ولیم اور بہار کا موسم

عظمیٰ ابونصر صدیقی

آٹھ سالہ ولیم کافی دیر سے اُداس ایک چھوٹی پہاڑی پر بیٹھا تھا۔ اس کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ اس کی پیاری امی اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلی گئی ہیں، بھلا کوئی اپنی امی کے بغیر بھی جی سکتا ہے؟ تھوڑی دیر میں ولیم کے تینوں چھوٹے بہن بھائی کھیلتے کودتے اس کے پاس آدھمکے ۔۔۔ ڈور تھی، جون اور کرسٹوفر۔
ولیم! آؤ ناں تم بھی ہمارے ساتھ کھیلو۔۔۔ یہ ڈور تھی کی آواز تھی۔
ڈور تھی اس کی پیاری بہن ہی نہیں بلکہ اس کی بہت اچھی دوست بھی تھی، مگر وہ اس وقت کسی کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ جو کمی محسوس کررہا تھا اس کے چھوٹے بہن بھائی اس کو اتنا محسوس نہیں کرسکتے تھے۔
’’رچرڈ اور ولیم کل صبح تم دونوں کو ہاکس ہیڈ روانہ ہونا ہے۔ میں نے وہاں ایک اچھے گرامر اسکول میں تمھارا داخلہ کروا دیا ہے۔ امید ہے تم اپنی پڑھائی پر بہت اچھی طرح توجہ دو گے۔۔۔‘‘ مسٹر جون ورڈز ورتھ اپنے دونوں بیٹوں سے مخاطب تھے۔’
’ مگر ڈور تھی اور۔۔۔‘‘
’’وہ تینوں یہیں رہیں گے۔‘‘ مسٹرجون نے ولیم کی بات کاٹ کر کہا اور یوں ماں سے بچھڑنے کے کچھ ہی دن بعد ولیم اپنے بڑے بھائی رچرڈ کے ہمراہ ایک ڈسٹرک کے قصبے ہاکس ہیڈ میں پہنچ گیا۔
جگہ نئی تھی مگر بہت خوبصورت تھی۔ وہ اسکول سے چھٹی کے بعد دیر تک میدانوں، پہاڑیوں اور وادیوں میں گھومتا پھرتا رہتا، گرمی کے دنوں میں جھیلوں میں تیرتا اور سردیوں میں جھیل پر جمی برف پر پھسلتا اور جب تھک جاتا تو وادی میں رہنے والے کسانوں اور گڈریوں سے خوب باتیں کرتا۔ ولیم کو یہ سب مناظر، اُڑتے چہکتے پرندے اور پُرسکون ہرابھرا ماحول بہت پسند تھا۔ خاص طور پر بہار کے موسم میں ہر طرف کھلتے رنگ برنگے پھول اسے اپنی جانب کھنچے ہوئے محسوس ہوتے، اب اسے کبھی کبھار ہی گھر اور ماں کی یاد آتی۔ ہاں مگر وہ ڈور تھی کو اکثر یاد کرتا تھا۔ وہ ساتھ ہوتی تو اسے کتنا مزہ آتا۔۔۔ اسے بھی تو بہار کا موسم اور پھول بہت پسند تھے۔
ولیم ابھی تیرہ سال کا تھا کہ اسے اس کے والد کے انتقال کی خبر ملی، پہلے امی اور اب ابو بھی۔۔۔؟ اسے لگا آج اس کے ساتھ پوری وادی بھی اُداس ہے اور وہ پوری دنیا میں اکیلا رہ گیا ہے۔ ان سب بہن بھائیوں کو چچا نے اپنی سرپرستی میں لے لیا مگر وہ ولیم کی تنہائی کا احساس دور نہ کرسکے۔ ولیم نے تو اپنی دوستی ہر طرف پھیلے خوبصورت مناظر سے کرلی تھی اب اس کے لیے بندھ کر رہنا آسان نہ تھا۔ یوں اس کے چچا بھی اس سے خوش نہ تھے۔ گرامر اسکول کی تعلیم مکمل کرکے ولیم نے سینٹ جونس کالج،(کیمبرج یونیورسٹی) میں داخلہ لے لیا ۔ اس دوران اسے سب سے زیادہ اگر کوئی یاد آتا تو وہ ہاکس ہیڈ کا وہ قصبہ تھا جہاں ہر طرف قدرت کا حُسن پھیلا ہوا تھا۔
بیس سال کی عمر میں ولیم نے اپنے ایک دوست کے ساتھ فرانس ، اٹلی، سوئٹرز لینڈ اور جرمنی کے سفر کا منصوبہ بنایا اور یہ دو ہزار میل کا سفر ، پیدل طے کرتے وہ مناظر قدرت اور فطرت کے حسن و جمال کی دل کشی کا اور زیادہ اسیر ہوگیا۔ اس کے اندر جذبات انتہاپر تھے۔ وہ اپنے احساسات سب کو بتانا چاہتا تھا ۔ آخر اس نے اپنے ان احساسات کو الفاظ کی صورت میں کاغذ پر اتارنے کا فیصلہ کیا اور یوں اپنی پہلی نظم (An Evening Walk)لکھی۔
