ایک لہو رنگ داستان

نجیب احمد حنفی

یہ ایک سچا واقعہ ہے جو میری نانی کے ساتھ پیش آیا۔ جب قائد اعظم کے انتقال کے بعد ریاست حیدر آباد دکن پر ہندوستان نے قبضہ کیا تو وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ بہت ظلم کیا اور بہت سے مسلمانوں کو شہید کیا۔ آج آزادی کی خوشیاں مناتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یہ جان سکیں کہ آزادی حاصل کرنا اتنا آسان نہیں۔ اس آزادی کے لیے لاکھوں انسانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔آئیے…. انہی کی زبانی یہ واقعہ پڑھتے ہیں۔(نجیب احمد حنفی)

قیام پاکستان یعنی ۷۴۹۱ءکو میری عمر اٹھارہ برس تھی۔ ہم سات بہن بھائی تھے اور ہمارا خاندان ہندوستان میں موجود ریاست حیدر آباد دکن کے ایک چھوٹے شہر کلیانی میں رہائش پذیر تھا۔ ہمارے والد صاحب استاد تھے اور بہترین شاعر بھی تھے جس کی وجہ سے وہ شہر کی ایک معروف شخصیت تھے اور سب لوگ ان کا ادب کرتے۔ وہ شہر میں میاں جانی استاد کے نام سے مشہور تھے۔
قیام پاکستان کے وقت مسلم اکثریتی علاقے پاکستان میں شامل ہو گئے تھے جب کہ وہ علاقے جہاں ہندوئوں کی اکثریت تھی وہ ہندوستان میں۔ بعض مسلم ریاستیں ایسی بھی تھیں جہاں مسلمان ایک طویل عرصے سے حکومت کر رہے تھے مگر وہ بالکل ہندوستان کے اندر موجود تھیں اور پاکستان سے الحاق نہ کر سکتی تھیں۔ ایسی ریاستوں کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ وہ نہ تو پاکستان میں شامل ہوں گی نہ ہندوستان میں بلکہ وہ آزاد اسلامی ریاستوں کے طور پر اپنا وجود قائم رکھ سکیں گی۔ ان ریاستوں میں جونا گڑھ اور حیدر آباد دکن کی ریاستیں بہت معروف ہیں۔ تقسیم ہند کے ایک سال تک تو انڈیا کی حکومت نے ان ریاستوں کا وجود زبردستی برداشت کیا مگر جب ۱۱ ستمبر ۸۴۹۱ءکو قائد اعظم کا انتقال ہوا تو وہ دن برصغیر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی کربناک ثابت ہوا کیونکہ قائد اعظم ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے اپنی قوت ارادی اور مسلسل جدوجہد سے برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں اور ہندوئوں سے آزادی دلوائی تھی۔ مسلمان کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اب ان سے ان کا آخری سہارا بھی چھن گیا ہو۔ سب اپنے آپ کو یتیم اور دشمن کے رحم و کرم پر محسوس کررہے تھے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم کے انتقال پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔
انڈیا پر اس وقت جواہر لال نہرو کی حکومت تھی جو انتہائی شاطر سیاستدان تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ اس وقت مسلمان شدید غم کا شکار ہیں اور ان کی ہمت ٹوٹ چکی ہے تو اس نے ریاست حیدر آباد دکن پر ہندوستان کی ملکیت کا اعلان کرتے ہوئے ہندوستانی فوج کو اس پر قبضے کا حکم دے دیا۔ ہندوستانی فوج نے ریاست دکن پر قبضے کے لیے گھیرائو کیا تو وہاں کے مسلمانوں نے اپنی آزادی کو بچانے کے لےے فوج کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ جبکہ ریاست کے ہندوئوں نے ہندوستانی فوج کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح جگہ جگہ لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے۔ ریاست دکن کے سربراہ (نظام دکن) کی فوج نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کر دیا جس کی وجہ سے شہر حیدر آباد پر ہندو افواج کا قبضہ ہو گیا۔ ہندوئوں نے دیکھا کہ مسلمان فوج ہتھیار ڈال چکی ہے تو ہندوئوں نے مسلمانوں اور ان کے گھروں پر حملے شروع کر دیئے اور چن چن کر مسلمانوں کو قتل کرنے لگے۔ ان کا خاص نشانہ وہ لوگ تھے جو ہندی فوج کے خلاف جہاد میں آگے آگے تھے۔ میرے والد صاحب استاد تھے اور شاعری بھی کرتے تھے۔ انھوں نے جہاد کے دوران بہت سے جہادی ترانے اور نظمیں لکھی تھیں جو مسلمان مجاہدین میں جذبہ پیدا کرتی تھیں۔ اسی وجہ سے ہمارا گھرانہ خصوصی طور پر ہندوئوں کی نظر میں تھا۔ جب مسلمانوں پر حملے شروع ہوئے تو ہمارے والد صاحب ہندوئوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ہمیں لے کر چھپتے چھپاتے نامعلوم علاقے کی طرف لے گئے ۔ ہم نے زیورات اور کچھ رقم ایک پوٹلی میں باندھ لی جس میں میری شادی کے زیورات بھی شامل تھے۔ ہم ایک دوسرے گائوں جا پہنچے مگر ہم کسی بھی گھر میں نہ چھپ سکتے تھے کیونکہ ہندو وحشیوں کی طرح ہماری تلاش میں پھر رہے تھے۔ ہم لوگ ایک جنگل نما علاقے میں پہنچ گئے جہاں پر ایک جھونپڑی تھی ۔ معلوم ہوا کہ یہ جھونپڑی ایک ملنگ نما فقیر کی ہے۔ ہمارے والد صاحب نے اس سے بات کی تو یہ طے پایا کہ خواتین اس جھونپڑی ہی میں رہیں گی جبکہ مرد دن کو کھیتوں میں جا کر چھپ جائیں گے اور رات کو واپس آجائیں گے۔ چند دن تک تو ایسا ہی ہوتا رہا۔
ایک دن ملنگ فقیر نے میرے والد سے کہا کہ اگر آپ کے پاس کچھ زیورات اور رقم وغیرہ ہے تو آپ میرے پاس رکھوا دیں کیونکہ اگر کوئی ہندو بدمعاش آ بھی گیا تو وہ آپ کو لوٹ لے گا مگر مجھے ملنگ سمجھ کر چھوڑ دے گا جس سے آپ کی رقم محفوظ رہے گی۔ میرے والد نے اس کی بات سے متاثر ہو کر زیورات اور رقم کی تھیلی اس کے حوالے کر دی۔ شاید اتنی رقم اور زیورات دیکھ کر اس ملنگ کی نیت خراب ہو گئی اور اس نے سوچا کہ اگر ہندوئوں کو ان لوگوں کا بتا دیا جائے تو وہ انہیں ختم کر ڈالیں گے اور یہ پوٹلی میری ہوجائے گی۔ اس نے انھیں یہ اطلاع دے دی کہ آپ جس شخص کو تلاش کر رہے ہیں وہ میری کٹیا میں ہے۔
اگلے دن جب سب مرد کھیتوں میں چھپنے کے لیے جا رہے تھے تو میرے والد صاحب نے کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہےں اس وجہ سے میں آج یہیں رہوں گا۔ تمام مرد چلے گئے اور خواتین اور ہمارے والد صاحب حسب معمول کٹیا میں خاموشی سے بیٹھے رہے۔ دن ڈھلے اچانک ہمیں شور کی آوازیں آنا شروع ہوئیں۔ کچھ لوگ ” جے ہند “ کا نعرہ لگاتے ہوئے تیزی سے آرہے تھے ہم لوگ سمجھ گئے کہ مخبری ہو گئی ہے۔ سب لوگ دعائیں پڑھنے لگے کہ اچانک وحشی ہندوئوں کا ایک ٹولا جھونپڑی میں داخل ہو گیا۔ ان سب کے ہاتھوں میں تیز تلواریں تھیں اور وہ انتہائی خونخوار شکل والے اور خون کے پیاسے نظر آتے تھے۔ ہمارے والد صاحب کو دیکھ کر ان کی بانچھیں کھل گئیں۔ انہوں نے میری والدہ سے کہا کہ جو کچھ ہے نکال دو۔ میری والدہ سب کچھ تو ملنگ کو دے چکی تھیں۔ ان کی ساڑھی کے پلو میں کچھ رقم بندھی تھی۔ وہ اسے کھول کر ہندوئوں کو دے ہی رہی تھیں کہ ایک ہندو نے آگے بڑھ کر ساڑھی کا وہ کونہ ہی کاٹ لیا۔ اس کے بعد وہ ہمارے والد صاحب کو گھسیٹ کر لے جانے لگے۔ ہم تمام خواتین کی چیخیں نکل گئیں۔ سب زور زور سے رونے لگیں۔ ایک طرف سے ہندو والد صاحب کو گھسیٹ رہے تھے تو دوسری طرف خواتین انہیں اپنی طرف کھینچ رہی تھیں۔ ایک عجیب سا منظر تھا۔ مگر آخر خواتین کب تک وحشیوں کا مقابلہ کرتیں۔ ہندو غنڈے میرے والد صاحب کو گھسیٹتے ہوئے جھونپڑی سے باہر لے گئے اور ایک ظالم ہندو نے آگے بڑھ کر ان کے گلے پر اپنی تیز چھری پھیر کر ذبح کر کے انہیں شہادت کے مقام پر فائز کر دیا۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
اس کے بعد وہ جے ہند کے نعرے لگاتے ہوئے چلے گئے اور ہم سب خواتین لاش کے پاس دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں۔ اندھیری رات تھی اور کوئی مرد ساتھ نہ تھا کہ خواتین کو حوصلہ دلاتا۔ انتہائی کرب ناک منظر تھا۔ خواتین رو رہی تھیں جبکہ والد صاحب انتہائی سکون کی حالت میں دونوں ہاتھ سینے پر رکھے اور چہرے پر مسکراہٹ سجائے تھے جبکہ ان کی گردن سے خون بہہ رہا تھا۔
