بی مانو کا راز

عافیہ رحمت

bi mano ka raaz بی مانو کا راز

سیانے کہتے ہیں کہ راز اگر زبان تک نہ آئے تو ہی راز رہتا ہے

’’ہاے اللہ تم کتنی حسین ہو سمبا، امی تمھاری سالگرہ پر کیک بنائیں گی۔‘‘ سمبا کے بڑے بھائی کیپر نے رشک سے کہا۔ سمبا نے اپنی بھوری آنکھیں ایک ادا سے پٹپٹائیں، اپنی چمکیلی جلد پر زبان پھیری اور دُم کو اپنے گرد گول گھما کر نازک اندام، نخریلی دُلھن کی طرح بیٹھ گئی۔
بات صرف اتنی سی تھی کہ جب سے سمبا پید اہوئی تھی۔ کیک کھانے کے چکر میں دو دفعہ مرتے مرتے بچی تھی۔ بی مانو کو اپنی اس اولاد سے حد درجہ پیار تھا۔ ویسے تو بی مانو کو اپنے چاروں بچے ہی جی جان سے پیارے تھے اور وہ بارہا کہہ چکی تھیں کہ میں یہ تم سب کی ہی سالگرہ کے لیے بنارہی ہوں اور تم سب ہم عمر ہو مگر جن والہانہ نظروں سے وہ سمبا کو دیکھا کرتی تھیں وہ ہر ایک کے لیے نہیں تھیں۔
چار انڈے، دو کپ میدہ تو وہ کب کا چھپا چھپا کر جمع کرچکی تھیں، مکھن کی ٹکیا اڑا لانے میں ہنوز وہ ناکام تھی۔ شکر اور سوڈا بھی لانا ذرا مشکل کام نہ تھا۔ بی مانو نے ایک بار پھر غُرّا کر کیپر کو دیکھا: ’’خبردار! جو گھر سے باہر کسی کو بھنک بھی پڑی، بس دو دن ہیں۔‘‘ گلابی گلابی، میٹھا میٹھا مزے مزے کا کیک… گول غبارے جیسا، روٹی جیسا نرم… سمبا خوابوں کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔
٭…٭
کیپر کے پیٹ میں بہت ہی زیادہ درد تھا۔ اس نے اسکول کے کسی ساتھی کو، پڑوس میں رہنے والے خرگوشوں کے بچوں کو، حتیٰ کہ اپنی سب سے پکی ہم راز مچھلیوں کو بھی یہ خبر نہیںسنائی تھی۔ اس نے سوچا… بہت سوچا اور پھر انتہائی راز داری کے ساتھ مچھلیوں کو بتانے کا فیصلہ کرلیا۔ مچھلیاں کون سا سمندر سے باہر آتی ہیں، نہ ہی ان کی زبان امی کی کبھی سمجھ میں آسکتی ہے اور میں اگر ان کو بتادیتا ہوں تو کوئی نقصان نہیں ہے بلکہ امی کو بھی پتا بھی نہیں چلے گا۔
وہ خراماں خراماں سمندر کے کنارے ٹہلنے لگا۔ بی مانو کی خوفناک آنکھیں اس کو روک رہی تھیں مگر اس نے انتہائی راز داری کے ساتھ نیلے آسمان کے عکس کو دیکھتے ہوئے ہلکے سے کہا: ’’نیلی مچھلی کل میری امی میٹھا میٹھا مزے مزے کا کیک بنائیں گی۔‘‘ نیلی مچھلی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں…‘‘ واقعی تمھاری امی خود بنائیں گی؟‘‘
’’اے چپ کرجائو… اور بھول جائو میں نے تم سے کچھ کہا ہے اور خبردار جو تم نے اس بات کا ذکر کسی اور سے کیا… ٹھیک ہے!! ‘‘
اب اس کو اپنا پیٹ ہلکا محسوس ہورہا تھا۔ ڈر کی وجہ سے اب وہ تھوڑا تیز رفتاری سے چلنے لگا تھا۔ ’’اچھا تو تم کل ملنے تو آئو گے ناں۔‘‘ نیلی مچھلی نے اس کی تیز رفتاری کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں میں کل بالکل نہیں آئوں گا۔‘‘ کیپر اب باقاعدہ بھاگ رہا تھا۔
٭…٭
