ماہنامہ ساتھی کی تاریخ

اگست 1977ءکو کراچی سے بچوں کے لیے ”پیامی“ رسالہ نکالا گیا۔ بعد میں پیامی کا نام تبدیل کرکے ساتھی رکھ لیا گیا۔
مدیرانِ ساتھی
شمار نام عرصہ
1 کلیم چغتائی اگست 1977ئ
2 آفتاب الدین ستمبر 1978ء
3 رفیع الدین مجاہد ستمبر1979ئ
4 اعظم منہاس جنوری 1984ئ
5 سعود کمال عباسی نومبر 1984ءسے 1987ئ
6 صادق جمیل ستمبر 1987ءسے دسمبر1989ئ
7 سید شمس الدین جنوری 1990ءسے دسمبر1991ئ
8 قاضی سراج الدین جنوری 1992ءسے مئی 1994ئ
9 صہیب جمال جون 1994ءسے ستمبر 1995ئ
10 عبد الحامد اکتوبر 1995ءسے فروری 1997ئ
11 عبد الفرید بروہی مارچ 1997ءسے مارچ 1998ء
12 ضیائ شاہد اپریل 1998ءسے اپریل 2000ء
13 میر شاہد حسین مئی 2000ءسے اپریل2002ء
14 راحیل یوسف اپریل2002ءسے ستمبر 2003ئ
15 کاشف شفیع اکتوبر 2003ءسے نومبر 2005ء
16 نجیب احمد حنفی دسمبر 2005ءسے مارچ 2010ء
17 شمعون قیصر اپریل2010ءسے مارچ 2013ء
18 سید فصیح اللہ حسینی 2013 اپریل سے مارچ 2016ء
19 محمد طارق خان اپریل 2016ءتاحال
کلیم چغتائی
کلیم چغتائی پیامی کے پہلے مدیر تھے۔ ابتدا میں ساتھی کے کل صفحات 16 تھے اور قیمت 20پیسے تھی۔ جنوری 1978ءصفحات 24 کردیے گئے۔
آفتاب الدین
اس کے بعد ”آفتاب الدین“ ستمبر 1978ءسے ساتھی کے مدیر رہے ، ا±ن کے دور میں پہلا خانمبر ”امتحان نمبر “نکالاگیا۔ مئی 1978ءمیں پیا می کا نام بدل کر موجودہ نام ”ساتھی“ رکھ دیا گیا۔ ساتھی کے نام میں تبدیلی میں دو ساتھیوں کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔ ان کی تجویز پر ساتھی کا نام رکھا گیا۔ یہ دو لڑکے دہلی بوائز اسکول کے ”شارق ممتاز“ اور کے ایم اے بوائز اسکول کے طالب علم ”عبدالرحمن“ تھے۔ستمبر 1978ءمیں ساتھی کا ایک رنگ کا سر ورق بنایا گیا۔ اس وقت ساتھی کی قیمت 50پیسے تھی۔ ساتھی کے سالنامے کی روایت ستمبر 1979ءسے شروع ہوئی۔
رفیع الدین مجاہد
پہلا سالنامہ نئے مدیر ”رفیع الدین مجاہد“ نے تیار کیا۔جون 1982ءمیں ساتھی کا سرورق رنگا رنگ کردیا گیا۔
اعظم منہاس
جنوری 1984ءمیں ”اعظم منہاس“ نے مدیر کی حیثیت سے چارج سنبھالا۔
سعود کمال عباسی
اعظم منہاس کے بعد ”سعود کمال عباسی“ نے جگہ مدیر کی جگہ لے لی اور کافی طویل عرصے تک یعنی نومبر 1984ءسے 1987ءتک ساتھی کو سنوارتے رہے۔ ساتھی کا سائز پہلے کچھ چھوٹا تھا لیکن آج کل آپ جو سائز دیکھتے ہیں۔ وہ سعودکمال عباسی نے ہی تیار کیا تھا۔ ان کے دور میں سالنامہ ستمبر سے باقاعدہ شروع ہوا۔ اس کے علاوہ ”آزادی نمبر“ اگست 1985ءمیں شائع ہوا۔ یہ بڑے کام سر انجام دے کر آپ بھی رخصت ہوئے اور اپنی جگہ ”صادق جمیل“ کو چھوڑ گئے۔
صادق جمیل
