بادشاہ اور قیدی

حکایت سعدی

ایک بادشاہ نے کسی بے گناہ قیدی کے قتل کا حکم دے دیا۔زندگی سے مایوس ہونے والا قیدی بادشاہ کو بے پناہ گالیاں دینے لگا۔بادشاہ نے ایک دن وزیروں سے پوچھا کہ یہ کیا کہتا ہے؟

وزیروں میں سے ایک وزیر عقلمند تھا،اس نے عرض کیا:”جہاں پناہ یہ کہتا ہے کہ جو لوگ اپنے غصہ کو مارتے ہیں اور آدمیوں کی خطا بخشتے ہیں وہی دونوں جہاں میں محبوب ہیں۔اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے”۔

دوسرے وزیر نے، جو پہلے وزیر سے دل میں بغض رکھتا تھا،بادشاہ سے کہا:” جہاں پناہ! یہ آپ کا نمک کھا کر آپ ہی سے جھوٹ بول رہا ہے،موت کی سزا پانے والے اس قیدی نے تو آپ کو بڑی گالیاں دی ہیں”۔

یہ سن کر بادشاہ نے جواب دیا:”ہمیں اس کا جھوٹ پسند ہے، وہ جھوٹ جس میں اصلاح کی کوشش ہو اس سچ سے بہتر ہے جو فساد برپا کرے۔ اس قیدی نے جو کچھ کہاہے اُس میں اس کا کوئی قصور نہیںکہ زندگی سے مایوس ہوکر آدمی آگے پیچھے کا نہیں سوچتا اور جو جی میں آئی کر گزرتا ہے”۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>