سمبا جیسے ہی آنکھیں بند کرتا چھم سے کیک کا تصور اس کے سامنے آجاتا۔ امی نے بہت سختی سے منع کیا ہے… لیکن میں کیا کروں۔ یہ جو لمبا سا درخت ہے اس کے کون سے کان ہیں۔ میں اس کو بتادوں تو کیا ہوگا…؟ سمبا بے چین سا ہوگیا۔ وہ درخت کے پاس گیا دو، تین بار ہاتھ پھیرا… پھر بہت آہستگی سے بولا: ’’پتا ہے کل میری امی میٹھا میٹھا مزے مزے کا کیک بنائیں گی۔ میری سالگرہ جو ہے۔‘‘ ہوا کے شاندار جھونکے سے سارا درخت جھوم اُٹھا۔ ایسا لگا وہ لہک لہک کر یہ گانا گا رہا ہو۔
’’میٹھا میٹھا مزے مزے کا کیک کھائیں گے۔‘‘
’’میٹھا میٹھا مزے مزے کا کیک کھائیں گے۔‘‘
سمبا نے ایک بھرپور نظر درخت کی بے تحاشا جھومتی ڈالیوں پر ڈالی اور پتوں کی آوازوں کو محسوس کیا۔ پھر وہ ڈر گیا۔ ’’اوہو امی نے تو بہت سختی سے منع کیا تھا… چلو یہ درخت کون سا بولتا ہے۔ امی کے تو فرشتوں کو بھی پتا نہیں چلے گا… درخت کے اندر کھوہ میں بیٹھی گلہری مسکرا رہی تھی اور اپنے بچوں کو جلدی سونے کی تاکید کررہی تھی تاکہ کل وہ صبح منھ اندھیرے ہی بی مانو کے گھر جاسکے۔ مزے دار، نرم گرم کیک وہ بالکل بھی کھونا نہیں چاہتی تھی۔
٭…٭
بی مانو کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ ویسے تو وہ بہت دفعہ بیکری والے کو کیک بناتے ہوئے دیکھ چکی تھی مگر آج وہ خود پہلی دفعہ کیک بنانے والی تھی۔ معمول سے کچھ زیادہ پہلے ہی وہ اُٹھ گئی تاکہ ناشتے پر وہ گرما گرم لذیذ روٹی جیسا کیک بنا کر بچوں کو حیران اور خوش کرسکے۔ بچوں کے شور سے بچ کر وہ بہت آرام سے اپنے کام نمٹانے لگی، ورنہ بچوں کے تنگ کرنے کے دوران کہیں کیک خراب نہ ہوجائے۔ یہ سوچ کر وہ منھ ہاتھ دھونے کچن میں چلی آئی۔
احتیاط کے پیش نظر اس نے روشنی بھی نہیں کی اور بہت آہستگی سے ایک ایک کرکے انڈے توڑنے لگی، وہ خود ہی یہ سوچ کر خوش ہورہی تھی کہ آج وہ کیک بنارہی ہے اور کوئی بھی نہیں جانتا۔
سارا کام وہ ایک ماہر شیف کی طرح سرانجام دے رہی تھی۔ پھر اس نے آخری کام بھی کر ہی ڈالا اور پنجوں کے بل جھک کر کیک کا سانچہ اون میں رکھ دیا۔ آدھا گھنٹہ تو لگے گا ضرور… یہ سوچ کر وہ ٹہلنے کے ارادے سے باہر کو نکل گئی۔ ہلکی ہلکی خنکی ہوا میں رچی ہوئی تھی۔
شب کا اندھیرا، اُجالے میں تبدیل ہورہا تھا۔ بی مانو اس منظر پر عاشق سی ہوگئیں۔ سورج کی نرم کرنوں نے پہلا سلام بی مانو کو ہی کیا تھا۔ وہ بڑے سے درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی۔ ’’ارے جلدی کرلو… میں کہتی ہوں آج میں کسی کا انتظار بھی نہیں کروں گی اور نکل جائوں گی بی مانو سے ملنے…‘‘ کھڑ پھڑ کی آوازیں بھی بہت تیز تھیں اور بی گلہری کی آواز تو بالکل واضح اور صاف تھی۔
