بھول کے رنگ

رمشا جاوید

’’حمزہ بیٹا، ذرا بات سننا؟‘‘ حمزہ ابھی مرکزی دروازہ بند کرکے پلٹا ہی تھا کہ سامنے گھر کی کھڑکی سے جھانکتیں بے بی آنٹی نے اسے جلدی سے آواز دی۔
’’جی آنٹی؟‘‘ حمزہ ان کی کھڑکی کے پاس آگیا۔
’’بیٹا تمھارے انکل اپنا موبائل گھر پر بھول کر دکان چلے گئے ہیں۔ کیا تم یہ موبائل انھیں دے آئوگے؟‘‘ بے بی آنٹی نے پریشانی سے اس سے پوچھا۔
’’جی بالکل، دے آئوں گا۔‘‘ حمزہ سعادت مندی سے بولا۔
’’اور بیٹا اپنے انکل سے کہنا واپسی پر دھنیا اور تھوڑی ادرک لیتے آئیں۔ موبائل حمزہ کو دیتے ہوئے آنٹی نے ہدایت دی۔ بے بی آنٹی محلے بھر کی بے بی آنٹی تھیں۔ خوش مزاج اور خوش گفتار۔ کیا بڑے اور کیا بچے سب ہی ان سے مانوس تھے۔ حمزہ نے دکان پہنچ کر انکل کو موبائل دیا اور بے بی آنٹی کا پیغام بھی دے دیا۔ انکل کی اپنی سبزی کی دکان تھی۔ انھوں نے حمزہ کا شکریہ ادا کیا اور بطور تحفہ ایک گاجر زبردستی اسے تھمادی۔ جو حمزہ نے دکان سے نکلنے کے بعد ایک مانگنے والے بچے کو دے دیا۔ بائیک اسٹارٹ کرتے ہوئے حمزہ کی نظر شعیب پر پڑی جو بیکری کے باہر بنچ پر سر پکڑے بیٹھا تھا۔ بے اختیار حمزہ نے بائیک کی چابی نکالی اور چابیوں کا گچھا انگلی میں گھماتے ہوئے شعیب کے پاس چلا آیا۔
’’خیریت ہے شعیب…؟‘‘ شعیب کے قریب جا کر حمزہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
’’آ… ہاں… ہاں خیریت ہے۔‘‘ شعیب اچانک حمزہ کو اپنے پاس دیکھ کر گڑبڑا گیا۔
’’لیکن تم مجھے خیریت سے نہیں لگ رہے۔‘‘ حمزہ نے گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
’’کوئی پریشانی ہے تو بتائو۔ دوست ہی اگر دوست کے کام نہ آئے تو کیا فائدہ ایسی دوستی کا۔‘‘
’’یار امی کی کل رات طبیعت اچانک بہت خراب ہوگئی تھی۔ ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹر نے ایڈمٹ کرنے کا کہا ہے۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہاں سے لائوں اتنے پیسے۔‘‘ شعیب کی آنکھوں میں واضح طور پر نمی محسوس کی جاسکتی تھی۔ حمزہ سر جھکا کر کچھ سوچنے لگا۔
شعیب متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ شعیب کے ابو روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات پاگئے تھے۔ کالج کی پڑھائی کے بعد وہ بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتا تھا کیوں کہ پانچ بہن بھائیوں میں وہ ہی سب سے بڑا تھا۔ اس کی امی گھر پر سلائی کڑھائی کا کام کرتی تھیں اور یوں کھینچ تان کر گھر کا گزارہ ہورہا تھا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد حمزہ بغیر کچھ کہے وہاں سے اٹھ گیا۔ شعیب خاموشی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ وہ بھی جانتا تھا کہ حمزہ اس حوالے سے اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا تھا۔ وہ خود اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے تھا۔ بائیک اسٹارٹ کرکے حمزہ سیدھا وہاب کے گھر چلا گیا۔ وہاب اس کا بہترین دوست تھا جو بائیک بیچنے کا کام کیا کرتا تھا۔ اس کے گھر جا کر حمزہ نے اس سے اپنی بائیک بیچنے کی بات کی۔
’’دماغ تو ٹھیک ہے تمھارا…؟‘‘ اس کی بات سن کر وہاں نے اسے ڈانٹا پھر پوچھا۔
