ایک ہزار میل

ش کاظمی

ایک ہزار میل

ش کاظمی

ہمارا طیارہ بردار عظیم جنگی جہاز بحر الکاہل کی بیکراں وسعتوں میں جنوب کی طرف آہستہ آہستہ سفر کررہا تھا۔ اگرچہ میں ایک ماہر ہوا باز ہوں اور برسوں سے نیوی کے محکمے کے مختلف طیارہ بردار جہازوں میں ہوا باز کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں لیکن اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ میں خیال کرتا ہوں کہ میری چھٹی حس غیر معمولی طور پرتیز ہے جو مجھے آنے والی مصیبتوں اور پریشانیوں سے پہلے ہی آگاہ کردیتی ہے۔
۶۱ جنوری ۳۴ءکا ذکر ہے۔ اس روز صبح سے میرا دل آپ ہی آپ بیٹھا جا رہا تھا۔ ایک نامعلوم سا اضطراب مجھ پر طاری تھا۔ میں نے اپنے آپ کو دوسرے کاموں مےں مصروف رکھ کر اس اضطراب سے نجات پانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ ہر لمحے یہی احساس ہوتا کہ آج کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ کوئی غیر معمولی حادثہ ….یہ حادثہ کب اور کس طرح نمودار ہوگا،یہ مجھے معلوم نہ تھا۔
کھانے کے وقت جب میں سب کے ساتھ میز پر بیٹھا، تو کسی ان دیکھی قوت نے میرے کان میں کہا:
”خوب پیٹ بھر کر کھا لو…. ممکن ہے تمہیں اس کے بعد دیر تک کھانا نصیب نہ ہو۔“
میں بیٹھے بیٹھے چونک پڑا…. بخدا یہ پراسرار آواز میں نے بہ ہوش و حواس خود اپنے کانوں میں گونجتی ہوئی محسوس کی۔ اس قدر گھبراہٹ اور خوف مجھ پر طاری ہوا کہ میں دو تین لقموں سے زیادہ نہ کھا سکا ا ور وہاں سے اٹھ کر اپنے کیبن کی طرف چلا گیا۔ اپنے کیبن پر پہنچ کر میں دھڑام سے بستر پر گر پڑا۔
دفعتہ میرے سرہانے لگی ہوئی گھنٹی بجی اور سرخ بلب بار بار جلنے بجھنے لگا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے قضا کی گھڑی نزدیک آگئی ہے۔ یہ ایڈمرل کی جانب سے ڈیوٹی پر فوراً حاضر ہونے کا اشارہ تھا۔ میں نے قریب پڑا ہوا فون اٹھایا اور جواب دیا کہ میں چند منٹ میں آرہا ہوں۔
”مسٹر ڈکسن….“ ایڈمرل نے گرجدار لہجے میں کہا۔ ” آپ کو فوراً گشت کے لیے روانہ ہوجانا چاہیے۔ مجھے ابھی ابھی وائرلیس پر اطلاع ملی ہے کہ ایک جاپانی جنگی جہاز ہمارے تعاقب میں روانہ کر دیا گیا ہے۔ آپ معلوم کیجئے کہ دشمن کا جہاز کس مقام پر ہے۔“
میں نے سر کے اشارے سے حکم کی تعمیل بجا لانے کا اقرار کیا اور جہاز میں سوار ہو گیا۔ ایک منٹ بعد میرے دونوں مددگار بھی جہاز میں چڑھ گئے۔ بحری جہاز کے لمبے رن وے پر ایک زناٹے دار آواز کے ساتھ دوڑتا ہوا ہمارا بمبار طیارا فضا میں بلند ہو گیا۔ میں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی، شام کے چار بجے تھے اور سورج کی آب و تاب آہستہ آہستہ غائب ہوتی جا رہی تھی۔ بحر الکاہل میں زبردست طوفان کی پرشور آواز اس بلندی پر ہم بخوبی سن سکتے تھے۔ جوں جوں سورج مغرب میں جھک رہا تھا پانی کا رنگ سیاہ ہوتا جا رہا تھا۔ میں نے اندازاً پچاس میل کا چکر لگایا ، مگر جاپانی جنگی جہاز کا کہیں پتہ نہ تھا۔ اب ہمارا جہاز مغرب کی سمت میں پرواز کر رہا تھا۔ یکایک میں نے اپنے سامنے دیکھا کہ سیاہ بادلوں کا لامتناہی سلسلہ سمندر کے آخری کنارے سے نمودار ہو کر آسمان کو اپنی آغوش میں لینے کے لیے بے پناہ رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ مخالف ہوا کا ایک زبردست طوفان اس کے جلو میں ہے۔ میں نے فوراً جہاز کا رُخ بدل دیا اور اسے بادلوں سے اوپر لے گیا…. میرے ساتھیوں نے کہا کہ واپس چلنا چاہیے، طوفان شدید ہے اور ایسا نہ ہو کر ہم اس میں گھر جائیں، لیکن میں خاموش تھا کہ ہم آسانی سے اپنے جہاز تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ خطرے کی گھڑی لمحہ بہ لمحہ قریب آرہی تھی۔ دفعتہ میرا ساتھی ٹونی پاسٹولا بھرائی ہوئی آواز میں بولا:
