آخری حکم

ابن آس محمد

رات خاصی بھیگ چکی تھی ….
ٹھنڈ کے موسم میںراتیں بھیگتی ہیں ….گرمیوں کی راتیں بھیگتی نہیں ،بھگودیتی ہیں ،پسینے میں ڈبودیتی ہیں …. اُس رات سردی کی شدت بھی کم نہیں تھی ….وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی جا رہی تھی ….
کراچی راتوں کا شہر ہے ….نصف شب تک بیدار رہنا اور شہر میں گھومنا یہاں کا چلن ہے ….مگر اس رات ایسی شدید ٹھنڈ تھی کہ عشاءکی نماز کے بعد سے ہی لوگ گھروں میں دُبک کر بیٹھ گئے ….سارے اہم کام ترک کر دیے اور کمبل لپیٹ کر سو گئے ،یا اپنے گرم کمروں میں ٹی وی دیکھتے رہے ….
وہ ایک بڑی سی کوٹھی تھی، جو خاصی حد تک اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی ….کوٹھی پرانی طرز کی تھی ….اُس کی دیواریں ٹھنڈ کی شدت کے باعث ٹھٹھرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔یہ عمارت ڈیفنس کے ایک قدرے ویران حصے میں ایک گھر کے عقب میں استادہ تھی….عمارت سے ملحق ایک قدیم طرز کا بنگلا تھا جس کے پچھلے حصے میں پرانے ڈیزائن کی تین منزلہ لائبریری کی عمارت بنائی گئی تھی، جس میں قدیم طرز کاایک آتش دان بھی تھا ۔
یہ اپارٹمنٹ ایک نجی لائبریری، مطالعہ گاہ او ر پرائیوٹ کلب کے طور پراستعمال ہوتا تھا…. اور اس کا پرانا مالک ناصر چغتائی اپنے ایک اسسٹنٹ ماجد صدیقی کے ساتھ اس کے انتظامات سنبھالتا تھا۔
یہ جگہ دراصل امیرلوگوں کی ذ ہنی عیاشی کے لیے بنائی گئی تھی ۔اس پوش آبادی میں رہنے والے وہ امیر لوگ ،جو اپنا کچھ وقت سکون سے گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر مطالعے میں صرف کرنا چاہتے ہوں یا کچھ شغل کرنے کے موڈ میں ہوں ….وہ یہاں اپنا وقت گزار سکتے تھے ….
دس سال سے یہ کلب نما لائبریری اطراف کے دولت مند لوگوں کے لیے ایک پرسکون تفریح گاہ تھی ،جہاں وہ کتابیں پڑھتے ،تاش کھیلتے ،فلمیں دیکھتے اور چھوٹی موٹی تقریبات منعقد کرتے تھے ….کلب کی ممبر شپ لاکھوں میں تھی اور ماہانہ فیس بھی کئی ہزار روپے مقرر کی گئی تھی ….ِ وہ لوگ جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے وہ اس کلب کی ممبرشپ لیتے اور اپنا نجی وقت یہاں گزارنا پسند کرتے تھے ….
ماجد صدیقی اورناصرچغتائی، لگ بھگ دس برس سے اِس پرائیوٹ ”لٹریری کلب“ کے انتظام سنبھالے ہوئے تھے ….مگر اب بات کچھ بگڑ گئی تھی ۔ماجد صدیقی نے کلب کے اکائونٹ سے کئی لاکھ کا غبن کیا تھا ….اور ناصر چغتائی نے یہ غبن پکڑ لیا تھا۔
لائبریری کے اسی کمرے میں،ماجد صدیقی ایک طرف بیٹھا تھا…. کسی گہری سوچ میں غرق تھا ….اس کے ماتھے پر سوچ کی پرچھائیاں رقص کرتی دکھائی دے رہی تھیں ….کچھ دیر بعد اُس نے ایک طویل سانس لیا….اور اُٹھ کر ایک دراز میں سے سگار بکس نکال کر ایک سگار سلگا لیا ۔پھر کرسی کی پشت سے کمرٹکاکر گہرے گہرے کش لینے لگا ۔
کمرے میں سگار کا گہرا اور کثیف دھواں پھیلتا چلا گیا ۔
ماجد صدیقی اب کسی حد تک مطمئن نظر آنے کی کو شش کر رہا تھا ….وہ اپنے سگار کے دھویں کے دوسری طرف نظریں دوڑاتے ہوئے اس آرام دہ اورسجے سجائے کمرے کا جائزہ لینے لگا ….اور پھر سامنے بیٹھے ناصر چغتائی کو تیز نظرں سے گھورنے لگا ۔
یہ بہت آرام دہ کمرا تھا ….کسی چیز کی کمی نہیں تھی ….لیکن پھر بھی وہ کل اِس کمرے کو ….اِس اپارٹمنٹ کو ….اِس اِدارے کو ہی چھوڑ کر جا رہا تھا ….آج اس کی یہاں آخری رات تھی ۔اُس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب وہ اپنی باقی کی زندگی اِس کمرے تک محدود نہیں رکھے گا ….یہاں سے نکل کر باہر جائے گا ….اور بقیہ زندگی دنیا بھر کی سیرو سیاحت میں بسر کرے گا ۔
اور اس کی یہ خواہش ناصر چغتائی کو کھل گئی تھی ۔
ناصر چغتائی اُس کے سامنے بیٹھا تھا ….سگریٹ کے پے درپے کش لے رہا تھا اوراُس سے بھی زیادہ تیز اور کٹیلی نظروں سے اُسے گھور رہا تھا ….اُس کی آنکھوں میں صرف غصہ نہیں تھا ….نفرت بھی تھی ۔اورجب وہ گویا ہوا تو یہ غصہ اُس کے لہجے میں جھلکتا دکھائی دیا۔
” تم اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہو ماجد صدیقی ۔“ اُس کا لہجہ ذرا تیز ہو گیا تھا۔
” لیکن مجھ سے تم جو کچھ کہہ رہے ہو ….جو شرائط مجھ پر لاگو کر رہے ہو….ممکن ہے میں اِنکار کر دوں ….“
”نہیں….“ماجد صدیقی نے مختصراً کہااور ایک بھرپور کش لینے کے بعدسگار کا دھواں آہستہ آہستہ خارج کرنے لگا۔
”مجھے باہر جانا ہے اور یہ سب کچھ تمہارے قبضہ میں ہوگا۔“ اس نے بات جاری رکھی۔
” تم اس گھر کے واحد مالک بن کر یہاں رہو گے…. تم دفتر میں اس کلب کے واحد مالک اور نمائندے کے طور پر بیٹھو گے….، میں جانتا ہوں ناصر چغتائی …. کہ تم ڈیل کرنے میں مہارت رکھتے ہو۔“
ناصر چغتائی نے سخت لہجے میں جواب دیا۔”میں ایک ایمان دار شخص ہوں ماجد صدیقی….اور تم نے جو غبن کیا ہے اسے پورا کرنے کے لیے میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں…. اور تم جانتے ہو کہ اس سے مجھے ذاتی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔“
