عوام کا مقدمہ

تمہارے الفاط کھوکھلے ہیں، بے رنگ ہیں۔ ان میں جان دالو، ان میں رنگ بھرو پس منظر: ہم مےں اور سنی مےں یہ بحث چل پڑی کہ حکومت زےادہ طاقتور ہوتی ہے ےا عوام۔چھٹی کے دن تھے،اکثر اوقات بجلی بھی چلی جاتی تھی۔لہذا فےصلہ یہ ہوا کہ مےدان مےں اےک دوسرے کے مدّ مقابل آ کر خود ہی فےصلہ کر لےا جائے۔دالان مےں دربار سجا۔ہم بادشاہ سلامت بنے،فوزی آپی ہماری طرف تھےں وہ ملکہ عالیہ بنےں۔سنی اور عفت عوام بن گئے۔ ٹیپو ان چکروں سے دور بھاگنا چاہتا تھا ،اسے وزےر بنا دےا گےا۔فوزی آپی اکنامکس پڑھا کرتی تھےں،انہوں نے کچھ اُصول طے کئے اور ہم نے کھےل شروع کےا۔
منظر: ہم اور فوزی آپی دو بڑی بڑی کرسیوں پر بادشاہ اور ملکہ بنے بےٹھے ہےں۔
٭….٭
فوزی آپی:بادشاہ سلامت کہےے، آپ کو ہمارے ہاتھ کے ٹنڈے پسند آئے۔
ہم:(سہم کر) جی ملکہ عالیہ، ساری زندگی آپ کے ہاتھ سے ڈنڈے کھائے ہےں،ان سے تو یہ ٹنڈے ہی غنےمت ہےں۔
فوزی آپی:بتائےے آج کھانے مےں کےا کھائےں گے؟
ہم:(تابعداری سے) جو آپ کا دل چاہے کھلا دےجئے گا۔
فوزی آپی:بس تو پھر آج کا کھانا ہم باہر کھائےں گے،بروسٹ اور برگر،وزیرِ مملکت سے کہےے گا رکشہ لا دےں!
(وزےر کا نام لےتے ہی ٹیپواندر داخل ہوتا ہے)
ٹےپو: جہاں پناہ ! عوام کے دو نمائندے آپ سے ملاقات کی اجازت چاہتے ہےں!
ہم:(منہ بنا تے ہوئے) اس وقت؟ (ہاتھ مےں بندھی گھڑی دےکھتے ہوئے) کےا انہوں نے اپائنٹمنٹ لےا تھا؟
ٹیپو:(سر کھجا کے) یہ تو آپ انہی سے پوچھےئے، مےں بلاتا ہوں۔
(ٹیپو باہر چلا جاتا ہے، اور کچھ دےر کے بعد سنی اور عفّت کے ساتھ اندر آتا ہے)
سنی:آداب بادشاہ حضور!
عفّت: آداب ملکہ حضور!
ہم:(رعب سے) کہو کےسے آنا ہوا!
سنی:(لاپروائی سے) اےسے ہی ۔۔بور ہورہا تھا ،سوچا چل کر گپ شپ کرتے ہےں۔
فوزی آپی:حدِّ ادب۔
ہم:(دھاڑ کر)گستاخ!
سنی: جی وہ فصل اگانے کا زمانہ آگےا ہے، ہمےں بےج اور کھاد وغےرہ خرےدنے کےلئے قرضہ چاہئے۔
فوزی آپی:ٹرمز اےنڈ کنڈےشنز کےا ہوں گی؟
عفّت:(حےرانی سے) جی۔۔۔کےا کہا؟
ہم:ٹھےک ہے،مل جائے گا قرضہ،لےکن تمہےں دو تہائی فصل ہمےں دینی ہوگی۔
عفّت:ہم تو آپ کو صرف دہائےاں ہی دے سکتے ہےں۔
فوزی آپی:کےا؟
ٹےپو: جی ان کا مطلب ہے کہ یہ اےک دہائی حصہ دے سکتے ہےں۔
ہم:(فےصلہ کرتے ہوئے)نہ دہائی نہ تہائی،بےچ کی بات کرتے ہےں۔بس آدھی فصل تم ہمےں قرضہ واپسی کی صورت مےں دے دےنا۔اب جاﺅ۔
(ٹےپو،عفّت اور سنی کے ساتھ باہر نکل جاتا ہے،پھر اکےلا اندر آ کر پوچھتا ہے)
ٹےپو:(سرگوشی مےں)حضور!تےن دن گزارنے ہےں، کےسے گزاروں؟
ہم:آج تارےخ کےا ہے وزےر صاحب؟
ٹےپو:پندرہ جون!
ہم:اب کےاتارےخ ہوگئی؟
ٹےپو:(حےرت سے) پندرہ ہی ہے!
