دھرتی ماں کا انسان سے خطاب

عمران نرمی

میں بچھائی گئی ہوں تمہارے لےے
اور سجائی گئی ہوں تمہارے لےے
میرے بچو سدا مسکراتے رہو
میری گودی میں پینگیں بڑھاتے رہو
گنگناتے رہولہلہاتے رہو
میرے دریا سمندر تمہارے لےے
سارے باہر اور اندر تمہارے لےے
میری فصلوں کے رنگ
اور سب ذائقے ہیں تمہارے لےے
میری سب داستانیں یہ سب واقعے ہیں تمہارے لےے
ان پہاڑوں کی چھاﺅں
حسین پیڑ پودے
یہ موسم یہ برکھا
ہوائیں گھٹائیں
اور پاتال تک میں چھپی سب غذائیں
تمہارے لےے
میں نے کیا کیا کیا ہے تمہارے لےے
اور تم نے مرے ساتھ کیا کیا کیا
میری نس نس سے میرا لہو تک پیا
کارخانوں کے کالے دھوئیں میں چھپایا مجھے
میں نے خوشیاں دیں تم نے رلایا مجھے
میرے پیڑوں پہ آرے چلائے گئے
اور سمندر میں فضلے بہائے گئے
کیوں پرندوں کو پنجروں میں ڈالا گیا
کیوں مرے منظروں کو ہے کالا کیا
تم نے بارود سے کیوں اڑایا مجھے
اپنے ہاتھوں سے تم نے جلایا مجھے
میرے اوزون میں چھید کیوں کردےے
سارے افشا مرے بھید کیوں کردےے
میں نے کیا کیا کیا ہے تمہارے لےے
اور تم نے مرے ساتھ کیا کیا کیا
میری نس نس سے میرا لہو تک پیا

//]]>