بونگاایڈیٹر

محمد الیاس نواز

احمد صاحب تھوڑے دن قبل ہی اپنے مختصر سے خاندان کے ساتھ ہمارے محلے میں منتقل ہوئے تھے ، بہت ہی شریف النفس اوراچھے انسان تھے چند ہی دنوں میں انھوں نے تمام محلے میں اپنی اچھی ساکھ بنا لی ۔سیانوں کا قول ہے کہ” اچھے لوگ کم ہی جیتے ہیں“۔بالکل اسی طرح اچانک احمد صاحب کا بھی انتقال ہو گیا۔ ان کے صرف دو ہی بیٹے تھے،بڑا بیٹا علی اور چھوٹا بیٹا شریم۔پہلے تھوڑا سا ذکر علی کا۔علی صورت اورسیرت میں تو اپنے والد کی ہو بہو تصویر تھااور ذہانت میں تو اس کا کو ئی مقابل ہی نہیں تھا وہ کم بولتا مگر جب بھی بولتا سامنے والے کو دنگ کر دیتاساتھی اور دوست اس کے بولنے کا انتظار کرتے تھے۔المختصرکہ وہ بے انتہا خوبیوں کا اکیلا مالک تھا ۔بس پھر والد کے انتقال کے بعدیہ بات پھر ثابت ہو گئی کہ اچھے لوگ زیادہ نہیں جیتے اور ایک سال کے بعد علی بھی اس دنیا سے چلا گیا۔اب ذرا ذکر شریم کا۔شریم حد سے زیادہ سادہ اور بغیر سوچے سمجھے کام کرنے والا لڑکا تھا محلے کے لڑکوں میں وہ ”بونگا“یعنی بیوقوف مشہورتھا ۔پہلے تواس کا حلیہ مبارک سنیئے جو وقتاًفوقتاًہم نے دیکھا ۔سیدھے پاﺅں میںہری چپل تواُلٹے میں کالی وہ بھی ایک بڑی تو دوسری چھوٹی ۔پینٹ کا ایک پائنچاکھلاہوااور دوسرامُڑا (fold)ہوا۔ناک بہہ کر جیب میں جاتی ہوئی توقمیض بغل تک پھٹی ہوئی ۔شرٹ سے ناک صاف کرنے کے لئے جوشرٹ اُوپر اُٹھائی تو پینٹ میں بیلٹ کی جگہ اَزار بند ڈلا ہوا۔،قمیض کی ایک طرف کی جیب کسی سخت پیاسے جانور کی زبان کی طرح باہر کو لٹکتی ہوئی ۔کالرایک طرف سے اندر کو مڑا ہواتوگریبان کے اوپروالے بٹن نیچے اور نیچے والے اُوپر کو لگے ہوئے۔ یہ تھامختصر ساحلیہ شریم المعروف ”بونگے“ کا۔والد اور بڑے بھائی کے اچانک انتقال کے بعداب صرف شریم اور اس کی والدہ بچے تھے۔علی ہمیشہ گھر کے کام کاج میں والدہ کا ہاتھ بٹایا کرتا تھا۔اب شریم کو جوش چڑھا اور اس نے والدہ سے کہا کہ اب میں آپ کا ہاتھ بٹایا کروں گا۔ماں نے سمجھایاکہ بیٹاتمہیں ابھی کام کرنے کی عادت نہیں ہے اس لئے تمہیں کام کرنے کا سلیقہ بھی نہیں آئیگاتم اُلٹا میراکام بگاڑ دوگے۔ کہنے لگا نہیں امی آپ دیکھیں گی کہ میںکیسے محنت اور لگن سے کام کرتا ہوں۔دوسرے دن صبح سویرے جب اس کی امی کی ابھی آنکھ نہیں کھلی تھی۔اس نے کمرے کی قالین کی صفائی کا فیصلہ کیااور تمام قالین کی پانی اورسرف سے صفائی کردی۔ جب امی کی آنکھ کھلی تو بیڑہ غرق ہو چکا تھا،اور قالین نہا چکا تھا۔امی نے یہ دیکھ کر سر کو پیٹ بلکہ کوٹ لیا۔ دوسرے دن کپڑے استری کرنے بیٹھے تو انہیں اپنے والد مرحوم کی وہ بات یاد آئی جو وہ کہا کرتے تھے کہ”کاٹن تو بڑا ہی نازک اور نفیس کپڑا ہو تا ہے “یعنی ذراسا کسی کی چیزسے اٹکے تو پھٹ جاتا ہے ۔مگر شریم صاحب کچھ اورہی سمجھے اورانہوں نے استری کو کم گرم کیا اور کاٹن کا سوٹ استری کرلیا اور جب ریشم(silk)کی باری آئی تو استری کو اچھی طرح گرم کیااور لگے استری کرنے بس پھر استری جہاں جہاں سے گزرتی گئی اپنا راستہ بنا تی گئی اور ریشم کی جگہ ریشے چھوڑتی گئی۔انہوں نے ہاتھ میں جلے ہوئے رےشے لئے اور استری سے درد بھرا شکوہ کرنے لگے کہ” تجھے بھی مجھ سے ہی دشمنی تھی ہیں !تو نے بھی میرا خیال نہیں کیاناں!ہیں!ذرا بھی رحم نہیں آیا تجھے۔اب مجھے کون بونگا نہیں کہے گا“۔ اسی طرح ایک دن موصوف کھانا پکانے لگے تھے ۔گھی کو دیگچی میں ڈال کر سخت گرم کیا اور پھر اس میں پا نی ڈال دیا۔ شاید گھی کو گلانے لگے تھے۔ سخت گرم گھی میں تھوڑا سا جو پانی پڑا تو اس نے آگ پکڑ لی۔پھر جو ہوا مت پوچھئیے۔آٹا گوندھنے لگے توآستینیں اُوپر چڑھانے کے بجائے شلوارکے پائنچے اُوپر چڑھالئے ،شاید ہاتھوں کے بجائے پاﺅں ۔جس برتن میں آٹا گوندھنا تھا وہ تو ملا نہیں اور امی سے پوچھتے تو ظاہر ہے کہ وہ منع کر دیتیں۔ پھر انہیں سمجھ نہ آیا کہ کیا کریں ۔بالآخر انہوں نے دیگچی لی اور اس میں پانی بھر لیا پھر اس میںاحتیاط کے ساتھ تھوڑا تھوڑا آٹا ڈالتے گئے اوروہ ڈلیاں بنتا گیا۔پھر انہوں نے دونوں ہاتھوں سے ان کو پھینٹ کر اس آٹے کوپتلی پتلی لئی (گوند)بنادیا۔اور پھر وہی مثال بن گئی کہ ”مفلسی(غریبی) میں آٹا گیلا“۔کھانے میں انہیں میٹھا بہت پسند ہے۔ویسے ہر میٹھی چیز شوق سے کھاتے ہیں مگر سوجھی کا حلوہ تو ان کی کمزوری ہے ۔ایک دن امی سے فرمائش پر حلوہ پکوایااور سلاد کے ساتھ کھا نے لگے کہ آخر میٹھی چیز سلاد کے ساتھ کیوں نہیں کھائی جا سکتی ۔پیٹ بھر کے پیاز کے ساتھ حلوہ کھایا اور پھراس” صحت بخش غذاء“کے بعد طبعیّت ایسی” ہری“ ہوئی کہ اللہ کو پیارے ہوتے ہوتے بچے۔لیجئے اور سنئے ایک دن تو انہوں نے عجیب ہی حرکت کی۔ ہوا یوں کہ انہوں نے ٹھنڈے پانی کا گلاس کولرسے بھرا کہ اتنے میں ان کی والدہ وہاں آگئیں اوران سے کوئی بات پوچھنے لگیں ۔وہ تو بات کرکے چلی گئیں مگر شریم صاحب یہ بھول گئے کہ انھوں نے پانی نہیں پیا۔ وہ سمجھے کہ انہوں نے پانی پی لیا ہے اور خالی گلاس اس کے ہاتھ میں ہے اس نے وہ بھرا ہوا گلاس دوبارہ اُلٹا کرکے کولر پر رکھ دیا۔اب تو محلے کے کتے بھی ان پر آوازیں کسنے لگے تھے ۔ جب وہ باہرنکلتے تو ان کو دیکھ کے وہ بھونکنے لگتے شایداپنی زبان میں وہی لفظ کہتے ہوں جو محلے کے لڑکے انہیں کہتے تھے ۔