ہمت کرے انساں تو

احمد عدنان طارق

یہ وہ تاریخ ہے جب امریکا کے مضافات میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔جس کا نام ابراہام لنکن تھا۔ وہ ایک لکڑی سے بنی ہوئی جھونپڑی میں اپنی بہن سارا اور اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ ابراہام کا گھر صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا۔جس میں کچھ پرانی کرسیاں اور ایک ہاتھ سے بنی ہوئی میز پڑی ہوئی تھی۔ پورے گھر میں صرف یہی فرنیچر تھا۔ کسی کھڑکی میں کوئی شیشہ نہیں لگا ہوا تھا۔ ایک تڑخی ہوئی لکڑی کی سیڑھی دیوار کے سہارے کھڑی تھی جس سے بچے زینے تک پہنچ کر سوتے تھے۔

سردیوں میں جب گھر سے باہر برف کی دبیز تہہ جم جاتی اور درختوں کی شاخیں بھی سفید برف سے اَٹ جاتیں تو ابراہام اور اس کی بہن سارا لحاف میں لیٹ کر اپنی ماں سے کہانیاں سنا کرتے۔ لنکن خاندان کے لیے زندگی گزارنا آسان نہ تھا۔ ان کی جھونپڑی بالکل ویران جگہ پر تھی جب کہ آبادی ان کے گھر سے خاصی دور تھی۔ اس لیے ان بچوں کا کوئی دوست نہیں تھا۔ ان کا اپنا گھر آرام دہ نہیں تھا۔ وہ ہر وقت سخت موسموں کی زد میں رہتا تھا۔ کبھی سرد برفیلی ہوائیں درازوں سے سیٹیاں بجاتے ہوئے گزرتیں اور کبھی تیز بارشوں سے چھت ٹپکنے لگتی اور کبھی کبھار تو باہر چھائی ہوئی دھند بھی گھر میں گھس آتی۔ بچے اُتنی دیر بھوکے رہتے جب تک ان کا باپ کوئی پرندہ شکار نہ کر لاتا اس کے ہاتھ کوئی خرگوش چڑھ جاتا یا کوئی مچھلی جال میں پھنس جاتی جب کچھ بھی نہ ملتا تو وہ رس بھریاں جمع کرتے اور گھر میں پڑی کسی پرانی ڈبل روٹی پر لگا کر مزے سے کھا لیتے۔ وہاں بہت سے خطرات بھی تھے۔
لنکن اور اس کے گھر والے ریڈ انڈین کے ساتھ رہتے تھے۔ جو یہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی سفید فام شخص ان کے ملک میں نظر آئے۔ لنکن خاندان ریڈ انڈین لوگوں سے اتنا ڈرتا تھا کہ وہ کبھی بھی بندوق کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ ننھے ابراہام نے بھی بندوق چلانا سیکھ لی تھی اور وہ ابھی سات سال کا ہی تھا۔

ابراہام ابھی کم سن ہی تھا۔ اس کے باپ نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اوہائیو دریا کے پار زرخیز سرزمین پر جا کر آباد ہوں گے۔ جھونپڑی اور اس میں موجود بوسیدہ فرنیچر کو فروخت کیا گیا اور لنکن خاندان ایک چھوٹی سی کشتی پر اپنا مختصر سا سامان لے کر سفر پر روانہ ہو گیا۔ ابراہام کی ماں اُداس تھیں کیوں کہ اسے مستقبل کے بارے میں خدشات تھے لیکن ابراہام بہت خوش تھا۔ اس نے کشتی چلانے اور مچھلی پکڑنے میں باپ کی مدد کی۔ وہ ٹکٹکی باندھے دریا کے کنارے درختوں کو دیکھتا رہا اور پرندوں کے بولنے کی نقل اتارتا رہا۔ لمبے سفر کے بعد وہ جنگل میں ایک کھلی جگہ پر پہنچے۔ کشتی کو کنارے پر باندھا اور نئی جھونپڑی کی تعمیر میں لگ گئے۔

