ذرا سی غلطی

ایمن احسن

پہلی بار مجھے ثناءآپی بہت اچھی لگیں کیوں کہ انھوں نے ہمیں بھی دعوت دی

”جی…. ہاں ٹھیک ہے۔ میں آجاتی ہوں۔ جی ثناءکو لے کر آﺅں گی اپنے ساتھ۔“ امی کو فون پر بات کرتے سن کر میرے کان کھڑے ہوگئے کہ وہ کہیں جارہی ہیں وہ بھی ثناءآپی کو لے کر۔ اور میں اور ردا؟ فوراً ہی میری سوچوں کا جواب مل گیا۔”نہیں فضا اور ردا کو لے کر نہیں آسکتی۔ ان دونوں کے امتحان ہورہے ہیں۔ گڑبڑ بھی کریں گی دونوں مل کر۔“
”اب اتنے بھی برے نہیں ہیں ہم۔“ میں نے منھ بنایا۔ تبھی امی نے مجھے کاپی کی طرف متوجہ نہ دیکھ کر گھورا۔
امی کی بات اب اختتام پر تھی۔ اللہ حافظ کہہ کر فون رکھتے ہوئے انھوں نے کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا: ”یاد کرو فضا۔“ ساتھ ہی ثناءآپی کو آواز دی۔
”ثنائ! ثناءبیٹی۔“ اب لہجے میں مٹھاس تھی۔ ثناءآپی بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوگئیں۔
”جی امی جان۔“
میں نے کاپی پر نظر تو جمالی لیکن میرے کان امی کی طرف ہی متوجہ تھے جو کہہ رہی تھیں:
”بیٹا! تمھاری خالہ نے بلایا ہے شام کی چاے پر۔ فضا اور ردا کو تو لے کر نہیں جاسکتی، تم ذرا….“
میں نے امی کی بات کاٹی اور منھ بسورتے ہوئے کہا: ”امی مجھے بھی جانا ہے۔“
”لیکن بیٹا! تمھارے امتحان ہورہے ہیں۔ تم اور ردا مل کر پڑھائی کرنا، ہم بس دو گھنٹے میں آجائیں گے۔“ امی نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا۔
”تمھیں صبح سے کہہ رہی تھی کہ پڑھائی شروع کردو اور تم اب پڑھنے بیٹھی ہو۔“ ثناءآپی یوں بولیں، جیسے وہی تو میری امی ہوں۔
”میں ردا کو بھیجتی ہوں۔ تم دونوں مل کر پڑھائی کرو اور ثناءتم میرے ساتھ شام کو پہننے کے لیے کپڑے نکلوا لو۔“ امی جان نے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئیں۔ ثناءآپی بھی ان کے پیچھے پیچھے تھیں۔ میں نے دانت پیستے ہوئے انھیں دیکھا اور گود میں پڑی سائنس کی کاپی کو تکنے لگی۔
اوہ میں نے آپ کو اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں۔ میں فضا، چھٹی جماعت کی طالبہ ہوں اور میں اپنے گھر میں اپنے شفیق سے ابو جان، ہر دم ڈانٹنے والی امی جان، خونخوار ثناءآپی اور اپنی جڑواں بہن کم دوست زیادہ، ردا کے ساتھ رہتی ہوں۔ میں بالکل بدتمیز نہیں ہوں، نہایت ہی شریف اور اچھی بچی ہوں۔ گو آپی یہ بات بالکل نہیں مانتیں۔ ردا کے ساتھ میری دوستی اس وجہ سے ہے، کیوں کہ ہم دونوں جڑواں اور ہم جماعت ہیں۔ ہم دونوں ہی آپی مخالف پارٹی سے ہیں، ہمارے شوق بھی ایک جیسے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ امی جان کو بالکل پسند نہیں اور وہ ہماری حرکتوں پر اکثر ہمیں ڈانٹتی رہتی ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے، اگر ہم نے امی جان کا بنایا نہایت مزے کا کیک تھوڑا سا چکھ لیا تو اس میں کیا بُرائی ہے۔
اب ہمیں تو معلوم نہیں تھا نا کہ وہ مہمانوں کے لیے ہے۔ اسی طرح کل ثناءآپی کے بیگ میں رکھے رجسٹر سے ہم نے تھوڑے سے صفحات پھاڑ لیے۔ انھوں نے ایسا غل مچایا کہ اللہ کی پناہ۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ ان کی سہیلی کا رجسٹر ہے، نہیں تو ہم….