’’تم بائیک کیوں بیچنا چاہتے ہو۔‘‘
’’مجھے رقم کی ضرورت ہے۔‘‘ حمزہ مختصراً بولا۔
’’کتنی چاہیے بتائو؟ میں تمھیں بطور قرض دے دوں گا۔‘‘ وہاب نے اسے آفر کی۔
’’نہیں میں قرض ادا نہیں کرسکتا۔‘‘ حمزہ دو ٹوک بولا۔
’’آخر تمھیں ایسی کیا ضرورت پیش آگئی؟‘‘ وہاب نے خفگی کا بھرپور اظہار کیا تو مجبوراً حمزہ نے اسے ساری بات بتادی پھر بولا۔
’’دیکھو یہ بات تم کسی سے نہیں کرنا۔ اگر شعیب کو پتا چلے گا تو اسے برا لگے گا۔‘‘
’’تم ایک بار پھر سوچ لو؟ یہ بائیک تم نے انکل سے کتنی ضد کرکے خریدوائی تھی۔‘‘ وہاب نے آخری بار اس کے ارادے کو جانچنے کے لیے کہا لیکن حمزہ کے ارادے مضبوط تھے۔ ’’ٹھیک ہے میں یہ بائیک تم سے خرید رہا ہوں۔‘‘ وہاب نے بائیک کا جائزہ لینے کے بعد باسٹھ ہزار (۶۲) میں بائیک کو خرید لی۔ رقم ہاتھوں میں لیتے ہی حمزہ نے پہلی فرصت میں بیکری کی طرف دوڑ لگادی۔ تقریباً پندرہ منٹ لگے اسے بیکری تک پہنچنے میں۔ اس کی سانس بری طرح پھول رہی تھی۔ مگر شعیب وہاں موجود نہ تھا۔ حمزہ نے اسے فون کیا تو معلوم ہوا وہ جناح ہسپتال میں اپنی امی کو لے کر گیا ہے۔ ان کی طبیعت مزید بگڑنے لگی تھی۔ حمزہ رکشہ لے کر جناح ہسپتال پہنچا۔ شعیب کی امی کی طبیعت واقعی بہت خراب تھی اور وہ بنچ پر غنودگی کے عالم میں لیٹی ہوئی تھیں۔ حمزہ نے بغیر کچھ کہے شعیب کو بازو سے پکڑا اور اس کے ہاتھوں میں پورے باسٹھ ہزار رکھ دیے۔
’’یہ… یہ کیا…؟‘‘ شعیب نے حیرت سے پیسوں کی جانب دیکھا۔
’’یہ تمھارے پاس کہاں سے آئے؟‘‘ وہ حیرت اور خوشی سے پوچھ رہا تھا۔
’’بس جہاں سے بھی آئے۔ اس سے تم آنٹی کا علاج کروائو…‘‘ حمزہ نے کہا اسی وقت ایک ڈاکٹر شعیب کے پاس آیا۔
’’میں آپ سے کہہ رہا ہوں آپ انھیں ایڈمٹ کروائیں انھیں کمزوری ہوگئی ہے۔ ڈرپ وغیرہ لگیں گی…‘‘
’’جی جی… ڈاکٹر انھیں ایڈمٹ کرلیں۔ شعیب ڈاکٹر کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ حمزہ وہاں مزید رکنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ تیز تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔ وہ شعیب کی نظروں سے نظریں ملا کر اسے شرمندہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔ ڈاکٹر سے بات کرکے شعیب پلٹا تو حمزہ جاچکا تھا۔
٭…٭
’’اوہو…‘‘ گھر کے دروازے کے پاس پہنچ کر حمزہ نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
’’امی نے بجلی کا بل جمع کروانے کے لیے دیا تھا۔ اتنی اہم بات میں بھول گیا۔‘‘ دروازے پر کھڑا وہ اب کشمکش میں مبتلا تھا۔
’’کیا کروں… اب تو پوسٹ آفس بھی بند ہوچکا ہوگا۔ جھوٹ بول دوں کہ جمع کروادیا… پھر کل جمع کروادوں گا۔‘‘ اس کے دل میں خیال آرہا تھا۔ پورے راستے تو وہ بائیک کے بارے میں سوچتا آیا تھا کہ ابو سے کہا بہانہ بنائے گا۔ جھوٹ بول کر وہ اپنی نیکی ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اور امی، ابو کے غصے کا سوچ کر ہی اس کا دل بند ہورہا تھا۔ اسی کشمکش میں اس نے بیل بجادی۔ دوسری بیل پر سمیعہ نے دروازہ کھولا۔
