آدھی بہن

جاوید بسام

نواب صاحب کی حویلی کے کھانوں کی ہر طرف دھوم مچی ہوئی تھی مگر …

 

بہت عرصے پہلے کہیں بہت دور ایک نواب صاحب کی حویلی میں دو بہنیں کام کرتی تھیں۔ وہ دونوں کھانا پکانے میں ماہر تھیں۔ حویلی کا مطبخ ان کی عمل داری میں تھا۔ وہ دونوں اپنے فرائض منصبی ذمہ داری سے ادا کرتیں۔ نواب صاحب کو اچھے کھانوں کا شغف تھا۔ حویلی میں گاہے بہ گاہے مہمان بھی آتے رہتے تھے۔ جن کے لیے وہ مزے دار کھانے بناتیں۔ مطبخ کی الماریوں میں خوب صورت اور نفیس برتن سجے تھے۔ جو مختلف موقعوں پر استعمال کیے جاتے تھے۔ ان میں سونے اور چاندی کے منقش چمچے اور چھریاں بھی تھیں۔ برے بہن بہت دانا، اپنے کام میں ماہر اور خاموش طبع تھی جبکہ چھوٹی بہن بہت چالاک اور شوخ تھی۔ دونوں مل کر کھانا تیار کرتیں پھر چھوٹی انھیں خوب اہتمام سے پیش کرتی۔ وہ نواب صاحب اور دوسرے لوگوں کی پسند اور مزاج سے بخوبی واقف تھی۔ وہ ایسی با سے اجتناب کرتی جو ان کو بُری لگے۔ سب اس کے کام سے خوش تھے۔ اکثر نواب صاحب خوش ہو کر اسے انعام سے بھی نوازتے جو وہ لا کر بڑی بہن کو فخر سے دکھاتی، مگر وہ اسے کچھ حصہ نہیں دیتیت ھی۔ ہر چند کہ بڑی بہن چاہتی تھی کہ اسے بھی کچھ ملے مگر اسے مانگنا اچھا نہیں لگتا تھا۔
دن اسی طرح گزر رہے تھے کہ ایک روز چھوٹی بہن نے اس کو موتیوں کی ایک خوب صورت مالا دکھائی۔ اسے دیکھ کر بڑی کا دل للچایا اور وہ حرفِ مدعا زبان پر لے آئی۔ ’’واہ! یہ کتنی خوب صورت ہے، یہ مجھے دے دو۔‘‘
’’کیوں، یہ مجھے انعام میں ملی ہے؟‘‘ چھوٹی ترنت بولی اور مالا اپنی مٹی میں دبالی۔
’’کام تو ہم مل کر کرتے ہیں، مگر انعام ہمیشہ تم رکھ لیتی ہو۔‘‘ بڑی نے کہا۔
’’تم بھی وہاں آجایا کرو۔ تمھیں بھی انعام مل جائے گا۔‘‘ چھوٹی بہن بولی۔
’’میں کام کرکے تھک جاتی ہوں۔‘‘
’’بس تو پھر میں کیا کروں۔‘‘ یہ کہہ کر چھوٹی بہن مالا لے کر وہاں سے چلی گئی۔ بڑی بہن حق بجانب تھی مگر وہ صلح جُو بھی تھی تو اس نے جھگڑا نہ کیا۔ یہ دیکھ کر سونے کا ایک چمچہ، چاندی کی چھری سے بولا: ’’تمھاری ان دونوں بہنوں کے بارے میں کیا راے ہے؟‘‘
چھری نے کہا: ’’دونوں بہت محنتی اور اپنے کام میں ماہر ہیں۔‘‘
’’دونوں نہیں، صرف بڑی بہن، چھوٹی تو اپنی چالاکی سے اس کا حصہ دبالیتی ہے۔‘‘ چمچہ بولا۔
’’میں سمجھی نہیں۔‘‘ چاندی کی چھری نے کہا۔
’’اچھا پہلے یہ بتائو کہ دانائی اور چالاکی میں کیا فرق ہے؟‘‘ چمچے نے پوچھا۔
’’میرا خیال ہے یہ دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں۔‘‘
سونے کے چمچے نے قہقہہ لگایا اور بولا: ’’بالکل غلط، ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ دانائی، عقل سے کام لینے اور چالاکی موقع سے فائدہ اٹھانے کا نام ہے۔ یہاں بڑی بہن دانا اور چھوٹی چالاک ہے۔ وہ اپنی چالاکی سے اچھے کھانے تیار کرنے کی تمام ذمہ داری خود لے لیتی ہے، حالاں کہ وہ اپنے کام میں اتنی ماہر نہیں ہے۔‘‘
’’مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔‘‘ چاندی کی چھری بولی۔
’’ایسا ہی ہے۔ تم دیکھنا ایک دن یہ راز طشت ازبان ہوجائے گا۔‘‘ چھری نے کندھے اُچکائے اور خاموش ہوگئی۔