خیر چھوڑیے اس موضوع کو۔ ابھی تو اصل مسئلہ یہ ہے کہ امی جان مجھے اور ردا کو چھوڑ کر خالہ کے یہاں جانے کا ارادہ رکھتی ہیں، وہ بھی چاے پر۔
میں علامہ اقبال کا پوز بنائے سوچوں میں گم تھی کہ ردا کاپی ہاتھ میں پکڑے کمرے میں داخل ہوئی۔
”فضا! امی ہم دونوں کو گھر پر چھوڑ کر خالہ کے گھر جارہی ہیں۔“ اس نے اپنی دانست میں دھماکے دار خبر سنائی۔
”جانتی ہوں۔“ میری طرف سے کوئی خاص ردعمل نہ ملنے پر وہ منھ بنا کر کرسی پر بیٹھ گئی۔
”تو تم انھیں راضی کرو کہ وہ اپنے ساتھ ہمیں بھی لے جائیں۔ وہ ضرور تمھاری بات مان جائیں گی۔“ اس نے رونی صورت بناتے ہوئے کہا۔
”اوہ یہ تمھاری غلط فہمی ہے کہ امی جان میری بات مان جائیں گی۔ وہ صرف ثناءآپی کی ہی بات مانتی ہیں اور دوسرا یہ کہ امی ہمیں اس لیے بھی لے کر نہیں جائیں گی کیوں کہ ہم نے ان کے اور ثناءآپی کے بار بار کہنے کے باوجود وقت پر پڑھائی شروع نہیں کی اور ان کی خواہش ہے کہ ہم بھی ثناءآپی کی طرح اچھے مارکس لائیں۔ اسی لیے وہ ہمیں امتحان کی تیاری کے لیے گھر پر چھوڑ کر جارہی ہیں۔“ میں نے اپنی بات مکمل کی۔
”نتیجہ! بڑوں کی بات ماننی چاہیے۔“ ثناءآپی جو نجانے کب سے دروازے پر کھڑی میری باتیں سن رہی تھیں، بولیں تو ہم دونوں نے انھیں یوں دیکھا، جیسے کچا چبا جائیں گے لیکن وہ مسکراتے ہوئے پلٹ گئیں۔
”اوہنہ! نجانے یہ اپنے آپ کو کیا سمجھتی ہیں۔“ ردا جلتے بھنتے ہوئے بولی۔
”انھیں چھوڑو…. ردا میری بات سنو۔“ میرے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی تو اُس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا: ”کیا….؟“
”اونہہ! کان اِدھر لاﺅ کیوں کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔“ میں نے آہستہ سے کہا۔
وہ کان قریب لائی تو میں نے اپنا آئیڈیا اُس کے گوش گزار کردیا۔ اس کی بھی آنکھیں چمک اُٹھیں اور ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔
امی جان کے گھر سے روانہ ہونے تک ہم شریف بنے رہے۔ یہاں تک کہ اُنھیں شک ہونے لگا۔
”تم دونوں کوئی گڑبڑ نہیں کرو گے۔“ دروازے سے نکلتے ہوئے امی نے ہدایت کی۔
”جی نہیں کریں گے۔“ ہم دونوں نے یک زبان ہو کر کہا۔
”ارے امی! اب آبھی جائیں۔“ ثناءآپی کی آواز پر وہ گھر سے باہر نکل گئیں اور باہر کھڑے کھڑے بھی ہمیں ہدایات سے نوازنے لگیں: ”اندر سے لاک کرلینا چابی میرے پاس ہے۔ دروازہ کسی کے لیے نہیں کھولنا اور اپنی پڑھائی مکمل کرلینا۔“
”جی امی….“ ہم دونوں نے مسکراتے ہوئے سرہلایا۔
اور پھر وہ چلی گئیں۔ دروازہ لاک کرکے میں نے ردا کی طرف دیکھا۔ اس نے میری طرف دیکھا اور….