”چیف ، جلدی کرو، گیس ختم ہونے والی ہے۔“
میں نے گھبرا کر گیس میٹر کا معائنہ کیا اور جسم ایک دم جیسے سن ہو گیا۔ ایندھن ختم ہونے کے قریب تھا، ہم زیادہ سے زیادہ بیس میل اور پرواز کر سکتے تھے اور بیس میل کی اس پرواز میں صرف پانچ منٹ اور تھے۔ پانچ منٹ…. اگر اس حقیر عرصے میں ہم اپنے جہاز کو ڈھونڈ لیں، تو جان بچ سکتی ہے ورنہ…. میرا دوسرا ساتھی، جینی آلوچ باربار وائرلیس پر جہاز سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کررہا تھا، مگر جواب میں ہلکی سی ٹک ٹک اور سائیں سائیں کی آواز کے سوا کچھ اور سنائی نہ دیتا تھا۔میں نے طیارے کو کافی نیچے اتار لیا تاکہ تیز ہوا اسے اپنے ساتھ نہ لے جائے۔ اب ہم سمندر کی سطح سے صرف سات سو فٹ کی بلندی پر اڑے جا رہے تھے۔ نیچے بحرالکاہل کا پانی بھی طوفان کی آمد آمد سے مضطرب ہو کر جوش میں آچکا تھا اور اس میں اونچی اونچی لہریں اٹھ رہی تھیں جیسے ہمیں پکڑنا چاہتی ہوں۔ آسمان گہرے بادلوں میں چھپ چکا تھا، پھر فوراً ہی تیز بارش شروع ہو گئی۔
”تیار ہوجاؤ… میں جہاز کو سمندر میں اتار رہا ہوں….“ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا، جن کے چہروں پر موت کے خوف سے ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ بپھری ہوئی لہروں کی آغوش میں پہنچتے پہنچتے ایندھن کی ٹنکی بالکل خالی ہو چکی تھی۔ ایک دھماکے کے ساتھ جہاز کا نچلا حصہ پانی سے ٹکرایا اور دائیں جانب الٹ گیا۔
”لائف بوٹ فوراً پانی میں پھینک دو۔“ آلرچ نے ٹونی سے کہا۔ ” ورنہ ہم سب مچھلیوں کا کھاجا بن جائیں گے۔“
مجھے یقین نہیں تھا کہ جہاز اتنی تیزی سے غرق ہوجائے گا۔ کاربن ڈائی آکسائڈ چیمبر میں لگی ہوئی لائف بوٹ نکالنے نکالنے تک جہاز کا آدھا حصہ پانی میں ڈوب چکا تھا۔ لائف بوٹ مضبوط اور سخت ربر کی بنی ہوئی تھی۔ چیمبر کا خول کھلتے ہی اس میں خود بخود ہوا بھر گئی اور پھر ہم نے اسے پانی میں پھینک دی اور پھر فوراً ہی کود گئے۔ یہ سارا حادثہ اتنی تیزی سے پیش آیا کہ ہم ضرورت کی کوئی چیز حتیٰ کہ پانی کی بوتلیں بھی ساتھ نہ لے سکے۔ چشم زدن میں سمندر کی موجیں آٹھ فٹ لمبی چار فٹ چوڑی لائف بوٹ کو دھکیل کر جہاز سے دور لے گئیں۔ میں نے دیکھا کہ ڈوبتے ہوئے طیارے کی بڑی بتیاں ابھی تک روشن ہیں اور پانی کے نیچے ان کی روشنی کی لکیر دور تک پھیلتی چلی گئی ہے۔ یہ بھی قدرت کا ایک معجزہ تھا کہ جہاز کی بتیاں جلتی رہ گئیں ورنہ وہ بڑی بڑی خونخوار شارک مچھلیاں، جو تازہ شکار سمجھ کر طیارے کے گرد منڈلا رہی تھیں، اس طرف متوجہ نہ ہوتیں اور ہماری جانب لپکتیں ۔ لیکن اتنی دیر میں ہم ان کے خونی جبڑوں کی زد سے محفوظ ہو چکے تھے۔
اب ہم تین آدمی ربڑ کی اس پتلی سی کشتی میں دبکے بیٹھے ہوئے سمندر کی لہروں کے رحم و کرم پر تھے۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا اور آسمان پر سیاہ بادل امڈ امڈ کر آرہے تھے۔ زندگی میں بعض حادثے اور مصیبتیں ایسی آتی ہیں جب ہمیں اپنی موت کا پورا یقین ہوجاتا ہے اور ایسے حادثوں سے کس کی زندگی خالی ہے؟ اس رات کم از کم مجھے تو یہی دکھائی دے رہا تھا کہ موت ہمارے تعاقب میں ہے۔ اس وقت میں نے اپنے دل میں کس قدر سکون محسوس کیا۔ طبیعت پر صبح سے جو اضطراب اور خوف چھایا ہوا تھا، وہ اب آخری شکل میں میرے سامنے آچکا تھا اور غالباً یہی وجہ تھی کہ میں اطمینان سے مرنے کے لیے تیار تھا، البتہ میرے ساتھیوں کی حالت نہایت ابتر تھی۔ میں نے سنا کہ ٹونی پاسٹولا گڑگڑا کر خدا سے دعا مانگ رہا ہے۔ جینی آلرچ کے حلق سے بھی گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی ہیں۔ مجھے یاد نہیں کہ کتنی دیر تک ان دونوں پر یہی کیفیت طاری رہی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یک لخت ہمیں کسی اور ہی دنیا میں پھینک دیا گیا ہے۔ لائف بوٹ سمندر کی خوفناک موجوں پر تنکے کی مانند اچھلتی ، کودتی اور ہچکولے کھاتی ہر لمحہ موت سے ہمکنار ہونے کے لیے آگے بڑھ رہی تھی۔