”قرض وغیرہ لینے کی ضرورت نہیں….“ماجد صدیقی نے ہنکارا بھرا۔
” ہم آسانی سے سود دا کرسکتے ہیں…. اور وقت گزرنے کے ساتھ کچھ اچھے اور قابل قبول اصول وضوابط طے کرلیں گے۔“
”یہ مشورہ تم پہلے بھی دے چکے ہو….“ناصر چغتائی نے نفرت سے کہا۔
” اور میرا جواب….اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا….، میں اب کسی بے ایمان شخص کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا ….، میں ہر قیمت پر پائی پائی جمع کروں گا اور اس کلب کا نام بچانے کی کوشش کروں گا…. وہ نقصان بھی پورا کروں گا جو تم نے اس کلب کو پہنچایا ہے ….! مگر اب میں تمہیں کسی صورت میں اپنے اس کلب کوبرباد نہیں کرنے دوں گا ….تم سمجھ رہے ہو نا ماجد صدیقی ….میں تمہیں آج کے بعد تم اس گھر میں بیٹھنے بھی نہیں دوں گا….اور نہ اس کلب میں گھسنے دوں گا ….“
ماجد صدیقی کو اچانک غصہ آگیا۔”تم ایسا نہیں کرسکتے ….“
اس کی آواز غصے کی شدت سے کانپنے لگی۔ساتھ ہی وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوگیا۔
”میں ایسا ہی کروں گا …. “ ناصر چغتائی نے اس سے بھی زیادہ سخت لہجے میں کہا۔
”تمہارے لیے بہتر یہی ہو گا کہ …. یا تو منہ چھپا کر یہاں سے دفع ہوجاﺅ ….یا پھر جیل جانے کے لیے تیار ہوجاﺅ….، مجھ پر غصہ کرنے یا چڑھ دوڑنے کی ضرورت نہیں….اور ہاں ،غصہ دکھا کر مجھے ڈرانے کی کوشش بھی مت کرنا….میں اب تمہارے دباﺅ میں آنے والا نہیں ہوں ….بہتر ہو گا کہ تم ، بیٹھ جاﺅ….“
ناصر چغتائی کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ جو کہہ رہا ہے ،اس پر ثابت قدم رہے گا ۔وہ دھیرے سے اپنی جگہ واپس بیٹھ گیا ،لہجہ نرم بناتے ہوئے بولا۔
”دیکھوناصر ….تم ایک اچھے انسان ہو ….کئی موقعوں تم نے رحم دلی کا مظاہرہ کیا ہے….میرے ساتھ تمہارا رویہ برادرانہ رہا ہے …. لیکن اس وقت تم ….یہ کیوں نہیں سوچ رہے ہو کہ، میرا گزارہ کس طرح سے ہوگا….آگے کی زندگی میں کس طرح گزاروں گا ….؟
ناصر چغتائی نے طنزیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا اور تلخی سے بولا ۔
” تم لو لے لنگڑئے نہیں ہو ….ہٹے کٹے ہو ….تمہارے ہاتھ پائوں سلامت ہیں اور تم خاصے صحت مند بھی ہو….اور پھر تم نے اچھی خاصی رقم غبن کی ہے ….“
” پھر بھی ….گزر اوقات کے لیے کچھ تو تمہیں دینا ہوگا ….ہم اس کلب کے برابر کے مالک ….“
” یہ غبن کرنے اور مجھے دھوکا دینے سے پہلے کی بات ہے ….ادارے کے اکاونٹ سے رقم چرانے کے بعد….معاہدے کی رو سے اب تمہارا اس ادارے سے کوئی لینا دینا نہیں ….تم اپنی چوری قبول کر چکے ہو ….اور اکائونٹنٹ کے پاس تمہاری لوٹ مار کے ثبوت بھی ہیں ….بہتر ہوگا کہ تم اب چلتے پھرتے نظر آو….اور مجھے کبھی اپنی شکل مت دکھانا….“
” لیکن ….جو رقم میں نے چرائی تھی ….وہ ختم ہو چکی ہے ….اب میرے پاس کچھ نہیں ہے ….میں قلاش ہوجاوں گا تو جیوں گا کیسے ….تمہیں کچھ نہ کچھ تو مجھے دینا ہوگا ….“
” میں زیادہ نہیں دے سکتا ۔تمہیں صرف ساٹھ ہزار روپے دے سکتا ہوں ۔اور یہ میں پہلے بتا چکا ہوں …. اس کے بعد تم خود اپنے لیے دال روٹی کما لینا، تم چاہو تویہ رقم ابھی لے سکتے ہو مجھ سے ….“
ناصر چغتائی نے اپنی اندرونی جیب سے چمڑے کا ایک بٹوہ نکالا اور اس میں سے پانچ پانچ ہزار والے بارہ نوٹ نکالے اور میز پر رکھ دیے ۔
ماجد صدیقی خاموشی سے دیکھ رہا تھا، اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میز پر رکھے نوٹ اٹھالیے،اور پھر اچانک….بالکل اچانک اسے غصہ آگیا۔ اس نے ان نوٹوں کو پوری طاقت سے مٹھی میں بھینچا اور کمرے کے ایک کونے میں پھینک دیا۔ایک گہرا کش لیا اور دھواں اگلتے ہوئے پوچھا۔
”تمہاری بیوی گھر میں ہے ….؟
ناصر چغتائی نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔” نہیں ….وہ ایک تقریب میں گئی ہے ….میری بیٹی بھی اس کے ساتھ ہی گئی ہے ….لیکن صبح ساڑھے آٹھ بجے تک آجائیں گی….مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو ….؟“
ماجد صدیقی کے ہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ رینگ گئی ۔
”اس کا مطلب یہ ہوا ناصر چغتائی ….کہ اس گھر میں تم مجھے آخری بار ناشتہ کرنے دو گے یعنی ساڑھے آٹھ بجے صبح تک….“
وہ اپنی کرسی سے ایک بار پھر اٹھا،ناصر چغتائی اسی طرح بے خوف بیٹھا رہا ۔مگر اس کی تیز عقابی نظریں ماجد صدیقی کی ایک ایک حرکت نوڑٹ کر رہی تھیں ۔وہ ایک لمحے کے لیے بھی اس کی طرف سے غافل نہیں ہوا تھا ۔
ماجد صدیقی نے فرش پر پڑے ہوئے نوٹ اٹھائے اور موڑ تروڑ کر جیب میں رکھ لیے۔پھر اس کی طرف پلٹا اور سانپ کے جیسی پھنکارتی ہوئی آواز میں کہا ۔
”ایک بات بتائوں ناصر چغتائی ….اگر میں یہاں نہیں رہوں گا تو یقین کرو …. میں تمہیں بھی یہاں نہیں رہنے دوں گا….“
اس کا لہجہ ایک دم سفاک ہو گیا تھا۔
اوراس سے پہلے کہ ناصر چغتائی کچھ سمجھتا….ماجد صدیقی کمرے کے دروازے کی طرف بڑھا اور اسے بند کردیا۔جب وہ دروازہ بند کرکے پلٹاتوناصر چغتائی اس کا سامنا کرنے کے لیے اپنی کرسی سے اٹھ چکا تھا۔وہ بھی شدید غصے میں تھا۔