اگرچہ ابراہام بہت طاقتور نہیں تھا لیکن وہ بہت عقل مند تھا۔ اس نے اپنے باپ کے برابر محنت کی۔ اس نے درختوں سے لکڑی کاٹی۔ مکئی بونے کے لیے زمین سے جھاڑ جھنکاردور کیا۔ جب سب ٹھیک ہوگیا تو ایک پُرمسرت حیرت اس کی منتظر تھی۔ اس کے چچا ،چچی اور دو کزن بھی رہنے وہاں آگئے اور پھر دونوں خاندان اکٹھے کھیت میں کام کرنے لگے۔ ایک سال تک سب کچھ درست سمت میں چلتا رہا۔ لیکن پھر زندگی میں ابراہام کو پہلا بڑا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ اس کی والدہ اﷲ کو پیاری ہوگئیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس حادثے کے بعد ابراہام ہنسا بھی ہوگا اور اس نے لوگوں کو ہنسایا بھی ہوگا لیکن وہ زندگی میں کبھی خوش نہیں ہوسکا۔ اب اس نے بہت زیادہ محنت شروع کردی تھی۔ جب وہ کھیت میں کام سے کبھی فارغ ہوتا تو یاد کرتا رہتا کہ اس کی ماں اسے کیا نصیحتیں کیا کرتی تھی۔ اس کے پاس کچھ کتابیں تھیں جنہیں وہ بار بار پڑھتارہتا۔ وہ ہجّے کرنے کی مشق کرتا رہتا اور ایک ایک لفظ پر اتنی دیر غور کرتا جب تک کہ اس کا مطلب صحیح طور پر سمجھ نہ لیتا۔ یہ طریقہ اپنا کر اس نے جو علم حاصل کیا وہ عام طور پرلوگ ایک لائبریری کی ساری کتابیں پڑھ کر بھی حاصل نہیں کرپاتے۔ ابراہام کا ایک چچیرا بھائی کہتا تھا ’’جب ہم کھیت سے کام کرکے تھکے مارے واپس آتے تو ابراہام الماری کھولتا۔ کتاب نکالتا۔ ایک مکئی کو بھڑ کھانے لگتا اور ساتھ میں پڑھتا رہتا۔ ‘‘

ابراہام جیسے غریب لڑکے کو بہت سی کتابوں کی ضرورت تھی اور کسی شفیق استاد سے بہت سی چیزیں سیکھنے کی بھی۔ کبھی کبھار کوئی استاد سفرکے دوران ان کے پاس رُکتا تو رات کو ابراہام اسے سوال حل کرکے دکھاتا۔ یہ سب وہ لکڑی کے تختے پر لکھتا کیونکہ نہ اس کے پاس قلم تھا نہ کاغذ۔ تمام زندگی ابراہام کبھی اسکول نہیں گیا۔ ماسواے ایک برس کے اور اس ایک برس کی مدت میں اس کے پانچ اساتذہ تبدیل ہوئے۔