ساری رات یہ لرزہ خیز سفر جاری رہا۔ ہم نے اپنے آپ کو قدرت کے حوالے کر دیا تھا۔ رات کے آخری حصے میں بارش تھمی، بادل چھٹ گئے اور سیاہ آسمان پر اکا دکا تارے ہی ہماری بے بسی پر مسکراتے دکھائی دیے۔ صبح ہوتے ہوتے ڈراؤنی لہرےں پرسکون ہو چکی تھیں اور ہماری لائف بوٹ تیز رفتاری سے ہچکولے کھاتی کسی نامعلوم منزل کی جانب بڑھی جا رہی تھی۔ میں اپنے چہرے کی کیفیت خود بتانے سے قاصر ہوں، البتہ ساتھیوں کے چہرے میرے سامنے تھے۔ موت کے خوف سے ان کے چہرے زرد اور آنکھیں اند رکو دھنسی ہوئی تھیں۔ ہم سب خاموشی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے۔ آخر ٹونی پاسٹولا نے کہا۔
” کیا ایڈمرل ہماری تلاش میں کسی کو بھیجے گا؟“
اس کے ان الفاظ میں مجھے پہلی مرتبہ زندگی کی کرن چمکتی نظر آئی۔ آہ…. کیا واقعی یہ ممکن ہے ۔ ایڈمرل ضرور کوئی نہ کوئی طیارہ اب تک ہماری تلاش میں روانہ کر چکا ہوگا۔ لیکن …. کیا معلوم گزشتہ چودہ گھنٹوں میں ہم کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں؟ اگر ہم اس وقت سمندر کے اس حصے میں ہیں جو دشمن کے قبضے میں ہے تو پھر مدد کی توقع فضول ہے۔
میں سوچ رہا تھا کہ ان نازک حالات میں، جب کہ جنگ اپنے عروج پر ہے، جاپانی جنگی جہاز اور بمبار طیارے ہمارے تعاقب میں ہیں، ایڈمرل محض ہم تینوں آدمیوں کو بچانے کے لیے اپنے پورے جہاز اور اتنے بڑے عملے کو کبھی خطرے میں نہیں ڈالے گا۔ پھر میں دل ہی دل میں اس پر غور کرنے لگا کہ ہمارے بچاؤکی آخر کیا صورت ہو سکتی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ میرا ذہن اس وقت تیزی سے کام کررہا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ مغرب اور شمال میں جتنے جزیرے ہیں ، سب کے سب جاپانیوں کے قبضے میں ہیں اور آج کل یہ جاپانی، قیدیوں سے اچھا سلوک کرنے کے موڈ میں نہیں۔ مشرق کی طرف غیر آباد اور ویران جزیرے ہیں جن پر پہنچنا ویسے بھی آسان نہیں، کیوں کہ ادھر سمندر کی حالت زیادہ اچھی نہیں۔ ہر وقت طوفانوں کی آمد آمد رہتی ہے۔ لے دے کر جنوب اور جنوب مغربی جزائر ہمارے لیے بہترین پناہ گاہ ثابت ہو سکتے ہیں جو اتحادیوں کے قبضے میں ہیں لیکن میرے حساب کے مطابق یہ جزیرے کم از کم پانچ سو میل کے فاصلے پر واقع تھے اور اتنا طویل فاصلہ دنیا کے سب سے بڑے سمندر میں ربڑ کی ایک معمولی سی کشتی کے ذریعے خیریت سے طے کرنا قدرت کا ایک یادگار معجزہ ہی ہوگا۔
میں نے اپنے ساتھیوں کو ان تمام باتوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ مدد کی توقع چھوڑ دو۔ اپنے دست و بازو اور خدا کی مدد پر بھروسہ کرکے ایسی تدبیریں سوچو کہ جانیں بچ جائیں۔ ٹونی پاسٹولا کے لبوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اس نے گردن کو جھٹکا دیا اور کہنے لگا:
”چیف ان حالات میں جب کہ ہم قطعی بے یار و مددگار ہیں، ہمارے پاس بچاؤکا کوئی سامان نہیں، ہم کیا کریں گے؟ کم از کم میرا ذہن تو بے کار ہے۔ میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ جلد یا بدیر ہم ان بے رحم مچھلیوں کی خوراک بن جائیں گے۔“