ماجد صدیقی اس کو گھورتے ہوئے دیوار کی طرف بڑھا….دیوار پر ایک چھوٹی سی جاپانی تلوار لٹکی تھی ….بہ ظاہر یہ ایک شو پیس تھا مگر ماجد صدیقی اورناصر چغتائی ،دونوں ہی اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ اصلی تلوار ہے جو شوپیس کے طور پر دیوار پر سجائی گئی تھی ….اس نے اپنا ہاتھ دیوار کی طرف بڑھایا اور جاپانی تلوار اُتار لی….تلوار کا دستہ آبنوسی تھا۔
پھر وہ سخت لہجے میںبولا۔”میں تمہیں ایک اور موقع دیتا ہوں ناصر چغتائی ،میرے دوست….، تم زبان کے پکے انسان ہو….، یہ سب جلدی سے نمٹا لو اور سارے معاملات اسی جگہ پر لے جاﺅ…. جہاں پہلے تھے ،بس یہی ایک صورت ہے ،جو تمہیں بچا سکتی ہے ….ورنہ میں یہ تلوار تمہارے دل میں اتار دوں گا ….“
کہتے ہوئے ماجد نے تلوار کی نوک ناصر چغتائی کے سینے پر رکھ دی۔
ناصر چغتائی نے تیزی سے کہا۔”تلوار نیچے کرو….یہ بہت تیز ہے ….“
ماجد صدیقی ہنسنے لگا اورمذاق اڑانے والے انداز میں بولا۔
” تم مذاق سمجھ رہے ہوناصر ….یقین کرو ،میں نے جو کہا ہے وہ کروں گا بھی….“
ناصر چغتائی نے سخت لہجے میں جواب دیا۔”اور میں نے بھی جو کہا میں بھی وہی کروں گا….تمہاری گیدڑ بھبکیوں میں آنے والا نہیں ہوں میں ….“
ناصر چغتائی نے آخری لمحات میں اپنے بچائو کے لیے کسی ہتھیار کی امید میں اپنے اطراف میں دیکھا ….مگر تب تک دیر ہو چکی تھی ….ماجد صدیقی کا ہاتھ حرکت میں آیا….ناصر چغتائی تیزی سے پلٹا….ساتھ ہی اسے اپنے سینے میں شدید درد محسوس ہوا…. اس نے نظریں جھکا کر دیکھا ….ماجد صدیقی نے اس کے سینے میں تلوار کی نوک گھسیڑ دی تھی۔
ناصر چغتائی نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے ،تلوار تھامنے کی کوشش کی مگر اس سے ہو نہ سکا…. اس کے ہاتھ اس کے دائیں بائیں لٹک گئے ….اور اگلے ہی لمحے وہ فرش پر ڈھیر ہوگیا۔
ناصر چغتائی کچھ ایسے گرا تھا کہ ماجد صدیقی دنگ رہ گیا اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایک ہی وار میں اس نے اپنے سب سے عزیز دوست کا کام تمام کردیا ہے ….
شاید وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا ….محض ڈرانا چاہتا تھا ….مگر ناصر چغتائی کے تیزی سے پلٹنے سے سب کچھ آنا ً فاناً ہوگیا اور اس کے ہاتھ میں موجود جاپانی تلوار ناصر چغتائی کے سینے میں ترازو ہو گئی ۔
اب ماجد صدیقی ہونقوں کی طرح انتظار کررہا تھا کہ ناصر اب اٹھے کہ تب اٹھے ….مگر وہ تو ایسا گر اتھا کہ پھر اُٹھ نہ سکا ۔
ماجد صدیقی نے اپنا رومال نکالا اور تلوار کو صاف کیا ….رومال خون میں لتھڑ چکا تھا ….وہ رومال کو نیچے پھینکتے پھینکتے رُک گیا ….پھر کچھ سوچتے ہوئے اس نے رومال واپس جیب میں رکھ لیا اورتلوار کو فرش پر پھینک دیا۔
ناصر چغتائی کا جسم فرش پر وہیں پڑا تھا، جہاں گرا تھا….، اس کا چہرہ سفید پڑچکا تھا۔سینے سے خون اُبل کر اس کی پوری شرٹ پر پھیل گیا تھا ….
ماجد صدیقی کو اب افسوس ہو نے لگا…. زندگی بھر وہ ایک عام انسان رہا تھا، اس نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا تھا….کوئی جرم نہیں کیا تھا کبھی سوائے ایک غبن کے …. مگر اب….؟ایک لمحے میں وہ عام انسان سے قتل کا مجرم بن گیا تھا ….اس کے اپنے ہاتھوں اس کا بہترین دوست قتل ہو گیا تھا ۔
ماجد صدیقی کو الٹی محسوس ہوئی تو وہ دروازے کی طرف بھاگا….
واش روم سے واپس آکر اس نے ناصر چغتائی کی لاش کومیز کے نیچے کردیا…. اور تقریباً نظروں سے اوجھل کردیا تھا….اب اگرکوئی کمرے میں داخل ہوتا تو فوری طور پر اس کی نظر لاش پر نہیں پڑ سکتی تھی۔ویسے اس کا امکان کم ہی تھا کہ کوئی اس وقت آتا ۔
اس نے لمبے لمبے سانس لے خود کو پر سکون کیا ….اور ایک طرف بیٹھ کر تیزی سے سوچنے لگا ….کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے ….اس نے محسوس کیا کہ اب وہ قدرے بہتر انداز میں سوچ سکتا تھا۔
اس نے اپنے سراپے کا جائزہ لیا اور اپنے کپڑوں اور جوتوں کا گہری نظروں سے معا ئنہ کیا….سب کچھ ٹھیک تھا ….اس کے کپڑوں پر خون کا کوئی دھبا نہیں تھا ….
ایک بار پھر اس نے کمراعبور کیا اور گیس آن کردی۔
کمرے میں عجیب طرح کی بو پھیلنے لگی ، وہ تاریکی میں سنبھلتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا اور تب ہی کمرے میں موجود کلاک نے رات کے بارہ بجائے۔
وہ سیڑھیوں پر رُک کر لمبے لمبے سانس لے کر خود کو پرسکون کرنے لگا اور سوچنے کی کوشش بھی کرنے لگا،
نیچے گیس جمع ہورہی تھی۔ سیڑھیاں، فرنیچرز سب کے سب بے کیف سے لگ رہے تھے، اسے اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ کیا کچھ ہوچکا تھا۔
وہ آہستہ آہستہ نیچے اُترا اور بتی جلادی…. اوپری حصے میں جو روشنی ہورہی تھی، وہ خوف زدہ کردینے والی تھی۔
اچانک اسے کچھ خیال آیا تو وہ بھاگتے ہوئے واپس کمرے میں گیا ….ناصر چغتائی اسی طرح بے سدھ پڑا ہوا تھا ….
