔
گمشدہ شہر: ترقی میں موجود قدیم شہر ”ٹرائے“ ایک جرمن آرکیولوجسٹ ہیزخ شلی مان نے 1870ءمیں دریافت کیا۔ کھدائی کے دوران اسے وہاں سے نو بستیوں کے آثار ملے۔

mohin jo daro

موئن  جو دڑو

سن 1921ءمیں ہڑپہ کے مقام پر قدیم تہذیب کے آثار پائے گئے۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جان مارشل نے ان مقامات کی کھدائی کروائی جس میں بڑی کامیابی ہوئی جس سے ہڑپہ اور موئن جودڑوں جو قدیم تہذیبوں کے بارے میں پتا چلا۔

 

archaeology1974ءمیں(چین) ”شی ہوانگدی“ کے مقبرے کے قریب کھدائی کے دوران ہزاروں کی تعداد میں سپاہیوں کے مجسمے پائے گئے جس سے 210 ق م کی تہذیب کے بارے میں پتا چلا

//]]>