یہ کہہ کر اس نے انگلی سے پانی کی طرف اشارہ کیا اور یہ دیکھ کر وحشت سے میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ چھوٹی بڑی سینکڑوں شارک مچھلیاں اپنے خوفناک جبڑے کھولے لائف بوٹ کے چاروں طرف بے چینی سے تیر رہی تھیں۔ وہ بار بار کشتی کی طرف جھپٹتیں اور مایوس ہو کر لوٹ جاتیں۔ دوپہر تک وہ اسی طرح کشتی کا تعاقب کرتی رہیں۔ آہستہ آہستہ ان کی تعداد کم ہونے لگی۔ غالباً سمندر کا وہ حصہ جو ہم عبور کر چکے تھے، وہاں ان مچھلیوں کی ایک پوری بستی آباد تھی۔ شاید اکثر لوگوں کو یہ بات معلوم نہ ہو کہ بڑے بڑے سمندروں میں رہنے والی شارک مچھلیاں دوسری شارک مچھلیوں کی سرحد میں داخل ہوجائے، تو خود اس کی جان خطرے میں پڑجاتی ہے۔ دوسرے قبیلے کی شارک مچھلیاں اسے فوراً چٹ کر جاتی ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ اب ہمیں جلد ہی ان مچھلیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پچاس ساٹھ میل کے بعد ہی شارک مچھلیوں کی کوئی اور قسم سمندر میں ملے گی۔
اب ہمیں پہلی بار احساس ہوا کہ اس ہولناک سفر کے لیے ہمارے پاس زادِ راہ بالکل نہیں ہے۔ ہمارا طیارہ توقع کے خلاف اس تیزی سے غرق ہوا کہ کھانے پینے کا سامان نکالنا تو ایک طرف، ہم بمشکل اپنی جانیں بچا سکے تھے۔ جس حال میں طیارے پر سوار تھے اسی حال میں باہر کود گئے تھے۔ اب ہم نے اپنی اپنی جیبوں کی تلاشی لی تو معلوم ہوا کہ ہمارے پاس دو لائف جیکٹ ایک جیبی پستول، ایک چھوٹا چاقو، چند اوزاروں اور چمڑے کے جیبی بٹوؤں کے سوا اور کوئی شے نہیں ہے۔ پینے کا پانی نہ کھانے کے لیے خوراک۔
پانچ روز اسی طرح سمندر میں گزر گئے۔ ہمارا رخ جنوب ہی کی طرف تھا۔ پانچ روز کے مسلسل فاقے اور پیاس نے ہمیں نڈھال کر دیا تھا۔ لائف بوٹ میں ایک دوسرے کے قریب لاشوں کے طرح پڑے ہوئے ہم آسمان کو دیکھتے رہتے کہ شاید بادل آئیں، بارش ہو اور ہم حلق تر کرسکیں۔ بعض اوقات مجھے محسوس ہوتا کہ زبان پر کانٹے پڑے ہوئے ہیں۔ چھٹے روز افق پر سیاہ بادلوں کے چند آوارہ ٹکڑے دکھائی دیئے جن کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ ہم نہایت بے صبری اور اشتیاق سے ان کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگے، لیکن افسوس کہ پانی کا ایک قطرہ برسائے بغیر یہ بادل ہمارے سروں پر سے گزر گیا۔ سارا دن سورج آسمان پر پوری آب و تاب سے چمکتا اور ہمارے بدن دھوپ میں جھلس جاتے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہمارے جسموں میں چیونٹیاں سی رینگ رہی ہیں اور کبھی سوئیاں سی چھبتی محسوس ہوتیں۔ سہ پہر کے بعد یہ عذاب دور ہوتا تو ایک نئی مصیبت سامنے آتی۔ سمندری یخ بستہ ہوائیں تیزی سے چلنے لگتیں اور ہم تھر تھر کانپنے لگتے۔
آٹھویں روز لائف بوٹ ایک بار پھر شارک مچھلیوں کے نرغے میں گھر چکی تھی۔ یہ مچھلیاں اگرچہ زیادہ بڑی نہیں تھیں لیکن ان کے دانت نہایت نوکیلے اور بڑے تھے اور شکل ایسی ڈراؤنی تھی کہ دیکھ کر خون خشک ہوتا تھا۔ ہم ان کے ڈر سے فوراً بوٹ کے اندر لیٹ گئے کیوں کہ اگر وہ ہمیں دیکھ لیتیں تو دور تک تعاقب کرتیں۔
سورج جب عین سر پر آیا، تو گرمی سے ہمارے جسم پھر جھلسنے لگے۔ دھوپ کی یہ تپش ہمارے لیے اب ناقابل برداشت ہوتی جا رہی تھی۔ ٹونی پاسٹولا کی حالت تو بہت ہی ابتر تھی۔ وہ بار بار بڑبڑاتا:
” میں مرجاؤں گا…. میں مرجاؤں گا۔“…. ایک مرتبہ اس نے یہ بھی کہا: ”میں سمندر میں کود جاؤں گا….“ میں نے اسے تسلی دی اور کہا :” گھبراؤ نہیں…. قدرت ہمارا امتحان لے رہی ہے۔ ہمیں اس آزمائش میں پورا اترنا چاہیے۔ لاؤ اپنی جیکٹ میرے حوالے کرو۔“ ٹونی نے جیکٹ میرے حوالے کی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کی جیکٹ سمندر میں ڈبوئی اور اس کے بدن پر رکھ دی۔ اس طرح تپتے ہوئے بدن نے کچھ ٹھنڈک پائی۔ پھر تو جینی آلرچ اور میں نے بھی یہی کیا۔ پانی میں جیکٹ ڈبو ڈبو کر جسم تر کرتے رہے، لیکن پیاس بجھانے کا اب کوئی ذریعہ نہ تھا۔ بحری فوج کے سپاہی ہونے کے ناطے ہم یہ بات اچھی طرح جانتے تھے اگر اس موقع پر سمندر کا پانی پیا تو موت واقع ہوسکتی ہے۔ہماری دھنسی ہوئی بے نور آنکھیں بادل کا کوئی ٹکڑا دیکھنے کے لیے بار بار آسمان کی طرف اٹھتیں، لیکن ناکام لوٹتیں۔ ہلکی سی بارش بھی ہو جائے تو ہمارے مردہ جسموں میں جان پڑسکتی تھی۔ پیاس کے ہاتھوں خدا دشمن کو بھی موت نہ دے…. یہ جان کنی اور عذاب کی آخری شکل ہے۔ یکایک آلوچ کہنے لگا:
” آؤ ہم سب خدا کے آگے گڑگڑا کر دعا کریں کہ بارش ہوجائے۔“ابھی ہم دعا مانگ کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ مغرب کی جانب سے سیاہ گھٹا جھومتی ہوئی نمودار ہوئی جس نے چشم زدن میں آسمان کو ڈھانپ لیا اور گرج چمک کے ساتھ بارانِ رحمت کا نزول شروع ہو گیا۔ بارش کا ہر قطرہ ہمارے تن مردہ میں زندگی کی نئی لہر دوڑانے لگا اور ایک بار پھر ہمیں احساس ہوا کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ نہ صرف ہماری پیاس بجھ گئی بلکہ بارش کا پانی ” آب حیات“ بن گیا۔ اس نے ہمیں جسمانی قوت بھی پہنچائی ا ور بھوک کی شدت قدرے کم ہو گئی۔
تین روز اور گزر گئے ۔ چوتھے روز ہم نے انتہائی نقاہت محسوس کی۔ ٹونی پاسٹولا کی حالت اب اس قدر ابتر ہو چکی تھی کہ وہ چند گھنٹوں کا مہمان نظر آتا تھا۔ اس کا خوب صورت جسم، جس پر اسے کبھی ناز تھا، سوکھ کر کانٹا ہو چکا تھا۔ جسم کی ایک ایک ہڈی پسلی بخوبی گنی جا سکتی تھی۔ آنکھیں زرد اور رخساروں کی ہڈیاں ابھر آئی تھیں۔ اس میں اب ہلنے جلنے کی سکت نہ تھی، نہ وہ بول سکتا تھا۔ بس ہر وقت ایک غشی کی سی حالت اس پر طاری رہتی۔
چناچہ ایک بار پھر ہم نے خداوند کے حضور میں نہایت عاجزی سے مدد کے لیے دعا کی…. مجھے یقین تھا کہ خدا کی رحمت دوبارہ جوش میں آئے گی۔ اب ہمیں پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے کسی غذا کی ضرورت تھی جس کا اہتمام کرنا انسانی طاقت سے باہر تھا اور ہمیں صرف قدرت کے دست غیب ہی سے ان چیزوں کے ملنے کی توقع تھی۔ دوسرے روز بالکل اتفاقیہ طور پر ہم نے ایک مچھلی پکڑی۔ اب ہم شارک مچھلیوں کے نرغے سے آزاد ہو کر سمندر کے اس حصے مےں آگے تھے جہاں بے ضرر مچھلیاں آباد تھیں۔ وہ نارنجی رنگ کی لائف بوٹ کو عجیب چیز سمجھ کر اسے دیکھنے کے لیے ہزارہا کی تعداد میں پانی کی سطح پر تیر رہی تھیں۔ کبھی کبھی وہ بوٹ کے عین کنارے پر آجاتیں، ہمیں چمکتی آنکھوں سے دیکھتےں اور پھر ڈر کر دور ہٹ جاتیں۔ یکایک جینی آلرچ نے وہی چھوٹا سا جیبی چاقو اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لیا اور آہستہ سے ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک مچھلی پر وار کیا۔ چاقو کی نوک مچھلی کے کھلے منہ میں پیوست ہوگئی۔ آلرچ نے جلدی سے ہاتھ کھینچ لیا اور تڑپتی ہوئی مچھلی کو گھبراہٹ میں ٹونی پاسٹولا کے اوپر پھینک دیا جو آنکھیں بند کیے بے حس و حرکت پڑا تھا۔ ٹونی نے فورا آنکھیں کھول دیں اور حیرت انگیز پھرتی کے ساتھ مچھلی کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا اور اس وقت تک پکڑے رکھا جب تک مچھلی کی جان نہ نکل گئی۔ ہم دونوں حیرت سے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے اور ہمیں تعجب تھا کہ اس کے سوکھے جسم میں اتنی قوت یکدم کہاں سے آگئی۔ یہ معما کبھی حل نہ ہوا۔