اس نے اسٹینڈ سے اپنامفلر اٹھایا اور دروازے سے نکلتے ہوئے گھر کے گیٹ سے بھی باہر آگیا۔
سوائے ایک آدھ کھڑکی کے، اڑوس پڑوس کے سارے بنگلے تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے….، گلی میں جلنے والے پول روشن تھے، ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی اور کیچڑ سے بھری سڑک سنگریزوں سے اَٹی پڑی تھی….یہ وہ سنگ ریزے تھے جو سڑک کو از سر نو بنانے کے لیے سڑک پر پھیلائے گئے تھے ۔
وہ گیٹ سے باہر نکل کر ایک لمحے کو رُکا…. اپنے حواس مجتمع کیے تاکہ ایک بار پھر گھر میں داخل ہوسکے ….اور تب اس نے محسوس کیا کہ کوئی تھا جو سڑک پر آرہا تھا اور گیٹ کے ساتھ لگی باڑھ سے قریب ہوتا جارہا تھا۔
وہ سمجھ گیا کہ گلی میں اِدھر سے اُدھر پیدل چل کر پہرہ دینے والا رات کا کانسٹیبل ہے ….اس علاقے میں پچھلے کئی دنوں سے مسلسل چوری کی وارداتیں اور ڈکیتیاں ہو رہی تھی جن کے سد باب کے لیے علاقہ ایس ایچ او نے اطراف کی کچھ گلیوں میں پولیس کانسٹیبلز کی ڈیوٹی لگا دی تھیں جو چوکی دار کی طرح رات بارہ بجے کے بعد گلی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پیدل مارچ کر تے اور سگریٹیں پھونکتے تھے اور کسی بھی معمولی ہلچل یا غیر معمولی بات پر چوکنے ہو جاتے تھے ۔
پولیس کانسٹیبل کا خیال آتے ہی ماجد صدیقی کو احساس ہوا کہ اس نے کیا کردیا ہے ….اس نے ایک انسان کا خون کر دیا تھا ….ایک لمحے میں وہ عام انسان سے قاتل ہو گیا تھا ۔یہ سوچتے ہی اس کے پسینے چھوٹ گئے ۔
جب وہ کانسٹیبل سے دور بھاگنے کی کوشش کرنے لگا تھاتو اس کا دل بڑی شدت سے دھرکنے لگا تھا ….، آہستہ اٹھتے مگر بھاری قدم اسے دہلا رہے تھے….، اسے لگا کہ اوپر جو لاش پڑی تھی وہ مکمل طور پر مری نہیں تھی….
ابھی اس کے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں گی، اگر ایسا ہوجائے تو….؟
اس کے ماتھے پر ٹھنڈے ٹھنڈے پسینے نمودار ہوگئے ….اس نے کانسٹیبل سے چھپنے کی کوشش کی مگر اس میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ ایک قدم بھی اٹھا سکتا ۔وہ وہیں گیٹ پر کھڑا کا کھڑا رہ گیا ۔
اگر کانسٹیبل کو اس کا گیٹ کے ساتھ اتنی رات میں کھڑے ہونا عجیب سا لگے اور وہ اس کے ساتھ اندر گھر میں جانا چاہے گا تو وہ کیا کرے گا ….یہ کانسٹیبل پہلے بھی اس کے ساتھ کئی بار اوپر لائبریری میں جا کر کافی پی چکا تھا اور اس کو اچھی طرح جانتا تھا۔
اس نے اپنے حواس مجتمع کیے اور خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی…. مگر کامیاب نہیں ہو پایا….، جیسے ہی کانسٹیبل اس کے پاس سے گزرا…. ماجد صدیقی نے اسے بے اختیار سلام کر ڈالا ….
کانسٹیبل نے اندھیرے میں بھی اسے پہچان لیا ،سلام کا جواب دے کر کہا ۔
” کیسے ہو ماجد صاحب ….سب ٹھیک ہے نا ….؟“
” اللہ کا شکر ہے ….“ماجد نے پھنسی پھنسی آواز میں جواب دیا۔
اس سے پہلے کہ کانسٹیبل کوئی اور بات کرتا ،یا وہاں کھڑا ہوجاتا، وہ ایک دم پلٹا اور تیزی سے واپس گھر میں داخل ہوگیا۔
پہلی منزل پر گیس لائٹ جل رہی تھی، وہ آہستہ آہستہ اوپر آیا، اس نے ماچس جلائی اور آرام آرام سے چلتا ہوا لائبریری کے دروازے تک آیا،کچھ دیر وہاں کھڑا رہا ،سن گن لینے کی کوشش کرتا رہا ،مگر لائبریری میں مکمل خاموشی تھی ۔
اسی لائبریری کے اوپر والی منزل پر اس کا رہائشی کمرا تھا،وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچااور احتیاط سے اپنے بیڈروم کی لائٹ جلادی۔کمرے کی کھڑکی تھوڑی سی کھول دی اور اپنے بستر پر لیٹ کرکچھ سوچنے کی کوشش کرنے لگا۔
اس کے پاس آٹھ گھنٹے تھے…. آٹھ گھنٹے اورساٹھ ہزار روپے کے نوٹ ….
اس نے تجوری کھولی اور اس میں جتنے بھی پیسے تھے وہ نکال لیے، پھر اس نے کمرے میں گھوم پھر کر جیولری جمع کی اور سب کچھ ایک جگہ کرلیا۔
خوف کا اثر کافی حد تک ختم ہوچکا تھا اور موت کا دباﺅ تقریباً معدوم ہوگیا تھا، وہ قدرے پرسکون ہوگیا، اب وہ یہ سوچنا چاہ رہا تھا کہ وہ ایسا کیا کرے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے اس میں کہیں جھول نہ باقی رہے۔
اس قتل کی وجہ سے اب اس کی زندگی داﺅ پر لگ گئی تھی۔
اس نے اکثر سنا اور پڑھا بھی تھا کہ جو لوگ جلدی غصہ میں آجاتے ہیں یا پولیس سے گریزاں رہتے ہیں بالاآخر پولیس کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں،….
