اردو والے اپنے بچّوں کو بھولے جا رہے ہیں

رضا علی عابدی

 شہر شہر اردو اور ادبی کانفرنسیں ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے ادیب اور دانشور بڑے اعلیٰ ادب پر نہایت دانشمندانہ رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ تخلیقی اور تنقیدی ادب کے ہر گوشے پر گفتگو ہورہی ہے۔ ہر سطح کے قاری کی بات ہورہی ہے۔ مگر آپ نے ایک بات محسوس کی ہے؟ کہیں بھی، کسی بھی اجتماع میں، کسی مذاکرے میں بچّوں کے ادب کا ذکر تک نہیں۔ بڑے پایہ کے مفکر اور قلم کار بھولے سے بھی یہ نہیں سوچ رہے کہ وطن عزیز کی نئی نسل کو پڑھنے کے لئے کیا کچھ دیا جا رہا ہے اور کیا دینے کی ضرورت ہے۔ ذرا تصور تو کیا جائے کہ بچّوں کے ہاتھوں میں وہی گھسی پٹی درسی کتابیں ہیں، دقیانوسی،ناقص، اکتانے والی اور ذہن کی تربیت میں کسی کام کی نہیں۔ایسے میں ضرورت اور شدید ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ہمارے جیّد اہل قلم اپنی بے پناہ مہارت اور دانشوری کو بروئے کار لائیں اور کبھی وقت نکال کر بچوں کا ادب بھی تخلیق کریں۔ کبھی نئی نسل کو بھی اپنی توجہ کا تحفہ عنایت کریں اور کچھ ایسا کر جائیں کہ ہمارے اپنے بچّوں کے کردار، ذہن اور اندازِفکر کی تربیت ہو۔

برطانیہ میں کتابوں کی اشاعت کو صنعت کا درجہ حاصل ہے۔ دھیان رہے کہ بچّوں کی کتابوں کی طباعت کو بالکل الگ صنعت تصور کیا جاتا ہے۔ ہر لائبریری میں بچّوں کا شعبہ الگ ہوتا ہے، ان کے لئے ایک بڑا کمرہ مخصوص ہوتا ہے جس میں دبیز قالین بچھا ہوتا ہے، ہر طرف کتابیں چُنی ہوتی ہیں۔ بچّے اتنے اشتیاق سے کتابیں دیکھتے ہیں کہ انہیں یوں پڑھتا دیکھ کرہی خوشی ہوتی ہے۔ بھارت میں مرکزی حکومت نے بہت بڑا ادارہ قائم کیا ہے جو دنیا میں صرف ایک کام کرتا ہے۔ پورے ملک کے کروڑوں بچّوں کے لئے تیس سے زیادہ زبانوں میں کتابیں چھاپتا ہے۔ میں نے دلّی میں اس چلڈرنز بُک ٹرسٹ کی عمارت دیکھی ہے جو ہمارے بڑے بڑے اخباروں کی عمارتوں سے بھی بڑی ہے، اس میں چھاپہ خانہ بھی ہے اور ترجمے کا بہت باکمال شعبہ ہے جو کتابوں کو ملک کی درجنوں زبانوں میں منتقل کرتا ہے۔ ان کی اپنی دکانیں ہیں جو بچّوں کی دلچسپی کے سازو سامان سے بھری ہوتی ہیں۔ خریداروں کو کتابیں پٹ سن کی تھیلیوں میں دی جاتی ہیں اور ساتھ ہی سمجھایا جاتا ہے کہ کاغذ اور پلاسٹک کے تھیلے دنیا کے ماحول کے لئے اچھے نہیں۔

اب ہمارا حال سنئے۔ پاکستان کا ایک بڑا اشاعت گھر بچّوں کی کتابیں چھاپا کرتا تھا۔ اس نے اس کام سے توبہ کرلی۔ دو تین بچّوں کے رسالے نکلتے ہیں جو داد اور تحسین کے مستحق ہیں کہ اس لاتعلقی اور عدم دلچسپی کے دور میں جرأت سے کام لے رہے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو خبر ہو گی کہ پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں ایک عبدالحمید کھوکھر لائبریری ہے جس میں برصغیر سے شائع ہونے والے بچّوں کے زیادہ تر اخبار اور رسالے محفوظ ہیں۔ یہ نادر اور نایاب ذخیرہ ہے جس کی قدر ہونی چاہئے اور جہاں تحقیق کی بہت ضرورت ہے۔ کیا اچھا ہو کہ اہل ِ علم ان رسالوں کے انتخاب تیار کریں۔

عبدالمجید کھوکھر مرحوم کے صاحبزادے ضیاء اﷲ صاحب نے’ بچّوں کی صحافت کے سو سال‘ کے عنوان سے اپنے کتب خانے کی فہرست مرتب کی ہے جس کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ اسی طرح بہت تھوڑے اہل وطن جانتے ہوں گے کہ دعوہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد میں بچّوں کے ادب کا پورا شعبہ قائم ہے جس کے نگراں ڈاکٹر محمد افتخار کھوکر ہیں ۔اس شعبے نے بڑے پیمانے پر تحقیق کی ہے اور پاکستان میں بچّوں کے ادب کا ڈیٹا ترتیب دیا ہے۔بس یہ ہے کہ ان کے کام میں دین پر بہت زور ہے۔