ایک دن جو کتا بھو نکا تو انہوں نے جیب سے موبائل نکالا اور دے کھینچ کے مارا کتے کو۔موبائل لگتے ہی کتا بھاگ گیا تو فر مایا”ہاںتو تجھے بھی نوکیا(NOKIA)کی چوٹیں اچھی لگتی ہیں۔پتھر سے تو تیرا بھی گزارہ نہیں ہوتا ۔ہم نے کہا شریم یہ کیاکیا!موبائل کا بیڑہ غرق کردیا ؟۔کہنے لگے پتھر سے جا ہی نہیں رہا تھا ظالم ۔اب کچھ دنوں سے انہیں جوش چڑھاہو اتھا اور انہوں نے ضد شروع کی ہوئی تھی کہ وہ کہیں نہ کہیں ملازمت کریں گے۔ماں نے بہت کہا کہ کیا ضرورت ہے۔ اللہ کا احسان ہے والد کی پینشن سے گزاراہورہا ہے اور زیادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔مگر وہ یہی کہتے رہے کہ مجھے بھی کام کرنا چاہئے ۔انھوں نے محلے کے ایک جنرل اسٹور پر کام شروع کیااوراپنی” طبعی سخاوت “کے در کھول دئےے ۔اب آپ اس کو شریم کا بونگاپن کہیں یا کچھ اورکہ گاہک آٹا تو پیسوں سے لیکر جاتا اور چینی !بالکل مفت ۔ٹافیاں تو کوئی سودا لے یا نہ لے مفت بلکہ اب تو محلے کے بچے اتنے فری ہوگئے تھے کہ خود ہی آکر ٹافیوں میں ہاتھ ڈال دیتے۔تھوڑا عرصہ تو یہ سلسلہ چلا مگر اس سے پہلے کہ اسٹور میں کچھ نہ رہتا شریم کی ملازمت نہ رہی۔اتنے میں ان کے امتحان شروع ہو گئے ۔ایک دن پرچہ دے کے آئے توہم نے پوچھا کہ کیسا ہوا آج کا پرچہ؟۔کہنے لگے یار اتنا کوئی اچھا نہیں گیاہم نے پوچھاکیوں ؟۔کہنے لگے ”پسندیدہ شخصیت “پرمضمون لکھنے کو آگیا۔ہم نے پوچھا”پھر؟“ آنکھیں پھاڑ کر ہمیں دیکھا اور کہنے لگے پھر کیا!میں نے چھوڑ دیا،میں نے پسندیدہ شخصیت پرتھوڑی یاد کیا تھا ،میں نے تو ” قائد اعظم “پر مضمون یاد کیا تھا ۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی ایک آفس میں اندر باہر کے کام کے لئے ایک لڑکے کی ضرورت تھی تو فہیم نے شریم کو وہاں لگوا دیاتھا۔آج ہم نے فہیم سے پوچھا کہ کیا بات ہے آج کل شریم کم کم نظر آرہا ہے تمہارا تو بڑا پکا دوست ہے کیا خیر خبر ہے اس کی؟کیا دفتر میں کام زیادہ ہوتا ہے؟۔ تو وہ مسکرایا اوراس نے جو جواب دیا تو ہمارا منہ بھی بونگوں کی طرح کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ہمیں تو اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھااورسمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ سینے کوکُوٹیںیا عقل کو پیٹیں ۔جیتے جی ہم نے بھی کیا کیا تماشے نہیں دیکھے ۔ کہنے لگا”بونگا“بچوں کے ایک رسالے کا ”ایڈیٹر “ہوگیا ہے
٭….٭….٭

1 Comment

  1. Samina Anwar says:

    best

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>