”یا ہووو ہراہ!“ ہم دونوں ایک ساتھ اُچھلے اور امی کی الماری کی طرف بھاگے۔ ہماری تلاش کا محور ایک ڈائری تھی، جس میں امی جان یوٹیوب سے دیکھ کر ترکیبیں نوٹ کرتی ہیں اور پھر ان ترکیبوں کے مطابق مزے مزے کی چیزیں بناتی ہیں۔ اب تک تو آپ میرا آئیڈیا سمجھ ہی چکے ہوں گے۔
جی ہاں…. جب امی اور آپی ہمیں چھوڑ کر خالہ کے گھر پر دعوت اُڑانے گئیں تو ہمارا بھی کوئی اچھی چیز کھانے کا دل چاہا۔
”مل گئی! مل گئی!“ میں خوشی سے چلائی: ”ڈائری مل گئی۔“
میں نے جلدی سے اُسے کھولا اور صفحے پلٹنے لگی۔ اچانک ردا نے میرا ہاتھ پکڑ کر پوچھا: ”لیکن کیا ہم بھی کچھ بنا سکتے ہیں؟ وہ بھی اکیلے؟ امی یا آپی کی مدد کے بغیر۔“
”ردا ہم بارہ سال کے ہیں۔ کوئی چھوٹے بچے تو نہیں۔“ میں نے اُسے شرم دلائی۔
”اور ہماری امتحان کی تیاری؟“ وہ پھر رُک گئی۔
”جاﺅ ردا! تم پڑھائی کرو…. میں خود ہی بنالوں گی اور خود ہی کھا بھی لوں گی۔“ میں نے چڑ کر کہا۔
”ارے نہیں نہیں…. لیکن بنائیں گے کیا۔“ اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا۔
”وہی تو دیکھ رہی ہوں۔“ میں نے دوبارہ صفحات پلٹنا شروع کیے۔
”اوہو…. مجھے دکھاﺅ۔“ ردا نے میرے ہاتھ سے ڈائری چھینی اور اسے ٹیبل پر رکھ کر دیکھنے لگی اور پھر بولی: ”اس میں تو اتنی ساری چیزوں کے نام لکھے ہیں۔ آخر کیا کیا بنائیں فضا؟“
”ردا ہم کیا کیا نہیں بنائیں گے، صرف ایک ہی چیز بنائیں گے۔ کیوں کہ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔“ میں نے ڈائری اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا اور نام پڑھنے لگی: ”کپ کیک، براﺅنیز، ونیلا آئسکریم؟“
آئسکریم کے نام پر ہی میرے منھ میں پانی بھر آیا۔
”آئس کریم بنائیں؟“ میں نے تائیدی نظروں سے ردا کی طرف دیکھا۔
”جی نہیں۔ آئس کریم جمنے تک امی آجائیں گی اور پھر ہمیں بھی دو چار تھپڑ جما دیں گی۔“ اس نے نفی میں سرہلایا اور ڈائری میرے ہاتھ سے چھین کر اگلا صفحہ پلٹا۔
”پیزا…. پیزا بنالیتے ہیں۔“ وہ اچھل کر بولی اور چٹخارہ بھرا: ”سچی، ابھی سے مزیدار پیزا کا ذائقہ محسوس ہورہا ہے…. آہا۔“
میں نے اُسے گھورتے ہوئے کہا: ”ڈئیر ردا! خوابوں کی دُنیا سے باہر آکر ذرا اس ترکیب کا حجم دیکھو۔ ڈھائی صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کو تو بناتے بناتے ہی رات ہوجائے گی۔“
اس نے منھ بنا کر صفحہ پلٹ دیا۔
”چاکلیٹ کیک….؟“ اس نے سوالیہ انداز میں کہہ کر میری طرف دیکھا۔
”ہاں یہ بنالیتے ہیں۔ اس کی ترکیب بھی چھوٹی سی ہے۔ بس یہی ٹھیک ہے۔ ورنہ تو یہ سوچنے تک کہ کیا بنانا ہے، امی ہی آجائیں گی۔“ میں نے جلدی جلدی بولتے ہوئے اس کے ہاتھ سے ڈائری لے لی اور کچن کی طرف بڑھی۔