اس نے یہ بھی سنا تھا کہ جرم کرنے والوں سے کوئی نہ کوئی ایسی غلطی ضرور ہوتی ہے جو بعد میں ان کی گرفتاری کا سبب بن جاتی ہے۔
اس نے اپنا ریوالور ایک دراز سے نکالا اور دیکھا کہ وہ لوڈ تھا….اس نے ریوالور اپنی پتلون میں اُڑس لیا….یہ سوچ کر کہ اگر کچھ بھی گڑبڑ ہوئی تو مارو یا مرجاﺅ والی پالیسی پر عمل کروں گا۔
آٹھ گھنٹے کی شروعات ہوچکی تھی …. اس نے پورا منصوبہ بنالیا تھا ۔
”یہاں سے نکل کر کسی چھوٹے سے شہر میں چلا جائوں گا…. ابتدا میں کسی مشہور مگر گنجان علاقے میں رہائش اختیار کروں گا …. اپنے بال، داڑھی،اور مونچھوں کو بڑھنے دوں گا….، جب معاملات ٹھنڈے پڑ جائیں گے تو ملک سے باہرچلا جاو¿ں گا….اور کچھ عرصہ بعدوہاں سے واپس آکر نئے سرے سے زندگی شروع کروں گا….، شمالی علاقہ جات میں چلا جاو¿ں گا اور وہاں مستقل رہائش اختیار کرلوں گا…. کسی گہما گہمی والے پہاڑی علاقے میں ایک چھوٹا سا ہوٹل کھول لوں گا ….وہاں اتنے بہت سے لوگ ملک بھر سے گھومنے آتے ہیں ،کسی کو اندازہ بھی نہیں ہو گا کہ میں کوئی جرم کر کے بھاگا ہوں…. “
وہ کرسی پر بیٹھ گیا اورایک بار پھر ٹھنڈے دماغ سے غور کرنے لگا، ایک سوچ تھی کہ زندگی سب کچھ ہے جب کہ دوسری سوچ یہ تھی کہ دولت اہم ہے….، وہ فیصلہ نہیں کرپارہا تھا۔
سوچتے سوچتے اُس کی پیشانی جلنے لگتی تھی، سال کے ایک خاص موسم میں بے شمار لوگ پہاڑوںکا رخ کرتے ہیں، ایسے میں اس کا نوٹس کون لے گا…. مگر ایسی بھی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں کوئی نہ کوئی واقف کار ٹکرا ہی جاتا ہے،
وہ اٹھا اور نروس ہوکر کمرے میں ٹہلنے لگا۔
یہ سب بہت آسان نہیں تھا، وہ جتنا سوچ رہاتھا،اتنا ہی پریشان ہوتا جارہا تھا۔
مینٹل پیس پر رکھی چھوٹی سی گھڑی نے رات کے ایک بجنے کا اعلان کیا اور اس کا ذہن ایک بار پھر لائبریری کی طرف چلا گیا۔
اس نے گھڑی کے بارے میں سوچا، لگتا تھا یہ گھڑی ہی واحد جاندار شے تھی اس کمرے میں…. جو ہر پندرہ منٹ کے بعد سکوت کو درہم برہم کردیتی تھی۔
وہ پھر سے خوف محسوس کررہا تھا۔ اس کی سانسیں الجھنے لگی تھیں….
سیڑھیوں کے نیچے،باہر کہیں پر کوئی ٹوٹا ہوا بورڈ ہوا سے بار بار ہل رہا تھا جس سے ایک مخصوص آواز پیدا ہورہی تھی۔اور ماحول کی خوف ناکی میں اضافہ کر رہی تھی ۔
وہ دروازے تک گیا…. اسے تھوڑا سا کھولا مگر باہر نہیں جھانکا۔ گھر میں اس قدر سکوت تھا کہ اسے نیچے کچن میں موجود گھڑی کی ٹک ٹک،تک سنائی دے رہی تھی۔
اس نے دروازے کو تھوڑ مزید کھولا اور باہر کی طرف جھانکا۔
عین اسی وقت اسے ایک زور دار چیخ سنائی دی،وہ تھرا کر رہ گیا اورگھبرا کر واپس کمرے میں آگیا اور تب تک کانپتا رہا جب تک اسے احساس نہیں ہوگیا کہ وہ چیخ بلی کی تھی…. جس نے اسے بری طرح ڈرا دیا تھا۔
وہ کافی دیر بیٹھا کانپتا رہا۔
بلی چیخ مار کر کہیں بھاگ گئی تھی ….اور پھر خاموشی چھاگئی ۔وہ کچھ دیربعد اٹھا اورایک بارپھر دروازے کے قریب گیا۔مگر پھر رک گیا …. اسے یوں لگا کہ نیچے سیڑھیوں پر کوئی چیز حرکت کررہی تھی….جیسے کوئی دبے پائوں چل رہا ہو….
وہ سناٹے کی کیفیت میں وہیں کھڑا رہ گیا۔
اسی وقت اسے ہلتے ہوئے بورڈ کی عجیب سی آواز سنائی دی…. اور سیڑھیوں کے ساتھ لگے جنگلے میں بھی ہوا کے تیز جھکڑ کی وجہ سے تھرتھراہٹ کی آواز پیدا ہوئی….وہ دم سادھے کھڑا رہا …. ایسی خاموشی اورایسا سسپنس تھا،جو اسے خوف زدہ کردینے کے لیے تھا۔ایک دم سے ایک خیال اس کے ذہن میں کوندا۔
” اگر ناصر زندہ ہوا….اورکہیں اندھیرے میں چھپ کر اس کا انتظار کررہا ہو تو….؟
وہ یہ سوچ کر ہی کانپ گیا….مگر اس نے جلدی سے اپنے اس خوف پر قابو پایا اور دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا….اور جھانک کر باہر دیکھنے لگا کہ باہر کیا چل رہا تھا۔مگر باہر مکمل سنا ٹا تھا۔
اس کے کمرے کی روشنی ….کمرے سے باہر نکل کر فرش پر پھیل رہی تھی، وہ ڈرتے ڈرتے باہر آیا….اور سیڑھیوں کی طرف بڑھا ….سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ لائبریری کے سامنے سے گزرا تو اس کا دل بے طرح دھڑک رہا تھا ….اس لائبریری میں اس کا برسوں پرانا دوست ایک لاش کی صورت پڑا ہوا تھا ….اور اس نے ہی اپنے دوست کی جان لی تھی ۔
مکمل خاموشی میں وہ دھیرے دھیرے سیڑھیاں اترتے ہوئے نچلی منزل پر آیا،اور لائبریری کے دروازے کی طرف دیکھنے سے کتراتے ہوئے اس کے سامنے سے گزرنے لگا ….اے ایسا لگ رہاتھا کہ اچانک ابھی لائبریری کا دروازہ کھلے گا اور ناصر چغتائی باہر سے آئے گا اور اس کے سامنے کھڑا ہو جائے گا ۔
سیڑھیوں پر اندھیرا تھا ….وہ وہ اندھیرے میں آہستہ آہستہ نچلی سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا اور اسی وقت غیر ارادی طور پر اس نے لاےبریری کی طرف دیکھا اور اس کا دل دھک سے رہ گیا ….وہ ایک دم سے برسوں کا بیمار لگنے لگا….یو ں لگا جیسے بس ابھی بے ہوش ہوجائے گا….
لائبریری کا دروازہ چار سے پانچ انچ کھلا ہوا تھا۔
اُسے اچھی طرح سے یاد تھا کہ اس نے دروازے کو بند کردیا تھا….، یہ دروازہ تب بھی بند تھا جب وہ اوپری منزل پر جارہا تھا۔
”دروازہ کون کھول سکتا ہے ۔؟“ اس کے ماتھے پر پسینے کے ننھے قطرے نمودار ہوگئے ۔
” کہیں ایسا تو نہیں ….کہ کوئی چور خاموشی سے اندر گھس آیا ہو….“
مگر اس کے دماغ نے یہ بات قبول کرنے سے انکار کردیا۔
اسی وقت لائبریری کے اندر سے ایک آواز ابھری …. واضح طور پر ایسی آواز جیسے کرسی کو دیوار کے ساتھ دھکا دیا گیا ہو۔
وہ وہیں ساکت کھڑا رہ گیا ۔اس کا مطلب ہے اندر واقعی کوئی تھا ۔
اس نے سوچا کہ کوئی آواز پیدا کیے بغیر دروازے کے سامنے سے گزر جائے …. تاکہ اندر جو بھی ہے اسے پتا نہ چلے….