ایک دن وہ اپنے ملک کے بارے میں کچھ جاننا چاہتا تھا۔ وہ قریبی جنگل میں رہنے والے ایک کسان کے پاس گیا۔ جس کے پاس کچھ کتابیں تھیں۔ ابراہام نے اس سے پوچھا۔ ’’کیا آپ مجھے جارج واشنگٹن کے بارے میں کوئی کتاب دے سکتے ہیں؟‘‘ ابراہام کو پتا تھا کہ اس کے ہم وطنوں میں جارج واشنگٹن ایک عظیم شخص تھا۔ کسان نے اسے کتاب تھمائی تو وہ اسے لے کر گھر آگیا۔ جب اس نے کام ختم کیا تو وہ انہماک سے کتاب پڑھنے میں مگن ہوگیا۔ لیکن کچھ ہی دیر میں اس کے ابا نے کسی کام سے اسے آواز دی تو اسے بڑی پریشانی ہوئی۔ وہ کام سے گیا تو بارش شروع ہوگئی اور جب وہ واپس آیا تو کتاب کے بھیگنے کی وجہ سے اس کا سرورق خراب ہوگیا تھا۔ مایوسی کے عالم میں وہ کسان کے پاس گیا اور کہنے لگا۔’’میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کیا کروں کیونکہ میں نے تمھاری کتاب خراب کردی ہے اور مجھ میں اتنی سکت بھی نہیں کہ میں نئی خرید سکوں۔‘‘ کسان نے ہنستے ہوئے لڑکے کے شانے کو تھپتھپایا اور کہنے لگا۔’’ کوئی بات نہیں ابراہام۔ تین دن میرے لیے کام کرو۔ میں ہمیشہ کے لیے یہ کتاب تمھیں ہی دے دوں گا۔مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
ابراہام کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ اسے کتاب سے محبت تھی اور وہ ابھی پڑھنے کے قابل بھی تھی کیونکہ اس کا صرف سرورق ہی خراب ہوا تھا۔ اس نے تین دن کام کیا اور رات قیمتی کتاب پڑھنے میں گزاری اور حیران ہوتا رہا اور سوچتا رہا کہ وہ کس طرح جارج واشنگٹن کی نقل کرتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کرسکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ابراہام کے ہم عمروں نے دیکھا کہ کتابوں میں وہ بہت زیادہ دلچسپی لینے لگا تھا اور اب وہ اکثر لکڑی کے بڑے ٹکڑوں پر کھڑا ہو کر تقریر کرنے کی مشق بھی کرتا رہتا۔

ابراہام جوان ہو گیا تھا۔ اس کے ہاتھ پاؤں بہت کھلے تھے۔ وہ اپنے ہم عمروں سے طاقتور اور لمبا تھا ۔وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے کشتی کرتے اور ہمیشہ ابراہام سب سے جیت جاتا۔اگرچہ ابراہام بہت طاقتور تھا لیکن پھر بھی دل کا وہ بہت نرم تھا۔ وہ کسی کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ وہ ہمیشہ کمزوروں کا ساتھ دیا کرتا تھا۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے اس نے دیکھا کہ ایک کانٹوں والی ہیج دو پتھروں میں پھنسی ہوئی ہے۔ اگرچہ وہ سارے دن کی مشقت کے بعد سخت تھک چکا تھا۔ پھر بھی وہ تین کلومیٹر تک دوڑتا ہوا گیا اور ایک لوھار سے لوہے کا راڈ لے کر آیا اور پتھروں کو اس سے اُٹھا کر اس نے جانور کو آزاد کروایا۔ ابراہام بہت نرم دل تھا۔ جب وہ بڑا ہوا تو اس نے اپنے باپ کے کھیت میں کام کرنے کے بجاے پڑوسی کے ساتھ کام شروع کر دیا۔ وہ اب کشتی چلاتا تھا اور اس پر سامان لاد کر ندی کے اردگرد لے جاتا تھا۔

ایک دن وہ ضروری سامان خریدنے قریبی بازار گیا تو پہلی بار اس نے ایک سیاہ فام شخص اس کی بیوی اور بچوں کو غلام بننے کے لیے بکتا ہوا دیکھا۔ اسے معلوم تھا کہ ملازموں اور غلاموں کے ساتھ اُن دنوں کتنا ظلم کیا جاتا تھا۔ وہ شدید غصے اور افسوس میں تھا۔ اگرچہ اس وقت وہ کچھ نہ کرسکا لیکن جو وہ دیکھ چکا تھا۔ اسے کبھی بھلا نہ سکا اور اس نے دل میں تہیہ کر لیا تھا کہ وہ ان غلاموں کی مدد کرے گا۔