ردا میرے پیچھے آتے ہوئے بولی: ”لیکن فضا! اگر امی کو پتا چل گیا تو….؟“ وہ تذبذب کا شکار تھی۔
”افوہ ردا…. امی کو کیسے پتا چلے گا، جب ہم سب کچھ سمیٹ چکے ہوں گے؟“ پُراعتماد لہجے میں کہتے ہوئے میں نے ڈائری کاﺅنٹر ٹاپ پر رکھی۔
”میں ترکیب پڑھتی ہوں۔ تم سب چیزیں نکالو۔“ ردا کو ہدایت دیتے ہوئے میں ڈائری پر جھکی۔
”ہوں…. تو پہلے نمبر پر ہے میدہ…. نکالو میدہ۔“ میں نے کہا۔
ردا مختلف الماریاں کھول کھول کر دیکھنے لگی۔ آخرکار آخری دراز بند کرتے ہوئے وہ جھنجھلا کر بولی: ”یہ میدہ آخر اس کچن میں پایا جاتا بھی ہے یا نہیں؟“
”تم ہٹو میں دیکھتی ہوں۔“ اسے ہٹاتے ہوئے میں نے بھی سب الماریوں میں جھانکا اور آخر کار میدہ برآمد کرہی لیا۔
”آگے کیا لکھا ہے؟“ میدہ کاﺅنٹر پر رکھتے ہوئے میں نے ردا کو اشارہ کیا۔
”آں…. انڈے۔“ اس نے ڈائری پر جھکتے اور پھر سر اُٹھاتے ہوئے کہا: ”دو انڈے چاہئیں۔“
یہ آسان مرحلہ تھا۔ میں نے فریج میں سے دو انڈے نکال کر کاﺅنٹر پر رکھتے ہوئے ردا سے کہا: ”اب آگے پڑھو۔“
”آگے لکھا ہے کوکو پاﺅڈر۔“ ردا نے کوکو پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”یہ کیا ہوتا ہے؟“ میں نے حیرانی سے کہا۔
”مجھے کیا پتا؟ یہی لکھا ہوا ہے۔“ اس نے کندھے اُچکائے۔“
”اونہوں ردا! مجھے دکھاﺅ…. کیا لکھا ہے؟“ میں اُسے پیچھے کرتے ہوئے ڈائری پر جھکی۔ لکھا ہوا تو واقعی یہی لفظ تھا لیکن مشکل یہ تھی کہ ہم دونوں اس لفظ کے سیاق و سباق سے انجان تھے۔
”چھوڑو فضا! یہ کام ہمارے بس کا نہیں ہے۔ امی بھی آنے….“ وہ کہہ رہی رہی تھی کہ میں نے اس کی بات کاٹ دی۔
”ردا! امی کو آنے میں ابھی ڈیڑھ گھنٹہ تو لگے گا ہی۔ ہم تب تک ایک مزیدار سا کیک بنا لیں گے۔ تم فکر نہ کرو اور ذرا الماری میں دیکھو کسی ڈبے یا پیکیٹ پر یہ لفظ ضرور لکھا ہوگا۔“ میں نے اس سے زیادہ خود کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ دراصل کچن کے معاملات سے ہماری واقفیت نہ ہونے کے برابر تھی۔
ردا اور میں پھر سے الماریاں کھنگالنے لگے اور آخرکار ایک پیکیٹ جس پر بڑا بڑا کوکو پاﺅڈر لکھا ہوا تھا، برآمد کرہی لیا۔
تیل، دودھ اور چینی ڈھونڈنا نسبتاً آسان تھا۔
بس اجزا اکھٹے ہوگئے تو کیک بنانے کا کام شروع ہوا، مگر یہ کیا سر منڈاتے ہی اولے پڑنے لگے، یعنی شروعات ہی بری ہوئی۔ انڈہ توڑتے ہوئے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گیا، جسے جلدی جلدی صاف کیا اور فریج سے دوسرا انڈہ نکال لیا۔ پھر کسی ماہر شیف کی طرح سب چیزیں مکس کرنے لگے اور اللہ کا شکر ہے کہ یہ مرحلہ بھی بخیر و خوبی نمٹ گیا۔ جلدی سے کیک کو اوون میں پچیس منٹ کا ٹائمر لگا کر رکھ دیا، اب سب پھیلاوا سمیٹ کر کچن کی حالت پہلے جیسی بنانی تھی۔ کسی نہ کسی طرح یہ کام بھی سرانجام دے کر ہم ونوں گھڑی کے سامنے بیٹھ گئے مگر وقت تھا کہ گزرنے میں ہی نہیں آرہا تھا۔