مچھلی خاصی بڑی اور وزنی تھی لیکن ہم اسے یوں دیکھ رہے تھے جیسے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو، آلرچ نے اسی چاقو سے بمشکل مچھلی کے ٹکڑے کیے۔ کچی مچھلی ہم میں سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کھائی تھی اور ہمارے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ اس وقت ندیدوں کی طرح ہم نے اپنے دانتوں سے یہ کچا بدبودار اور سخت گوشت یوں مزے لے لے کر کھایا جیسے پہلے سے ہم اس طرح کھاتے چلے آئے ہیں۔ بچاکچھا گوشت سنبھال کر ایک طرف رکھ دیا گیا۔ اس روز دوپہر کو ایک بار پھر بادل امڈ آئے اور ہلکی سی بارش ہوئی جس نے ہماری پیاس بھی بجھا دی۔ ہم نے بار بار خدا کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ہماری التجا سن لی تھی۔
اتفاق کی بات اسی روز، جو مجھے ساری عمر یاد رہے گا، ایک بہت پرانا گیت میرے حافظے کی لوح پر اچانک یوں ابھر آیا جیسے اندھیرے میں روشنی کی کرن…. میری عمر ان دنوں سات آٹھ سال سے زیادہ نہ ہوگی، میں سکول میں پڑھتا تھا۔ ہماری کتاب میں ایک مختصر سی بڑی پیاری نظم تھی جو ہم سب بچے مل کر گایا کرتے تھے ۔ اس میں ایک خوبصورت بحری پرندے البٹروز (Albatross) کا ذکر تھا جس کے پر سیاہ اور سفید تھے اور جو مچھلیاں پکڑ پکڑ کر کھایا کرتا تھا۔ ان دنوں میں اس پرندے کے بارے میں سوچا کرتا تھا کہ کاش میں اسے دیکھ سکوں۔ مگر میری خواہش پورے تیس سال بعد پوری ہوئی اور یہ وہی دن تھا جب آلوچ نے مچھلی کاشکار کیا تھا۔ اس غیبی مدد پر ہم بہت مسرور تھے۔ مچھلی کا کچا گوشت کھا کر اور بارش کے پانی سے سیراب ہو کر ہم تینوں کشتی میں لیٹے تھے، سورج سمندر کے سینے میں اترنے کی تیاریاں کررہا تھا۔ میں دل ہی دل میں اندازہ لگا رہا تھا کہ ہم اب تک دو سو میل سے زیادہ سفر طے کر چکے ہیں کہ دفعتہ میرے کان کے قریب ایک دھماکہ سا ہوا اور پھر جینی آلرچ چلایا…. ”پکڑو پکڑو۔’“
میں بوکھلا کر اٹھا، اتنے میں جینی نے پانی میں بے تابانہ ہاتھ ڈال کر ایک پھڑپھڑاتا ہوا زخمی پرندہ باہر نکال کر بوٹ کے اندر پھینک دیا۔ اس پرندے کا جسم سرمئی رنگ کا اور پرسیاہ و سفید تھے۔ میرے دیکھتے دیکھتے اس کے ننھے ننھے پنجے تھرتھرائے اوراس نے دم توڑ دیا۔ معلوم ہوا کہ یہ بحری پرندہ اڑتا ہوا آیا اور بوٹ کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ جینی نے فوراً پستول سے اس پر فائر کر دیا۔ اتفاق کی بات کہ نشانہ خطا نہ گیا اور البڑوز زخمی ہو کر پانی میں گر پڑا۔
ہم نے جلد جلدی پرندے کی کھال اتار دی، گوشت کے ٹکڑے کیے اور کچا ہی ہڑپ کیا اور بقیہ گوشت چند چیتھڑوں میں لپیٹ کر بچی ہوئی مچھلی کے ساتھ رکھ دیا۔
دوسرے روز جب سورج طلوع ہوا تو ہم نے دیکھا کہ فضا میں بے شمار پرندے اڑرہے ہیں۔ پرندے دیکھ کر ٹونی کی جان میں جان آئی۔ ”ضرور کوئی جزیرہ قریب ہے۔ “ اس نے کہا اور آنکھیں بند کر لیں۔ دوپہر تک یہ پرندے فضا میں اڑتے رہے۔ وہ پانی مےں اترنے کی کوشش یوں نہیں کرتے تھے کہ شارک مچھلیاں بھی تیر رہی تھیں۔ ان مچھلیوں کی لمبائی چار فٹ اور رنگ زردی مائل بھورا تھا ۔ نارنجی رنگ کی بوٹ کو ایک نئی چیز سمجھتے ہوئے وہ بڑی تعداد میں جمع ہو رہی تھیں، لیکن قریب آکر جب ہمیں دیکھتےں تو ڈر کر دور ہوجاتیںمگر جلد ہی انہوں نے بھانپ لیا کہ ہم تینوں انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اب وہ بار بار اچھل کر بوٹ میں آنے کی کوشش کرنے لگیں۔ یہ دیکھ کر ہمارے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ خدا کی پناہ…. ہزارہا مچھلیاں تھیں۔ آج بھی ان کے کھلے جبڑے اور لمبے لمبے دانت یاد آتے ہیں ، تو خوف سے کانپ جاتا ہوں۔ اس روز خدا نے ان آدم خور مچھلیوں سے ہمیں بال بال بچایا۔ مچھلیوں کی اچھل کود سے سمندر میں تلاطم کی سی کیفیت پیدا ہو چکی تھی اور لائف بوٹ بری طرح ہچکولے کھا رہی تھی۔ ہم نے بمشکل اس کا توازن قائم رکھا، لیکن مچھلیوں سے پیچھا چھڑانے کی کوئی تدبیر ذہن میں نہ آتی تھی۔