دن گزرتے رہے۔ بڑی بہن اسی طرح محنت کرتی رہی اور چھوٹی آئے دن انعام بٹورتی رہی۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ حویلی میں بہت خاص مہمان آئے۔ دونوں نے کھانوں کی تیاری شروع کی، مگر ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ بڑی بہن بیمار ہوگئی، اسے اچانک بخار چڑھا اور چکر آنے لگے۔ نواب صاحب کی بیگم نے فوراً طبیب کو بلایا، جس نے دوا دی اور آرام کرنے کا مشورہ دیا۔ بڑی بہن کو اپنی ذمہ داری کا احساس تھا۔ وہ کام کرنا چاہتی تھی مگر چھوٹی نے کہا کہ میں سب سنبھال لوں گی۔ بڑی بہن دوا کھا کر سوگئی۔ اب چھوٹی بہن نے کام شروع کیا تو اسے اپنی حیثیت کا اندازہ ہوا۔ اسے نہ یہ معلوم تھا کہ بادامی قومے میں پیاز کتنی ڈلتی ہے، نہ یہ کہ بہاری کبابوں میں مصالحوں کا تناسب کیا ہوگا اور نہ یہ کہ متنجن کو کتنی آنچ پر پکایا جاتا ہے، کیوں کہ وہ تمام کام پانی بڑی بہن سے پوچھ کر کرتی تھی۔ وہ بوکھلائی ہوئی پورے مطبخ میں بھاگی پھر رہی تھی مگر اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ سونے کے چمچے نے چاندی کی چھری کو کہنی ماری اور بولا: ’’لو دیکھو! آج اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا ہے۔‘‘
چھوٹی بہن دوڑی دوڑی بڑی بہن کے کمرے میں بھی گئی، مگر وہ بے سدھ سورہی تھی۔ اس نے ہلا جلا کر کچھ پوچھنا چاہا، مگر غنودگی میں اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ خیر چھوٹی نے جیسے تیسے کھانے تیار کیے مگر وہ خوش نظر نہیں آرہی تھی۔
رات کو مہمان آئے۔ نواب صاحب کی حویلی کے کھانوں کی ہر طرف دھوم مچی ہوئی تھی، مگر اس دن جب نواب صاحب اور مہمانوں نے کھانا کھایا تو انھیں بالکل مزہ نہ آیا۔ انھوں نے جلد ہی کھانے سے ہاتھ روک لیے۔
چھوٹی بہن دور کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ پھر بیگم صاحبہ نے اسے بلایا اور بتایا کہ اس نے کھانا اچھا نہیں پکایا۔ اسے سرزَنِش کی گئی۔ وہ چالاک تھی اس نے کوئی اونگی بونگی وضاحت نہیں کی۔ بس خاموشی سے گردن جھکائے وہاں سے نکل آئی۔
مطبخ میں آکر وہ کرسی پر ڈھے گئی۔ وہ بڑبڑارہیت ھی۔ ’’اس میں میرا کیا قصور، میں نے اتنا سارا کام اکیلے بھی تو کیا ہے۔‘‘ اس کی بات سن کر سونے کے چمچے نے چاند کی چھری کو ٹھونکا مارا اور ہنس کر بولا: ’’لو جی آخر اس کہانی کا اختتام ہوہی گیا۔ آدھی بہن کا پول کھل ہی گیا۔‘‘ کچھ دنوں بعد بڑی بہن بیماری سے صحت یاب ہوئی تو اس نے دوبارہ پہلے کی طرح کام شروع کردیا۔
دن گزرتے رہے۔ بڑی بہن اسی طرح محنت سے مزے دار کھانے پکاتی رہی… چھوٹی بہن اسی طرح اس سے پوچھ پوچھ کا کام کرتی رہی… کیوں کہ اس نے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا۔ نواب صاحب کی حویلی میں اسی طرح مہمان آتے رہے… اور وہ اسی طرح فرمائشیں کرکے انواع اقسام کے کھانے پکواتے رہے… سونے کا چمچہ اسی طرح چاند کی چھری سے باتیں کرتا رہا… اور نواب صاحب اسی طرح انعام دیتے رہے… سب کچھ بظاہر پہلے جیسا ہی رہا۔ بس ایک تبدیلی آئی… اب وہ انعام چھوٹی بہن کو نہیں بلکہ بڑی بہن کو بلا کر دیا کرتے تھے کیوں کہ بہرحال وہ نواب تھے بے وقوف نہ تھے۔
٭…٭
اس تحریر کے مشکل الفاظ
مطبخ: کھانا پکانے کی جگہ، باورچی خانہ
عمل داری: عمل دخل، قبضہ، اثر و نفوذ
ترنت: فوراً، اسی وقت ؍ صلح جُو: صلح پسند
طشت ازبام ہوجانا: کسی چیز کا آشکار ہوجانا یا کھل جانا
متنجن: میٹھے چاول جن میں خشک میوہ جات بھون کر ڈالے جاتے ہیں ؍ اونگی بونگی: ناموزوں یا بے محل
سرزَنِش : بھرا بھلا کہنا، تنبیہ، ڈانٹ ڈپٹ کرنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>