ہماری والدہ انتہائی سمجھدار خاتون تھیں انہیں اندازہ تھا کہ جوان لڑکیوں کا ساتھ ہے اور ہندو ابھی تو چلے گئے ہیں مگر دوبارہ بھی آسکتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے ہمیں فوراً وہاں سے چلنے کا حکم دیا۔ رات کے گھپ اندھیرے میں ہم لوگ کچھ دور چلتے مگر پھر پلٹ کر واپس لاش کے پاس آجاتے کیونکہ کوئی بھی راستوں سے واقف نہ تھا۔ ایسا کئی بار ہوا میری والدہ بار بار روتے ہوئے والد صاحب کی لاش سے مخاطب ہوتیں کہ میں آپ کے ساتھ آئی تھی۔ اب ان لڑکیوں کو لے کر کہاں جائوں۔ ایک مرتبہ پھر ہم ہمت کرکے وہاں سے نکلے تو خدا کی مہربانی سے ہمیں ایک عورت آتی ہوئی نظر آئی۔ قریب آئی تو معلوم ہوا کہ وہ ہماری پرانی ملازمہ ہے جسے ہم ماما کہتے تھے۔ وہ ان راستوں سے واقف تھی۔ وہ ہمیں لے کر ایک اور قریبی گائوں لے گئی جہاں ہمارے دیگر رشتے دار چھپے ہوئے تھے۔ وہاں پہنچ کر ہم نے انہیں اپنی دکھ بھری داستان سنائی تو سب خواتین رونے لگیں۔ مگر وہاں موجود لوگوں نے رونے سے منع کیا کہ آواز سن کر ہندو غنڈے یہاں آسکتے ہیں۔
ہم لوگوں کی عجیب حالت تھی۔ والد صاحب کو شہید کر دیا گیا تھا اور ہم رو بھی نہیں سکتے تھے۔ چار دن تک اسی خوف و ہراس میں وہاں رہے پھر معلوم ہوا کہ ریاست پر ہندوستانی فوج کا قبضہ مکمل ہو چکا ہے اور حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سب لوگ اپنے گھروں کو واپس جا سکتے ہیں اور اپنے مرنے والے عزیزوں کو دفنا سکتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد ہمارے خاندان کے کچھ مرد ہمارے والد صاحب کی لاش کو لینے پہنچے تو انہیں یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ والد صاحب کی لاش چار دن گزرنے کے بعد بھی بالکل صحیح سالم اور تازہ ہے اور اس میں ایسی خوشبو آرہی ہے جس سے پوری جگہ معطر ہو گئی ہے۔ والد صاحب کی لاش کو دفنانے کے بعد ہم لوگ واپس کلیانی اپنے گھر کی طرف گئے مگر وہاں تمام مسلمانوں کے گھر ہندو لوٹ چکے تھے جس مےں ہمارا گھر بھی شامل تھا۔ اب وہاں کچھ نہیں بچا تھا۔ چونکہ وہ علاقہ اب ہمارے لیے خطرناک تھا اس لیے ہماری والدہ ہم سب کو لے کر وہاں سے چند سو کلومیٹر دور دوسرے شہر ”بیدر“ لے کر آگئیں جہاں ہمارے ماموں رہائش پذیر تھے۔ وہیں پر ہم لوگوں نے نئے سرے سے اپنی زندگی شروع کی۔ اس واقعے کے دو سال بعد میری شادی ہو گئی اور ۷۵۹۱ءمیں وہاں سے ہجرت کرکے ہمارا گھرانہ پاکستان آگیا۔ آج جب میں پاکستان کا حال دیکھتی ہوں تو مجھے انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ جس ملک کے لیے ہمارے بزرگوں نے اتنی قربانیاں دیں اور ہر جگہ تو آزادی مل بھی نہ سکی۔ مگر جب اﷲ نے پاکستان کی صورت مسلمانوں کو اتنا خوبصورت تحفہ دیا تو ہم اس کی کچھ بھی قدر نہیں کر رہے۔ ہمیں چاہیے اﷲ کی اس عظیم نعمت کی قدر کریں اور اسے صحیح اسلامی مملکت بنانے کی کوشش کریں تاکہ ہمارے شہیدوں کی روح کو بھی سکون مل سکے۔ میں اب بھی اﷲ سے یہی دعا کرتی ہوں کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین

٭….٭
یہ ایک سچی داستان ہے جو میں نے اپنی نانی کی زبانی آپ تک پہنچائی۔ ہماری نانی پاکستان سے انتہائی محبت رکھتی ہیں اور جب چودہ اگست کو چھوٹے بچے گلی محلے سجاتے ہیں تو انتہائی خوش ہوتی ہیں اور پاکستان کی ترقی کے لیے خوب دعائیں کرتی ہیں۔ جبکہ کربلا کا واقعہ سن کر وہ انتہائی غمگین ہوجاتی ہیں کیوں کہ ان کی آنکھوں میں اپنے والد صاحب کی شہادت کا منظر گھومنے لگتا ہے۔

٭….٭

//]]>