اچھا محافظ

اعظم طارق کوہستانی

۱۔ سارہ اور علی کو اسکول کا ہوم ورک کرنے میں اتنا مزہ نہیں آتا تھا جتنا مزہ اپنے بڑے سے فارم میں امی ابو کی مدد کرکے آتا تھا۔ ان کے ابو اِن سے بہت خوش تھے کہ وہ اپنا وقت فضول کاموں میں ضائع نہیں کرتے۔

۲۔ ان لوگوں کو اپنے فارم میں بھیڑوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے ایک عدد کتے کی ضرورت تھی۔ بالآخر ایک دن سارہ اور علی کے ابو بھیڑوں کی حفاظت کے لیے ایک پیارا ساکتا لے آئے۔ جس کا نام آتے ہی ٹومی رکھ لیا گیا۔ حالانکہ ان کے پاس ایک کتا موجود تھا لیکن وہ گھر کی حفاظت کے لیے تھا اور بھیڑوں کی حفاظت کے لیے الگ کتے کی ضرورت تھی۔

scan0004-2

۳۔ سارہ اور علی نے ٹومی کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہا۔ ٹومی شروع میں تو ذرا گھبرایا ہوا تھا لیکن جب اس نے دیکھا کہ سارہ اور علی اچھے بچے ہیں اور اپنے ابو امی کی بات مانتے ہیں تو وہ بھی ان سے گھل مل گیا۔

scan0005
۴۔ سارہ اور علی نے سوچا کہ نئے مہمان کو سب سے پہلے پورے فارم کی سیر کروائی جائے تاکہ وہ ہمارے جانوروں میں گھل مل جائے اور وہ ٹومی سے خوفزدہ نہ ہو، بلکہ ٹومی ان کا دوست بن جائے۔ اس لیے سب سے پہلے ٹومی کو مریضوں کا گھر دکھایا گیا۔ مرغیاں تو ٹومی کو دیکھ کر سچ مچ پریشان ہی ہوگئیں تھی۔

scan0005-2

۵۔ اب ٹومی کو گائیوں کی جگہ لے جایا گیا۔ یہ کافی بڑی اور ہری بھری جگہ تھی۔ گائیوں نے حیرت سے ٹومی کو دیکھا اور پھر منھ بنا کر گھاس کھانے لگیں۔ ٹومی نے مرغیوں کے گھر میں جس طرح چھلانگ لگائی تھیں یہاں اس نے یہ حرکت نہیں کی۔ ٹومی ہوشیار تھا کہ گاے کو غصہ آیا تو اس کی خیر نہیں۔

scan0006
۶۔ اب وہ سارے اپنے ابو کے ساتھ مل کر بھیڑوں سے ملنے گئے۔ ٹومی کو خاص طور پر ان بھیڑوں کی حفاظت کرنی تھی۔ ”ارے یہ کیا!“ سارہ چلائی۔”شرارتی بھیڑ پھر سے غائب ہے۔“ سارہ کے ابو نے بھی دیکھا کہ شرارتی بھیڑ پھر کہیں غائب ہوچکی تھی۔

scan0007
۷۔ ابھی وہ کھڑے باتیں کررہے تھے کہ اُنھوں نے ٹومی کو ایک جانب بھاگتے ہوئے دیکھا۔ ”ارے یہ ٹومی کہاں بھاگے جارہا ہے۔ “ علی نے بوکھلا کر کہا۔
”لگتا ہے، اسے شرارتی بھیڑ کا پتا چل گیا ہے۔ آ¶ اس کا پیچھا کریں۔“ ابو نے بھاگتے ہوئے کہا۔ وہ سب ٹومی کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگے۔

scan0008
۸۔ اُنھوں نے دیکھا کہ ٹومی جھاڑیوں میں گھسا بھونک رہا ہے۔وہ تینوں بھی ہانپتے ہوئے وہاں آپہنچے۔ ”کیا اس نے شرارتی کو تلاش کرلیا ہوگا۔“ علی نے ابو سے پوچھا۔
”میرے خیال میں۔“ ابو نے کہا اور جھاڑی کے اندر جھانکنے لگے۔

scan0008-2
۹۔ لیکن وہاں ایک عجیب منظر تھا۔ ٹومی نے ایک لڑکے کو ڈھونڈ نکالا اور لڑکے نے بھیڑ کو۔ وہ تینوں حیرت زدہ تھے۔ لڑکے نے بتایا کہ ٹومی کو آپ نے میرے ابو سے خریدا ہے اس لیے اب تک مجھ سے مانوس ہے۔ آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔

scan0009
۰۱۔ اس لڑکے کا نام احمد تھا۔ احمد نے بتایا کہ یہ بھیڑ اسے سڑک کنارے ملی، وہ اسے پہچان گیا تھا کہ یہ سارہ اور علی لوگوں کی بھیڑ ہے یہ اسے واپس لا رہا تھا کہ بھیڑ ایک جھاڑی کے اندر جا گھسی، اسے نکالنے کے لیے اسے بھی جھاڑی کے اندر جانا پڑا۔ اتنی دیر میں ٹومی بھی شرارتی بھیڑ کو تلاش کرتے ہوئے آگیا۔

scan0009-2
۱۱۔ احمد نے سیٹی بجائی تو ٹومی بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا۔
”وا¶ تو یہ سیٹی کی آواز سنتا ہے۔“ سارہ کے ابو نے حیرت سے کہا۔
احمد نے دوبارہ سیٹی بجائی تو ٹومی شرارتی بھیڑ کے پیچھے بھاگا اور دونوں بھیڑوں کے باڑے میں داخل ہوئے۔

scan0010
۲۱۔ سارہ کے ابو حیران تھے لیکن ان کے ساتھ ایک مسئلہ بھی درپیش تھا۔
”ٹومی صرف سیٹی کی آواز سنتا ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن مجھے تو سیٹی بجانی نہیں آتی۔“
”ارے! میں ہوں ناں…. میں آپ کو سکھا دوں گا کہ سیٹی بجا کر ٹومی کو کیسے بلانا ہے۔“
احمد نے کہا تو وہ سب خوش ہوئے اور احمد کا شکریہ ادا کیا۔

scan0010-2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>