’’ارے یہ کیا ہوگیا۔ بی گلہری مع چھے بچے اور میرے چار بچے… اور یہ ننھا سا کیک، وہ بہت ہی پریشان ہوگئی۔ تقریباً بھاگتی ہوئی آئی اور زور سے دروازہ بند کیا۔ شاندار گلابی کیک کی میٹھی میٹھی خوشبو نے اس کا استقبال کیا تھا۔ کیک پھول کر غبارہ سا بن رہا تھا۔ بی مانو نے اپنی پھولتی سانسوں کو قابو کیا اور لمبا سانس اندر کھینچا۔ ’’آخاہ ہ ہ ہ…‘‘ اب میری محنت وصول ہونے کا وقت ہے۔ بچے بھی ننھی منی آنکھیں کھول رہے تھے۔ وہ بہت احتیاط کے ساتھ ابھی کیک نکال ہی رہی تھی کہ دروازہ بج اُٹھا اور اس کے ساتھ ہی کھڑکی سے دھپ سے ایک گلہری کا بچہ اندر کودا… پھر دوسرا پھر تیسرا… اور … پھر اجازت کی ضرورت ہی نہ رہی۔
بی مانو نے بڑے سے پتیلے سے کیک کو ڈھانپ دیا اور مسکراتے ہوئے، بے وقت آنے کا سبب پوچھا: ’’ارے آج اس وقت۔‘‘ بی گلہری زبردستی بغل گیر ہوگئیں۔
’’دو تین دن سے تم کو یاد کررہی تھی، آج سوچا صبح ہی مل آئوں پھر دن بھر کام کاج میں سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی۔‘‘
’’آ… چھا… آ آ‘‘ بی مانو نے آنکھیں پھیرلیں کیوں کہ آنکھوں میں سخت ناگواری اور کوفت در آئی تھی۔
’’چاے پیوگی…؟‘‘ اس نے بڑی سی پتیلی چولھے پر چڑھائی۔
’’ہاں… ہاں ضرور… میری اپنی بہن کا گھر ہے۔ چاے کے ساتھ واے بھی ہو تو مزہ آجائے۔‘‘ بی گلہری کی خوشی دیدنی تھی۔
’’ مگر… وہ ایسا… ہے۔‘‘
’’مگر وگر کچھ نہیں مجھے پتا ہے۔ تندور ابھی تک گرم ہے اور مزے دار، تازہ کیک کی خوشبو باہر تک پھیلی ہوئی ہے۔‘‘
بی گلہری نے سارے بند توڑ ڈالے، گویا پتیلا ہی اُلٹ دیا۔ بی مانو کی بھنویں سکڑ گئیں۔ چاے میں زہر ملانے کا دل چاہنے لگا۔ وہ انتہائی مردہ دلی سے چاے پیالوں میں اُنڈیلنے لگی۔ تھوڑی دیر میں ساری خوشی کافور ہوچکی تھی۔ کیک کاٹ کر مناسب ٹکڑے کیے اور بڑی مشکل سے دو ٹکڑے بچا کر شکر کے مرتبان میں چھپادیے۔ ابھی تو اس کی بھوک ہی اُڑگئی تھی۔ بچے خوشی خوشی ناچ گا کر کھارہے تھے۔ بی گلہری بھی کچھ تعریفی اور کچھ حیرت سے بھرپور کلمات ادا کررہی تھی مگر وہ تو کچھ اور ہی سوچ رہی تھی۔ دُکھ کی چادر اوڑھے وہ ان سب سے الگ سی رہتی۔ بی گلہری کے بچوں نے خوب گرایا اور کھایا کم…‘‘ پیٹ پوجا کرکے وہ سب کے سب یہ جا وہ جا… کیپر اور سمبا بھی ان کے ساتھ ہی باہر کھیلنے لگے تھے وہ اُداس سی سمندر کے کنارے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
’’ارے یہ… یہ کیا…؟‘‘ سمندر کی لہریں آج کچھ عجیب سا شور کررہی تھیں۔ اس نے بغور سطح سمندر کا جائزہ لیا تو نیلی، بھوری، چمکیلی، گیروی، کاسنی ہر طرح کی مچھلی کا منھ کھلا ہوا تھا اور وہ آسمان کی طرف منھ کرکے کہہ رہی تھیں:
’’میٹھا میٹھا مزے مزے کا کیک کھائیں گے‘‘
دو گرم آنسو اس کی آنکھوں سے پھسلے۔ اچھا تو تم کو بھی پتا چل گیا۔ بی مانو بھاگتی ہوئی گھر آئی شکر دان سے کیک کے ٹکڑے نکالے اور اس کے ڈھیروں باریک ٹکڑے کرکے سمندر میں ڈال آئی۔
سیانے کہتے ہیں کہ ’’راز اگر زبان تک نہ آئے تو ہی راز رہتا ہے‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>