ولیم کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گئے فطرت کے حُسن کو الفاظ میں بیان کرسکتا ہے۔ وہاکثر ان مناظر میں کھو جاتا ، شعر گنگنانے لگتا اور آس پاس موجود افراد سے بے خبر ہوجاتا۔ اس نے نظمیں لکھنی شروع کردیں، اس کا بس یہی شوق تھا وہ دن بھر گھومتا رہتا اور رات میں ان محسوس کیے گئے مناظر کو صفحات پر اُتار دیتا۔
کچھ عرصہ بعد اسے اپنے والد کی طرف سے ورثے میں ملی رقم بھی مل گئی ۔پھر وہ اپنی بہن ڈور تھی کہ ساتھ ڈورسٹ (Dorset)آگیا جہاں ولیم کی دوستی مشہور شاعر سیموئیل ٹیلر کولرج (Samuel taylor Coleridge)سے ہوئی جو قریب ہی قصبے میں رہتا تھا۔ ولیم اور سیموئیل نے مل کر اپنی شاعری کو ایک کتابی شکل دینے کا فیصلہ کیا اور یوں ولیم کی نظمیں پہلی بار منظر عام پر آئیں۔
لیک ڈسٹرک کا وہ حسین قصبہ اب بھی ولیم کو بہت یاد آتا۔ ایک مرتبہ جب وہ وہاں اسکول میں پڑھتا تھا تو گھومتے ہوئے وہ گراس میئر نام کے ایک گاؤں پہنچ گیا ۔ وہاں اس نے ایک گھر دیکھا۔ اس گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے اسے بس یہی خیال آیا کہ اس گھر کے رہنے والے بہت خوش قسمت ہیں۔
اور اب۔۔۔ تیرہ چودہ سال بعد وہ ایک بار پھر اپنے دوست سیموئل کے ساتھ اس گھر کے سامنے سے گزرا تو اسے اپنا وہ خیال یاد آیا اور جب اسے معلوم ہوا کہ یہ گھر کرائے کے لیے خالی ہے تو وہ فوراً اپنی بہن کے ساتھ اس گھر میں آکر بس گیا ۔ یہ ڈوکاٹیج (Dove cottage)اس کی پسندیدہ ترین جگہوں میں سے تھا۔ ولیم نے اس گھر میں رہتے ہوئے بے شمار نظمیں لکھیں۔ وہ سادہ اور آسان زبان میں ڈوکاٹیج کے آس پاس پھیلے حسین و دلفریب مناظر قلم کے ذریعے سے لوگوں کو دکھاتا اور لوگ اس کی شاعری کے دیوانے ہوجاتے۔
ولیم نے بہت سی خوبصورت نظمیں لکھیں۔ اس کی ایک نظم (The Prelude )اس نے سات سال میں مکمل کی جو پوری چودہ جلدوں میں اس کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔ اس نظم میں اس نے اپنے بچپن، جوانی اور فطرت سے محبت کی داستان بیان کی ہے۔
ولیم کو انگریزی شاعری میں گرانڈ اولڈ یوئٹ یعنی باباے شاعری کا رتبہ ملا یہاں تک کہ اسے (Poet Laureate)یعنی ’ملک ا لشعرا‘ کا بھی اعزاز دیا گیا۔ ولیم کو بہار کا موسم پسند تھا۔ ۱۸۵۰ء میں جب اس کا انتقال ہوا تو اس وقت بھی بہار کا موسم تھا۔
یہ وہی ولیم ورڈز ورتھ ہیں جن کی نظمیں آج بھی بہت دلچسپی سے پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں ۔ بہت سے لوگ ان نظموں کے مناظر کو دیکھنے کے لیے ولیم کے اس ڈوکاٹیج تک بھی جاتے ہیں جہاں بیٹھ کر اس نے اتنی خوبصورت نظمیں لکھیں ۔
ولیم ورڈز ورتھ کی ایک نظم اسکائی لارک Skylarkہے۔ یہ ایک چھوٹا سا پرندہ ہوتا ہے، ولیم نے اس نظم میں بہت خوبصورتی سے اس پیارے پرندے کی خصوصیات بھی بتائیں اور ہمیں ایک اچھا سبق بھی دیا ہے۔
ولیم ورڈز ورتھ کہتے ہیں۔
’’اسکائی لارک اتنی بلندی پر کیوں اُڑتا ہے؟
کیا وہ انسانوں سے نفرت کرتا ہے اور ان سے دور رہنا چاہتا ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ آسمان کی بلندی اور زمین کی پستی سے وہ اپنا تعلق رکھنا چاہتا ہو؟
شاید اس لیے وہ اُڑتا اُڑتا آسمان کو چھو لیتا ہے اور پھر نیچے اپنے گھونسلے میں آبیٹھتا ہے۔‘‘
نظم کے آخر میں ولیم ورڈز ورتھ نے خود ہی ان سوالات کے جوابات بھی دیے۔
’’دیکھو! یہ پرندہ ہم انسانوں کو سبق دے رہا ہے کہ
اپنی نگاہ بلند رکھو، اونچی اُڑان کا حوصلہ رکھو
لیکن اپنی حقیقت مت بھولو
اپنے ماحول اور اپنی مٹی سے رشتہ قائم رکھو اور اس کے وفادار رہو۔‘‘

*۔۔۔*

نئے الفاظ: گڈریا :۔۔۔ چرواہا

//]]>