”فضا! اگر امی ابھی آگئیں تو….؟“ ردا نے ٹہلتے ہوئے کہا۔
”نہیں بھئی! امی اتنی جلدی کیسے آسکتی ہیں؟ ابھی تو وہ دعوت انجوائے کررہی ہوں گی۔“ میں نے بے نیازی سے کہا، مگر دل میں میرے بھی یہی خیال آرہے تھے۔
”اور اگر کیک صحیح نہ بنا تو؟ ہم اس کا کیا کریں گے؟“ وہ میرے برابر میں بیٹھتے ہوئے بولی۔ تبھی ٹن کی آواز آئی۔ وقت مکمل ہوچکا تھا اور یقینا ہمارا کیک بھی تیار ہوچکا تھا۔ آگے پیچھے بھاگتے ہوئے ہم اوون کے پاس پہنچے اور کیک باہر نکالا۔
”ارے واہ!“ ردا کے منھ سے نکلا۔ میں نے بھی ستائشی نظروں سے دیکھا۔ خوب پھولا ہوا اور شکل سے ہی مزے دار نظر آنے والا ہمارا کیک تیار ہوچکا تھا اور جناب ہماری قسمت ہی ایسی ہے کہ اسی وقت لاک میں چابی گھومنے کی آواز آئی۔ ہم دونوں نے گھبرا کر ایک دوسرے کو پریشان نظروں سے دیکھا۔
”واپس رکھو جلدی….“ ردا نے سرگوشی میں کہا۔
میں نے جلدی سے کیک کی ٹرے واپس اوون میں رکھی اور ہم دونوں بھاگتے ہوئے کچن سے باہر نکلے مگر ہمیں دیر ہوچکی تھی، امی اور آپی دونوں لاﺅنچ میں داخل ہوچکی تھیں اور ہمیں کچن کے باہر ہی دیکھ چکی تھیں۔
ہم دونوں ٹھک سے وہیں رُک گئے۔
”السلام علیکم امی! السلام علیکم آپی۔“ میں نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے سلام کیا۔
”وعلیکم السلام!“ امی نے ہاتھ میں پکڑا ہوا سامان میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
”آپ کافی جلدی آگئیں امی۔“ ردا نے پوچھا۔
”جلدی کہاں؟ دو گھنٹے تو رُک کر آئی ہوں۔ دراصل مجھے تم دونوں کی بہت فکر ہورہی تھی۔“ وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔
”اور تم لوگوں نے پڑھائی بھی کی یا کھیل کود میں ہی لگی رہیں؟“ امی نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔
”یہ خوشبو کہاں سے آرہی ہے؟ کیا کررہے تھے تم لوگ؟“ آپی نے اپنی تیز ناک سے اندازہ لگایا۔
”کچھ نہیں۔“ ردا نے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر آپی کو یقین دلانے کی ناکام کوشش کی مگر آپی ہم لوگوں کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے کچن میں قدم رکھ چکی تھیں۔
دل ہی دل میں آپی کی تیز ناک کو کوستے اور یہ دعا کرتے ہوئے کہ خوشبو کا ماخذ آپی کی نظروں سے بچ جائے۔
میں نے امی کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتے ہوئے ان کے پہلے سوال کا جواب دیا: ”ہم کوئی چھوٹے بچے تھوڑی ہیں جو کھیل کود میں وقت ضائع کرتے۔ ہم تو….“