فوزی آپی: غور سے دےکھئے وزےر صاحب اٹھارہ ہوگئی ہے!
(ٹےپو چونکتا ہے اور پھر خوشی خوشی باہر چلا جاتا ہے۔کچھ دےر کے بعد سنی اور عفّت کے ساتھ آتا ہے)
ٹےپو:حضور والا ! یہ عوام کے نمائندے آپ سے پھر کوئی بات کرنا چاہتے ہےں۔
فوزی آپی:عرض کےا جائے!
عفّت:عرض کےا ہے۔۔
خودی کو کر بلند اتنا۔۔۔۔
ہم:(دھاڑ کر) شعر نہےں بلکہ مدّعا بےا ن کرو۔
سنی:حضور ہمارے کھےتوں مےں جو نہر آتی ہے اس کا پانی بند کر دےا گےا ہے ہم فصل کےسے اگائےں؟
ہم:حکومت کا کثےر اثاثہ خرچ ہوتا ہے نہر کھدوانے مےں۔اب ہم صرف اسی کو پانی دےا کرےں گے جو ہمےںپانی کا ٹےکس دےا کرے گا۔
سنی:مگر اس پانی سے جو فصل اگتی ہے وہ تو آدھی آپ ہی کو دی جاتی ہے ےعنی حکومت کو ہی تو فائدہ ہوتا ہے۔
ہم:ہمےں مزےد نہرےں بنوانے کےلئے اور اثاثہ چاہئے۔
سنی: مگر ہمارے پاس مزےد کچھ نہےں ہے دےنے کےلئے!(سنی اپنی خالی جےبےںباہر نکال کے دکھاتا ہے)
فوزی آپی:تمہارے پاس جو آدھی فصل بچ رہے گی اس کا آدھا بھی ہمےں دے دو۔
سنی: وہ تو وےسے ہی عوام کےلئے ناکافی پڑتی ہے۔
ہم: اچھا تویہ بتاﺅ تم ہل کتنے بےلوں سے چلاتے ہو؟
عفّت:چار بےل۔آپ نے سنی ہو گی نا کہانی چار تھے بےل۔
ہم: بس اس مےں سے اےک بےل ہمےں دے جانا۔
سنی:مگر اس طرح تو پےداوار کم ہو جائے گی۔
فوزی آپی:اس کا حل ہم تمہےں بتاتے ہےں۔پہلے یہ بتاﺅ کہ تم کتنے گھنٹے کام کرتے ہو؟
سنی:صبح سات سے دوپہر اےک بجے تک۔
فوزی آپی:ےعنی چھ گھنٹے چار بےلوں کے ساتھ۔اگر تم تےن بےلوں کے ساتھ آٹھ گھنٹے کام کرلوتو پےداوار مےں کوئی کمی نہےں ہو گی۔
عفّت:پھر اگلے سال کےا ہو گا؟
ٹےپو:اےک بےل اور دے دےنااور بارہ گھنٹے کام کرنا۔
عفّت: اور اس کے اگلے سال؟
ہم:(جلدی سے حساب لگا کر) اےک بےل اور دے دےنا اور چوبےس گھنٹے کام کرنا۔
عفّت :(ڈرتے ہوئے) اور اس کے اگلے سال؟
(ہم سوچ مےں پڑ جاتے ہےں)
فوزی آپی:ہمارا دورِ حکومت پانچ سالہ ہے،اس کے بعد کے ہم ذمہ دار نہےں!
سنی:ٹھےک ہے،آپ پانی کھولےں۔
ہم:(اسی کے انداز مےں)ٹھےک ہے آپ اےک بےل کھولےں۔
(سنی اور عفّت باہر نکل جاتے ہےں،پھر فوراََ ہی پلٹ کر واپس آتے ہےں)
ہم:اب کےا ہوا؟
سنی:حضور والا! تےن ماہ بےت گئے ہےں،ذرا پوچھئے اپنے وزےر سے۔
ٹےپو:(خود ہی سے بول پڑتا ہے)ہاں آج پندرہ ستمبر ہے۔
سنی:حضور یہ تو ظلم ہے،آپ فوراََ کچھ کےجئے!
فوزی آپی:آخر اےسا کےا ہو گےا؟
سنی:آپ کے کچھ سپاہی ہمارے کھےتوں مےں نکل آئے اور ان کے گھوڑوں نے ہماری فصل کا کافی صفاےا کردےا۔
ہم:وہ ملک و قوم کے رکھوالے ہےں،یہ ان کا حق ہے۔
سنی:(برہم ہو کر)پھر ہم جو اتنے بھاری بھاری ٹےکس اور تاوان حکومت کو دےتے ہےں وہ کہاں جاتا ہے؟
ہم:(بڑبڑا کر)ابھی تک تو سپاہےوں کو جاتا تھامگر اب نہےں جائے گا!
