بریف کیس چور

اعظم طارق کوہستانی

یہ ایک بڑا سا کمرہ تھا۔ خوب صورت فرنیچر سے مرصع اس کمرہ میں صفائی ایسی کہ خوردبین کی آنکھ بھی ڈھونڈ نہ پائے۔ اور یہی صفائی کمرہ کی زینت میں اضافہ کا سبب بن رہی تھی۔ ایک بھاری بھر کم میز کے پیچھے بیٹھے ہوئے گرانڈیل جسم کا مالک مسٹر جیمز پیپرویٹ سے کھیلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کہنے کو تو وہ کھیل رہا تھا مگر پیشانی پر پھیلی سلوٹیں کچھ اور ہی پیغام دے رہی تھیں۔ اس خنک موسم میں بھی جیمز کے ماتھے پر پسینے کے چمکتے ہوئے قطرے بخوبی دیکھے جاسکتے تھے۔
اچانک ماحول کا سکوت ، فون کی چنگھاڑ نے توڑا۔ خیالوں میں کھوئے ہوئے جیمز چونک پڑا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا۔ دوسری جانب مشیر داخلہ خود موجود تھے۔ جب ہی جیمز کی بے خیالی کا نشہ ”ہرن“ ہو گیا۔
” یس سر، یس سر…. آپ بے فکر رہیں…. سر میں نے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے…. امید ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر مجرم قانون کی گرفت میں ہوگا۔“
”سنو آفیسر! یہ کیس اتنا اہم نہیں تھا جتنا اب ہو چکا ہے۔ پرائم منسٹر صاحب نے اس کیس کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ آج صبح ان کے ایک قریبی عزیز کا بریف کیس بھی ٹرین میں وہی چور اڑا کر لے گیا ہے۔ تب سے پرائم منسٹر سخت غصے میں ہیں۔ اب اچانک انہیں ایک غیر ملکی دورے پر جانا پڑا۔ جیسے ہی وہ واپس آئے وہ ایک بار پھر سیخ پا ہوجائیں گے۔ اب ضروری ہو گیا ہے کہ مجرم ان کے آنے سے پہلے پہلے پکڑا جائے۔ دوسری جانب مشیر داخلہ نے پولیس آفیسر جیمز کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا۔
”سر! …. آپ بے فکر رہیں…. آپ کی توقع سے بھی پہلے مجرم پکڑاجائے گا۔ “
”خداکرے ایسا ہی ہو۔ “ دوسری جانب سے یہ کہہ کر فون رکھ دیا گیا ۔ جیمز نے بھی شکستہ خوردہ ہو کر فون کریڈل پر پٹخا۔ مشیر داخلہ کے فون پر جیمز کا منہ بن چکا تھا۔ اسے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے کونین کا پورا پیکٹ اس کے حلق کے نیچے اتار دیا ہو۔ جیمز پریشانی کے عالم میں بار بار پہلو بدلنے لگا۔
٭….٭
گزشتہ ایک ماہ سے لندن کے ریل کے مسافروں کے سوٹ کیس گم ہونا شروع ہونے لگے تھے۔ یہاں تک کہ حکومتی اشخاص اور امراءکے بھی یکے بعد دیگرے سوٹ کیس غائب ہونے لگے۔ چور کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ سوٹ کیس اٹھاتا ہوا بھی کوئی نظر نہ آیا اور نہ ہی یہ سلسلہ منقطع ہوا۔ بات بڑھتے بڑھتے اعلیٰ حکام تک جا پہنچی تھی۔ تب جا کر یہ کیس لندن کے مشہور پولیس آفیسر جیمز کو دے دیا گیا مگر ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود نتیجہ صفر تھا۔ البتہ اتنا اندازہ تھا کہ چوری کوئی یک و تنہا کر رہا ہے۔ مسٹر جیمز نے دو ٹیمیں تشکیل دے کر انہیں سوٹ کیسوں کے ہمراہ مختلف ریل گاڑیوں میں سوار کرا دیا۔ اب جیمز کو اس بات کا انتظار تھا کہ ان دونوں میں کون کامیاب ہو کر لوٹتا ہے وگرنہ تو جیمز کا خود اس مشن پر نکلنے کا ارادہ تھا۔
٭….٭
چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور باہر بیٹھا ہوا چپڑاسی اندر داخل ہوا۔ وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ مسٹر جیمز اس سے پہلے حلق پھاڑ کر چیخے ۔
”نالائق، کوڑھ مغز تمہیں دس بار کہہ چکا ہوں کہ ان دروازوں کے قبضوں میں گریس لگا دو، یہ چرچر کی آواز میرے دماغ میں کسی ہتھوڑے کی مانند برستی ہے۔ لیکن شاید تمہیں ….“ جیمز نے بات ادھوری چھوڑی شاید اسے اس چورکا خیال آگیا تھا۔