میں کہہ ہی رہی تھی کہ کچن میں سے کیک کی ٹرے اُٹھائے برآمد ہوتی ہوئی، آپی نے میری بات کاٹی۔
”ہاں امی! ہماری ردا اور فضا چھوٹی بچیاں تو ہیں نہیں، جو کھیل کود میں وقت ضائع کرتیں بلکہ یہ دونوں تو کچن میں بیکنگ کے جوہر دکھا رہی تھیں۔ ویسے امی ماننا پڑے گا یہ دونوں کسی سے کم نہیں ہیں۔ دیکھیں ذرا کیک کتنا اچھا لگ رہا ہے۔“ آپی نے پہلے طنزیہ اور پھر ستائشی انداز میں کہا۔
”وہ دراصل امی پڑھتے پڑھتے ہمیں بھوک لگنے لگی تھی تو اس لیے….“ ردا نے کھسیائے ہوئے لہجے میں کہا۔
امی ہمیں بُری طرح گھور رہی تھیں جب کہ آپی کیک میز پر رکھ کر واپس باورچی خانے میں چلی گئیں۔
”ہاں امی! بس تھوڑا سا کام رہ گیا ہے، وہ ہم ابھی مکمل کرلیتے ہیں۔“ میں نے منمناتے ہوئے کہا۔
”ارے امی چھوڑیے ناں! آئیں گرم گرم کیک چکھیں۔“ ثناءآپی نے ٹیبل کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے کہا: ”آخر فضا اور ردا نے پہلی بار کچھ بنایا ہے اور وہ بھی اتنا اچھا۔“
امی ابھی بھی کاٹ کھانے والی نظروں سے گھور رہی تھیں۔
”سوری امی!“ میرے منھ سے نکلا۔
ردا نے بھی سر جھکا لیا۔ ان کی ناراضی سے ہم کیا پورا گھر ہی ڈرتا تھا۔
”ارے چھوڑیے امی! جانے دیں۔“ آپی کیک کے پیس کرتے ہوئے بولیں: ”تم دونوں بھی آجاﺅ۔“
پہلی بار مجھے ثناءآپی بہت اچھی لگیں۔ کیوں کہ انھوں نے ہمیں بھی دعوت دی اور ہم دونوں مجرم بھی وہیں جاکر کھڑے ہوگئے۔
کیک کے ٹکڑے آپی نے پلیٹ میں رکھے اور ایک پلیٹ ہماری طرف بڑھا کر کہا: ’لو تم لوگ بھی کھاﺅ۔“
”امی آپ بھی لیں۔ مہمانوں کی طرح کیوں کر بیٹھی ہیں۔“ پھر انھوں نے امی کو بھی پلیٹ پکڑائی اور خود بھی ایک پیس منھ میں رکھ لیا۔
ہم دونوں نے بھی ایک ایک پیس منھ میں رکھا۔
آپی کی طرف نگاہ اُٹھی تو ان کے چہرے کے زاویے بگڑتے دیکھ کر حیرت ہوئی لیکن اب دیر ہوچکی تھی۔ میں اور ردا غسل خانے کی طرف بھاگے اور بیسن میں کھڑے ہوکر کُلیاں کرنے لگے۔ کیوں کہ منھ میں کڑواہٹ ہی اتنی گھل گئی تھی۔ دراصل…. ہوا یہ کہ ہم جوش میں چینی کی جگہ نمک ڈال بیٹھے تھے۔ پھر جو کچھ اس کے بعد ہوا اس کا پردہ رکھنا ہی مناسب ہے۔
٭….٭
اس تحریر کے مشکل الفاظ
دانست: خیال، سمجھ، عقل محور: مرکز
تذبذب: شک و شبہ، غیر یقینی حالت
ستائش: تعریفی، توصیفی
ماخذ: وہ جگہ جہاں سے کوئی چیز نکلے، اخذ کرنے کی جگہ، منبع
منمنانا: ناک میں بولنا، بڑبڑانا
زاویہ: انداز، گوشہ

2 Comments

  1. umm e kulsoom says:

    بہت ہی مزاحیہ تحریر ہے۔

  2. umm e kulsoom says:

    بہت ہی مزاحیہ تحریر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>