چاکلیٹ والا

زرین قمر

آپ بہت شوق سے ٹافیاں اور مٹھائیاں کھاتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہ سب بنانے کے لیے کسی نے کتنی محنت کی ہوگی…. آج میں آپ کو ایک ایسے شخص کی کہانی سناتی ہوں جس کو مٹھائیاں بہت پسند تھیں اور وہ بچوں سے بھی بہت پیار کرتا تھا۔ اس شخص کا نام ’ملٹن ہارشلےتھا‘ تھا۔ اس کی تعلیم بہت کم تھی اور تیس سال کی عمر تک اس نے بہت کم تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ ایک ناکام زندگی گزار رہا تھا لیکن پھر ایک چھوٹے سے قصبے میں اُس نے اپنے کامیاب سفر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ امریکا کا کامیاب ترین اور امیرترین آدمی بن گیا۔
اس نے بہت کم عمری سے ٹافیاں بنانے کا کام شروع کیا۔ یہ کام اس نے ’فلاڈلفیا‘ کے شہر سے شروع کیا تھا۔پہلے ناکامی ہوئی پھر اس نے دوسری کوشش ’نیویارک‘ سے کی ۔یہاں بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ تیسری کوشش اس نے ’لینگسٹر ‘کے شہرسے کی جس میں وہ کامیاب رہا اس بار اس نے کیریمل بنانے کی کمپنی کھولی جو کامیاب رہی اور اس میں چودہ سو لوگوں کو ملازمتیں بھی ملیں، اس کا کیریمل ساری دنیا میں مشہور ہوا اور اس کی ڈیمانڈ بڑھتی گئی۔ ۳۹۸۱ءمیں اس نے شکاگو میں ایک نمائش کے دوران جرمن چاکلیٹ مشینری خریدی اور پھر’ لینگسٹر‘ میں اس نے اپنے کیریمل پر چاکلیٹ کوٹنگ کرنا شروع کی جو بہت پسند کی گئی۔ آہستہ آہستہ اس نے تبدیلیاں کیں اور ایک ملک چاکلیٹ بنانے میں کامیاب ہوگیا جو کہ بہت پسند کی گئی۔
اس نے اپنا کام یہاں پر ختم نہیں کیا بلکہ مزیدمحنت کی اور ایک قدم آگے بڑھا۔ اس نے چاکلیٹ انڈسٹری فروخت کردی اور ’ڈیری ٹاﺅن شپ‘ چلا گیا جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔ اس نے وہاں ایک نئی چاکلیٹ انڈسٹری لگائی۔ کام کے ساتھ ساتھ اس نے ملازمین کے لیے گھر، اسکول اور پارک بنائے تاکہ اس کے ورکرز اور ان کے بچے پُرسکون زندگی گزار سکیں یہ اپنے طرز کا بہترین ماڈل ٹاوُن تھا۔ اس ٹاوُن کے اسکول میں دو ہزار بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کرتے تھے اور تمام طالب علموں کو فیملی کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ ۵۴۹۱ءمیں اپنے انتقال سے پہلے اُس نے اپنی ساری دولت ”ملٹن ہارشلےتھا اسکول ٹرسٹ“ کو منتقل کردی تھی۔

٭….٭

چاکلیٹ دراصل ایک خاص قسم کے بیج سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ بیج ذائقے میں بے حد کڑوے ہوتے ہیں۔ انھیں ’کوکا‘کہتے ہیں۔ کوکا کے بیجوں سے جب چاکلیٹ تیار ہوتی ہے تو یہی چاکلیٹ بہت مزیدار اور خوشبو دار ہوجاتی ہے، پھر لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔
چاکلیٹ کیسے تیار ہوتی ہے؟
سب سے پہلے ’کوکا‘ کے بیجوں کو اچھی طرح خشک کیا جاتا ہے۔ پھر صاف کرکے اُنھیں بھون لیا جاتا ہے۔ پھر ان کے چھلکے اُتارلیے جاتے ہیں۔ اب ان بیجوں کو خوب پیسا جاتا ہے۔ کوکا کے بیج جب پاﺅڈر بن جاتے ہیں تو ان کو مزید کئی مرحلوں سے گزار کر دو صورتوں میں لایا جاتا ہے۔ ایک ٹھوس چاکلیٹ اور دوسری مائع چاکلیٹ۔ یہی چاکلیٹ بعد میں ٹافیاں، چاکلیٹ دودھ، کیک اور مٹھائیاں بنانے میں استعمال کی جاتی ہیں۔
بھورے رنگ کے علاوہ چاکلیٹ سفید رنگ میں بھی تیار کی جاتی ہے۔ عام طور پر چاکلیٹ میں بادام اور مونگ پھلیاں ملا کر ٹافیاں تیار کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ دودھ، بسکٹ اور ناریل کے ساتھ بھی چاکلیٹ کی ٹافیاں تیار کی جاتی ہیں۔ بہت سے بچے چاکلیٹ پاﺅڈر دودھ میں ڈال کر پیتے ہیں۔
چاکلیٹ صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے مگر بہت زیادہ چاکلیٹ کھانے سے انسان خطرناک بیماریوں میں بھی مبتلا ہوسکتا ہے۔

٭….٭

//]]>