”ہاں! تم اندر کیوں آئے کہو کیا کام ہے۔“
سر مسٹر ویٹوری آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ چپڑاسی نے خفیف ساہو کر کہا۔
کیا! ویٹوری کے آنے کی خبر مجھے اب دے رہے ہو ڈیم فول میں کب سے اس کا انتظار کررہا ہوں۔جائو میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو….بلائو اسے۔“ مسٹر جیمز زور سے چیخا۔ اس کیس نے اسے چڑچڑا بنا دیا تھا۔
چپڑاسی کے باہر جانے کے تھوڑی دیر بعد ویٹوری پولیس آفیسر جیمز کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔
” کیا رپورٹ ہے ویٹوری۔ “ جیمز نے پوچھا۔
”سرفیل۔“ کیا مطلب! تم ناکام لوٹے ہو۔“
سر ہم نے بھرپور کوشش کی مگر کسی قسم کا سراغ نہیں مل سکا۔ مجھے لگتا ہے کہ تمہاری ٹیم ہی ناکارہ ہے۔ اب دیکھو وہ دوسرا کیا گل کھلائے گا۔“
”سر ! …. مجھے تو نہیں لگتا کہ جانسن یہ کیس حل کرسکے وہ تو ابھی بچہ ہے۔ ویٹوری نے تمسخرانہ لہجے میں کہا۔
اور سر یہ کیس حل کرتے ہوئے مجھے بھی دانتوں پسینہ آگیا مگر حل نہ کر سکا۔
مجھے جلنے کی بو آرہی ہے۔ مسٹر جیمز نے ناگواری سے کہا۔ آلینے دو پھر دیکھتے ہیں ورنہ تو مجھے ہی ہاتھ پیر ہلانے پڑیں گے۔ وزیر داخلہ کو ۴۲ گھنٹوں کا وقت دے چکا ہوں۔
تقریباً دو گھنٹوں کے بعد جانسن تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ آفس میں داخل ہوا۔“ اس کا پرجوش چہرہ بتا رہا ہے کہ اس نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ویٹوری نے دل میں سوچا۔
”نوٹی بوائے مجھے امید ہے کہ تم کامیاب لوٹے ہو۔“ مسٹر جیمز اس کا کھلا چہرہ دیکھ کر مفہوم سمجھ چکا تھا۔ یقینا کوئی بے گناہ شخص ہو گا۔“ ویٹوری نے لقمہ دیا۔ جیمز نے صرف گھورنے پر اکتفا کیا۔
”سر آپ کا مجرم لاک اپ میں بند ہے۔“ جانسن نے احتراماً ٹوپی اتارتے ہوئے کہا۔
”شاباش ! مجھے تم سے یہی امید تھی تم یقینا جیمز بونڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دو گے۔“ مسٹر جیمز رطب اللسان ہوتے ہوئے بولا۔
”چلو مجھے اس چالاک اور عیار مجرم سے ملنے کا بے حد اشتیاق ہو چلا ہے۔“ مسٹر جیمز نے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔
جانسن نے اپنا منہ ویٹوری کے کان کے قریب لایا اور بولا۔
”کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔“ ویٹوری ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
دوسرے دن لندن کے تمام اخبارات بریف کیس چور کی خبروں سے چنگھاڑ رہے تھے۔ خبر یوں تھی کہ
سوٹ کیس چور بالآخر رنگے ہاتھوں پکڑی گئی۔ خبر کی تفصیل میں لکھا تھا کہ ” جیمی نامی ایک چالاک عورت سوٹ کیس غائب کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی۔ اس چالاک عورت نے ایک ایسا سوٹ کیس تیار کر رکھا تھا جس کے تلے چند اسپرنگ کچھ ایسی حکمت سے لگائے گئے تھے کہ جب اس سوٹ کیس کو کسی دوسرے چھوٹے سوٹ کیس پر رکھا جاتا تھا تو وہ اپنے بوجھ کے ساتھ خودبخود نیچے بیٹھنا شروع ہوجاتا تھا۔ اس کا تلا اندر کی جانب گھستا جاتا اور نیچے والے سوٹ کیس کو اپنے اندر لاتا جاتا تھا حتیٰ کہ تھوڑی دیر میں اس سوٹ کیس کا لقمہ بن کر غائب ہو جاتا تھا۔ یہ چور اپنے اسی سوٹ کیس کو ہاتھ میں لیے گاڑی پر سوار ہوتی اور کسی مناسب سوٹ کیس کے اوپر اسے رکھ کر اطمینان سے بیٹھ جاتی اور اگلے اسٹیشن پر اترجاتی تھی۔ اسی چال سے اس نے سینکڑوں سوٹ کیس اڑائے۔ مگر بدقسمتی سے انسپکٹر جانسن کی عقابی نگاہوں نے اسے دیکھ لیا اور جرم کبھی نہےں چھپتا کا قول امر ہو گیا۔
٭….٭….٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>