تھری ڈی اینی میشن

حسام چندریگر

یوں تو آپ نے بڑی مزے مزے کے اینی میٹڈ کارٹونز دیکھے ہوں گے، جیسے نیمو، منینز، آئس ایج وغیرہ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ کس طرح بنائے جاتے ہیں، یقینا نہیں معلوم ہوگا، چلیں ہم آپ کو مرحلہ وار ساری چیزیں بتاتے ہیں۔
آئیڈیااور اسکرپٹ
سب سے پہلے کہانی کا آئیڈیا تخلیق کیا جاتا ہے جوبالکل خام صورت میں ہوتا ہے، پھر اس آئیڈیا پر ریسرچ کی جاتی ہے کہ وہ فلم میںکی شکل اختیار کرنے کے لائق ہے یا نہیں۔ اس مرحلے کے بعد فلم کا اسکرپٹ لکھا جاتا ہے، جس میں ایک ایک سین ، کردار، کہانی اورمکالمے وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
اسکیچز
کہانی کو دیکھتے ہوئے اس کے کرداراسکیچز کی صورت میں بنائے جاتے ہیںاور پوری کہانی میں جتنے بھی سین اور بیک گراﺅنڈ ہوتے ہیں ان کا خاکہ مختلف زاویوں سے بنایا جاتا ہے جس سے پوری کہانی واضح ہوجاتی ہے

sketches 3d animation

اسکیچز

اسٹوری بورڈ
اس مرحلے میں اسکیچز کو مزید نکھارا جاتا ہے، ان میں رنگ بھرے جاتے ہیں اور ان کا مکمل ٹو ڈی ورژن تیار کرلیا جاتا ہے۔ پھر کمپیوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے ان کو حرکت دی جاتی ہے، اور جانچ کے لیے ایک عارضی وائس اوور چلائی جاتی ہے۔ اس مرحلے میں فلم کو مکمل ٹو ڈی ورژن میں دیکھ لیا جاتا ہے، اگر کہانی میں مزید کوئی تبدیلی کرنی ہو تو یہ مرحلہ اس کام کے لیے آخری موقع ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد کے مراحل میں کہانی کو تبدیل کرنے سے کام متاثر ہوسکتا ہے۔

story board 3d animation

اسٹوری بورڈ

ماڈلنگ
اس مرحلے سے فلم کو تھری ڈی اینی میشن میں تبدیل کرنے کا کام شروع ہوجاتا ہے۔ اس کام کے لیے مختلف ماڈلنگ سافٹ ویئرز استعمال کیے جاتے ہیں جیسے Autodesk Maya وغیرہ۔ ماڈل بنانے کے لیے تھری ڈی پولیگونل شکلیں استعمال کی جاتی ہیں جنھیں آپس میں جوڑ کر نئی شکلیں بنائی جاتی ہیں جیسے آپ بچپن میںمختلف بلاکس کو جوڑ کر کوئی نئی شکل یا گاڑی بناتے تھے، یہ کام بھی سافٹ ویئرز میں اسی طرح کیا جاتا ہے۔ ماڈل تیار ہونے کے بعد اس کے خط و خال ابھارے جاتے ہیں، کہ وہ اصلی شکل جیسا دکھنے لگے۔

modeling 3d animation

ماڈلنگ

رگنگ
اس مرحلے میں کہانی کے کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے ماڈل کو حرکت دینے کے لیے ایک ڈھانچہ تیار کیا جاتا ہے، جس میں مختلف جوڑ بنائے جاتے ہیں، تاکہ ان کی مدد سے ماڈل حرکت کر سکے بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے ہاتھ، کمر اور پاﺅں کی ہڈیوں میں جوڑ ہوا کرتے ہیں۔ پھر اس ڈھانچے کو ماڈل کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔چہرے کے تاثرات جیسے پلکوں کا جھپکنا یا بولتے ہوئے منھ کا ہلنا بھی اسی ڈھانچے کا حصہ ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تمام کام کمپوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے ہوتا ہے جو انتہائی تکنیکی کام ہے۔