جینی آلرچ کہنے لگا:”چیف اس وقت زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ان کی تعداد لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر وہ اسی طرح اچھل کود کر لہریں پیدا کرتی رہیں تو بوٹ لازماً الٹ جائے گی۔ اب بچنے کی ایک ہی تدبیر ہے۔“
” وہ کیا؟“ میں نے پوچھا۔
” میں اپنے چاقو سے ایک مچھلی کو ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اگرچہ اس میں جان کاخطرہ ہے، مگر مرنا بہرحال ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم ایک مچھلی کو مارنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ سب ڈر کر بھاگ جائیں گی۔“
ابھی ہم اسی فکر میں گم تھے کہ کیا کیا جائے کہ دفعتہ ایک شارک مچھلی نے اچھل کر جینی کا وہ ہاتھ منہ میں دبانے کی کوشش کی جس میں چاقو تھا۔ جینی نے پھرتی سے چاقو اس کے گلپھڑوں میں جھونک دیا اور پوری قوت سے مچھلی کو اٹھا کر بوٹ میں پھینک دیا۔ یہ کارنامہ اس تیزی سے سامنے آیا کہ عقل دنگ رہ گئی۔
شارک مچھلی کشتی میں پڑی تڑپ رہی تھی، لیکن اب کسی میں ہمت نہ تھی کہ اس کے قریب جاتا۔ چاقو کا پھل اس کے حلق میں اتر گیا تھا اور خون کی بڑی مقدار مسلسل بہہ رہی تھی۔ چند منٹ بعد وہ تڑپ تڑپ کر مر گئی۔ اس کا جبڑا بھیانک انداز میں کھلا ہوا تھا۔ جس میں اوپر نیچے نوکیلے اور استرے کی مانند تیز دانتوں کی قطاریں دکھائی دیتی تھیں۔ ہم تینوں نے اس شارک کو ہاتھوں پر اٹھایا اور بوٹ میں کھڑے ہوگئے اور وہی دلچسپ تماشا دیکھا جس کی توقع تھی۔ شارک مچھلیوں کی کثیر تعداد اپنی ہم جنس کو مرے ہوئے دیکھ کر فوراً پرے ہٹ گئی۔ آدھ گھنٹے کے بعد بوٹ کے قریب کوئی مچھلی موجود نہ تھی۔
ہم نے جی بھر کر شارک کا یہ کچا گوشت کھایا، لیکن اب بھی کافی گوشت بچ گیا۔ ہم نے اسے ایک جانب رکھ دیا اور بوٹ میں آرام سے لیٹ گئے۔ جب پیٹ بھرا ہوا ہو تو خود بخود نیند آجاتی ہے، چنانچہ تھوڑی دیر بعد ہم اس طرح آنکھیں بند کیے پڑے تھے جیسے اپنے اپنے گھروں میں آرام دہ بستر پر سو رہے ہوں۔
دوسرے روز صبح جب ہم نے گوشت کو چکھا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ لذیذ اور خستہ ہو چکا تھا۔ دراصل سمندر ی نمک اور سور ج کی گرمی نے اسے پکا دیا تھا۔ اس گوشت سے یہ فائدہ پہنچا کہ ہماری گم شدہ جسمانی قوت بحال ہو گئی اور حقیقت یہ ہے کہ بحر الکاہل میں چونتیس روز بھٹکنے کے دوران میں اگر شارک مچھلی کا یہ گوشت ہمیں نہ ملتا تو ہم کبھی زندوں کی دنیا میں واپس نہ آسکتے تھے۔
اس سے اگلے روز رات کو ایک درد ناک حادثہ اچانک پیش آیا۔ جینی آلرچ پہرے پر تھا۔ میں اور ٹونی پاسٹولا اونگھ رہے تھے کہ دفعتہ ایک بھیانک چیخ کے ساتھ جینی آلرچ سمندر میں گر پڑا۔ عین اسی لمحے اگر میں جھپٹ کر اس کی ٹانگ نہ پکڑ لیتا تو وہ خوفناک شارک مچھلی اسے گھسیٹ کر لے ہی گئی تھی۔ میں نے اور ٹونی نے بے ہوش آلرچ کو بمشکل پانی سے نکالااور بوٹ میں لٹا دیا۔ اس کا دایاں ہاتھ خون سے تر تھا اور جب ہم نے غور سے معائنہ کیا تو یہ دیکھ کر پسینے چھوٹ گئے کہ اس کی چار انگلیاں نصف ہتھیلی سمیت غائب تھیں۔ خون مسلسل بہہ رہا تھا ۔ میرے پاس اتفاق سے رومال موجود تھا ۔میں نے کس کر اس کی کلائی پر باندھ دیا۔ خدا خدا کرکے خون بند ہوا۔ آلرچ کا چہرہ زرد اور نبض کی رفتار سست تھی۔ اسے ہوش میں لانے کی جو تدبیریں اس وقت کی جا سکتی تھیں، کی گئیں مگر سب بے سود…. مجھے خوف تھا کہ وہ اسی حالت میں مرجائے گا۔ رات کا بقیہ حصہ ہم نے خدا کے حضور میں رو رو کر آلررچ کے بچ جانے کی دعا مانگتے ہوئے گزار دیا۔ اس کی کٹی ہوئی ہتھیلی پر جب بھی نظر پڑتی، دہشت سے بدن کا رواں رواں کھڑا ہوجاتا۔