صادق جمیل نے پرانی روایتوں کو بر قرار رکھا اور ساتھی کو مزید خوب صورت اور موٹا تازہ کرنے میں جمے رہے اور ہاں ساتھی کا مقبول عام سلسلہ ”کمانڈو فور“ جو منیر احمد راشد نے تحریر کیا تھا۔ ان ہی کے دور میں سالنامے سے شروع ہوا۔ دسمبر1987ءسے ساتھی کے ساتھیوں کو انعاما ت بھی دینے کی روایت شروع کی گئی۔ اب ہر ماہ کی بہترین تحریر کے مصنف کو انعامات بھی دےے جانے لگے۔ اس طرح ”صادق جمیل“ ستمبر 87ءسے دسمبر89ءتک ساتھی کے ساتھ رہے۔ ان ہی کا وہ تاریخ ساز دور تھا۔ جب ساتھی مجلے کی شکل سے نکل کر ماہنامے کی شکل اختیار کر گیا۔ ساتھی کی باقاعدہ رجسٹریشن جنوری 89ءمیں ملی۔
سید شمس الدین
”سید شمس الدین“ جنوری 90ءسے دسمبر91ءتک ساتھی کے مدیر رہے لیکن اتنے مختصر عرصے میں آ پ نے ساتھی کو چار چاند لگا دےے۔ اب ساتھی کے اندر تحریروں کے ساتھ اسکیچز لگانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ دو رنگوں میں پہلی بار ساتھی شائع ہوا اور ”ساتھی رائٹرز ایوارڈ“ کی پہلی منفرد تقریب بھی مارچ 90ءمیں آپ ہی نے منعقد کی۔ اسی سال ”کمپیوٹر نمبر“ شائع ہوا۔ اتنے سارے اہم کام سر انجام دے کر آپ کا سنہرا دور ختم ہوا۔
قاضی سراج الدین
نئے مدیر ”قاضی سراج الدین“ نے ساتھی کو نئے جدید دور میں داخل کردیا۔ سب سے پہلے تو فروری 92ئ میں ساتھی کا ”پندرہ سالہ نمبر“ شائع کرکے ساتھی کی سا لگرہ منائی گئی۔ یہ خاص نمبر 160 صفحات جتنا موٹا تھا اور قیمت پانچ روپے تھی۔ پھر اگلے ماہ ساتھی رائٹرز ایوارڈ کی کامیاب تقریب مارچ 92ءمیں منعقد ہوئی۔ اسی ماہ میں ساتھی آل پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی کا ممبر بھی بنا۔ اب ساتھی کی قیمت مستقل چار روپے کردی گئی۔ جبکہ صفحات موجودہ صفحات 112 جتنے ہوگئے۔ اسی سال ساتھی کا خاص نمبر ”سائنس اسپیشل“ شائع ہوا۔ قاضی سراج نے تین خاص نمبر ایک ہی سال میں نکالنے کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔ یہ بات ثابت کرتی تھی کہ قاضی سراج کے ارادے مضبوط اور عزائم جواں تھے۔ اسی سال ”کمانڈو فور“ کا مقبول سلسلہ اپنی آخری قسط کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔ چونکہ اس سال تین خاص نمبر لانے کی وجہ سے سالنامہ شائع نہ ہوسکا تھا۔ اس لیے پہلی بار سالنامہ مارچ 1993ءمیں شائع ہوا۔ اس کے فوری بعد اپریل کا شمارہ ”حقوق اطفال نمبر“ شائع ہوا۔ اس خاص نمبر کو دعوة اکیڈمی نے بچوں کے رسائل میں دوسرا انعام دیا۔ اس سال بھی جولائی 93ءمیں ساتھی رائٹرز ایوارڈ کی تقریب منعقد ہوئی جو پھر بہت عرصہ تک منعقد نہ کی جاسکی۔ اگست 93ءمیں آپ نے” جیوے پاکستان نمبر“ شائع کیا۔ یہ آپ کا آخری خاص نمبر تھا لیکن اب ساتھی کو چار چاند لگ چکے تھے۔ ساتھی کی مقبولیت بہت بڑھ چکی تھی۔ ہر کوئی ساتھی کا ساتھی بننا چاہتا تھا۔ جاتے جاتے قاضی سراج ساتھی کو دسمبر 93ءمیں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کا ممبر بھی بناگئے۔ صرف اتنا ہی نہیں۔ ساتھی کا دوسرا ایڈیشن بھی اگست 92ءسے ہی نکلنا شروع ہوا ہے۔ اس طرح ساتھی کو بیک وقت دو زبانوں میں شائع ہونے کا اہم اعزاز حاصل ہوا۔یعنی اب ساتھی اردو کے علاوہ حیدر آبادسے سندھی زبان میں بھی شائع ہونے لگا۔ مارچ 94ئ میں ”خاص بچے خاص شمارہ“ شائع ہوا۔ ساتھی کو پاکستان بھر میں اتنا پسند کیا گیا کہ دعوة اکیڈمی نے بچوں کے رسائل میں اول انعام سے نوازا۔ اس اہم اعزاز کو لیے قا ضی سراج رخصت ہو ئے اور ”صہیب جمال“ کو اپنی جگہ چھوڑ گئے۔
صہیب جمال
صہیب جمال نے بھی قاضی سراج کی تقلیدکرنے کی بے انتہا کوشش کی مگر ان دنوںکاغذ کی قیمتوں میں بے انتہا اضا فہ ہونے کے باعث اخراجات کو سنبھالنا انتہائی مشکل ہوگیا تھا۔ صہیب جمال نے اس کے باوجود معیار میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ آپ سب سے کم عرصہ اپنی ذمہ داری نبھاسکے۔
عبدالحامد
آپ کے بعد عبدالحامد نے ساتھی کو سنوارنے کا عہد کیا۔ لیکن آپ نے ساتھی کے اندر رنگا رنگ صفحات کا خاتمہ کرکے قیمت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ یہ روایت بہت عرصہ تک قائم رہی۔ آپ نے عام صفحات میں ہی خاص نمبر شائع کیے۔جس میں”صحت نمبر“، ”فروغ تعلیم نمبر“ اور ”اطفا ل پاکستان نمبر“ شامل ہے لیکن ان منفرد خاص نمبرز میں ساتھی کی صحت کمزور ہی رہی۔ عبد الحامد جاتے جاتے ایک خاص کام ضرور کرگئے کہ ساتھی پبلی کیشنز کے تحت پہلا نا ول ”کمانڈو فور“ جو بہت مقبول ہوا تھا اور جس کے شائع کرنے کا بہت بار اعلان کیا گیا تھالیکن شائع نہ ہوسکاتھا، اسے بہترین سرورق کے ساتھ شائع کروایا۔
عبد الفرید بروہی
عبد الحامد کے بعد عبد الفرید بروہی مارچ 97ءمیں آئے۔ آپ نے پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ساتھی کا ضخیم ترین شمار ہ نکا لنے کا عزم کیااور پھر اسے ”عزم آزادی نمبر“کے نام سے شائع کیا۔ ساتھی کی صحت دیکھ کر پرانے خاص نمبرز کی یاد تازہ ہوگئی۔ بہت عرصے بعد ساتھی کافی صحت مند نظر آنے لگا۔ ساتھی کو پھر سے بے حد مقبولیت حاصل ہونے لگی۔ آپ کا عزم اور ارادے قاضی سراج سے کسی طرح کم نہ تھے۔ بہت جلد ساتھی کے بیس سال مکمل ہونے پر آپ نے اسے شایان شان طریقے سے منایااور” بیس سالہ نمبر“اس زمانے میں ریکارڈ توڑ صفحات یعنی 148 صفحات پر مشتمل نکالا۔ عبدالفرید بروہی اس وقت دعوة اکیڈمی شعبہ بچوں کے ادب کے ڈائریکٹر ہیں۔ اگلے سال آپ بھی رخصت ہوئے اور ساتھی کو ضیاءشاہدکے سپرد کرگئے۔