وہ دروازے کے سامنے سے گزرا ….مگر پھر اچانک اس نے غیر ارادی طور پر دروازے کا ہینڈل پکڑلیا۔اور ایک جھٹکے سے دروزے کو بند کرکے باہر سے کنڈی لگادی …. اور وہاں سے سرپٹ بھاگتے ہوئے، سیڑھیاں اترتاچلا گیا۔
اگلے ہی لمحے کمرے سے کسی کے چلانے کی آوازسنائی دی ، پھر فوراً ہی زور زور سے دروازہ پیٹنے کی آواز بھی آنے لگی ۔
وہ رُکا نہیں ،نیچے اترتا چلا گیا …. دروازہ بجانے کی آواز کے ساتھ خوف میں ڈوبی ایک انسانی آواز بھی تھی۔
ماجد صدیقی سیڑھیاں اترتے ہوئے آدھے راستے میں اچانک رُک گیا اور آواز کو غور سے سننے لگا تھا۔
دروازے پر مسلسل ضرب پڑرہی تھی اور ایک مردانہ آواز میں کہا جاہا تھا۔
” خدا کے لیے مجھے باہر نکالو۔“
اچانک ماجد کو احساس ہوا کہ کیا ہوچکا تھا…. اور اس کا مطلب کیا تھا۔کوئی اس کی غیر موجودی میں لائبریری میں جا گھسا تھا ….اس وقت وہاں کوئی چور ہی ہو سکتا تھا ۔
اس علاقے میں پچھلے کئی دنوں سے چوری کی وارداتیں ہورہی تھیں اور پولیس چور پکڑنے میں ناکام رہی تھی ….ہو نہ ہو ،یہ وہی چور تھا ….اور لائبریری میں بند ہو گیا تھا ۔
ماجدکے حلق سے ایک اطمینان بھری سانس نکل گئی ۔
قدرت نے اس کی مدد کردی تھی …. اب واپس جانے کی ضرورت نہیں تھی، اور اسے چھپنے کی بھی ضرورت نہیں تھی، اوپر ایک بے وقوف پھنس گیا تھا….اب وہی اسے بچانے والا تھا ….قتل کا الزام اب اسی پر آنے ولا تھا ….کوئی ماجد پر شک بھی نہیں کر سکے گا ۔اور اب سب کچھ ….یہ کلب ….یہ عمارت ….سب کچھ اس کا ہونے والا تھا ۔
وہ تیزی سے واپس اوپر گیا، پھرتی ایسی ہی دکھائی تھی جیسی کہ اوپر کمرے میں بند شخص باہر نکلنے کے لیے دکھارہا تھا۔وہ لائبریری کے دروازے پر پہنچا اور اونچی آواز میں پوچھا۔
”کون ہے اندر….؟
”مجھے باہر نکالو….“اندر سے لرزتی ہوئی آواز میں جواب دیا گیا۔
” خدا کے لیے دروازہ کھولو، یہاں کچھ گڑ بڑ ہے….مم مجھے ڈر لگ رہا ہے ….“
”تم جہاں ہو وہیں پہ رہو….“ماجد نے سختی سے کہا۔
”کوئی حرکت مت کرنا….، اگر تم باہر آئے تو میں تمہیں کسی کتے کی طرح شوٹ کردوں گا۔“
جواب میںاندر موجود شخص نے تالے پر ہاتھ مارا ۔
ماجدنے اپنا پستول نکال لیا اور دروازے کے باہر سے ہی اندر موجود شخص کی لمبائی کا اندازہ لگا کر اس کے سینے کا نشانہ لگایا اور گولی چلا دی۔
گولی چلنے کا دھماکا اور لکڑی ٹوٹنے کی آواز سے شور پیدا ہوا اور پھر خاموشی چھاگئی۔
پھر ارد گرد کے بنگلوں کی ایک کے بعد ایک کھڑکی کھلنے ….اور بند ہونے کی آواز آنے لگیں۔
گولی چلانے اور اپنے حساب سے چور کو ہلاک کرنے یا زخمی کرنے کے بعدماجدتیزی سے نیچے گیا….، ہال کے دروازے کو زور سے ہلایا جلایا اور اپنے نائب کو آوازیں دینے لگا….جو نیچے ایک چھوٹے کمرے میں سوتا تھا ۔
اس کے بعد وہ بھاگتے ہوئے نیچے سڑک پر آیا ….پولیس کانسٹیبل اے ایس آئی کے ساتھ گلی کے نکڑ سے اسی طرف آرہا تھا ….گولی کی آواز پر پولیس کانسٹیبل بھاگتے ہوئے نکڑ پر موجود پولیس موبائل تک گیا تھا اور اے ایس آئی کو ساتھ لے آیا تھا ۔
” کیا ہوا ماجد صاحب ….یہ گولی کی آواز ….؟‘
” میں نے چلائی تھی ….“ ماجد نے پھولی ہوئی سانس کے ساتھ گھبرانے کی شان دار اداکاری کرتے ہوئے کہا۔پھر اس نے جلدی جلدی بے ربط سی توجہیات پیش کرتفصیل سے بتانا شروع کیا۔
” میں اپنے کمرے میں سورہا تھا کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی ،مجھے لگا کہ کوئی لائبریری میں گھس آیا ہے ….میں اپنا ریوالور لے کر نیچے آیا ….تو لائبریری میں سے کسی کی آوازیں آرہی تھیں ۔میں نے جھٹ باہر سے دروازہ بند کردیا ….ایسا لگ رہا تھا جیسے اندر دو لوگ لڑ رہے ہوں ….میں گھبرا گیا ….میں نے پوچھا کون ہے اندر ….تو کسی نے غرا کر کہا ….بھاگ جائو ….ورنہ مارے جاو¿ گے ….آواز دروازے کے دوسری طرف سے آئی تھی ….اور بالکل دروازے کے قریب سے آئی تھی ….میں سمجھ گیا کہ اندر وہی چور ہے جس نے یہاں کے مکینوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ….میں نے آو دیکھا نہ تائو….اور دروازے کی طرف ریوالور کا رخ کر کے آواز کی سمت میں گولی چلادی ….اندر سے ایک چیخ کی آواز سنائی دی ….اور میں بھاگ کر نیچے آگیا ….میرا خیال ہے کہ میری گولی سے وہ چور زخمی ہو گیا ہے ….“
اے ایس آئی ،پولیس کانسٹیبل اور ماجد صدیقی دوڑتے ہوئے اوپر پہنچے ….لائبریری کے دروازے کے سامنے آئے ….اور لائبریری کے باہر رک گئے۔ چور شاید اب بھی اندر کمرے میں تھا…. اور تالے کو توڑنے میں لگا ہوا تھا۔
ماجد نے باہر سے کنڈی کھولنے کی کوشش کی….چور کی کوشش سے دروازہ ٹیڑھا ہوچکا تھا اور کنڈی اس طرح پھنس گئی تھی کہ کھل نہ سکی ۔
اے ایس آئی نے اپنا ریوالور نکالا اور پولیس کانسٹیبل کو اشارہ کیا۔کانسٹیبل ذرا پیچھے ہٹا اور اپنے کاندھے سے دروازے پر زور کی ٹکر ماری…. اور دروازہ ایک جھٹکے سے اندر کی طرف کھل گیا۔