عفّت:(خوش ہو کر)ےعنی سارے ٹےکس معاف؟
ہم:نہےں بلکہ وہ شاہی خزانے مےںجمع ہو گا۔اور انہےں ہداےت دے دی جائے گی کہ اپنا اور اپنے گھوڑوں کا پےٹ کھےت اور کھےت والوں سے پالےں۔
سنی:مگر ہم ٹےکس بھی دےں اور یہ رشوت بھتّہ بھی،آخر کےوں؟
فوزی آپی:(سمجھاتے ہوئے)بھئی یہ قوم کے محافظ ہےں،ان کی خدمت کرنا عوام کا فرض ہے!
سنی:اےک وقت مےں اےک ہی کی خدمت کر سکتے ہےں،ےا تو حکومت کی ےا عوام کے محافظوں کی۔
ہم : (گرج کر) گستاخ۔۔ اپنی زبان کو لگام دو۔
سنی: لگام تو حضور آپ دیجئے اپنی لالچ اور حرص کو۔ ورنہ یہ آپ کو گھسیٹ کر ایسا گرائے گی کہ پھر اٹھ نہ سکیں گے۔
فوزی آپی: (تحکمانہ انداز میں) اس بد زبان کی بے باکی حد سے بڑھتی جا رہی ہے۔جلّاد۔۔ اڑا دو اس کی گردن۔
(ٹیپو ادھر ادھر دیکھتا ہے جیسے جلّاد کو ڈھونڈ رہا ہو۔ پھر خود ہی آگے بڑھ کر سنی کی گردن اڑا دیتا ہے۔ سنی زمین پر گر جاتا ہے۔ عفّت ”بھیّا۔ بھیّا“ کہہ کر رونے لگتی ہے۔)
ہم: وزیر صاحب ! لے جائیے اس کی لاش اور چوراہے پر لٹکادیجئے، تاکہ سب کو پتا چل جائے کہ ہماری حکم عدولی کی سزا کیا ہے!
(ٹیپو سنی کو گھسیٹ کر باہر لے جاتا ہے،عفّت بھی چلی جاتی ہے۔ پھر ٹیپو واپس آتا ہے۔)
ٹیپو: حضور عوام کے کچھ اور نمائندے آئے ہیں آپ سے ملنے۔
فوزی آپی: حاضر کیا جائے۔
(ٹیپو باہر چلا جاتاہے اور سنی اور عفّت کے ساتھ واپس آتا ہے۔)
ہم : (گھبرا کر) ارے یہ تو وہی ہے!
سنی: (گا کر) ہر گھر سے میں ہی نکلوں گا، تم کتنے بندے مارو گے؟
فوزی آپی: کہو۔ کیسے آنا ہوا؟
سنی: (مو¿دب ہو کر) ہم یہ کہنے آئے ہیں کہ سپاہیوں کی لوٹ مار کے بعد ہمارے پاس آپ کو دینے کے لئے کچھ نہیں بچے گا۔
ہم: اگر ہمیں دو گے نہیں تو تمہیں بھی کوئی قرض وغیرہ نہیں ملے گا۔
سنی: (کندھے اچکاتا ہے۔) مجبوری ہے!
(سنی اور عفّت باہر چلے جاتے ہیں)
ہم: (فوزی آپی سے) آج کیا پکا ہے ملکہ عالیہ؟
فوزی آپی: شاشلک جہاں پناہ!
ٹیپو: حضورچھ ماہ اور گزر گئے ہیں!
ہم: ارے بدمعاش، تم تو ٹائم مشین سے بھی دو ہاتھ آگے ہو۔ کم از کم شاشلک تو کھالینے دیتے۔
ٹیپو: تو اب کھالیجئے۔
ہم: آج کیا پکا ہے ملکہ عالیہ؟
فوزی آپی: (غصّہ سے) کچھ نہیں پکا۔ سارا راشن ختم ہوگیا ہے، فرج خالی پڑا ہے۔ نہ آٹا ہے، نہ دال چاول، نہ گھی چینی!
ہم: (گرج کر) عوام کے کسی نمائندے کو حاضر کیا جائے۔
(ٹیپو جلدی سے سنی اور عفّت کو لے کر آتا ہے۔)
ہم: کیوں عوام۔۔ تم نے اس مرتبہ ہمیں ہمارا حصّہ کیوں نہیں پہنچایا۔
سنی: حضور دراصل ہم نے ہڑتال کردی ہے۔ پچھلی فصل کا کافی حصہ آپ کے گھوڑے۔۔ میرا مطلب ہے سپاہی کھا گئے۔ کچھ بچا کچھا ہمیں نصیب ہوا۔نہ آپ کو حصّہ دیا، نہ آپ سے قرض لیا۔ اب ہم تو فصل اگانے سے رہے، اب یا تو آپ خود فصل اگائیے، یا اپنے سپاہیوں سے اگوائیے!