صبح ہوئی لیکن آلرچ کی وہی حالت تھی۔ دوپہر کو آسمان پر سیاہ بادلوں کا ایک آوارہ قافلہ دکھائی دیا ۔ تین گھنٹے بعد ان بادلوں نے ہمارے سرپر سایہ کیا اور بارش ہوئی۔ بارش کا پانی آلرچ کے جسم پڑا۔ تو اس نے آنکھیں کھول دیں لیکن دہشت اور کمزوری کے باعث وہ بول بھی نہیں سکتا تھا۔ رات تک اس کی حالت بہتر ہو گئی۔
ہمیں سمندر میں بھٹکتے ہوئے اٹھائیس روز گزر چکے تھے۔ اب ہم میں سے کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ لائف بوٹ کو غلط سمت میں جانے سے روکتا۔ دوپہر کا وقت تھا کہ بوٹ سے کچھ فاصلے پر پانی میں سیاہ رنگ کے دو بڑے بڑے ناریل بہتے دکھائی دیے۔ پہلی نظر میں وہ سمندری سیل کے سر معلوم ہوتے تھے۔ چند منٹ بعد بہتے بہتے وہ بوٹ کے قریب آگئے اور ہم نے ہاتھ بڑھا کر انہیں اٹھا لیا۔ اس وقت فرط مسرت سے ہماری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ یہ ناریل اس بات کی نشانی تھے کہ کوئی جزیرہ بالکل قریب ہے۔ ناریل کے گودے اور پانی نے ہمیں خاصی قوت بہم پہنچائی اور اس کے سہارے ہم نے چار روز اور گزار دیئے۔ تینتیسویں روز دفعتہ سمندر میں ایک زبردست طوفان کے آثار نمودار ہوئے ۔ بڑی بڑے موجیں اٹھنے لگیں، ہوا تیز ہو گئی اور آسمان بادلوں میں چھپ گیا۔ اس روز جس موسلادھار بارش اور سمندری طوفان سے ہمیں سابقہ پڑا، وہ ساری عمر یاد رہے گا۔ خیال تھا کہ اس طوفان سے ہم نہ بچ سکےں گے۔ اس کے بعد ہمیں کچھ ہوش نہ رہا۔
آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو ایک جزیرے کے ساحل پر پڑا ہوا پایا۔ہم نے اٹھنا چاہا مگر ہاتھ پیروں میں جان نہ تھی۔ سہ پہر تک اسی طرح پڑے رہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ جزیرہ ویران اور بے آباد ہے۔ ورنہ کسی نہ کسی آدمی کی شکل تو دکھائی دیتی۔ سورج غروب ہوتے ہوتے ہم ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے جزیرے کی طرف روانہ ہوئے۔ ہمےں پتہ چل گیا کہ جزیرہ ویران نہیں ہے، اس پر آدمی موجود ہیں لیکن کیا وہ جاپانی ہیں یا اتحادیوں کے دوست؟
دور سے ہمیں چند مقامی باشندوں نے دیکھا اور وحشت سے چیختے چلاتے بھاگ کھڑے ہوئے۔ میں نے انہیں آواز دے کر روکنا چاہا، مگر صرف ہانپ کر رہ گیا۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرکے ہی ہم بے دم ہو کر ایک جگہ لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد ہم نے بہت سے آدمیوں کے قدموں کی چاپ سنی۔ شاید وہ ہمیں ڈھونڈ رہے تھے۔ ہم دھڑکتے دلوں سے یہ آوازیں سنتے رہے۔ پھر کسی نے صاف انگریزی لہجے میں پکار کر کہا۔
”تم کون ہو؟“
ہم خاموش رہے۔ جواب کیا دیتے، بولنے کی طاقت ہی کہاں تھی۔ انہوں نے شاید پہچان ہی لیا کہ ہم برطانوی ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ جزیرہ اتحادیوں کے قبضے میں ہے۔ ہم نے ایک بار پھر شکرانے کے لیے اپنی پیشانیاں اس خدائے لایزل کے سامنے جھکا دیں۔
بحرالکاہل کے اس بھیانک سفر کو اگرچہ کئی برس گزر چکے ہیں مگر بعض اوقات سوچتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ڈراؤنا خواب تھا جو ہم تین آدمیوں نے بیک وقت دیکھا ورنہ یہ بات یقین کرنے کے قابل نہیں ہے کہ ربڑ کی ایک معمولی لائف بوٹ میں تین آدمی بغیر خوراک اور پانی کے ایک ہزار میل کا سفر طے کریں اور پھر زندہ بچ جائیں۔
٭….٭….٭

//]]>