rigging 3d animation

رِگنگ

شیڈنگ
اس کے بعد اس ماڈل میں رنگ بھرنے اور شیڈ لگانے کا کام شروع ہوتا ہے۔ اس کام سے پہلے ماڈل کو بالکل کورا کردیا جاتا ہے پھر اس کے کردار کو دیکھتے ہوئے اس پر رنگ اور شیڈز چڑھائے جاتے ہیں۔شیڈنگ بہت پروفیشنل انداز میں کی جاتی ہے کیونکہ ماڈل کی شکل و صورت، اسکا رنگ اور اس کی وضاحت ہی اسے خوبصورت بناتی ہے۔

shading 3d animation

شیڈنگ

اینی میشن
اینی میشن کو حقیقت جیسا دکھانے کے لیے وائس اوور کرنے والا بولنے کے ساتھ ساتھ وہ تمام ایکشن بھی کرتا ہے جو فلم میں ماڈل کو کرتے ہوئے دکھانا ہوتا ہے تاکہ ایکشن اور وائس اوور بالکل ٹھیک ٹھیک مل جائیں۔ پھر وائس اوور کرنے والے کی حرکت کی ٹائمنگ کو دیکھتے ہوئے ماڈل کو بھی اسی ٹائمنگ کے ساتھ اینی میٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ریگنگ کے مرحلے میں بننے والا ڈھانچہ تیار کیا جاتا ہے، اور ماڈل کے تاثرات وائس اوور کے لحاط سے اینی میٹ کیے جاتے ہیں۔

animation 3d animation

اینی میشن

لائٹنگ
جس طرح فلموں کی شوٹنگ میں درست لائٹنگ کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ سین واضح نظر آسکے، اسی طرح اینی میشن کے وقت بھی لائٹنگ کی جاتی ہے۔ لائٹنگ ماڈل کے رنگ، ٹیکسچر اور خط و خال کو نمایاں کرتی ہے لہٰذا یہ اینی میشن کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔ سافٹ ویئر کی مدد سے جس کمرے میں ماڈل ہوتا ہے اس میں مصنوعی لائٹنگ بھی کردی جاتی ہے، اوروِرچول کیمرے کو ایک خاص زاویے میں رکھ دیا جاتا ہے، تاکہ سین کو واضح دکھایا جا سکے۔

lighting 3d animation

لائٹنگ

رینڈرنگ
اس کے بعد آخری کام یعنی رینڈرنگ شروع ہوجاتی ہے۔اس کو سمجھنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ کس طرح دیکھتے ہیں۔ آپ یہ بات جانتے ہیں کہ جب کبھی روشنی کسی چیز سے ٹکرا کر آپ کی آنکھ میں جاتی ہے تبھی آپ اس کو دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اگر کسی کمرے میں روشنی نہیں ہو تو آپ کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتے۔ بالکل اسی طرح کیمرے کی آنکھ بھی کام کرتی ہے۔ ماڈل کو جس ورچول کمرے میں رکھا جاتا ہے اس میں اندھیرا ہوتا ہے ۔ ماڈل کو دکھانے کے لیے مصنوعی روشنی کا استعمال کیا جاتا ہے جو ماڈل سے ٹکرا کر کیمرے کی آنکھ میں جاتی ہے۔ اب کام شروع ہوتا ہے رینڈرنگ کا ۔ یعنی اس مرحلے میں اس ماڈل سے ٹکرا کر کیمرے کی آنکھ میں جانے والی روشنی کی ہر شعاع کی شدت اور رنگ کا حساب ہوتا ہے ، اس سے وہ پوری تصویر بنتی ہے جو آپ کارٹون فلموں کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ رینڈرنگ کا کام بہت ہی بھاری کام ہے، اور یہ گھنٹوں بلکہ بعض اوقات ایک ایک سین کو رینڈر کرنے کے لیے کئی دن تک لے لیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کمپیوٹر استعمال کیے جاتے ہیں جن میں ہائی پاور جی پی یو(گرافکس پراسیسنگ یونٹ) ہوتے ہیں۔ یوں ایک مکمل تھری ڈی اینی میٹڈ فلم تیار ہو کرآپ کے پاس آتی ہے۔

rendering 3d animation

رینڈرنگ

٭….٭

//]]>