وقت گزرتا رہا اور زندگی گزارنے کے لیے ابراہام کو بہت محنت کرنی پڑی۔ اس نے ایک دکان میں ملازمت اختیار کی۔ پھر اپنی ایک چھوٹی سی دکان کھولی۔ اس نے ڈاکیے کی نوکری اختیار کی۔ اب وہ جنگل میں نہیں بلکہ قصبے میں زندگی گزار رہا تھا۔اب وہ جمع کی ہوئی رقم سے کتابیں خرید سکتا تھا۔ وہ اساتذہ سے سبق لے سکتا تھا۔ قصبے میں رہنے سے ابراہام نے بہت سی چیزیں سیکھیں۔ جلد ہی اسے احساس ہوا کہ اس کا گفتگو کرنے کا انداز بہت اُجڈ ہے اور وہ شائستہ انگریزی بھی نہیں بول سکتا۔ لہٰذا جب قصبے کے لوگ گفتگو کرتے تو وہ بہت توجہ سے انھیں سنتا ہر رات جب دوسرے سو جاتے وہ موم بتی جلا کر پڑھنے بیٹھ جاتا اور کتابوں میں لکھے جملوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔ اگر آپ نوجوان ابراہام لنکن کی کی ہوئی تقریروں کو پڑھیں تو وہ بہت سادہ انگریزی میں لکھی گئی ہیں۔ ابراہام عقلمند بھی تھا اور محنتی بھی۔ اب وہ اتنا پڑھ چکا تھا کہ مشکلات میں اپنی پڑھائی سے مدد لے سکتا تھا۔ پھر وہ وکیل بن گیا اور لوگ اسے ایماندار ابراہام کہنے لگے۔

وہ اپنی قابلیت سے آگے بڑھتا رہا اور پارلیمنٹ کا ممبربن گیا۔ آٹھ سال کی محنت کے بعد اسے کانگریس کا ممبر بھی بنا دیا گیا۔ لیکن وہ ساری زندگی کانگریس میں نہیں رہ سکتا تھا۔ وقت گزرا اور کسی دوسرے نے اس کی جگہ لے لی۔ لیکن وہ جہاں بھی گیا ملک کے لیے محنت کرتا رہا۔ ان دنوں امریکا کی شمالی ریاستیں آپس میں لڑرہی تھیں اور وجہ تنازع غلاموں کی تجارت تھی۔ شمالی ریاستوں کے لوگ اس تجارت کے خلاف تھے جبکہ جنوبی ریاستوں کے لوگ حق میں تھے اور اگر تجارت کو روکا جاتا تو جنوبی ریاستیں علیحدگی کی دھمکی دے رہی تھیں۔ ابراہام یہ سب دیکھ کر بہت افسردہ تھا۔ وہ شروع ہی سے اس تجارت کا مخالف تھا لیکن اسے ملک سے محبت تھی۔ اسے معلوم تھا کہ یہ انارکی ملک کو کمزور کردے گی۔ اس نے لوگوں کو بتایا کہ اگر جنوب اور شمال کی ریاستوں نے اکٹھا رہنا ہے تو غلاموں کی تجارت بند ہونی چاہیے۔ اس نے ملک کے ہر شہر میں جا کر تقریریں کرکے لوگوں کو سمجھایا ۔ اس کی محنت دیکھ کر لوگوں نے اسے اپنا رہنما مان لیا اور پھر وہ غریب اورایماندار ابراہام ملک کا صدر بن گیا۔

جنوبی ریاستیں بدستور علیحدگی کی کوشش کرتی رہیں۔ پھر ایک افسوس ناک بات یہ ہوئی کہ جنوبی اور شمالی ریاستوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور کئی سال خون بہتا رہا۔ ابراہام لنکن نے شمالی ریاستوں کے سپاہیوں کے لیے بہت محنت کی ۔ وہ ملک کو متحد بھی رکھنا چاہتا تھا لیکن غلاموں کی تجارت بھی بند کروانا چاہتا تھا۔آخر اس کی ہمت اور عقلمندی نے شمالی ریاستوں کو جتوا دیا۔ غلاموں کو آزادی مل گئی اور تمام ریاستیں بھی امریکا کا حصہ رہیں۔ ایک دن وہ تھکا ہوا تھا لیکن دوستوں کے کہنے پر چلا گیا۔ ڈرامے کے درمیان پستول چلنے کی آواز آئی اور گولی لگنے سے ابراہام لنکن مرگیا۔ ایماندار اور غریب لڑکا ابراہام اب ملک کی مزید کوئی خدمت نہیں کرسکتا تھا۔ شمالی ریاستوں کا رہنما چلا گیا تھا اور جنوبی ریاستوں کا بہترین دوست ان کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔

*۔۔۔*

//]]>