’’بھیا آگئے… بھیا آگئے…‘‘ وہ ہمیشہ ہی حمزہ کو دیکھ کر خوشی سے نعرہ لگاتی تھی۔ مگر آج اس کا نعرہ حمزہ کو برا لگ رہا تھا۔ وہ چھپ کر اپنے کمرے میں جانا چاہتا تھا مگر امی اپنے کمرے سے نکلیں۔
’’بیٹا بل جمع کروادیا…؟‘‘ پہلا سوال ہی یہی تھا جس نے اس کی پریشانی کو بڑھادیا۔
’’آ… ہاں… نن نہیں…‘‘ حمزہ کی زبان پہلے جھوٹ بولنے لگی تھی مگر اگلے ہی لمحے اس نے اپنی زبان پر قابو پالیا۔
’’سوری امی… میں بھول گیا… مگر وعدہ کرتا ہوں کل ہر حالت میں جمع کروادوں گا۔‘‘ وہ جلدی جلدی بولا۔
’’کل آخری تاریخ ہے بل جمع کروانے کی۔‘‘ امی نے کہا تو حمزہ نے سرجھکالیا۔
’’چلو کوئی بات نہیں۔ اندر چائے رکھی ہے پی لو۔ تمھارے ابو بھی گھر آگئے ہیں۔‘‘ امی اس کو دیکھ کر بولیں۔
’’ابو…؟ آج جلدی آگئے؟‘‘ حمزہ حیرت سے کمرے میں داخل ہوا۔
’’السلام علیکم ابو۔‘‘ ڈرتے ڈرتے اس نے ابو کو سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘ ابو جو تکیہ منھ پر رکھے لیٹے تھے اسے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئے۔
’’میں تمھارا ہی انتظار کررہا تھا۔‘‘
’’مم… میرا… خیریت ابو؟‘‘ حمزہ نے پوچھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں وہاب نے بائیک بیچنے کی اطلاع ابو کو تو نہیں دے دی۔
’’ہاں دراصل میری بائیک پنکچر ہوگئی ہے تو اسے مکینک کو دے کر آیا ہوں‘ اور بھی کچھ چھوٹی موٹی خرابی ہوگئی تھی۔ اب کچھ دنوں کے لیے مجھے تمھاری بائیک لینی ہوگی۔‘‘ ابو اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے بولے۔
’’مم… میری بائیک…‘‘ چائے حمزہ کے حلق میں اٹکنے لگی۔
’’ہاں تمھاری بائیک۔‘‘ ابو اطمینان سے بولے۔ حمزہ پریشان ہوگیا۔
’’اب کیا کروں… کیا بولوں…‘‘ وہ سوچنے لگا تو ابو نے کہا۔
’’کیوں برخوردار… اپنی بائیک دینے کا سنتے ہی پریشان ہوگئے؟‘‘ ابو کے لہجے میں شکوہ تھا۔
’’نہیں ابو ایسی بات نہیں۔‘‘ اچانک ہی ڈھیر ساری ہمت حمزہ کے اندر آگئی۔
’’دراصل میں نے اپنی بائیک بیچ دی ہے۔‘‘
’’بیچ دی… مگر کیوں…؟’’ زمانے بھر کی حیرت ابو کے لہجے میں سمٹ آئی تھی۔
’’میرے دوست کو پیسوں کی ضرورت تھی۔‘‘ حمزہ نے دھیمے لہجے میں ساری بات انھیں بتائی، اس کا سر جھک گیا تھا۔ پھر بالکل اچانک ابو نے اٹھ کر اسے گلے سے لگالیا۔
’’آج تم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ تم میرے بیٹے ہو۔ میں مکینک کو اپنی بائیک دے کر واپس آرہا تھا تو مجھے وہاب ملا اور اس نے ساری بات بتائی جو گھر آکر میں نے تمھاری امی کو بتائی، میں بس یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ میرا بیٹا مجھ پر بھروسہ کرتا ہے یا نہیں۔‘‘ ابو نم آنکھوں کے ساتھ بولے۔
’’اور ہمیں فخر ہے کہ ہمارا بیٹا جھوٹ نہیں بولتا۔‘‘ امی بھی دروازے سے لگ کر کھڑی مسکرا رہی تھیں۔
’’ساری باتیں سن کر مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ ان سب کاموں میں تم بل جمع کروانا بھول گئے ہوگے اور مجھے خوشی ہے کہ تم نے ’’بھول‘‘ کو ’’جھوٹ‘‘ کا رنگ نہیں دیا۔ امی کی بات سن کر حمزہ نے حیرت سے انھیں دیکھا۔ کمرے کا منظر اس موسم کی طرح ہورہا تھا جس میں بارش کے بعد ہلکی ہلکی دھوپ نکل آتی ہے۔
٭…٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>