میں نے جب ہوش سنبھالا، ہمارے گھر میں بچّوں کا اخبار یا رسالہ پھول آیا کرتا تھا۔ اس زمانے میں سرکردہ ادیب شاعر بچوں کے لئے باقاعدگی سے لکھا کرتے تھے۔ کتنے ہی نو عمر لکھنے والے آگے چل کر نامور ادیب بنے۔ شکر ہے کہ پھول کے تمام شمارے فائل کی شکل میں محفوظ ہیں اور ان کے دو ایک انتخاب بھی نکلے ہیں۔ لیکن بچّوں کے ادب میں جو مقام دلّی کے ماہنامہ کھلونا کو حاصل تھا اس کا کوئی ثانی نہیں۔ بھارت میں اردو پر زوال آیا تو کھلونا بھی مر کھپ گیا۔ اس میں چوٹی کے ادیب شاعر لکھا کرتے تھے جن میں کرشن چندر سے لے کر راجا مہدی علی خاں تک بے شمار لوگ شامل تھے۔ کچھ عرصہ ہوا کھلونا مرحوم کے ایڈیٹر یونس دہلوی سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ کھلونا کا کوئی انتخاب نکلا ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ میں نے پوچھا کہ رسالے کی فائلیں تو محفوظ ہوں گی؟انہوں نے ہاں میں جواب تو دیا لیکن اس میں نہیں صاف جھلک رہا تھا۔

پاکستان میں بچّوں کے لئے اہم کام حکیم محمد سعید مرحوم نے انجام دیا۔ بچّوں سے انہیں غیر معمولی لگاؤ تھا اور ان کے لئے حکیم صاحب نے بہت کچھ کیا، خصوصاً ان کارسالہ ’ ہمدرد نونہال‘ آج تک نکلتا ہے جس کے نگراں مسعوداحمدبرکاتی صاحب کے دم قدم سے ادارہ ہمدرد میں رونق ہے۔ روزناموں کے ساتھ بچّوں کے صفحے ہوا کرتے تھے۔ آج بھی ایک اخبار تو بہت دلکش ضمیمہ نکالتا ہے، کچھ روزنامے الگ صفحے آراستہ کرتے ہیں لیکن وہ بات نہیں جو ہمارے زمانے میں تھی جب روزنامہ جنگ میں نونہال لیگ کی دھوم تھی اور اس کی بنیاد پر ماہ نامہ بھائی جان نکلا تھا۔

اب نظر یوں آتا ہے کہ پاکستان میں اس کاروبار میں منافع نہیں۔ نہ ناشر کو، نہ کتب فروش کو اور نہ ادیب شاعر کو۔ میں نے ایک بار کتابوں کی ایک بڑی دکان میں کسی گاہک کو یہ پوچھتے سنا کہ بچّوں کی کتابیں کہاں ہیں؟ جواب ملا اوپر پڑی ہیں۔ میں نے بالائی منزل پر جاکر دیکھا۔ بچوں کی کتابیں ایک کونے میں فرش پر پڑی تھیں۔ ایک اور بڑے شوروم میں یہ کتابیں سامنے تو رکھی تھیں لیکن ان پر گرد جمی ہوئی تھی اور صاف نظر آتا تھا کہ بہت عرصے سے کسی نے انہیں ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے۔

ادیب شاعر کا معاملہ یوں ہے کہ کتاب کی رائلٹی اگر ملتی ہے تو اس چالیس پچاس روپے کی کتاب کا کتنا حصہ اس کی جیب میں جائے گا۔ ظاہر ہے برائے نام۔ دوسرے اس کی شہرت میں اضافے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے ۔حالانکہ شان الحق حقی صاحب اور ابن ِ انشاء جیسے لکھنے والوں نے بچوں کے لئے لکھ کر بہت عزت پائی۔ علامہ اقبال سے لے کر ڈاکٹر ذاکر حسین تک کتنے ہی بڑے لوگوں نے بچّوں کے لئے لکھا۔سنہ 1849ء بچوں کے لئے ایک منظوم کتاب کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ اس پر کسی اور سے نہیں، اسداﷲ خاں غالب سے نظر ِ ثانی کرائی گئی۔ ایک نام میرے ذہن سے محو نہیں ہوتا، شفیع الدین نیّر۔ خوب لکھتے تھے اور مسلسل لکھتے تھے۔ پھر یہ ہوا کہ دنیا نے انہیں بھلا دیا۔ کہاں سے آئے تھے کدھر گئے، کچھ خبر نہیں۔ شاید دنیا کی یادداشت کا یہ حال دیکھ کر پھر ہر شفیع الدین نیّر نے پیدا ہونے سے گریز کیا۔

میں پھر لوٹتا ہوں عالمی اردو اور ادبی کانفرنسوں کی طرف۔ آپ دو تین دنوں میں کم سے کم چھ چھ سیشن کرتے ہیں۔ کیا ان میں سے ایک، صرف ایک ، بچّوں کے ادب کے لئے مخصوص نہیں کر سکتے۔ اسی طرح مجھے ارمان ہی رہا کہ کبھی کسی کو بچّوں کی بہترین کتاب لکھنے پرکوئی قومی انعام یا اعزاز ملا ہو۔ کبھی نہیں۔ کتاب کا خیال نہیں تو نہ سہی، بچّوں کا خیال تو کیجئے۔یہ کسی اور کے نہیں، ہمارے ہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//]]>