پولیس کانسٹیبل ایک جھٹکے سے لڑکھڑاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا….، اس کے پیچھے اے ایس آئی اورپھر ،اجد صدیقی ….کمرے میں اندھیرا تھا ….اے ایس آئی نے اپنی ٹارچ نکال کر روشن کی اور کمرے میں روشنی کی دھار رقص کرنے لگی ۔
ایک شخص دروازے کے عقب میں سے نکل کر اچانک باہر نکلنے لگا، مگر اے ایس آئی نے ایک جھٹکے سے دروازہ د کر کے اسے کمرے کے وسط میں دھکیل دیا۔پولیس کانسٹیبل نے اسے جکڑ لیا ،وہ خود کو چھڑانے کے لیے ہاتھ پاوں چلانے لگا ،سپاہی نے ایک زور دار دھوبی پٹخا دیا اور وہ شخص فرش پر آرہا ۔اس کے حلق سے گھٹی گھٹی چیخی نکل رہی تھیں ۔وہ زخمی تھا ،اے ایس آئی نے اس پر ٹارچ کی روشنی ڈالی وہ خون میں لت پت تھا ،گولی شاید اس کے بازو کو چھید کر گزر گئی تھی۔اب اس کے حلق سے کراہیں نکل رہی تھیں ۔
ماجد دروازے کے ساتھ کھڑا تھا اور آنے والے واقعات کے حوالے سے خود کو مجتمع کررہا تھا، کمرے میں موجود افراد کی تیز تیز سانسیں گونج رہی تھیں ۔
پھر سپاہی سیدھا ہوا ،وہ خاصا لمبا چوڑا اور مظبوط کاندھوں والا نوجوان تھا ۔کھڑے ہو کر اس نے دیوار پر بٹن تلاش کیے اور کمرے میں روشنی پھیل گئی ….کمرے میں موجود قیدی چور کو شاید بجلی کے بٹن نہیں ملے تھے اس لیے کمرے میں اندھیرا تھا ۔
ماجد آگے بڑھا اور فرش پر پڑے زخمی چور کو دیکھا،جو اس کی وگلی سے شدید زخمی ہو گیا تھا ۔ چھوٹے قد کا ادھیڑ عمر آدمی تھا، اس کا چہرہ گندہ ہورہا تھا اور مونچھیں سیاہ تھیں، اس کے ہونٹ پھٹ گئے تھے اور خون بہہ کر اس کی گردن تک آگیا تھا۔
ماجد نے ایک نظر میز پر بھی ڈالی،سپاہی اور چور کی جدوجہد کے دوران میز پوش نیچے گر گیا تھا ،اسی جگہ جہاں اس نے ناصر کو چھوڑا تھا۔
اے ایس آئی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہم اِدھر ہی موجود تھے۔“
زخمی نے اپنا بھاری سر اٹھایا اور وحشت زدہ آنکھوں سے باری باری سب کی طرف دیکھا۔وہ بری طرح خوف زدہ دکھائی دے رہا تھا ۔پھر وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولا۔
”میں دس منٹ پہلے یہاں داخل ہوا تھا ….یہاں جو کچھ ہوا ہے ،وہ میرے علم میں نہیں ہے ….کیوں کہ میں اس وقت یہاں نہیں تھا ۔“
اے ایس آئی نے مسکرا کر کہا۔”کوئی فرق نہیں پڑتا….، دس منٹ ہو کہ دس سیکنڈ….، تم رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہو….ہم کئی دن سے تمہارے چکر میں ان گلیوں میں منڈلا رہے تھے ….“
اس شخص نے جھرجھری لی اور بولا۔
”آپ یقین کریں سر ….میں نے کچھ نہیں کیا….میں تو ایک معمولی چور ہوں بس….جب میں یہاں آیا تو …. یہ….یہ یہیں پر تھا….، آپ یقین کریں سر….، میں بس آیا…. اور یہ یہاں موجود تھا…. میں نے باہر نکلنے کی کوشش کی…. مگر کسی نے باہر سے دروازہ بند کردیا….میں چیختا رہا ،چلا تارہا….اور پھر سے ….کسی مجھے گولی ماردی ….“
وہ بے ربط انداز میں بول رہا تھا ۔اے ایس آئی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا جیسے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کررہا ہو۔
” میں سمجھا نہیں ….کیا کہنا چاہتے ہو تم ….کیا تھایہاں پر ….؟“اے ایس آئی نے پوچھا۔
” میں بتاتا ہوں ….ہاں….میں بتاتا ہوں ….“ اس نے جلدی سے کہااور سہمی ہوئی نظروں سے میز کی طرف دیکھنے لگا۔
اے ایس آئی نے اس کی سہمی ہوئی سیاہ آنکھوں کے اشارے کی سمت دیکھا، پھر وہ میز کی طرف بڑھے اور میز سے لٹکے ہوئے میز پوش کو ایک جھٹکے سے کھینچ لیا۔
ماجد ایک خوفناک چیخ کے ساتھ دیوار سے جا لگا۔میز کے نیچے ناصر کی بے حس وحرکت اور خون میں لت پت لاش پڑی ہوئی تھی ۔
اے ایس آئی نے اسے تھامتے ہوئے کہا۔” ٹھیک ہے جناب…. اپنا سر دوسری طرف گھما لیں ….ایسے منظر برداشت نہیں ہوتے ….“
وہ کافی دیر تک بہ غور ناصر کی لاش کی طرف دیکھتا رہا ،کمرے میں سناٹا ہو گیا تھا ۔پھر اس نے ایک طویل سانس لیتے ہوئے پوچھا۔
”یہ کون ہے….؟“
”میرا دوست ….ناصر چغتائی ….“ماجد صدیقی نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔
” ہم ساتھ ساتھ رہتے تھے….“اتنا کہہ کہ وہ زخمی چور کی طرف مڑا،اور پوری قوت سے چلایا۔
” خبیث انسان ….تم نے اسے مارڈالا….اس نے کیا بگاڑا تھا تمہارا….کیوں کیا تم نے ایسا….بولو ….کیوں کیا تم نے ایسا….؟“
زخمی چور نے سنجیدگی سے کیا۔” میں نے کچھ نہیں کیا ….میں نے نہیں مارا اِسے ….میں جب کمرے میں آیا تو یہ مرچکا تھا….اور یہاں اسی حالت میں پڑا ہوا تھا ….“
” کیوں جھوٹ بولتے ہو ….؟“ ماجد غرایا اور اس کا گریبان پکڑ لیا ۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں جناب ….“ زخمی چور نے کہا ۔”میں یہاں آیا تو یہ مرچکا تھا …. جب میں نے اسے دیکھا تو گھبرا گیا ….اور میں نے باہر نکلنے کی کوشش کی….، آپ نے میری آواز سنی ہوگی….،میں بہت گھبرایاہواتھا …. میں مدد کے لیے پکار رہا تھا….، اگر میں نے اسے ہلاک کیا ہوتا تو مدد کے لیے کبھی شور نہ مچاتا۔“
اے ایس آئی نے غرا کر اسے ڈانٹ دیا۔” چپ ہو جاو….اور بہتر ہوگا کہ تم اپنی زبان بند رکھو….پولیس کو اپنی کارروائی کرنے دو ….“
پھر اے ایس آئی ،ناصر صدیقی کے قریب جاکر گھٹنے کے بل جھکا اور ناصرکے سر کو اوپر اٹھایا۔