عفّت: اپنا اگاو¿۔ اپنا کھاو¿!
فوزی آپی: اگر سپاہی فصل اگانے لگے تو پھر ملک کی حفاظت کون کرے گا؟
سنی: کس ملک کی؟ یہاں بچا ہی کیا ہے، یا یوں کہئے کہ یہاں چھوڑا ہی کیا ہے؟
ہم: (غصّہ سے) اس گستاخ کو ستّر کوڑے مارے جائیں!
ٹیپو:(دل پہ ہاتھ رکھ کر) ستّر!
(ٹیپو جلدی جلدی ہاتھ چلاتا ہے گویا کوڑے مار رہا ہو۔ سنی مزے سے کھڑا مسکراتا رہتا ہے۔)
ہم: اب کچھ عقل آئی؟
سنی: کتنے بھی کوڑے مار لیں، اس سے فصل تو نہیں اگ جائے گی۔
ہم: یعنی ابھی عقل ٹھکانے نہیں آئی۔ ستّر کوڑے اور مارے جائیں!
ٹیپو: (ناگواری سے، کہ کوڑے مارنے میں مشقّت تو اسے اٹھانی پڑتی ہے۔) حضور میں اب مزید ظلم نہیں کر سکتا، آپ خود ہی یہ خدمت انجام دیجئے!
(ہم اور فوزی آپی ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں)
فوزی آپی: ٹھیک کہہ رہا ہے جہاں پناہ۔ کچھ سمجھائیے بجھائیے، کوڑے مارنے سے ہمارا پےٹ تو نہیں بھر سکتا نا!
ہم: اچھا۔ عوام۔۔ بتاو¿ تمہاری کیا شرائط ہیںجن پر تم فصل اگاو¿ گے!
(سنی جلدی سے جےب میں سے ایک لمبی سی لسٹ نکالتا ہے جو زمین تک جارہی ہوتی ہے۔)
ہم: (گھبرا کر) نن۔۔ نہیں۔ چیدہ چیدہ بتاو¿۔
سنی: کوئی سپاہی یا اس کا گھوڑا ہماری فصل سے ایک پتّا بھی نہیں کھائے گا۔
ہم: منظور ہے۔ اب جاو¿ اور فصل اگاو¿، بہت بھوک لگی ہے!
سنی©: ابھی تو چیدہ چیدہ کا صرف چ ہی بتایا ہے۔
فوزی آپی: ہوں۔۔ بولو۔
سنی: ہم آپ کو فصل مارکیٹ کے ریٹ میں بیچیں گے اور پھر پیسوں میں قرض چکائیں گے!
ہم: نن نہیں!
سنی: پھر ہماری طرف سے بھی نن نہیں۔ بھوکے مر جائیں گے، مگر آپ کو فصل اگا کر نہیں دیں گے!
ہم: (پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے) اچھا اچھا ٹھیک ہے۔
سنی: اور نہر تو کبھی بند ہوگی نہیں بلکہ آپ ہم سب کو ٹیوب ویل بھی لگا کر دیں گے!
(ہم بے بسی سے ٹیپو کی طرف دیکھتے ہیں)
ٹیپو: ٹھیک ہے۔
عفّت: اور حکومت ہر سال ہم سے ایک بیل لینے کے بجائے ہمیں ایک ٹریکٹر دے گی۔
(ہم دل پر ہاتھ رکھ کر کچھ دیر چکراتے ہیں اور پھر بے ہوش ہوجاتے ہیں۔ فوزی آپی جلدی سے پانی کے ایک گلاس سے ہمیں چھینٹیں مارتی ہیں)
فوزی آپی: ٹھیک ہے ٹھیک ہے اب تم لوگ جاو¿ اور اپنا کام کرو۔
(عفّت اور سنی باہر نکل جاتے ہیں ان کے جاتے ہی ہم ہوش میں آجاتے ہیں)
ہم: وزیر صاحب پردہ تو گرادیں، ہمیں سچ مچ بھوک لگ رہی ہے، کیا یہ ڈرامہ یوں ہی چلتا ہی رہے گا۔
(سنی بھاگا بھاگا واپس آتا ہے)
سنی: حمزہ کے بچّے غضب ہوگیا۔ لگتا ہے کسی حکومت کے نمائندے نے ہمارا ڈرامہ باہر سن لیا۔ ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ پانی پر بھی ٹیکس لگ گیا ہے۔
ہم سب: اوہ۔۔
(سب دل پکڑ کر یا سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں)
ٹیپو: مگر کیا ہی اچھا ہوتا اگر سمجھ کر یہ تمثیلی ڈرامہ عوام بھی سن لیتی!
(پردہ گرتا ہے)
٭….٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>