بدھو گھر کو آیا

عباس العزم

یہ مت پوچھو کیا کیا لایا
کیا کچھ کھویا، کیا کچھ پایا
دھوکے باز سے دھوکا کھایا
خیر سے بدھو گھر کو آیا

بھاگ چلا تھا، گھر سے لڑ کر
بھائی بہن سے خوب جھگڑ کر
لیکن آخر کو پچھتایا
خیر سے بدھو گھر کو آیا

گرتے پڑتے روتے گاتے
قدم قدم پر بین بجاتے
راہ میں کتنی ٹھوکر کھایا
خیر سے بدھو گھر کو آیا

پھوٹی کوڑی پاس نہ دھیلے
کیا کیا اس نے پاپڑ بیلے
لیکن کچھ بھی کام نہ آیا
خیر سے بدھو گھر کو آیا

راہ میں تھک کر چور ہوا جب
چلنے سے معذور ہوا جب
پھول سا چہرہ جب مرجھایا
خیر سے بدھو گھر کو آیا

//]]>