” میں سچ کہہ رہاہوں ….“ زخمی چور نے ایک بار پھر خوف زدہ انداز میں کہنا شروع کردیا ۔
”میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا…. میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا….، میں کسی کو مارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا …. میں اس جگہ پر دس منٹ پہلے ہی پہنچا تھا۔“
اے ایس آئی نے اپنا بایاں ہاتھ آگے بڑھایا اور اس جاپانی تلوار کو اٹھالیا جوناصر چغتائی کے برابر میں پڑی تھی۔
”میں نے یہ تلوار پہلے کبھی نہیں دیکھی….“زخمی چور نے فوراً کہا۔
اے ایس آئی نے ماجد صدیقی کی طرف دیکھا تو ماجد جلدی سے بولا۔
”یہ تلوار…. اصل میں دیوار پر لٹکانے والی ہے۔اسی کمرے میں دیوار پر ٹنگی تھی …. یقیناً اس خبیث نے اسے دیوار سے اُتار لیا ہوگا….، جب میں نے تھوڑی دیر پہلے فلیچر کو یہاں چھوڑا تھا تو یہ تلوار دیوار پر ٹنگی تھی۔“
”کتنی دیر پہلے کی بات ہے….؟“اے ایس آئی نے چونک کر پوچھا۔
”شاید…. ایک گھنٹہ یا پھر شاید…. آدھا گھنٹہ پہلے….“ماجد نے جواب دیا۔
” میں پھر اپنے بیڈروم میں چلا گیا….اور شور کی آواز سن کر نیچے آیا ….“
فرش پر پڑےزخمی چور نے تیزی سے اپنی گردن گھمائی اورچلا کربولا۔
” یہ تم نے کیا ہے…. یہ تم نے ہی کیا ہے….اور تم …. تم مجھے بھی ختم کرنا چاہتے تھے….تم نے مجھ پر گولی چلائی ….“
”ایسا ہی ہوا ہوگا….“ سپاہی نے کہا۔
اے ایس آئی ایک بار پھر فرش پر بیٹھ گیا۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں جناب ….میں ….“ زخمی چور نے ایک بار پھر زبان کھولی تو اے ایس آئی نے غرا کر ڈانٹ دیا۔
”تم اپنی زبان قابو میں رکھو….،اب اگر بولے تو جبڑا توڑ دوں گا ….“
پھر اے ایس آئی ، میز کے پاس آیا….وہاں کھڑے رہ کر ناصر چغتائی کے بے حس وحرکت جسم کو دیکھتا رہا ،پھر دھیرے سے ٹہلتے ہوئے وہ ماجد کے قریب گیا۔
”اب تو تم …. بہتر محوس کررہے ہوگے ….؟ اس نے پوچھا۔
ماجد نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اب تمہیں اس کی ضرورت نہیں پڑے گی….“اے ایس آئی نے کہا۔ اس کا اشارہ اس پستول کی طرف تھا جوماجد نے ہاتھ میں تھام رکھا تھا۔اے ایس آئی نے آہستگی سے اس کے ہاتھ سے پستول لے لیا اور اپنی جیب میں رکھ لیا۔
”اوہ ….تمہاری تو کلائی زخمی ہوگئی ہے ….“،اے ایس آئی نے اچانک کہا۔
ماجد نے ایک ہاتھ جلدی سے اوپر کیا اور پھر دوسرا ہاتھ بھی۔
”یہ والا….، میرا خیال ہے میں نے بھی ابھی ابھی دیکھا ہے….“ اے ایس آئی بولا۔
اس نے ماجد کی دوسری کلائی اپنے ہاتھ میں لے لی اور اچانک ہی اسے ہتھکڑی پہنادی۔
ماجد کو تب احساس ہوا جب اس کی کلائی میں کسی سخت اور ٹھنڈی چیز کا احساس ہوا۔
” یہ یہ ….یہ….کیا مطلب ….؟“ ماجد بری طرح ہکلایا۔
”اب ٹھیک ہے….اسے ہتھ کڑی کہتے ہیں ….“اے ایس آئی نے کہا۔
” مم….مگر کیوں ….مم….میں نے کیا کیا ہے ….“ ماجد کی سٹی گم ہوگئی تھی ۔
” بتاتا ہوں ….لیکن اب تم خاموش رہنا….یہی تمہارے لیے بہتر ہوگا….“
ماجد بری طرح چیخ کر بولا۔” تم پاگل تو نہیں ہو گئے ہو ….میں ایک معزز شہر ی ہوں ….کھولو اسے …. اسے کھولو….، کیا تم پاگل ہوگئے ہو….، چلو کھولو اسے….“
اے ایس آئی نے مسکرا کر کہا ۔” اب نہیں کھلے گی….“
” میں کہتا ہوں ….ہتھ کڑی کھولو….یہ کیا مذاق ہے ….“ماجد کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اے ایس آئی نے ایسا کیوں کیا۔
اے ایس آئی نے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مزید بڑھادی اور اس کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھنے لگا،پھر دھکا دے کر کمرے کے دوسری طرف لے گیا اور ایک کرسی پر دھکیل دیااور آواز لگائی ۔”مراد ….!!“
جواب میں فوراً سپاہی کی آواز گونجی ۔” جی سر….؟“
”جس قدر تیز بھاگ سکتے ہو….، بھاگ کر کارنر تک جاﺅ ….پھر موبائل لے کر قریب کے ہاسپٹل سے ڈاکٹر کو بلا لاﺅ…. یہ شخص ابھی زندہ ہے۔قاتل سے ایک بھول ہو گئی ہے ….اس نے مقتول کے مرنے کی تصدیق نہیں کی ….“
ماجد کا چہرہ تاریک ہوگیا ۔
مراد نامی سپاہی نے حکم سنتے ہی دوڑ لگادی ،اور اگلے ہی لمحے باہر نکل گیا ۔
سپاہی کے جاتے ہی اے ایس آئی ،بے حس وحرکت ناصر چغتائی کے قریب بیٹھا اور اسے مصنوعی تنفس دینے کی کوشش کرتا رہا ۔
ماجد کونے میں بیٹھا پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔اس کا چہرہ سفید ہو گیا تھا ۔ کچھ دیر بعدمراد نامی سپاہی ایک ڈاکٹر اور دو نرسوں کے ساتھ واپس آیا۔
وہ تینوں ناصر چغتائی پر جھک گئے…. اور پھرماجد نے دیکھا کہ ناصر چغتائی کی انگلیاں کھل گئیں اور اس کے ہونٹوں میں بھی حرکت ہوئی۔
وہ اتنا ہوش میں تھا کہ اس نے کچھ کہا، جسے اے ایس آئی نے جھٹ اپنا موبائل نکال کر ویڈیو بنالی ۔
پھر وہ ماجد کی طرف بڑھا۔ اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے دبا کر اسے اُٹھنے کا اشارہ کیا، اور پھر اسے لے کر رات کی تاریکی میں گم ہوگیا….٭٭٭….

….ختم شد……..

//]]>