ضیاءشاہد
ضیاءشاہد نے آتے ہی پہلے ماہ اپریل 98ءمیں ”ماں نمبر“ معمولی صفحات کے اضافے کے ساتھ شائع کیا۔ اس میں کلر صفحات کی کمی ساتھیوں نے شدت سے محسوس کی۔ اس کمی کو آپ نے ستمبر کے ”سالنامے“ میں پورا کردیا اور بیس سالہ نمبر کی ضخامت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 166 صفحات شائع کیے۔ اس کی قیمت بارہ روپے تھی اور یہ اپنے اندر رنگین صفحات لیے ہوئے تھا۔ پھر اگلے سال جون 99ءمیں آپ نے ”ورلڈ کپ اسپیشل“ 136 صفحات کے ساتھ نکالا جس میں رنگین صفحات بھی شائع کیے۔ اس خاص نمبر کے بعد نومبر 99ءمیں عام شمارے کی طرح ”حقوق اطفال نمبر“ شائع کیا۔
میر شاہد حسین
نئی صدی شروع ہوئی تو ”میر شاہد حسین“ نے ضیاءشاہد کی جگہ لے لی۔ آپ نئے صدی کے نئے عزائم لیے ہوئے تھے۔ آپ نے آتے ہی مئی 2000ءمیں ”صحت و صفائی نمبر“ شائع کیا۔ جس کے ساتھ ایک خوب صورت پزل کا تحفہ مفت دیا گیا۔ جسے ساتھیوں نے بے حد پسند کیا۔ اس خاص نمبر کے 136 صفحات تھے۔ پھر ستمبر 2000ءمیں سالنامہ شائع کیا۔ اس کے ساتھ دیدہ زیب اسٹیکر کا تحفہ مفت دیا گیا اور صفحات 136 ہی رکھے گئے۔ آپ نے نئی صدی کے آغاز پر پرانی روایت ”رائٹرز ایوارڈ“ کا آغاز کیا۔ اس طرح یہ تقریب جولائی93ءکے طویل عرصے بعد 15 اکتوبر 2000ءکو ایو یکیو کلب، گلشن اقبال میں منعقد کی گئی۔ اگلے ماہ نومبر 2000ءمیں ”آزادی کشمیر نمبر“ شائع ہوا۔ جس کے صفحات عام شماروں کے برابر تھے۔ اس طرح نئی صدی کا آغاز تین خاص نمبر اور رائٹرز ایوارڈ کی تقریب کو منعقد کرکے کیا گیا۔ اگلے سال صرف دو خاص نمبر شائع ہوئے۔ ایک تو عام شمارے کی موٹائی لیے ہوئے ”بچے اور امن“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ جس کے سرورق کو دعوة اکیڈمی نے پاکستان بھر میں بہترین سر ورق قرار دیا اور دوسرا خاص نمبر ”سالنامہ“ اکتوبر2001ءمیں شائع ہوا۔ اس کے صفحات کی تعداد 152 رکھی گئی تھی۔ لیکن خاص بات یہ تھی کہ اس کے ساتھ ایک منفرد لیڈو || Lido گیم کا تحفہ مفت دیا گیا۔ جس میں اچھائی اور برائی کے درمیان میں فر ق کرتے ہوئے جنت تک پہنچنے کی تلقین کی گئی تھی۔ یہ تحفہ آئیڈے کے لحاظ سے خاصا منفرد ثابت ہوا۔ 13 جنوری 2002 ءکو ریجنٹ پلازہ میں دوسری بار”رائٹرز ایوارڈ“ کی تقریب منعقد کی گئی۔ ان تقاریب کی افادیت یہ ہوئی کہ گمشدہ اور نئے لکھاری دوبارہ سے ساتھی کو نکھارنے کی طرف مائل ہوئے اور ساتھی کی دلکشی میں اضافہ کرنے لگے۔ اپریل2002ءمیں میر شاہد حسین رخصت ہوتے ہوئے راحیل یوسف کو چھوڑ گئے۔
راحیل یوسف
آپ کے لیے یہ سال چیلنج کا درجہ رکھتا تھا کیونکہ ساتھی کو 25 سال مکمل ہوچکے تھے اور آپ نے اس چیلنج کو نہ صرف قبول کیابلکہ ساتھی کو اتنا موٹا کردیا کہ میں ساتھی اب تک اتنا موٹا کبھی نہ ہوا تھا۔ اس میں شامل رنگا رنگ صفحات اور خوب صورت آئیڈیاز نے ساتھی کواتنا حسین کردیا تھا کہ آج تک ساتھی اس حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے۔ اس کی قیمت سب سے زیادہ یعنی 20 روپے تھی۔ جولائی 2003ءمیں ”حیرت ناک نمبر“ عام شمارے کے صفحات میں شائع کیا مگر یہ رنگا رنگ صفحات ساتھ لیے ہوئے تھا۔ ستمبر 2003ءمیں راحیل یوسف نے بہت جلدی ساتھی کو چھوڑ دیا اور کاشف شفیع کے حوالے کردیا۔
کاشف شفیع
آپ نے آتے ہی پہلے ماہ ہی رائٹرز ایوارڈ کی تقریب ریجنٹ پلازہ میں منعقد کی۔ اگلے ماہ اکتوبر 2003ئ میں سالنامہ شائع کیا۔ جس کے صفحات کی تعداد 176 رکھی گئی۔ اگلے سال مئی 2004ءمیں ایک منفرد سلسلہ ”جیتو کمپیوٹر کوئز“ شروع کیا۔ جس سے ساتھیوں نے ساتھی کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور ساتھی کی مقبولیت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔ اسی شمارے سے دوبارہ رنگین صفحات کا آغاز مستقل کردیا گیا۔ اب تو ہر شمارہ ہی خاص نمبر دکھائی دینے لگا۔ جولائی 2004ءمیں ”جنگل نمبر“144 صفحات کے ساتھ شائع ہوا۔ پھر اگلے ماہ ہی ”آزادی نمبر“120 صفحات کے ساتھ آیا اور اکتوبر2004ءمیں سالنامہ بھی شائع کردیا۔ اس کی قیمت 18 روپے تھی اور صفحات 176 تھے۔ مارچ 2005ءمیں بہت عرصہ بعد ایک اور مقبول قسط وار ناول ”گوریلا فائٹرز“ شانِ مسلم کے قلم سے شائع ہوا۔ اپریل 2005ءمیں آپ نے بھی رائٹرز ایوارڈ کی تقریب ریجنٹ پلازہ میں منعقد کی۔ ستمبر2005ءمیں حسب معمول سالنامہ شائع ہوا۔ جس کے ساتھ ایک منفرد کارڈ گیم مفت دیا گیا۔ اس کی قیمت 18 روپے اور صفحات 192 تھے۔ اس طرح کاشف شفیع جاتے جاتے پچیس سالہ نمبر کی تاریخ کو دہرا گئے۔
نجیب احمد حنفی
جی ہاں دسمبر 2005ءمیں جو ”قائد اعظم “ نمبر آپ نے پسند کیا تھا۔ وہ نجیب احمد حنفی نے آتے ہی نکالا تھااور بہت خوب نکالا تھا۔ خاص نمبر کے ساتھ ایک قائد اعظم کی آٹو گراف بک بھی مفت دی گئی تھی۔ اس کے صفحات160 تھے مگر ایک صدی اپنے اندر سمائے ہوئے تھا۔ 2006ءمیں دو خاص نمبر آپ نے ساتھی کے پڑھے ہوں گے۔ ستمبر 2006ءکا سالنامہ اور دسمبر 2006 ءمیں ”عالم اسلام نمبر۔“ 15 اپریل 2007ءمیں آواری ٹاورز میں رائٹرز ایوارڈ کی تقریب منعقد کی گئی۔ ستمبر 2007ءمیں 30سالہ نمبر اپنی آب وتاب کے ساتھ شائع ہوا۔ 30روپے قیمت کے ساتھ 200 صفحات پر مشتمل یہ سالنامہ اب تک شائع ہونے والے سالناموں اور خاص نمبروں کو صفحات کے لحاظ سے پیچھے چھوڑگیا۔ اس کے ساتھ اینیمل کارڈ گیم کا تحفہ بھی تھا۔ جنوری 2008ءمیں نجیب احمد حنفی کی ادارت میں ہی 152صفحات پر مشتمل ”کارنامہ نمبر“ نکالا گیا۔اس خاص نمبر کی قیمت 20 روپے رکھی گئی۔ جون 2008ءمیں 152صفحات کا ”بور نمبر“ نکالا گیا۔بور نمبر کی قیمت معمولی فرق کے ساتھ 22روپے مقرر کی گئی۔ ”بور نمبر“ کو اپنے انوکھے آئیڈیاز کی وجہ سے قارئین نے خوب سراہا۔ اس خاص نمبر میں بور قارئین کو جھنجھنا بطور تحفہ بھجوایا گیا۔ ابھی قارئین نے ساتھی کا ”بور نمبر“ ہضم کیا بھی نہیں تھا کہ نومبر 2008ءکو 160صفحات اور 30روپے کی قیمت میں”سالنامہ“ لایا گیا۔ یوں تو نجیب حنفی اپنے انوکھے آئیڈیاز کی وجہ سے ساتھی کے منفرد ایڈیٹر رہے ہیںلیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ 17 اپریل 2009 کو فاران کلب میں رائٹرز ایوارڈ کے ساتھ بچوں کا ”کل پاکستان مشاعرے“ کا انعقاد تھا۔ اس مشاعرے میں پاکستان بھر کے شعرا کو اکھٹا کیا گیا تھا۔جولائی 2009ءمیں 152صفحات پر مشتمل ”شرارت نمبر“ اور نومبر2009ءمیں 168صفحات پر مشتمل ”سالنامہ“ شائع کیا گیا۔ان کی قیمت بالترتیب 25اور 30 تھی۔ شرارت نمبر میں ساتھی کی ٹیم کے ساتھ ہونے والی شرارت نے قارئین کے ذہنوں پر اپنے نقوش چھوڑ دیئے اور پھر اسی سال اس سالنامے میں ساتھی کو سجانے والی ٹیم کا قارئین کے گھر چھاپہ بہت مقبول ہوا۔ یہ ”نجیب احمد حنفی“ کی ادارت میں شائع ہونے والا آخری ”سالنامہ“ تھا۔ بالاخر نجیب احمد حنفی بھی ساتھی کو چھوڑ گئے۔
شمعون قیصر(شہید)
جون 2010ءمیں 168 صفحات پر مشتمل ”سائنس نمبر“ نئے مدیر ”شمعون قیصر“ کی ادارت میں نکلا۔ اب تک قیمتوں میں معمولی فرق کے ساتھ خاص نمبر شائع کیے جارہے تھے۔ سائنس نمبر کی قیمت بھی 30روپے رکھی گئی تھی۔ جبکہ نومبر 2010ءمیں ہمیشہ کی طرح پورے طمطراق سے 168صفحات 30روپے کی قیمت پر مشتمل ”سالنامہ“ لایا گیا۔ اس سالنامے میں بچوں کے لیے سندباد 4Dسینما کا مفت ٹکٹ بھی شامل تھا۔ شمعون قیصر نے نجیب احمد حنفی کے کیے ہوئے کام کو خوش اسلوبی کے ساتھ آگے بڑھایا۔17اپریل 2011ءکو ریجنٹ پلازہ میں ”ساتھی رائٹرز ایوارڈ“ کی پروقار تقریب ہوئی۔ جولائی 2011ءمیں طویل مدت کے بعد ساتھی کی قیمت میں 5روپے کا اضافہ کرکے ساتھی 25روپے کا کردیا گیا۔ لیکن ساتھی اب بھی دیگر رسائل کے مقابلے میں کم قیمت تھا اور ہے۔ اگست2011ءمیں ”تعمیر پاکستان نمبر“ اور دسمبر 2011ءمیں ”سالنامہ“ شائع ہوا۔ اب کاغذ مسلسل منہگا ہوتا جارہا تھا۔ جس کی وجہ سے ان دونوں خاص شماروں کی قیمت 35جبکہ صفحات 168 تھے۔ سالنامے کے ساتھ گزشتہ سال کی طرح سندباد 4Dسینما کا مفت ٹکٹ شامل تھا۔اس سال بھی دو خاص نمبر شائع ہوئے تھے۔ جولائی 2012ءمیں 160صفحات کا ”سیر سپاٹے نمبر“ نکالا گیا۔ نومبر 2012ءمیں 168صفحات پر مشتمل ”سالنامہ“ شائع کیا گیا۔ سیر سپاٹے کی قیمت 35روپے جبکہ سالنامے کی قیمت 45 روپے مقرر کی گئی۔ اب ساتھی مکمل ردھم میں آچکا تھا۔ سالنامے میں سند باد 4D سینما کا ٹکٹ قارئین کے اصرار پر مسلسل دیا جانے لگا۔ شمعون قیصر کو ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہوا کہ ان کے دور میں نئے لکھاریوں کی رہنمائی کے لیے بنایا گیا”ساتھی گائیڈنس فورم“ متحرک ہوا۔جاتے جاتے شمعون قیصر نے کاغذ کی بڑھتی ہوئی قیمت کے سبب میری قیمت میں مزید 5روپے کا اضافہ کرکے ساتھی کو توانائی بخشی۔
فصیح اللہ حسینی
”شمعون قیصر“ کے بعد ”فصیح اللہ حسینی“ نے مدیر کی کرسی سنبھال لی۔ ”فصیح اللہ حسینی“ نے آتے ہی 9جون 2013ئ کو آرٹس کونسل کراچی میں ”رائٹرز ایوارڈ“ کی تقریب کا انعقاد کر ڈالا اور پھر جون 2013ءمیں ”بچپن نمبر“ شائع کیا گیا۔ یہ بچپن نمبر ”نجیب احمد حنفی“ کے 30 سالہ نمبر کے تعاقب میں 200صفحات کا نکالاگیا۔ اس خاص نمبر میں جہاں دلچسپ انعامی سلسلے تھے۔ وہیں کچھ خاص قارئین کے لیے جو بچپن نمبر پڑھنے کے باوجود تشنگی محسوس کررہے تھے، ان کے لیے بذریعہ کوپن چسنی دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس خاص نمبر کی قیمت 50روپے طے کی گئی تھی۔ 2013ءکے ماہ نومبر میں ساتھی کا 35سالہ نمبر اپنی آب وتاب کے ساتھ لایا گیا۔ اس سالنامے نے ضخامت میں پچھلے تمام ریکارڈ توڑدیے۔ 240 صفحات اور 50روپے کا یہ سالنامہ اپنے منفرد آئیڈیاز کی وجہ سے ادبی حلقوں میں خوب سراہا گیا۔ اپریل 2014ءمیں ساتھی گائیڈنس فورم کے تحت نئے قلمکاروں کی تربیت کے لیے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ کے نگراں مجلس ادارت کے اعظم طارق کوہستانی تھے۔ معروف قلمکاروں اور ٹرینرز نے نوجوانوں کی تربیت کا سامان کیا۔ جون 2014ءمیں ساتھی کے ساتھیوں نے ایک مشکل ہدف کو مقصود بناتے ہوئے مریخ نمبر نکالا۔ اس نمبر کے حوالے سے میرے ساتھیوں نے خوب محنت کی اور بچوں کے ادب میں پہلی بار کسی رسالے نے اس موضوع پر خاص نمبر نکالا تھا۔ ان تمام خاص نمبرز اور سالناموں کی قیمتیں مستقل 50روپے ہی رکھی گئیں تھی۔ پچھلی روایتوں کے برعکس اس بار سالنامہ اکتوبر 2014ئ میں لایا گیا۔ 2015ءکے ماہ مئی میں 176صفحات پر مشتمل آئیڈیا نمبر لایا گیا۔ نت نئے خیالات اور مستقبل کا نقشہ کھینچتے یہ آئیڈیاز خوب پسند کیے گئے۔نومبر2015ءساتھی کے ساتھیوں کے لیے بہت بھاری رہا۔نومبر میں سالنامہ اور کل پاکستان بچوں کا مشاعرہ+رائٹرز ایوارڈ جیسے اہم کام کرنے تھے۔ ساتھی کی ٹیم اب کافی مضبوط تھی۔ اس لیے 168صفحات اور 50روپے کی قیمت پر مشتمل سالنامہ لایا گیا۔نومبر میں ہی پاکستان میں بچوں کا کل پاکستان مشاعرہ کے انعقاد نے ساتھی کے چاہنے والوں میں اضافہ کیا۔ کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں عوام کو شرکت کی کھلی دعوت دی گئی تھی۔جنوری 2016ءمیں ساتھی گائیڈنس فورم کے تحت تیسری ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ کے نگراں مجلس ادارت کے اعظم طارق کوہستانی تھے۔ جس میں شہر کے معروف قلمکاروں اور ٹرینرز نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارا۔ اتنے اہم کام کر کے بلاآخر سید فصیح اللہ حسینی بھی ساتھی سے رخصت ہوئے اور محمد طارق خان کو اپنا جانشین چھوڑ گئے۔
محمد طارق خان
ادبی حلقوں میں محمد طارق خان اپنے قلمی نام اعظم طارق کوہستانی کے نام سے معروف ہیں۔آج کل اعظم طارق کوہستانی ہی ساتھی کو نکھارنے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔
خاص شمارے
شمار موضوع ماہ و سال
1 امتحان نمبر ستمبر 1978ئ
2 آزادی نمبر اگست 1985ئ
3 کمپیوٹر نمبر جولائی 1990ئ
4 پندرہ سالہ نمبر فروری 1992ئ
5 آزادی کشمیر نمبر جولائی 1992ئ
6 سائنس اسپیشل نومبر 1992ئ
7 حقوق اطفال نمبر اپریل 1993ئ
8 جیوے پاکستان نمبر اگست 1993ئ
9 خاص بچے خاص شمارہ مارچ 1994ئ
10 اطفال پاکستان نمبر مارچ 1997ئ
11 عزم آزادی نمبر اگست 1997ئ
12 بیس سالہ نمبر نومبر 1997ئ
13 ماں نمبر ماہ اپریل 1998ئ
14 ورلڈ کپ اسپیشل جون 1999ئ
15 حقوق اطفال نمبر نومبر 1999ئ
16 صحت و صفائی نمبر مئی 2000ئ
17 آزادی کشمیر نمبر نومبر 2000ئ
18 بچے اور امن جولائی 2001ئ
19 پچیس سالہ نمبر ستمبر 2002ئ
ساتھی رائٹرز ایوارڈ
شمار ماہ و سال
پہلاساتھی رائٹرز ایوارڈ مارچ 1990ئ
دوسراساتھی رائٹرز ایوارڈ مارچ 1992ئ
تیسرا ساتھی رائٹرز ایوارڈ جولائی 1993ئ
چوتھا ساتھی رائٹرز ایوارڈ اکتوبر 2000ئ
پانچواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ جنوری 2002 ئ
چھٹاساتھی رائٹرز ایوارڈ ستمبر 2003 ئ
ساتواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ اپریل 2005ئ
آٹھواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ اپریل 2007ئ
نواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ اپریل 2009ئ
دسواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ ا پریل 2011ئ
گیارہواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ جون 2013ئ
بارہواں ساتھی رائٹرز ایوارڈ نومبر 2015ئ

بچوں کا کل پاکستان مشاعرہ
17 اپریل 2009، فاران کلب کراچی، نجیب احمد حنفی
4 نومبر 2015، ایکسپو سینٹر کراچی، سید فصیح اللہ حسینی

//]]>